بیان کو توڑنے مروڑنے والے صحافی

رضا علی عابدی

raza-ali-abdi

یہ صحافت عجیب و غریب پیشہ ہے، جتنا عجیب، اتنا ہی، بلکہ اُس سے زیادہ ہی غریب۔ ابھی زیادہ عرصہ نہیں ہوا، کاغذ پر چھپنے والے اخبار ہی کو صحافت تصور کیا جاتا تھا۔ کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں دو تین بڑے اخبار چھپتے تھے ۔ ریڈیو پر خبریں تو نشر ہوتی تھیں لیکن ان پر سرکار کی اتنی چھاپ لگی ہوتی تھی کہ ان پر اعتبار ذرا کم ہی کیا جاتا تھا۔ ٹیلی وژن تک ہماری رسائی برائے نام تھی اور رہ گیا کمپیوٹر جس نے سوشل میڈیا کے نام سے زندگی میں ایک تہلکہ مچا دیا ہے، وہ اس وقت تک ایجاد ہی نہیں ہوا تھا۔ شہر کے ان دو تین اخباروں سے دو ڈھائی سو افراد وابستہ ہوتے تھے جنہیں آپ چاہیں تو صحافی کہہ لیں۔ اُن میں ایڈیٹر، سب ایڈیٹر، رپورٹر، عام مترجم اور پروف ریڈر کے علاوہ بعد میں تو کاتب او رخوش نویس بھی عامل صحافی قرار پائے تھے۔ ان کے علاوہ دوسرے شہروں ، قصبوں اور کبھی کبھی ملکوں میں بھی نامہ نگار ہوا کرتے تھے۔ اکثر کی معمولی تنخواہیں ہوا کرتی تھیں۔ ان کابھی یہ عالم تھاکہ کبھی ملیں اور کبھی ناغہ۔ ان تمام باتوںکے باوجود اس مخلوق کی ایک عجب خوبی یہ تھی کہ نہ صرف کام کئے جاتی تھی بلکہ جان توڑ کر کرتی تھی۔ ہر روز اخبار کے چھ یا آٹھ صفحوں کا پیٹ بھرنا اتنا معمولی کام نہ تھا جتنا باہر سے نظر آتا تھا۔ سب سے زیادہ قابل رحم حالت رپورٹر کی ہوتی تھی۔ دوسرے لوگ تو آفس میں ایڈیٹر کی شان سے بیٹھتے تھے۔ یہ غریب خدا جانے کہاں کہاں مارا مارا پھرتا تھا اور جیسے بھی بن پڑتا تھا شہر کے ہر علاقے، ہر محلے اور خاص طور پر ہر تھانے کچہری کا حال احوال لکھ کر نیوز ایڈیٹر کی خدمت میں پیش کر دیتا تھا ۔ اور رات گئے وہ مفلس رپورٹر تھکا ہارا یہ دعا مانگتا ہوا اپنے گھر کو لوٹتا تھا کہ شہر کی کوئی خبر اس کے ہاتھ لگنے سے رہ نہ گئی ہو۔اگلی صبح وہ رپورٹر عملے کا واحد شخص ہوتا تھا جو خود اپنے اخبار کی بجائے مقابلے پر ڈٹے ہوئے دوسرے اخبار دیکھا کرتا تھا۔ کوئی بڑی خبر مس ہوگئی ہو تو اپنی قسمت کو کوستارہ جاتا تھا۔ کوئی کمال کی خبر اس کے نام سے چھپی ہو تو شاید ہی کوئی شاباشی دیتا تھا۔ اور اس طرح اس غریب صحافی کااگلا دن شروع ہوتا تھا۔
یہاں تک بھی غنیمت تھا۔ صحافی کی جان عذاب میں یوں بھی رہتی تھی کہ اس کا سب سے بڑا دشمن سیاست داں ہوتا تھا۔ یوں تو سیاست داں کی پوری کوشش ہوتی تھی کہ صحافی سے اس کے مراسم اچھے رہیں اور اخبار میں اس کی شہرت کے اسباب اشاعت کی سعادت سے بہرہ ور ہوں۔آسان لفظوں میں یوں کہ اسے خوب پبلسٹی ملے۔ مگر یہ سارے مراسم اُس وقت خاک میں مل جاتے تھے جب سیاست دان کا کوئی بیان شائع ہوتا جو اس کی شان کے خلاف ہوتا اور پھر وہ تاریخی جملہ دہرایا جاتا کہ ’’میرے بیان کو توڑ مروڑ کے شائع کیا گیا ہے‘‘۔ یا پھر یہ کلاسیکی عذر تراشا جاتا کہ میرا بیان اصل حوالے سے کاٹ کر شائع ہوا ہے۔ اور اب تو سیاست دان بہت سیانے ہوگئے ہیں اور مشکل الفاظ بھی سیکھ گئے ہیں چنانچہ کہتے ہیں۔’’میرا بیان سیاق و سباق سے کاٹ کر شائع کیا گیا ہے‘‘۔اس طرح منفی اور مثبت جیسی اصطلاحیں بے دھڑک استعمال کرنے لگے ہیں۔ کہیں کہیں لفظ معروضی بھی کام میں لانے لگے ہیں۔اور لفظ مسخ تو ان کا پسندیدہ لفظ بن کر رہ گیا ہے کہ یہ میڈیا والے ان کے دودھ میں دُھلے بیان کو مسخ کرکے کچھ کا کچھ بنادیتے ہیں، بے ایمان کہیں کے۔
چلئے جب تک کاغذی اخبار کااور لکھت پڑھت کا زمانہ تھا،بقول شخصے سب چلتا تھا۔ یہ تاویل عام تھی کہ اخبار نے غلط بیانی سے کام لیا ہے یا پھر یہ کہ کتابت کی غلطی تھی۔ اس کے بعد ریڈیو کا زمانہ آیا۔ ریڈیو سرکار کا تھا جس کا رپورٹر اس جھنجھٹ میں پڑتا ہی نہیں تھا۔ پھر جو ہوا اسے انقلاب کہئے۔اچانک ٹیلی وژن وارد ہوگیا جس کی ہمیں نہ الف بے پتہ تھی نہ اسے برتنے کی تمیز اور سلیقہ تھا۔ یہاں لفظ ’تھا‘ بے سبب لگا ہے۔ یہاں لفظ ’ہے‘ ہونا چاہئے۔ ہم اور ہمارے سیاست داں ابھی تک ٹیلی وژن کو بولٹن مارکیٹ کی کسی پچھلی گلی سے نکلنے والا شام کا معمولی اخبار ہی تصوّر کرتے ہیں۔ انہیں خبر ہے نہ ان کے فرشتوں کو کہ اس کیمرے کی کھائی ہوئی چغلی کو آپ نہ توڑ سکتے ہیں اور نہ مروڑ سکتے ہیں۔ میں اس وقت حیران ہوتا ہوں جب کوئی صاحب زورِ خطابت میں آپے سے باہر ہوکر جو کچھ منہ میں آتا ہے کہے چلے جاتے ہیں ۔ اور ادھر ان کے فرمودات اسکرین پر نمودار ہوئے ، جھٹ ارشاد ہوا کہ میری یہ مراد نہیں تھی۔ میڈیا والوں نے میری مثبت بات کو منفی بنادیا۔ اب تو کچھ الزا م ناظرین پر بھی ڈالنے لگے ہیں کہ وہ اگر میری بات کو منفی انداز میں سنیں گے تو انہیں منفی ہی سنائی دے گی۔
یہ سلسلہ دور تک جاتا ہے۔مثال کے طور پر کوئی صاحب ٹیلی وژن کیمرے کے سامنے گل افشانی کرتے ہوئے آپے سے باہر ہوگئے۔ منہ سے جھاگ اڑائے اور آنکھوں سے خون ٹپکا یا۔ مٹھیاں بھینچیں، آستینوں کے بٹن کھول ڈالے ، ہوا میں گھونسے لہرائے اور اس ہاتھا پائی میں سامنے آراستہ کئی مائیکروفون رتبہء شہادت کو پہنچے۔ یہ سب ہوگیا لیکن گھر جا کر انہیں احساس ہوا کہ یہ سب نہیں ہونا تھا۔ اس کے فوراً بعد ان کے حمایتیوں کی فوج حرکت میں آگئی اور لگی ان کی بات کی وضاحتیں کرنے۔ جسے دیکھئے صفائی پیش کر رہا ہے۔ نہیں ان کی یہ مراد نہیںتھی۔ ان کا اشارہ نتھویا خیرو کی طرف نہیں بھولے کی طرف تھا۔اسی طرح بیان، اعلامیہ اور وضاحت نامے لکھنے کے ماہرین بھی میدان میں اتر آئے اور ہمیں محاوروں اور کہاوتوں کے معنی سمجھانے لگے۔ کچھ لوگ تو لغت لے آئے اور کہنے لگے کہ یہ دیکھئے، نوراللغات میں لکھا ہے، ٹھونکنے کا مطلب ہے عرضی دینا اور نالش کرنا۔اس طرح کی تاویلیں سن کر انسان کو یہ مغالطہ ہونے لگتا ہے کہ اشارہ جس بھولے کی طرف تھا وہ خیر سے کوئی اور نہیں، ہم ہی تھے۔
ٹیلی وژن تو غضب کا چغلی خور ہے۔ ہم یہ منظر کبھی کبھار نہیں، دن میں کئی کئی بار دیکھتے ہیں کہ ایک صاحب خم ٹھونک کر دعویٰ کررہے ہیں کہ انہوں نے فلا ں بات کبھی نہیں کہی۔ اس پر پروگرام کے پروڈیوسر سے کہا گیا کہ ذرا ان کا وہ پرانا کلپ نکال کے چلا دیجئے۔ چنانچہ پروڈیوسر نے ان صاحب کا پرانا بیان سنایا نہیں بلکہ ان کے منہ پر دے مارا۔میں بڑی سے بڑی شرط لگانے کو تیار ہوں۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں آج تک اُن صاحب کو ،وہ کوئی بھی ہوں، شرمندہ ہوتے، نادم ہوتے، پچھتاتے ، اعتراف کرتے اور معافی مانگتے ہوئے نہیں دیکھا۔ کیا مجال جو کوئی قائل ہو جائے، ناممکن ہے کوئی معذرت طلب کرے۔ ایک دو حضرات ہیں جو اندھیرے میںجو منہ میں آئے کہہ دیتے ہیں پھر دن کے اجالے میں یہ تو نہیں کہتے کہ مجھے معاف کردیجئے بلکہ بڑی مشکل سے اُگل نِگل کر یہ کہتے ہیں کہ میری بات سے اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو میں اس سے معذرت چاہوں گا۔اگر کامطلب یہ کہ جن بھولے لوگوں کی دل آزاری نہیں ہوئی وہ جانیں ، ان کا کام جانے۔
یہ وبا کہ ٹیلی وژن کہیں جسے ، دنیا بھر میں علم کی دولت لٹاتی ہے۔اس کے دستاویزی پروگراموں میں ہم نے قدرت کو جتنا قریب سے دیکھا، کتابوں میں بھی نہیں دیکھا۔ ٹیلی وژن باقی دنیا میں علم کی دولت لٹاتا ہے، ہمارے ہاں یہ عیاری اور چالبازی بھی سکھاتا ہے۔ اس کی مثال وہ پروگرام ہیں جو ٹاک شوز کہلاتے ہیں۔ حیرت ہوتی ہے کہ کج بحثی کے دوران جب کسی سیاست داں سے کوئی چبھتا ہوا سوال پوچھا جاتا ہے تو کبھی دھیان سے اس کے پینترے بدلنے کی ادا دیکھئے۔ سوال کو ٹالنے اور جواب سے بچنے کے لئے ایسی ایسی چالیں چلتا ہے، یوں بچ بچ کرنکلتا ہے کہ توبہ ہی بھلی۔ مگر حیرت اُس وقت نہیں ہوتی جب باتوں کا وہ شعبدہ بازسیدھا سا جواب ٹالنے کے کرتب دکھاتا ہے، تعجب اس وقت ہوتا ہے جب لوگ جاکر اس کو ووٹ بھی دیتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کو معقول زبان میں بھولا کہتے ہیںاورزبان معقول نہ ہو تو کتنے ہی لفظ ہونٹوں پر آنے کو مچلنے لگتے ہیں۔ - See more at: http://search.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=344399#sthash.UQqPttUA.dpuf

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *