قاری حنیف ڈار صاحب!! آپ کی توجہ چاہیے!!

Ahmed Hamdi
قاری حنیف ڈار صاحب ! 17 مارچ کو آپ نے احادیث کے راویوں کی جس انداز میں  کلاس لی ہے واقعی آپ کو اپنے مکتبہ فکر کے لوگوں سے بہت لائیکس ملنے چاہیے اور ان کو ''گستاخ'' قرار دے کر احادیث کے ذخیرہ کو ''المورد برد'' کرنا چاہیے۔ میں نے آپ کی تحریر غور سے پڑھ لی ہے اس لیے اس پر کچھ کمنٹس کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔ کچھ تجاویز عرض کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔
 جب بھی کوئی احادیث کو اپنی من مانی باتوں میں مانع پاتا ہے تو وہ احادیث کی صحت پر( راویوں پر ) ''مخصوص طرز'' میں وار کرتا ہے۔ مخصوص طرز سے میری مراد ان کا انداز بیان، وہی پرانے اعتراضات جن کا بارہا جائزہ لیا جا چکا ہے۔ احادیث و راوی حضرات پر تحقیق کرنا کوئی بری بات نہیں ہے لیکن یہ "مخصوص انداز" قابل صد افسوس ہے۔ اور ہماری بد قسمتی دیکھیئے کہ، آپ نے بھی وہی انداز اپنایا ہوا ہے۔
معتزلین وغیرہ صورت میں منکرین حدیث کی پوری تاریخ تو ہمارے سامنے ہے۔۔ چلیں پرانی تاریخ کو چھوڑیئے!  سر سید احمد خاں اور غلام احمد پرویز کو تو برصغیر کے عوام جانتے ہی ہیں۔ ان حضرات نے بھی اپنی من مانی تعبیرات کو منوانے کے لیے یہی انداز بیان اور یہی دلائل پیش کیے تھے۔
دلائل سے ہر راوی کی جرح و تعدیل کی جاتی ہے۔ آپ بھی کریں۔ دلائل سے احادیث کو ضعیف یا موضوع قرار دیں کسی کو کوئی اعتراض نہیں لیکن ''یہ کہاں کی دوستی ہے'' کہ آپ فیس بک پہ بیٹھ کر لفاظیوں اور ترکیبوں کے زور سے عوام میں انکار حدیث کے جراثیم پھیلا رہے ہیں۔ مجھے یہ پڑھ کر ''خوشی'' ہوئی کہ آپ نے اپنی تحریر میں بات کو طول دینے یا اپنی علمیت جمانے یا ہم جیسے کم علموں کو کتب احادیث کی لسٹ فراہم کرنے کا بندوبست بھی کیا۔
اگر آپ کا دل واقعی احادیث کے ذخیرہ میں ایسے مواد کے داخل ہونے پر بے قرار ہے تو برائے کرم! امت کی خاطر یہ خدمت انجام دیں کہ احادیث کو ایسی ہر ناپاکی سے نجات دلا دیں اور یقینا اس خدمت پر امت آپ کی احسان مند رہی گی۔ ابھی تک احادیث کے بارے میں جو آپ کی آرا آئیں ہیں اس کی وجہ سے آپ خود کو اہل علم اور سادہ لوح مسلمانوں میں مشکوک و منکر حدیث ثابت کروا رہے ہیں۔ اس لیے آپ کے خلاف باتیں ہو رہی ہیں، پیجز بن رہے ہیں۔ کبھی کبھار لوگوں کی مخالفت بھی غلطی پر قائم رہنے کا سبب بنتی ہے لیکن آپ جیسے فہیم انسان کے حوالے سے ایسی بد گمانی کم از کم میں نہیں کر سکتا۔ ہم مولویوں کے فتووں کے ساتھ اتنے مانوس ہو گئے ہیں کہ اب ہر فتوی یا ہر مخالفت اپنی تشہیر لگتی ہے اور مولوی کے کفر وغیرہ کا فتوی ہم اپنے لیے سند علمیت و روشن خیالی سمجھتے ہیں۔ یہ خیالات و تصورات بھی فائدہ مند نہیں ہیں کیونکہ مولوی کا ہر فتوی کم علمی، جہالت اور تعصب پر مبنی نہیں ہوتا۔
کسی نے یہ نہیں کہا کہ احادیث کی صحت پر اب بات نہیں ہو سکتی لیکن بات کرنے کا یہ طرز ٹھیک نہیں ہے جو آپ نے اپنایا ہوا ہے۔ خدارا ! میری بات پر اپنی ''علمیت و شہرت'' کی وجہ سے یوں ہی نہ گزر جایئے اور بغیر خود احتسابی کے مدافعانہ رویہ بھی اختیار نہ کیجیئے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *