میں "کوڑے والا" ہوں،آپ کی توجہ چاہتا ہوں!

فیصل رشید

faisal rasheed

انسان کی پہچان اُس کے نام کے بعد اُس کا کام ہوتا ہے۔کام کی بنیاد پر ہی اُس کو داد وصول ہوتی ہے۔داد دینے والا کبھی یہ نہیں دیکھتا کہ اُس نے کام کیسے،کتنے وقت اور کتنی محنت میں انجام دیا۔کام دیکھنے والے کی آنکھ کو اگر تو بھا گیا پس پھر تعریفوں کے ان گنت ڈھیر لگ جاتے ہیں۔بہرحال صفائی ستھرائی ہر کسی کی آنکھوں اور دل کو خوب بہاتی ہے۔انسان تو کیا اِس کا پالتو کُتا بھی اپنے بیٹھنے کی جگہ کو صاف کر کے بیٹھنا پسند کرتا ہے۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ انسان نے صفائی کو یا تو بیماریوں سے بچانے یا پھر’’ صفائی نصف ایمان‘‘ جان کر اپنایا۔یہ میری مجبوری سمجھے یا خدمتِ خلق یا پھر نصف ایمان۔۔۔میں نے صفائی ستھرائی کو اپنا پیشہ بنایا۔
میری پیدائش پر میرے ماں باپ نے میرا کیا نام رکھا معلوم نہیں مگر میرا نام میرے کام کی بنا پر ’’کوڑے والا‘‘ رکھ دیا گیا ہے۔مجھے پسند ہے۔کیوں کہ میں ہوں ہی کوڑے والا۔۔۔خیر ۔۔۔۔میں اپنے کام پر اعزاز محسوس کرتا ہوں جب ننھے پیارے کومل کلیوں جیسے بچے بڑے پیار سے پکارتے ہیں ’’ماما/ پاپا‘‘ کوڑے والا آیا ہے۔ عجیب ہے مگر قسمت پر یقین ہے جو قسمت میں تھا مل گیا۔اب یہ میری خوش قسمتی ہے یا بد قسمتی کہ میں جس گھر میں پیدا ہوا وہ( اس خطے میں بسنے والے مذہبی اقلیت قرار دیے گئے )ایک غیر مسلم کا گھر تھا۔مگر میرے والدین انسان تھے۔
ماں کا خواب تھا کہ میں ڈاکٹر بنوں اور انسانیت کی خدمت کروں۔غربت کے باعث میں ڈاکٹر تو نہیں ہوں مگر ماں کا خواب ’’خاکروب‘‘ بن کر پورا کر رہا ہوں۔ انسانوں کے گھر کا کوڑا کرکٹ اُٹھا کر،انسانوں کو بیماریوں سے بچا کر،انسانوں کی گندگی صاف کر کے۔بظاہربیماریوں کا علاج کرنے والا ڈاکٹر کہلاتا ہے اور گندگی سے انسانوں کو لگنے والی بیماریوں سے بچانے والا میں ’’چوڑا‘‘ کہلاتا ہوں۔ڈاکٹر خاص سفید رنگ کا کوٹ پہن کر عزت پاتا ہے جبکہ میں ضلعی ویسٹ مینجمٹ کمپنی کی طرف سے سبز رنگ کا یونیفارم پہن کر صفائی کرنے پر مذہبی جماعت سے تشدد کا نشانہ بنتا ہوں۔ کیونکہ سبز رنگ سے ایک خاص عقیدت وابستہ ہے ۔ڈاکٹر مریض کا علاج شروع کرنے سے پہلے اعلیٰ کرسی پر بیٹھ کر مریض کے لواحقین سے ایک خاص فارم پُر کرواتا ہے مگر میں علی الصبح ( 5 بجے) زمین پر بیٹھ کر حاضری شیٹ پر انگوٹھا لگاتا ہوں اورکوشش کرتا ہوں اپنے ایریا کے مکینوں کے اُٹھنے سے پہلے گلیوں اور بازاروں کو صاف کردوں کیونکہ میں جس ایریا میں صفائی کرتا ہوں وہاں کے لوگ بہت نازک ہیں میرے جھاڑو سے اُٹھنے والی گردوغبار اُنھیں بیمار نہ کر دے۔ڈاکٹر چندچھٹانک کا سٹیتھوسکوپ اُٹھاکر اپنے مریضوں کے گرد گھومتا ہے جبکہ میں 42 کلو گرام کی دستی ریڑھی پر 80-70 کلو گرام کوڑاکرکٹ لاد کر گدھے کا کام کرتا ہوں۔ڈاکٹر کو مریض کے چیک اپ کے لئے تھرما میٹر اور جدید مشینری اسپتال انتظامیہ فراہم کرتی ہے مگر میں کوڑا کرکٹ اور گندگی اُٹھانے کے لئے کُھرپہ اپنی جیب سے خرید کر لاتا ہوں اور صفائی درست نہیں ہوئی ہے اچھے سے کام کیا کرو جیسے الفاظ سُننے

kakroobکو عام دستیاب ہوتے ہیں۔
گن گن کر مہینے کی پہلی تاریخ آتی ہے سُپروائزر سے اجرت وصولی کا چیک لے کر کلیجا دانتوں تلے آ جاتا ہے جب 10,000 روپے میں سے 6,000 روپے ماہانہ اجرت کے طور پر وصولی کو ملتے ہیں وجہ طلب کرنے پر جواب ملتا ہے تُو فلاں تاریخ کو 5 بجے کی بجائے5 بج کر 3 منٹ پر ڈیوٹی پر آیا تھا لہٰذا اُس دن کی اجرت سے تیری کٹوتی بطور جرمانہ ہوئی ہے۔فلاں دن تُو10 بجے کی حاضری لگانے نہیں آیا تھا اور دو دن پہلے دوپہر 1 بجے کی حاضری پر تُو موجود نہیں تھا ۔کیا کروں ایک دن میں جب تین مرتبہ حاضری رجسٹر ڈپر انگوٹھے کا نشان لگانا ہوتا ہے وہ بھی 5 بجے صبح،10 بجے اور پھر 1 بجے دوپہر!!!
یہ میری نااہلی ہے یا میرے ساتھ نا انصافی کہ مجھے کارپوریشن میں خاکروب کے طور پر بھرتی تو کر لیا گیا مگر کارپوریشن ملازم ہونے کامیرے پاس کوئی کاغذی ثبوت نہیں ہے۔بھرتی ہونے کے تین ماہ (90 دن )بعد سروس بک پر ہاتھ کی انگلیوں کے نشان لے کر کارپوریشن ایڈمینسٹریشن کے تالے میں محفوظ ہو گئی مجھے نہیں پتہ میری ڈیوٹی ٹائمنگ کیا ہے؟میری اجرت کیا ہے؟سروس بک پر میری کارکردگی کن حروف میں درج کی جارہی ہے؟ان تمام سوالوں کے جواب میرے پاس نہیں ہیں آج جب میری سروس مدت 29 سال ہو گئی ہے اور میں ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر آفسر سے اپنی سماجی خدمت سے ریٹائرڈمنٹ کا مطالبہ کر رہا ہوں کیونکہ کارپوریشن میں 25 سال سروس مدت پوری کرنے پر ریٹائرڈمنٹ حاصل کی جا سکتی ۔میں اب سانس کا مریض بن چکا ہوں کیونکہ میرے علاقہ کی گردوغبار نے میرے پھیپھڑوں میں اپنا گھر بنالیا ہے جو ہوا سے آکسیجن کو پھیپھڑوں میں داخل اور کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس خارج نہیں ہونے دے رہی۔میں اُس مقام پر پہنچ گیا ہوں جہاں آج سے تقریباََ 50 سال قبل میرے والدین تھے میں بھی اپنے بیٹے کو ڈاکٹر بنانا چاہتا ہوں اور میرا بیٹا اُس جگہ پر ہے جدھر میں اپنی ماں کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔۔۔اب فیصلہ کون کرے گاکہ میرا بیٹا انسانیت کی خدمت کس لباس میں کرئے گا؟؟؟
زندگی میں اُمید کی کرن واحد سہارا ہوتی ہے جو اسے کبھی مرنے نہیں دیتی ،کہاجاتا ہے موت زندگی کی نہیں بلکہ زندگی میں وابستہ اُمیدوں کی ہوتی ہے۔خیر زندگی موت کی امانت ہوتی ہے اسے تو ایک نہ ایک دن واپس لوٹ ہی جانا ہوتا ہے۔مگرزندگی ٹھہر اؤ کا نام نہیں ہے۔
اُمید وں کے سہارے چلنے والی زندگی نے مجھے بھی بہت سے خواب دکھائے۔اپنی سروس(خاکروب) کے دوران میں اپنی خواہشوں اور گھریلو ضروریات کو غربت کے بوجھ تلے دباتا گیا۔کبھی ہمسایے کے گھر سے لذیذ کھانوں کی خوشبو نے مارا،کبھی تہوار پر بچوں کا نئے کپڑوں کے لئے ضد نے مارا،کبھی بیوی کا بیماری میں کراہتے رہنا اور میری خالی جیب نے مارا۔۔۔۔خیر خاندان کی ان ضروریات و خواہشات کو پورا کرنا میرا اولین فرض تھا ۔جس کی تکمیل میرے لئے پہاڑ سر کرنے کے مترادف تھی۔
ڈیوٹی کے دوران ساتھی خاکروب کی آواز صحرا میں پیاسے کو پانی کا قطرہ ملنے کے مترادف تھی کہ حبیب بنک نے سینٹری ورکرز کی ماہانہ اجرت پر " فلیکسی لون" فراہم کرنے کی سکیم شروع کی ہے لون کی ماہانہ قسط کی کٹوتی اُس کی ماہانہ تنخواہ سے کی جائے گی۔میری آنکھوں میں خوشی کا چشمہ پھوٹا۔آج میں اس لون کی معاونت سے اپنے بچوں کی ضروریات اور خواہشات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی شریک حیات کا علاج و معالجہ بھی کروا سکتا تھا۔میری 20 سالہ سروس میں پہلی بار اتنی بڑی خوشی نے میرے دروازے پر دستک دی تھی۔دروازہ کھولا تو بینک کے قواعد و ضوابط کی لمبی فہرست سامنے کھڑی تھی ان پڑھ ہونے کی وجہ سے الفاظ سے کوئی واقفیت نہیں تھی ۔خاندان کی ضروریات اور خواہشات کے سامنے قواعد و ضوابط مجھے معمولی سے دکھائی دے رہے تھے۔کیشیئر اشارہ کرتا گیا اور میں انگریزی میں لکھے کاغذات کو نیلی سیاہی سے اپنے انگوٹھے کے نشان سے رنگین کرتا گیا۔وہ کیا بتا رہا تھا ؟کیا سمجھا رہا تھا؟سب میری سمجھ سے بالاتر تھا ۔میں لون کی قلیل رقم وصول کرکے اُمید کے شکرانے میں جھک گیا۔
زندگی ایک جگہ کیوں نہیں ٹھہرتی ؟؟شاید چلتی کا نام ہی زندگی ہے؟؟زندگی کے راستے میں ڈھلوان کیوں ہوتی ہے؟؟ زندگی میں سیدھا چلنے کی تلقین بے شمار ملتی ہے مگر زندگی سیدھا سفر کیوں طے نہیں کرتی؟؟ یہ تمام سوالوں کے جواب میرے لئے تلاش کرنا لازم اور شاید لاحاصل تھے کیوں کہ یہ دوسرا دن تھا کہ میرے لون سے میرے خاندان کی خواہشات تو ایک طرف ضروریات ہی پوری نہ ہوئی تھیں میری شریک حیات ہمیشہ کے لئے میری خالی جیب میرے پاس چھوڑ کر جا چکی تھی میرا لون اتنا لیٹ ہو گیا تھا کہ اُس کو اچھے اسپتال نہیں لے جا سکاتھا۔اپنی شریک حیات کی موت کے بعد چند مذہبی،سماجی رسومات کی ادائیگی کے بعد آج میرا ڈیوٹی پر پہلا دن ہے۔میری ساتھی خاکروب بیماری کے عالم میں اپنے ایریا میں لوگوں کی خدمت میں مصروف تھی( کیا کرتی بیچاری کا کام ہی کچھ ایسا ہے جس میں چھٹی تو دور کی بات آرام بھی مقدر میں نہیں ہے۔ہمارے ادارے کی پالیسی قابل تعریف ہے کہ" خاتون خاکروب دوران حمل بھی چھٹی پر نہیں جا سکتی۔۔اگر چھٹی چاہیے تو اپنی جگہ کوئی متبادل ورکر فراہم کرنا ہو گا ورنہ چھٹی کی صورت میں جرمانہ کے طور پر ماہوار اجرت سے کٹوتی ہو گی") کیوں کہ اداروں کا وجود ہی " وعدوں کی پاسداری" میں چھپا ہوتا ہے ۔ادارے تو اپنے وعدوں کو اشتہارات (صفائی سے پیار بیماریوں کی ہار، ہمارا عزم صاف ستھرا فیصل آباد وغیرہ وغیرہ)میں عام کر دیتے ہیں ان وعدوں کے پاسدار ٹھہرے ہم " کوڑے والے" (چوڑے) گزشتہ ماہ کی اجرت وصولی کے لئے لمبی لائن میں 2 گھنٹے انتظار کے بعد میری باری آئی تو جناب بینکر کا دوپہر کے کھانے کا وقت ہو گیا اور مزید انتظار کرنے کا حکم نامہ جاری کیا گیا۔آج چھوٹے بیٹے کی سکول فیس جمع کروانے کی آخری تاریخ تھی سکول چھٹی سے پہلے مجھے اُس کے اسکول پہنچنا ہے۔یہ انتظار کی بریک اتنی لمبی اور کٹھن کیوں ہوتی ہے؟؟آخر وہ وقت آ ہی گیا کہ میں اپنی اجرت وصول کر سکتا تھا۔محترم کیشیئرصاحب نے اجرت سے ایک ہزار کٹوتی بطور جرمانہ کے بعد بھکاری کو خیرات دینے کے رویے سے رقم میری طرف بڑھائی ،گنتی کے بعد کانپتے لبوں سے سوال کرنے کی گستاخی پر جواب ملا کہ آپ سے لون کے قواعد و ضوابط میں طے ہوا تھا کہ آپ ہر ماہ کی 5 تاریخ تک قسط کی ادائیگی کیا کریں گے مگر آپ کی تنخواہ 10 تاریخ کے بعد ارسال کی گئی ہے لہٰذا بینک پالیسی اور آپ سے طے کردہ قواعد و ضوابط کے مدِنظر کٹوتی کی گئی ہے۔اب اسے محکمے کی لاپرواہی سمجھے یا ناانصافی۔۔؟
میری بیٹی آج سن بلوغت کو پہنچ چکی ہے اور میرے کندھے پر اُس کوازدواجی بندھن میں باندھنے کا فرض آن پڑا ہے سماج کی حسین رسم جہیز نے میرے کندھے میں جکاؤ ڈال دیئے ہیں۔عمر کا تقاضابھی ہے آج زندگی کی اُنگلی تھامے چلتے مجھے 58 برس بیت چکے ہیں ۔اُمید پھر ایک بار ریٹائرڈمنٹ کا لباس پہن کر سامنے کھڑی تھی۔ کمپنی قوانین کے مطابق میری سروس کے 25 سال پورے ہو چکے ہیں اور میں پورے اعزازات اور واجبات کے ساتھ اپنی سماجی خدمت کے جذبے سے ریٹائرڈہونے کا حق رکھتا ہوں۔اس بار اُمید نے مجھے پھر سے جوان کر دیا تھا کیوں کہ میں اپنی ریٹائرڈمنٹ پر ملنے والے واجبات سے اپنے کندھے سے فرض کا بوجھ ہلکا کر سکتا تھا۔سادہ کاغذ پر اپنی خدمت سے ریٹائرڈمنٹ کی درخواست لکھوا کر ڈسٹرکٹ انتظامیہ کے میز تک پہنچائی تومجھے میڈیکل بودڑ کے سامنے پیش ہونے کا حکم ملا۔آج اُمید تھی کہ میڈیکل بورڈ میری سانس کی بیماری کے مدِنظر مجھے ریٹائرڈ کر دے گا ۔سُپروائزر کو میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش ہونے کے لئے عرضی دی اور 9 بجے صبح بورڈ کے بیٹھنے کا انتظار کرنے لگا۔انتظار کی گھڑی نہ جانے کیوں اتنی لمبی ہوتی ہے یا میڈیکل بورڈ کی گھڑی میں 1 بجے کے بعد 10 بجتے ہیں؟؟ خیر 1 بج کر 18 منٹ پر مجھے کمرے میں آواز دی گئی تو بودڑ نے میری کوئی بات سُنے بنا ہی حکم صادر کردیا کہ " تمہاری مدت سروس بے شک 25 سال پوری ہو گئی ہے مگر تمہیں ریٹائرڈاُس وقت تک نہیں کیا جاسکتا جب تک آپ 60 برس کے نہیں ہو جاتے"میری سانس نہ جانے کدھر گم ہو گئی تھی؟بیماری نے اس قدر کمزور کر دیا ہے کہ میں اپنی زندگی کی بچی سانسیں گن گن کر پوری کر رہا ہوں مگر ہو سکتا ہے کہ میڈیکل بورڈ کو میں تندرست اور جوان دکھا ئی دیتا ہوں؟
امید ٹوٹی تو میں اپنے مردہ وجود کے ہمراہ گھر واپس لوٹ آیا۔گھر بیٹی کے سسرال والے شادی کی تاریخ طے کرنے پر بضد تھے۔میرے پاس اُن کو چائے پلانے کی ہمت نہیں اور وہ 2 ماہ کے اندر اندر شادی کرنے پر خوش نہیں تو میرے ساتھ رشتہ جوڑنے کا اُنھیں کوئی شوق نہیں۔۔بیٹی کا رشتہ ٹوٹنے کا درد ایک باپ ہی جانتا ہے کیا ہو گا۔کیوں کہ رشتہ ٹوٹنے پر رشتہ داروں کے پاس تالی مار کر ہنسنے کا موقع بآسانی اور مفت میسر ہوتا ہے۔۔۔
خیر میری عر ضی اب کسی کوڑادان کے قابل ہی رہ گئی تھی میرے پاس اتنی طاقت نہیں کہ محکمے کے اعلیٰ افسران کے دفاتر کے چکر لگاؤں اور نائب قاصدوں کی جھڑکیاں برداشت کر سکوں یا لیبر کورٹ میں میڈیکل بورڈ کے فیصلے کو چیلنج کروں یا کسی سماجی ادارے کی معاونت سے فری لیگل ایڈ کے بوجھ تلے دب کر وکیل کے ان گنت اور تلخ سوالات کے جوابات فراہم کر کے محکمے کے خلاف پارٹی بن جاؤں۔۔۔میری اُمید کی کرن میری جائز یا ناجائزخواہشات اور ضروریات کے نیچے اس قدر دب چکی ہے کہ شاید اُس کا دم بھی گٹھ گیا ہو اور وہ قریب المرگ ہو۔۔۔۔!!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *