کیمیائی پاور پلانٹ کا پائپ سکوبا ڈائیور کو نگل گیا

فلوریڈا کے Hutchinson جscuba diverزیرے کے پانیوں میں تیراکی کرنیوالے ایک سکوبا ڈائیور کے تجسس نے اُس کی جان مشکل میں ڈال دی ۔ بتایا جا رہا ہے کہ کرسٹوفر نامی سکوبا ڈائیور اپنے دوست کے ساتھ زیرِ سمندر تیراکی کر رہا تھا کہ وہاں بنے تین بڑے پائپ کے پاس چلا گیا۔ وہ پائپ اصل میں کیمیائی پاور پلانٹ کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے بنائے گئے تھے اور پاس جانے پر اُن میں سے ایک نے ہوا کے پریشر کے زیرِ اثر کرسٹوفر کو اندر نگل لیا۔ کرسٹوفر ایک ماہر تیراک تھا اسلیے شائد اُس کی جان بچ گئی ورنہ ایسی حالت میں زندہ نکلنا ناممکن سی بات ہے۔ کرسٹوفر کا کہنا تھا کہ کوئی طاقت اُسے اندر کھینچ رہی تھی اور اُسے اندھیرے کے سوا کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔ کرسٹوفر کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ لوگوں کو خبردار کرنا چاہتا ہے کہ زیرِ سمندر بنے پائپوں کے پاس کبھی مت جائیں ورنہ جان جا سکتی ہے۔ کرسٹوفر نے اب فلوریڈا لائٹ اینڈ پاور پلانٹ کے مالک پر مقددمہ دائر کیا ہے کیونکہ اُنہوں نے وہاں کوئی نشانی نہیں بنائی تھی جس سے پتہ چلتا کہ ایک حد سے آگے جانا خطرناک ہو سکتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *