جمہوری خوف

ijaz zakaاعجاز ذکاء سیّد

انسان کی تعمیر کردہ دیواروں کے سبب تقسیم ہو جانے والے خاندانوں اور پیاروں کا تذکرہ کرتے ہوئے، ہندوستانی صحافی سعید نقوی، اپنے ایک رشتہ دار کو یاد کرتے ہیں، جس نے ہجرت کر جانے والے دیگرخاندانوں کی طرح 1947ء میں صرف اس لئے پاکستان جانے سے انکار کر دیا تھاکیونکہ ’’ہندوستان میں بہت زیادہ مسلمان موجود تھے!‘‘
لیکن کروڑوں لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے یوپی، بِہار اور دوسری ہندوستانی ریاستوں کو چھوڑ کر شمال کی جانب واقع پاک سر زمین کی طرف ہجرت کی۔ لاکھوں ہندوؤں نے پک سر زمین سے ہندوستان کی طرف ہجرت کی ۔ یہ ہجرتیں عظیم خونی افراتفری اور بے نظیر انسانی آفت کے بیچ واقع ہوئیں۔ اس آفت نے دونوں اطراف آباد کئی نسلوں کو خوف زدہ کئے رکھا۔
ہندوستان کا جنوب بڑی حد تک اس ساری تباہی کے درمیان غیر متاثرہ رہا۔حیدر آباد کی سابق ریاست سے بیشتر خاندانوں نے ہجرت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔شاید اس لئے بھی کہ وہاں، اس وقت تک نظام کی حکومت تھی اور ہر طرف سکون تھا۔ کوئی انتشار نہیں تھا۔اس سب سے بڑی شاہی ریاست نے ہندوستان کے وسط میں ہونے کے باوجود، اپنی آزادی کو برقرار رکھنے کا احمقانہ خواب دیکھا اور پھر اس کے تکلیف دہ نتائج بھی بھگتے۔ حیدرآباد نے بڑائی کے ان جھوٹے اندازوں کی بھیانک قیمت ادا کی۔ تاہم یہ ایک الگ کہانی ہے۔
پاکستان واپس آتے ہیں۔ اس اسلامی جمہوریہ میں مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد تھی کیونکہ یہ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے وطن کے طور پر بنایا گیا تھاتاکہ یہاں وہ اپنی شناخت کو برقرار رکھ سکیں اور اپنے معاملات کو اکثریت کے دباؤ کے خوف کے بغیر اپنی مرضی سے چلا سکیں۔
لیکن کیا پاکستان کا خواب دیکھنے والے اور اس کی تعمیر کرنے والے اپنی اکثریت کا ظالمانہ نظام قائم کرنا چاہتے تھے؟ اورکرامت اللہ غوری کے الفاظ میں، اس نئی قوم کو اقلیتوں کے لئے ایک جہنم بنانا چاہتے تھے؟میرا خیال ہے، وہ ایسا نہیں چاہتے تھے۔
کرامت اللہ غوری کی جانب سے اکثر کی جانے والی کردار کشی کے برعکس، جناح نے ایک معتدل اور مثالی مسلمان ریاست کا خواب دیکھا تھا، جس میں سب کے حقوق، بالخصوص مذہبی اقلیتوں کے حقوق کو تحریری اور عملی، دونوں طرح سے بھرپور تحفظ فراہم کیا گیا تھا۔ بلا شبہ پاکستان نے ایک اسلامی جمہوری ہونا تھا۔۔۔ اسلام کا ایک قلعہ، اگر آپ ایسا چاہتے تو۔ تاہم یہ اس لئے حاصل نہیں کیا گیا تھا کہ ریاست کی نظروں میں حقوق اور مراعات کے معاملے میں، کچھ لوگوں کو دوسروں پر فوقیت حاصل ہوتی۔
قائد اعظم اپنے ننھے پودے کو بڑا ہوتے اور اپنی جوانی کی عمر کو پہنچتا دیکھنے کے لئے زیادہ دیر زندہ نہ رہے۔تاہم، انہوں نے اور تحریک پاکستان میں حصہ لینے والے صفِ اول کے دوسرے رہنماؤں نے بار بار واضح کیا تھاکہ وہ کس قسم کی قوم کی تعمیر کررہے تھے، اور یہ بھی واضح کر دیا تھا کہ وہ کیا نہیں چاہتے تھے۔
پاکستان کے وجود میں آنے سے تین روز قبل، 11اگست، 1947ء کو پاکستان کی آئین ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے کہا، ’’آپ آزاد ہیں۔پاکستان کی اس ریاست میں، آپ اپنے مندروں میں جانے کے لئے آزاد ہیں۔ آپ اپنی مساجد میں جانے کے لئے یا اور کسی بھی دوسری عبادت گاہ میں جانے کے لئے آزاد ہیں۔ آپ چاہے کسی بھی مذہب، ذات یا فرقے سے تعلق رکھتے ہوں۔۔۔ ریاست کا اس بات سے کچھ لینا دینا نہیں۔وقت کے ساتھ ساتھ آپ کومعلوم ہوجائے گا کہ ہندو، ہندو نہیں رہیں گے، اور مسلمان، مسلمان نہیں رہیں گے، مذہبی حوالے سے نہیں کیونکہ یہ تو ہر شخص کا ذاتی عقیدہ ہوتا ہے، بلکہ سیاسی حوالے سے یعنی ریاست کے شہریوں کے طور پر۔‘‘
جناح اقلیتوں کے متعلق برداشت اور احترام کا اپنا پیغام گھر گھر پہنچانے کے لئے بار بار پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے تحت، اورپھر بعد کی صدیوں میں چلنے والی اسلامی ریاست کے ابتدائی نمونے کا حوالہ دیتے۔
میں جانتا ہوں کہ یہ سب نیا نہیں ہے۔ ہم یہ سب کچھ پہلے سن چکے ہیں۔ایک اسلامی جمہوریہ میں جس طرح کے واقعات رونما ہو رہے ہیں اور حقائق منظر عام پر آرہے ہیں، پاکستان کے مبصرین، دانشور اور شہری عمائدین بار بار ان سب کے متعلق اپنے غم و غصے اور مایوسی کا اظہار کر چکے ہیں، بالخصوص اقلیتی گروہوں سے متعلق حقائق و واقعات کے بارے میں۔ سچ تو یہ ہے کہ شدید نوعیت کے اس مسئلے کو حل کرنے کی بھرپور کوششیں کر چکنے کے بعد، ان آوازوں میں سے کئی مایوس کن حد تک تمسخر آمیز، زہر خند یا طنزیہ ہو گئی ہیں۔ اور یہ رویہ اختیار کرنے کی ان کے پاس معقول وجوہات بھی موجود ہیں۔کوئی دن نہیں گزرتا کہ جب مکمل طور پر معصوم اور غیر مشکوک لوگوں کو نشانہ نہ بنایا گیا ہو یا ان پر ظلم نہ کیا گیا ہو۔
شیعہ کمیونٹی جو زندگی کے تمام شعبوں میں ہمیشہ صف اول میں رہی ہے۔۔ جناح خود بھی ان میں شامل تھے اور اسی طرح پاکستان کے کئی چوٹی کے سیاستدان بھی اس کمیونٹی سے متعلق ہیں۔۔۔ یہ کمیونٹی کراچی سے خیبر تک زیر عتاب ہے۔
جہاں تک چھوٹی سی ہندو کمیونٹی کا تعلق ہے، یہ پاکستانی معاشرے کے مرکزی دھارے سے بہت دور ہے اور بہت زیادہ توجہ ملنے کے سبب تقریباً خوف زدہ رہتی ہے ۔یہ اپنے آباؤ اجداد کی سرزمین پر اپنے آپ کو مسلسل ایک تھکا دینے والی اذیت میں مبتلا پاتے ہیں۔ واضح تعصب سے لے کر جسمانی حملوں تک اور جائیدادوں پر قبضے سے لے کر تبدیلی مذہب اور شادیوں پر مجبور کئے جانے تک۔
رواں ہفتے کے دوران ، کراچی پریس کلب کے ایک مذاکرے میں اپنی 6سالہ بیٹی جمنا کے ساتھ ایک غریب ہندو جوڑا نمودار ہوا۔ جمنا کوبظاہر اس کی 10سالہ بہن پوجا کے ساتھ اغواء کر لیا گیا تھا۔ تاہم، بعد ازاں ان ننھی لڑکیوں کو پولیس کی جانب سے ایک عدالت میں ان بچوں کے طور پر پیش کر دیا گیا کہ جو مسلمان ہو چکے تھے۔
ان بچیوں کے چچا نے سوال کیا، ’’جمنا اور پوجا جیسے چھوٹے بچے اپنے مذہب یا اسلام کے متعلق کیا جانتے ہیں کہ جو انہیں مذہب کی تبدیلی پر آمادہ کر لے؟ کیا آپ یہ تسلیم کر سکتے ہیں کہ آپ کی بیٹیوں کی جبراً ہندو مردوں سے شادیاں کر دی جائیں؟‘‘
یہ کس قسم کا مشنری جذبہ ہے اورایسا کرنے والے لوگ، خواہ وہ جو بھی ہیں، کون سے مذہبی مقصد کی تکمیل یا فریضے کی ادائیگی کر رہے ہیں؟کم از کم یہ اسلام یا پاکستان کا کوئی مقصد تو بہرحال نہیں ہو سکتا۔گزشتہ چند سالوں میں، پاکستانی ہندو خاندانوں میں سے بہت سے تسلسل کے ساتھ سرحد پار کرکے پناہ کی تلاش میں ہندوستان جاتے رہے ہیں۔ ان کو ملنے والی سزاؤں کی کہانیوں کو قابل فہم حد تک نہ صرف یہ کہ میڈیا پر بہت زیادہ کوریج مل جاتی ہے بلکہ ہندوتوا گروہوں کو اپنی مسلح کارروائیوں کے لئے بہت سے سپاہی بھی مل جاتے ہیں۔
خلیفہ ثانی، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وقت سے لے کر سلطان صلاح الدین ایوبی کے وقت تک، اسلامی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ جب متاثرہ اقلیتوں نے مسلمانوں کی سرزمین پر پناہ لی یا انہیں مسلمانوں نے ظالموں سے بچایا۔مسلم اسپین میں اور سلطنت عثمانیہ میں یہودیوں اور دوسری اقلیتوں نے اس وقت ترقی کی جب سارے یورپ میں انہیں چن چن کر مارا جا رہا تھا۔
خوف بڑی حد تک جمہوری نوعیت کا ہے۔ ایک غیر محفوظ معاشرے میں ، اپنے اپنے حالات کے مطابق، ہر شخص غیر محفوظ ہے۔ تاہم اپنے مخصوص کردار اور شناخت کی وجہ سے اقلیتیں کچھ زیادہ ہی غیر محفوظ ہیں۔یہ پاکستان کی ریاست اور ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے کہ اس بات کا خیال رکھے کہ اقلیتیں نہ صرف یہ کہ محفوظ رہیں، بلکہ یہ بھی ہونا چاہئے کہ وہ محفوظ نظر آئیں۔
ایک پر امن، ترقی پذیر اور مستحکم معاشرے کی تعمیر کے لئے اپنے کمزورترین اور غیرمحفوظ گروہوں کی سلامتی اور فلاح ضروری ہے ۔ اور یہ بات پاکستان کے لئے بھی اتنی ہی سچی ہے جتنی کہ یہ ہندوستان کے لئے سچی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *