پاکستان میں صفائی کا عمل

ayaz ameer

اگر فوج مشرف کے پرکشش اور جنرل کیانی کے دھیمے اور محتاط انداز سے باہر نہ آتی تو آج بہت سی فعالیت دکھائی نہ دیتی۔ فرقہ وارنہ بنیادوں پرمخالفین کو قتل کرنے والا انتہا پسند ، ملک اسحاق اس طرح انجام کو نہیں پہنچ سکتا تھا۔صرف وہ اکیلا ہی نہیں،لشکر ِ جھنگوی کی تمام فعال قیادت کے خلاف کارروائی کی گئی ۔ اُس ’’پولیس مقابلے‘‘ نے پورے ملک کو چونکا دیا ۔ اس کے بعد سخت رد ِعمل کا خدشہ تھا لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔
اگر آپریشن ضرب عضب سے ملکی حالات تبدیل نہ ہوئے ہوتے، فوج نے خوفناک تحریک ِطالبان پاکستان کے دستوں پر ہاتھ نہ ڈالا ہوتا توسلمان تاثیر کو مارنے والے کی سزا پر عمل درآمد ممکن نہ ہوتا۔ ایک سویلین حکومت اس خطرناک وادی میں خود قدم رکھنے کی جرات کبھی نہ کرتی۔ اور اب مصطفی کمال اور انیس قائم خانی اپنے سابقہ باس، الطاف حسین پر اس طرح کھل کر الزامات لگانے کی جرات نہ کرتے۔ جس طرح کی دہشت الطاف حسین اور ان کی جماعت نے پھیلائی ہوئی تھی، اس کے سامنے تو مارشل لابھی بچوں کا کھیل لگتا ہے۔اب تو ہم میں سے زیادہ تر بھول بھی گئے ہیں کہ کبھی ایم کیو ایم کا اس طرح کھلم کھلا نام لے کر تنقید کرنا ممکن نہ تھا۔ پریس میں ہم اس کا ذکر گول مول انداز میں کرتے تھے اور جبکہ ٹی وی پر بھی زبان حد درجہ احتیاط آشنا ہوتی اور براہ ِ راست پارٹی یا اس کی قیادت کا تنقید ی ذکر کرنے سے گریز کرناہی دانائی سمجھا جاتا۔ جب ایم کیو ایم کے چیف لند ن سے براہ ِراست خطاب کرتے اور میڈیا کے تمام شیر، جو میڈیا کی آزادی کے لئے آگ و خون کا دریا تیر کر پارکرنے کے دعوے کرتے نہیں تھکتے، گھنٹوں پر محیط اُن کی بے سروپاتقاریر نشر کرنے کے پابند ہوتے۔ یہ الطاف حسین کی طاقت اور میڈیا کی حقیقت پسندی کا بے مثال مظاہرہ تھا، اور اسے کیا کہا جائے۔
آج سب کچھ بدل گیا ہے۔ ایم کیو ایم کی عسکری طاقت شکست وریخت کا شکار ، اور کراچی اپنے تمام تر مسائل، جنہیں حل ہونے کی کوئی بہت جلدی نہیں ، کے ساتھ بھی ایک نارمل شہر معلوم ہوتا ہے۔ اس پر چھایا ہوا خوف کا سایہ بہت حد تک ڈھلنے لگا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ ایم کیو ایم کو بطور سیاسی جماعت عوام کی حمایت حاصل ہے، جیسا کہ مقامی حکومتوں کے حالیہ انتخابات کے نتیجے نے ثابت کردیا،لیکن اس سے کسی کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ کراچی کی تمام سیٹیں، ایک مرتبہ نہیں دس مرتبہ ، جیت جائے ، کوئی مسئلہ نہیں۔ اصل مسئلہ اس کا مافیا کا سا انداز ِ سیاست، تشدد اور پھیلایا جانے والا خوف تھا، لیکن پاک فوج کی پشت پناہی سے رینجرز نے یہ خوف بہت حد تک دور کردیا ہے۔ ایم کیو ایم کے خلاف ماضی میں ہونے والے آپریشن کا ہمیشہ الٹا نتیجہ نکلا اور یہ پہلے سے بھی زیادہ طاقتور ہوکر ابھری اور اس نے آپریشن کرنے والوں اور اپنے راستے میں آنے والوں سے حساب کتاب برابر کردیا۔ مشرف کے دور میں بہت سے قانون نافذ کرنے والے اہل کاروں، جنھوں نے 1995ء میں جنرل نصیر اﷲ بابر( جو اُس وقت پی پی پی حکومت میں وزیر ِ داخلہ تھے) کے آپریشن میں اپنے فرائض سرانجام دئیے تھے، کوچن چن کر مار دیاگیا۔اکثر اہل کاروں کو انتہائی اذیت ناک طریقے سے ہلاک کیا گیا۔
اس مرتبہ صورت ِحال مختلف دکھائی دیتی ہے۔ ایم کیو ایم اندر سے ہل چکی ہے۔ رینجرز کے موثر آپریشن کے علاوہ اس کے سپریم کمانڈر ، الطاف حسین صحت کے پیچیدہ مسائل کا بھی شکار ہیں، اُنہیں برطانیہ میں بھی مقدمات کا سامنا ہے، ایسا لگتا ہے کہ اب ان کے ستارے حتمی طور پر گردش میں آچکے ہیں۔ عروج کے دنوں میں اُن کی طاقت لامحدود تھی اور کوئی عقل سے دستبردار ہونے والا ہی ان کی ناراضی مول لینے کی حماقت کرتا ، کیونکہ اس کے نتائج انتہائی سنگین نکلتے۔ تاہم آج سورج افق کی طرف بڑھ رہا ہے،موسیقی کی تان گہری اور سنجیدہ ہوتی جارہی ہے، جبکہ پس ِ منظر کی تاریکی واضح دکھائی دینے لگی ہے۔ و ہ احباب جو مصطفی کمال کے بیانات کو اخلاقی پیمانے میں تولنے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ پہلے کیوں نہ بولے، میرے خیال میں وہ صورت ِ حال کو سمجھنے میں قدرے غلطی کررہے ہیں۔ اس سے قطع نظر کہ مصطفی کمال کی آمد طے شدہ ہے یا نہیں، اس سے فوج کے اس عزم کا ضرور پتہ چلتا ہے کہ اب کراچی کو آپریشن سے پہلے والی دلدل میں نہیں گرنے دیا جائے گا۔ اس پر کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے، یہ معاملہ صرف جنرل راحیل شریف کا ہی نہیں، جنرل کیانی کے بعد کی تمام آرمی کمان ، جنرلوں اور کور کمانڈروں کی تمام ٹیم، موجودہ آپریشن، چاہے یہ ٹی ٹی پی کی مذہبی دہشت گردی کے خلاف ہو یا ایم کیو ایم کی سیکولر دہشت گردی کے، کی تمازت برداشت کرکے یہاں تک پہنچی ہے ، چنانچہ پاکستان کو دوبارہ اُس خونی لہر کا شکار ہونے کی اجازت کسی طور نہیں دی جائے گی۔ ملک کو موجودہ حالات تک لانے کےلئے بہت سا خون دیا گیا ہے، رقم خرچ ہوئی اورجلتے ہوئے شعلوںکو اپنے ہاتھوں سے بجھایاگیاہے۔
یہ فوج میں بیدار ہونے والا وہ نیا جذبہ ہے جسے پاکستانی تاریخ کی طویل ترین اورمشکل ترین جنگ نے مہمیز دی ہے۔ یہ جنگ بھارت کے ساتھ چند دنوں تک لڑی جانے والی جنگوں کی نسبت کہیں ہولناک ہے۔ اب جنرل راحیل شریف کے بعد جوافسر بھی کمان سنبھالے گا،وہ نہ صرف فوج کی موجودہ ساکھ کو برقرار رکھے گا بلکہ اس جذبے کو بھی سرنگوں نہیں ہونے دے گا۔ اب اس جنگ کے ماحول میں کسی ’’ضیا الدین بٹ ‘‘ کی گنجائش نہیں۔ تاہم کچھ اہم مسائل ابھی باقی ہیں۔ فوج ریاست کا ایک پہیہ ہے، یہ تمام بوجھ اپنی کمر پر نہیں اٹھا سکتی۔ اگر فوج نیا تصور اپناتے اورجہادی ماضی کے گرداب سے نکلتے ہوئے روشن مستقبل کی طرف قدم بڑھارہی ہے،تو اس سفر میں قوم مجموعی طورپر اس کے ہم قدم نہیں۔ اس راہ پر قدم بڑھاتے ہوئے فوج نے ’’ضیا، اسلم بیگ، مشرف،کیانی‘‘ادوار کو بہت پیچھے چھوڑدیا ہے ۔ حاصل ہونے والے نئے تجربات نے اس کی سوچ بدل دی ، لیکن جہاں تک سویلین قیادت کا تعلق تو اس کا فکری جمود ٹس سے مس ہونے کے لئے تیار نہیں۔ آج کے پاکستان کی رہنمائی 1980 کی دہائی کی سیاسی قیادت کے ہاتھ میں ہے۔
اگر یہ پرانے سیاست دان نت نئے تصورات کے حامل ہوتے تو ’’عمراں چہ کی رکھیا‘‘(عمر کی کوئی قید نہیں )، کیونکہ ہمارے سامنے امریکی صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شریک ، 74 سالہ برنی سندرس تازہ خیالات کے ساتھ نوجوانوں کو تحریک دے رہے ہیں۔ ہوسکتاہے کہ وہ صدارتی انتخابات نہ جیت پائیں ، لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کم از کم اُنھوں نے اس مہم میں جان سی ڈال دی ہے۔ اسی طرح بے خوف ڈونلڈ ٹرمپ بھی مزید تازہ خیالات کے بے دھڑک اظہار کے لئے موجود میں۔ دوسری طرف ہمارے ہاں تازہ خیالات کاقحط ہے، چنانچہ پاکستان تبدیلی اور بہتری کی راہ پر گامزن ہوتا دکھائی نہیں دیتا، بلکہ کوئی اس پر بات بھی نہیں کررہا۔ فوج نے اپنا راستہ تبدیل کرلیا ہے، ماضی کے بہت سے بندھن توڑ ڈالے ہیںلیکن سویلین کی طرف سے کوئی ہلچل ہوید ا نہیں، سوائے سرخ، اور اب سبز میٹرو، اورنج ٹرین اور اسی طرح کے مہنگے میگاپروجیکٹس۔
جس دوران کراچی اور فاٹا کی صورت ِحال بہتری کی طرف گامزن ہے، تنگ نظری پیدا کرنے والے کچھ مدرسوں کی اصلاح کا عمل شروع نہ ہوسکا، صحت اور تعلیم نظر انداز اور سوشل سیکٹر غیر فعال، تو دوسری طرف امیر اور غریب کے درمیان فرق بڑھتا ہوا۔ اس غیر فعالیت کے باوجود حیرت کا اظہار کیوں کہ ممتاز قادری کے جنازے پر اتنے لوگ آگئے تھے؟ دراصل ہم نے دوپاکستان تشکیل دے دئیے ہیں۔ ایک دولت منداور استحقاق یافتہ اور دوسرا غریب اور پسماندہ۔ دولت مند طبقے کے لئے ادبی تہوار ہیں، لیکن اس لکیر کے دوسری طرف رہنے والے لال مسجد اور ممتاز قادری سے تحریک لیتے ہیں۔ اگرفوج کا کام انتہا پسندی اور دہشت گردوں کے ساتھ اُن کے بیانیے کو بھی ختم کرنا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ سیاست دانوںکا کام آدھا رہ گیا۔ اب ضروری ہے کہ وہ اپنی توانائی امیر اور غریب کے درمیان فرق کو کم کرنے میں صرف کریں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *