داعش کے علاقوں میں 31 ہزار سے زائد حاملہ خواتین

news

دمشق-شام میں برسرپیکار شدت تنظیم داعش کے زیرتسلط علاقے میں اس وقت حیران کن طور پر 31ہزار سے زائد ایسی حاملہ خواتین موجود ہیں کہ جنہیں شدت پسندوں کی اگلی نسل پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ چشم کشا انکشافات دہشت گردی کے خلاف کام کرنے والے لندن کے ایک تھنک ٹینک ”کویلیم“(Quilliam) کی شائع کردہ ایک رپورٹ ”داعش کے بچے“(Children of Islamic State) میں کیے گئے ہیں۔برطانوی اخبار ”دی انڈیپنڈنٹ“ کی رپورٹ کے مطابق اس تھنک ٹینک نے اس معاملے پر تحقیق کی ہے کہ داعش کس طرح خواتین سے بچے پیدا کروا کے ان کی تربیت کر رہی ہے اور انہیں تنظیم میں شامل کر رہی ہے۔ شدت پسند گھروں پر بھی ان بچوں کی تربیت کرتے ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے سکول بھی بنا رکھے ہیں۔تھنک ٹینک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ داعش نوجوانوں کی بجائے بچوں کوتربیت دے کر شدت پسند بنانے کو ترجیح دیتی ہے کیونکہ اس کے خیال میں بچپن ہی سے اس کے زیرتربیت رہنے والے بچے تنظیم میں شامل ہونے والے جوانوں سے زیادہ بہتر اور خطرناک جنگجو ثابت ہوتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ان بچوں کے ذہن ”سادہ تختی“ کی طرح ہوتے ہیں اور شدت پسند تنظیم ان پر جو کچھ لکھ دیتی ہے وہ اسی پر کاربند ہو جاتے ہیں۔داعش کے سکولوں میں ان بچوں کو ظلم و بربریت کی تربیت دی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ انہیں لوگوں کے قلم کیے گئے سروں کے ساتھ فٹ بال کھیلنے کو بھی کہا جاتا ہے۔انہیں یہاں مارشل آرٹس اور اسلحہ چلانا سکھایا جاتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ داعش لڑکیوں کو اپنی نام نہاد ریاست کا ”ہیرا“ خیال کرتی ہے اور انہیں گھروں میں رہنے اور اپنے شوہروں کی خدمت کرنے کا پابند بناتی ہے۔تھنک ٹینک کی ایک رکن نکیتا ملک(Nikita Malik) کا کہنا تھا کہ ”داعش میں شدت پسندوں کی اگلی نسل پیدا کرنے کا مرحلہ وار سسٹم موجود ہے۔ اس وقت داعش کے علاقوں میں 31ہزار سے زائد خواتین حاملہ ہیں، اگر داعش مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ ایسا نہ کر رہی ہو تو اتنے کم علاقے میں اتنی زیادہ حاملہ خواتین کا ہونا ممکن نہیں:۔“

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *