افغانستان کا شرمناک بچہ بازی کلچر

افغانستان کی گلیوں میں ویسے تو تاریخ کے کئی راز دفن ہیں اور یہbacha bazi 2 مختلف ثقافتوں کی آئینہ دار بھی ہیں مگر آج بھی افغانستان  کی گلیوں میں ایک ایسا کلچر موجود ہے جو ہے تو شرمناک مگر افغانی اُسے اپنی اقدار کا حصّہ مانتے ہیں اور وہ ہے افغانستان کا بچہ بازی کلچر۔
افغانستان میں عورتوں کی مردوں کے سامنے ناچنے پر ممانعت ہے مگر اس پابندی نے عورتوں کو ذلت دلدل سے نکالنے کے ساتھ معصوم لڑکوں کو اس دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ افغانستان میں مردوں کے سامنے ناچنے کے لیے نوجوان لڑکوں کو لڑکیوں کے کپڑے پہنا کر اور میک اپ کر کے پیش کیا جاتا ہے جو ناچ ناچ کر افغانی مردوں کا دل بہلاتے ہیں اور بعد میں یہی لڑکے, جن کی عمریں تیرہ سے پچیس سال کے درمیان ہوتی ہیں, اُن کو وہی افغانی مرد اپنے جنسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اور شائد یہی وجہ ہے کہ اب اٖفغانستان میں جنسی تعلقات کے لیے نوجوان لڑکوں کا استعمال زیادہ کیا جاتا ہے۔
ایسے ہی ایک بچہ باز جبار کا کہنا تھا کہ وہ تیرہ سے لے کر پندرہ سال کے بچوں کا انتخاب کرتا ہے کیونکہ افغانی مرد اس عمر کے بچوں کو پسند کرتے ہیں۔ جبار کا کہنا تھا کہ وہ خود غریب ہے اسلیے وہ غریب بچوںbacha bazi کی مدد کرتا ہے۔ یہ کام کرنے کے بچوں کو پیسے ملتے ہیں اور ساتھ کھانا وغیرہ بھی جس سے بچے اپنے گھر چلاتے ہیں۔ جبار خودایک فیلڈ کمانڈر تھا ور افغان حکومت کیے بھی کام کر چکا ہے۔ جبار کے سردار، جس کو سب بگ باس کہتے ہیں، کا کہنا تھا کہ وہ گلی محلوں اور گراؤنڈ میں کھیلتے بچوں کو اس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس کے لیے لڑکے کی خوبصورتی نہیں بلکہ غربت دیکھی جاتی ہے کیونکہ غریب بچوں کو کنٹرول کرنا آسان ہوتا ہے۔
ایک بچہ محمد اب سترہ سال کا ہے اور وہ پچھلے پانچ سال سے اس کام سے وابستہ ہے۔ اُس کا کہنا تھا کہ غربت نے اُس کی زندگی مشکل کر رکھی تھی اور کئی دن ایسے بھی تھے جب اُس کے پاس ایک روپیہ بھی نہیں ہوتا تھا۔ اُس کا یہ بھی کہنا تھا کہ جنسی تعلق کی تکلیف کو برداشت کرنا غربت برداشت کرنے سے آسان ہے۔ جب بچہ پچیس سال کا ہوجا تا ہے تو اُس کے خوب پیسہ اور کھانا وغیرہ دے کر اس کام سے فارغ کر دیا جاتا ہے اور اُن کی شادی بھی دھوم دھام سے کروائی جاتی ہے۔ اور اگر یہی بچے طالبان کے ہاتھ چڑھ جائیں تو وہ اُنہیں پھانسی دے کر مار دیتے ہیں۔
یہ سچ ہے کہ افغان حکومت نے بچہ بازی پر قانونی پابندی عائد کر دbacha bazi 3ی ہے مگر کلچر کے نام پر کئی بڑے حکومتی عہدیدار وں کی سر پرستی میں یہ گھناؤنا کھیل اب بھی جاری ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *