افغانستان کا رومانس

Yasir-Pirzada-blog

بچپن سے ہم معاشرتی علوم کی کتابوں میں پڑھتے آئے ہیں کہ جغرافیائی لحاظ سے پاکستان ایک آئیڈیل جگہ پر واقع ہے ۔ استاد نے بھی ہمیں یہی بتایا تھا ۔بات چونکہ سادہ تھی اس لئے آسانی سے سمجھ میں آ گئی مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کچھ ضرورت سے زیادہ پڑھے لکھے لوگوں نے اس سادہ سی بات میں strategic locationاور Depthکا اضافہ کر کے اسے اتنا بوجھل بنا دیا کہ ہم ان کے ہجے یاد کرتے کرتے پاکستان کا جغرافیہ بھول گئے اور بھٹک کر افغانستان جاپہنچے اور پھر اس وقت تک وہاں سے نہیں نکلے جب تک ہمیں ان دونوں تراکیب کے معنی ازبر نہیں ہو گئے ۔ ویسے اس ناچیز کو آج تک یہ آئیڈیل لوکیشن والی بات ہضم نہیں ہوسکی کیونکہ ایک طرف تو ہمارے پاس بھارت جیسا ’’تحفہ ‘ ‘ ہمسائے کی شکل میں موجود ہےجس کی بدمعاشیوں نے ہر پڑوسی ملک کے ناک میں دم کر رکھا ہے جبکہ دوسر ی طرف ایسا برادر ملک واقع ہے جس نے کئی دہائیوں تک پوری دنیا کو خواہ مخواہ اپنا دشمن بنائے رکھا ، تیسر ی طرف چین ہے جس سے شکر ہے کہ ہمارے تعلقات مثالی ہیں اور پھر افغانستا ن ہے جو دنیا کی ناکام ترین ریاست او ر گزشتہ کئی برسوں سے عالمی جنگ و جدل کا اکھاڑہ ہے ۔ سو اگر کسی مردِ عاقل کا خیال ہے کہ یہ کسی ملک کی آئیڈیل لوکیشن ہو سکتی ہے تو ایسے شخص کو فورا پاکستان کرکٹ ٹیم کا چیف سلیکٹر مقرر کر دینا چاہئے۔
افغانستان سے ہمارا رومانس بہت پرانا ہے۔ جب بھی افغان جہاد کی بات نکلتی ہے تو ہم خوشی سے پھولے نہیں سماتے کہ یہ ہمارا وہ کارنامہ ہے جس پر دشمن بھی ہمیں داد دینے پر مجبور ہیں کہ ہم نے ایک سپر پاور کو ناکوں چنے چبوا دیئے ،اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ، وہ دُم دبا کر بھاگ گئی اور اس کا غرور پاش پاش ہو گیا وغیرہ وغیرہ (اس وقت یہی محاورے یاد ہیں ) ۔ہمارا خیال ہے کہ دنیا تو ہمارے اس کارنامے کی معترف ہے مگر افسوس کہ پاکستان میں بعض نا سمجھ عناصر پاکستانی ریاست کو اس بات کا کریڈٹ دینے کی بجائے الٹا اپنی کم علمی کی وجہ سے پاکستانی ریاست کو ہی قصور وار ٹھہراتے ہیں حالانکہ وہ یہ بات نہیں جانتے کہ افغانستان پر روس کے حملے کے بعد پاکستان نے افغانستا ن کا ایسے ہی ساتھ دیا جیسے ویت نام کے حریت پسندوں کا ساتھ سوویت یونین اور چین نے دیا۔چلئے یونہی سہی ، اسی بات کا نتارا کر لیتے ہیں اور فرض کرتے ہیں کہ افغان جنگ میں ہم نے جو کردار ادا کیا بطور ریاست ہمیں وہی کردار ادا کرنا چاہئے تھاتو اس کردار کی چند جھلکیاں یاد کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
پہلے تو افغان جنگ اور ویت نام کا موازنہ ہی درست نہیں ، ویت نام کی جنگ قومیت کی بنیاد پر لڑی گئی تھی ،وہاں کسی نے بدھ ازم کو بچانے کا نعرہ بلند کر کے پوری دنیا سے بدھ مذہب کے پیروکار لڑنے کے لئے اکٹھے نہیں کئے تھے ، جبکہ ادھر ہم نے امریکہ کے ساتھ مل کر جہاد کا نعرہ بلند کیا ، یہ اپنی طرز کا واحد جہاد تھا جو ایک غیر مسلم طاقت کے ساتھ مل کر کیا گیا اور یہ بیانیہ قوم کو دیا کہ یہ کفر و اسلام کی جنگ ہے ۔ پوری دنیا سے جنگجو اکٹھے کئے گئے اور انہیں اپنی زمین فراہم کی گئی ۔ جب ہم کہتے ہیں کہ ہم نے افغان جنگ میں افغانستان کو سپورٹ کیا تو پوری دنیا کو معلوم ہے کہ ہم نے کیسے سپورٹ کیا ، کوئی نسوار سپلائی نہیں کی تھی ! چلئے یہ بھی مان لیتے ہیں کہ ایک سپر پاور ہمارے دروازے پہ آن پہنچی تھی اور ہمارے پاس افغانستان کی مدد کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا مگر اس وقت کے پالیسی ساز اور ان کے مشیر یہ نہیں جان سکے کہ جس بیانئے کی بنیاد پر وہ اس جنگ کے لئے اپنے ملک میں جنگجو اکٹھے کر رہے ہیں۔ ایک دن یہی بیانیہ ہمارے بچوں کی جان لے گا اور ایسا ہی ہوا۔ اب اگر کوئی اصرار کرے کہ ہم نے اس وقت ٹھیک کیا تھا تو یہ خاکسار سوائے ادب سے اختلاف کرنے کے کیا کرسکتا ہے !
چلئے آگے بڑھتے ہیں ۔مان لیا کہ ہم نے یہ جنگ افغان بھائیوں کی مدد اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے لڑ ی مگر 1989 میں جب سوویت فوجوں کا انخلا ہوا تو اس کے بعد ہماری پالیسیوں کا کیا جواز باقی رہ جاتا ہے ، اس وقت تو کفر و اسلام کا معرکہ ختم ہو چکا تھا ، باطل کو شکست ہو چکی تھی ، اس وقت ہم سب کو اپنے اپنے گھروں کو سدھار جانا چاہئے تھا مگر پھر ایک دوسری غلطی ہم نے کی اور ان جنگجوؤں کو پالنا شروع کر دیا ۔ ہمارے اسٹریٹیجک ڈیپتھ کے تخلیق کاروں (یہ کوئی فرضی تھیوری نہیں، اس کے موجد اس تھیور ی کی تخلیق پر خود ہی اپنا سر دھنا کرتے تھے ) نے سوچا کہ اگر ہم روس کو اس پالیسی کی مدد سے شکست دے سکتے ہیں تو بھارت کس کھیت کی مولی ہے چنانچہ بات 1989 میں ختم نہیں ہوئی اور اس کے بعد جو کچھ ہمارے ملک میں ہوا اس نے ہماری زندگیوں کو جہنم بنا دیا ۔1989 سے لے کر2001 تک روس توافغانستان میں نہیں تھا تو اس دوران جو کالعدم تنظیمیں وجود میں آئیں کیا وہ آسمان سے براہ راست ٹپکی تھیں ؟ انہیں کس سوویت یونین سے لڑنا تھا ؟ ان کا ہمارے ملک میں کیا کام تھا ؟ کیا وہ افغان جنگ کے نتیجے میں وجود میں نہیں آئیں ؟اور اگر ان کی شان نزول کی وجہ افغان جنگ نہیں کچھ اور تھی تو کم از کم خاکسار اس سے واقف نہیں ، اگر آپ میں سے کسی کو علم ہو تو بیرنگ خط لکھ کر مطلع فرمایئے ۔مزید آگے چلتے ہیں۔ سوویت انخلا کے بعد افغانستان میں امن قائم کرنا ہمارے مفاد میں تھا، بالکل درست بات ہے مگر اس مفاد کو حاصل کرنے کے لئے ہم نے وہاں جن شدت پسند گروپوں کی حمایت کی اس کے نتیجے میں پہلے طالبان اور بعد میں القاعدہ بن گئی اور یہ ہماری ایک اور سنگین غلطی تھی۔ ہونا یہ چاہئے تھا کہ افغانستان کے تمام گروپس جن میں شمالی اتحاد بھی شامل تھا ان کو ساتھ ملایا جاتا مگر ہم نے ان لوگوں کی حمایت کی جن کے لیڈران کابل کی گلیوں میں عورتوں کے چہروں پر تیزاب پھینکتے تھے اور ان کے قصیدے ہم اپنے اخباروں میں لکھتے تھے (ہیں )۔
سو جناب یہ ہے اس بیانیے کا ٹریلر (انشااللہ ضرورت ہوئی تو حوالوں کے ساتھ پوری فلم بھی انہی کالموں میں چلائی جائے گی) جو افغان جنگ کے دوران اور اس کے بعد ان تین دہائیوں میں اس ملک میں پروان چڑھا اور اس کے نتیجے میں ایک ایسا معاشرہ وجود میں آیا جہاں عدم برداشت اور شدت پسندی کا چلن عام ہوا اور لوگوں کو عقیدے ، مذہب ، نسل ، زبان اور مسلک کی بنیاد پر قتل کیا جانے لگا ۔ بقول ہیلری کلنٹن جو سانپ ہم نے اپنے ہمسایوں کے لئے صحن میں پال رکھے تھے، ہمیں علم نہیں کہ ایک روز وہ صحن سے ہمارے اپنے گھر میں گھس ہو کر ہمیں بھی کاٹ سکتے ہیں ۔اور یہی ہوا ۔ان سانپوں نے ڈس ڈس کر ہمارا بدن لہو لہان کر دیا مگر ہم اب بھی انہیں گلے کا ہار بنانا چاہتے ہیں۔ انسانوں کی طرح قوموں سے بھی غلطیاں ہوتی ہیں مگر زندہ قومیں ان غلطیوں کی اصلاح کرتی ہیں نہ کہ ان پر اصرارکرکے مزید پہاڑ جیسی غلطیوں کو جنم دیتی ہیں۔ افغان جنگ میں ہم نے سپر پاور کو شکست ضرور دی ہوگی مگر اس کی جو قیمت ہم آج تک اپنے فوجی جوانوں ، سیکورٹی اہلکاروں ، بے گناہ مرد، عورتوں اور بچوں کی لاشوں کی صورت میں چکا رہے ہیں وہ اس فتح کے سرور سے کہیں زیادہ ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *