آئی فون اور موٹر سائیکل خریدنے کے لئے 18 دن کی بیٹی کو بیچ دیا

56d

بیجنگ: چین کے ایک 19 سالہ شخص کو اپنی 18 دن کی بیٹی فروخت کرنے پر تین سال کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔چین کے مقامی اخبار پیپلز ڈیلی آن لائن کی ایک رپورٹ کے مطابق جنوب مشرقی صوبے فوجین کے رہائشی 'اے دوان' نے مبینہ طور پر آئی فون اور موٹر سائیکل خریدنے کے لیے بیٹی کو فروخت کیا۔اے دوان نے چینی سوشل میڈیا ویب سائٹ کیو کیو پر اشتہار دے کر بیٹی کو 23 ہزار یوآن (تقریباََ 3 لاکھ 70 ہزار پاکستانی روپے) میں فروخت کیا تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق 18 دن کی بچی کی ماں 'ژیاو میئے' کی عمر بھی 19 سال ہے۔اے دوان کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ وہ زیادہ تر وقت انٹرنیٹ کیفے میں وقت گزارتا ہے جبکہ اس کی ماں کئی جز وقتی نوکریاں کرتی رہی ہے۔رپورٹس کے مطابق 18 دن کی بچی کو ایک نامعلوم شخص نے اپنی بہن کے لیے خریدا تھا، بچی کے دونوں 19 سالہ والدین مالی طور پر مستحکم نہ ہونے کی وجہ سے اس کی کفالت نہیں کرسکتے، اس لیے بچی تاحال خریدار کی بہن کے پاس ہی ہے۔بچی کی ماں کا کہنا تھا کہ میری کفالت بھی کسی اور نے کی تھی، ہمارے آبائی علاقے میں بچوں کو کفالت کے لیے دوسرے لوگوں کو دینا عام بات ہے، لیکن مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ یہ غیر قانونی ہے۔بچی کو فروخت کرنے پر 19 سالہ خاتون ژیاو میئے کو بھی ڈھائی سال کی سزا سنائی گئی۔واضح رہے کہ اے دوان اور ژیاو میئے نے 2013 میں شادی کی تھی، اس وقت ان دونوں کی عمر صرف 16 سال تھی، جبکہ چین کے قانون کے مطابق شادی کے وقت لڑکے کی عمر 22 اور لڑکی کی عمر 20 سال ہونا ضروری ہے، کم عمری میں شادی کی وجہ سے ان دونوں کی شادی رجسٹرڈ بھی نہیں کرائی گئی، جبکہ بچی کی فروخت کے بعد دونوں میں علیحدگی ہو گئی تھی۔میڈیا کے مطابق چین میں ہر سال 2 لاکھ بچے اور بچیاں اغواء ہوتے ہیں جنھیں کھلے عام آن لائن فروخت کر دیا جاتا ہے۔چینی حکام کی جانب سے اس حوالے بہت سے اقدامات کیے گئے لیکن ابھی تک اس مسئلے پر قابو نہیں پایا جاسکا:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *