ڈونلڈ ٹرمپ :مسلمانوں کے لیے ہٹلر؟

naeem baloch1 کیا آپ کو معلوم ہے امریکہ میں مسلمانوں کا سب سے بڑا مرکز کہاں ہے ؟یہ اعزاز مشی گن سٹیٹ کے شہر ڈیئر بورن (Dearborn) کا حاصل ہے ۔ امریکہ کے حالیہ الیکشن میں اس شہر کو خاصی اہمیت دی جارہی ہے۔ اس شہر کی تیس فی صد آبادی عرب نسل کے مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ ان کی تعداد قریباً ایک لاکھ ہے۔ یہاں پر مسلمانوں کی امریکہ میں سب سے بڑی مسجد ہے۔ حلال ریسٹورنٹ کی سب سے زیادیہ تعداد یہیں ہے ، یہاں پر میکڈونلڈ حلال گوشت کی پروڈکٹ فراہم کرتا ہے۔
پچھلے دنوں ان مسلمانوں سے امریکی انتخابات کے حوالے سے بات کی گئی تو بہت حیران کن باتیں سامنے آئیں ۔ دوسرے مسلمانوں کی طرح انھوں نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی باتیں کو بہت سنجیدگی سے لیا ہے۔ یاد رہے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ مسلمانوں کو امریکہ میں بین کر دینا چاہیے اور انھیں علیحدہ کیمپوں( Internment Camps ) میں رہنا چاہیے۔ ری پبلیکن امیدوار ٹرمپ کی یہ باتیں اس پس منظر میں مسلمانوں کے لیے بڑی معنی خیز ہیں کہ وہ نائن الیون کے بعد امریکی معاشرے سے نفرت اور ناپسندیدگی کا ’’تحفہ ‘‘ وصول کر چکے ہیں ۔ وہ درست طور پر سمجھتے ہیں کہ اس حادثے میں ان کا کوئی قصور نہیں ۔ لیکن صدام ، عراق ، یمن ، شام اور ایران کے ساتھ امریکہ کی مس ہینڈلنگ کا خمیازہ بھی انہیں ہی بھگتناپڑ رہا ہے۔ وہ اپنی وطن کے لیے کی گئی خدمات کو فراموش کرنے پر بہت رنجیدہ خاطر ہیں۔ مشی گن ڈیموکریٹک پارٹی کے عہدے دار مالک بدون کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ صدر بن گئے تو انھیں بہت سخت حالات کا سامنا ہو گا۔ایک دوسرے مسلمان شہری نے کہا کہ ٹرمپ کی صورت میں ان کو دشمن اور متعصب صدر سے واسطہ پڑے گا اور ہو سکتا ہے کہ انھیں وقتی طور پر کینیڈا ہجرت کرنی پڑے۔ یاد رہے یہ رائے صرف ایک شخص کی نہیں بلکہ ایک پوری کمیونٹی کی ہے جس نے امریکی میڈیا میں ن پریشانی کی لہر دوڑا دی ہے۔ ادھر مشی گن ریاست میں ٹرمپ کو اپنے مقابل پر فیصلہ کن برتری حاصل ہو چکی ہے۔ یحییٰ باش وہ امریکی مسلم ہیں جنھوں نے پارٹی سے وابستگی کی وجہ سے جارج بش اور مٹ ارمنی کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت وہ کہہ رہے ہیں کہ انھیں ٹرمپ کا ساتھ دینا بہت برا لگ رہا ہے۔ ان کے الفاظ میں I am struggling ۔
یاد رہے کہ اب تک کے نتائج کے مطابق ٹرمپ ہی ہلیری کا مقابلہ کریں گے،اور ان کے صدر منتخب ہونے کو ناممکن تصور نہیں کہا جا سکتا۔ مشی گن میں ڈیلی گیشن دوڑ جیتنے بعد موصوف نے کہا ہے اب تمام ری پبلکن کو متحد ہو کر اس ساتھ دینا چاہیے۔ مسلمانوں کے ٹرمپ کے ساتھ اس قدر تحفظات کے بعد بھی اگر وہ جیت جاتے ہیں تو یہ بات ایک حقیقت کے طور پر سامنے آئے گی کہ امریکہ کی فضا اب مسلمانوں کے لیے ساز گار نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ اس بات کو میڈیا ہاؤس نے اس عنوان کے ساتھ شائع کیا ہے کہ کیا ٹرمپ مسلمانوں کے لیے ہٹلر ثابت ہو سکتا ہے ؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *