انسان سے انسان تک

فیصل رشید

faisal rasheed

انسان کاانسان سے تعلق انتہائی بنیادی بات پر ہے۔ تعلق کی استواری اور مضبوطی کی بنیادیں مختلف سطحوں پر یکساں نہیں ہوتیں مگر ہاں ان کی موجودگی کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔اس میں کوئی دورائے نہیں کہ انسان نے انسان سے تعلق اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے پیش نظراستوار کیا ہے مگر یہ سچ ہے کہ انسان دوسرے انسان کے قریب تو آیا ہے۔ہر انسان انصاف،امن،محبت او ر خوشحالی کا طلب گار ہونے کے ساتھ ساتھ ناانصافی،بدامنی،نفرت اور غربت کو بُرا کہتا بھی میسر ہوتا ہے۔
بہت تعجب طلب بات میرے لیے اس جملے کو سننے کے بعد تھی جب میں نے جون 2014 ء میں ایک سماجی تنظیم کے منعقد ہ سیمینار برائے ’’امن کے فروغ میں نوجوانوں کا کردار‘‘ میں نامور سہولت کار کو لفظ ’انسان ‘کی تخلیق اور تعریف میںیوں مگن پایاکہ لفظ انسان ’’اُنس‘‘ یعنی محبت ،پیار سے اخذ ہوا ہے۔مطلب محبت اور پیار کا سب سے بڑا سر چشمہ انسان ہی ہوا۔۔؟؟
انسان کی ایک طلب’’ محبت ‘‘جواُس کی سب سے بنیادی ضرورت کا لحاف پہنے کہیں دور جا بسی ہے۔ حضرت انسان اس طلب کی تکمیل کے پیش نظر صرف حصول کی خواہش کا مالک بن بیٹھا ہے اور ہمیشہ ایک ہی جملے کو شکوے سے آرائش کرکے لبوں کی زینت بنائے پھرتا ہے کہ ’’ مجھے بے وفائی ملی‘‘ ۔
محبت کی منزل پانے کے مسافر خود کا نام لفظ عاشق استعمال کرتے ہیں تو کبھی خود ہی اپنی محبت کی سچائی کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔محبوب کے لیے کچھ بھی کر گزرنے کی قسمیں یا پھر محبت میں ہمت( آسمان سے چاند، ستارے توڑنے کے مترادف)آزمائی کرتے ہیں۔اپنی سانسوں کی مالا محبوب کو تصور یا پھر دل کی ڈھڑکن کی وجہ دریافت ہوتی ہے۔یہ سب جملے صرف جذبات اور احساسات کے یکجا ہونے کے بعد ادا کئے جاتے ہیں عملی زندگی میں ان کا کردار چند ایک جذباتی مفادت کے دائرے کے گرد ہی گردش کرتا ہے۔ اصل میں محبت کو ایک دائرے کے حصور میں ہی کیوں گردش کرنے دیا جاتا ہے؟ محبت کو ہمیشہ ضرب کرنے کی بجائے تقسیم کے عمل پر ہی کیوں اصرار کیا جاتا ہے؟محبت کی شدت کو اینگل/ زاویے میں ڈال کر کیوں پیمائش کیا جاتا ہے؟ محبت کے بدلے محبت اور اُسی شدت کی محبت ہی کیوں طلب کی جاتی ہے؟
چلو ایک لمحے کے لیے مان لیتے ہیں کہ محبت ضرب کے عمل سے نہیں گزر سکتی محبت تقسیم ہی کی جا سکتی ہے ۔اگر محبت تقسیم ہی کرنی ہے تو تقسیم کے عمل کو رکنے نہ دیں بلکہ اعشاریہ لگا کر صفر بڑھائیں۔ایک بات خوب ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ تقسیم کردہ چیز واپس نہیں طلب کی جاسکتی۔تقسیم کے عمل میں دلچسپی کا اظہار اس لیے نہیں کرتا کیونکہ انسان کی فطرت ہی ایسی ہے کہ اس کی ذات کسی دوسری ذات کے وجود کو قبول نہیں کرتی اور تقسیم کا عمل ایک حد تک جا کر مطلوبہ جواب فراہم کر دیتا ہے جس سے آگے عمل چلنے کی گنجائش نہیں پیدا کرتا۔ انسانی معاشرہ میں محبت کی تقسیم کا فارمولا چند ذاتی یا پھر وقتی اجتماعی مفادات کے مدارمیں گردش کرتا ہے۔جس سے تقسیم کا عمل صرف محبت کی تقسیم تک ہی محدود نہیں رہتا بلکہ کچھ امتیازات اور تعصباتی سیارے بھی دائرے میں محوگردش کر لیتا ہے جو دوسروں کے لیے نفرت کا بیج بو دیتا ہے۔
چلیں ایک عملی مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہر انسان اپنے خالق حقیقی سے محبت کرتا ہے اپنے محبوب کی خوشنودی حاصل کرنے کی غرض سے اور اپنی محبت کے اظہار کے لیے اپنی ہمت اور توفیق کے پیش نظر کچھ نہ کچھ تحفہ دیتا ہے۔عقیدت مند اپنی منت کے پورے ہونے پر محبت یعنی خیرات کی تقسیم (ضرورت مند، حاجت مند اور حقداروں کے بجائے) اپنے ہی من پسند تقسیم کاروں میں کرتا ہے جو اپنی تقسیم کے لمحے اس بندہ نواز کو یاد فرماتے ہیں۔
نیتی محبت کے اظہار کی بھی بات کر لیتے ہیں کہ محبوب کی خوشنودی کی خاطر ہر ممکن کوشش کار فرما ہوتی ہے کہ میری اس محبت کے اظہار میں بھی کوئی نہ کوئی اشک دیدہ ہو جائے۔ عبادت گاہ کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے راستے میں ملنے والے قریبی یا دور کے جان پہچان والوں کو خوب آگاہ کیا جاتا ہے کہ جناب آؤ تم بھی اس عمل سے ہو گزرو کیونکہ میں جا رہا ہوں (اس عمل کا ایک پہلو یہ بھی ہوتا ہے کہ حلقہ احباب نیکوکار کے نام سے منسوب کر لیں یا چلو چلتے چلتے کسی کا بھلا کرتے چلیں)۔عاشق اپنے محبوب سے ہمکلامی کے وقت اپنے کام کی منصوبہ بندی یا لین دین کا معاملات کو سلجھانے میں مشغول رہتا ہے اور پھر محبت کے اظہار کے فوراََ بعد ہی اپنے دُکھ،اپنی مشکلات،اپنی خواہشات کا اظہار دُعا کی شکل میں خوب رو رو کے محبوب کے گوش گوار کر دیا جاتا ہے۔
ایک محبت کرنے والے سے سوال کیا کہ محبت کے بدلے محبت کیوں نہیں ملتی؟حضرت کے ہونٹوں نے ہلکی سی مسکراہٹ بھری آواز میں فرمایا ’’محبت ،محبت ہوتی ہے تجارت نہیں‘‘ ۔ اس دلیل سے ایک بات کی وضاحت اور سچائی ثابت ہوئی کہ انسان صرف فائدے کا سوداگر ہے۔سوداگر ہمیشہ اپنے مال کی ہی تعریف کرتا ہے اُسے اپنے مال میں کسی بھی قسم کا معمولی نقص گوارہ نہیں ہوتا۔ایک بات تو صاف ہے انسان نے محبت کو بھی منڈی میں مانگ کے عوض دل کے کھیت میں بورکھا ہے اور نتیجہ بے وفائی اور شکوے کاشت کر رہا ہے۔یہ بات انتہائی غلط لگ رہی ہے مگر یہ ہی حقیقت ہے۔
انسان کی دوسری طلب امن ہے ۔ انسان تین وقت کی بجائے ایک وقت کا کھانا کھا کر ، سر ڈھانپنے کے لیے کچی جھونپڑی پر انحصار کر لے گا مگر بدامنی کسی کی بھی شان کو نہیں بھاتی۔ کسی کی خواہش امن ہے کسی کی ضرورت امن ہے۔ کوئی امن کو اپنا حق مطالبہ کرتا ہے تو کوئی کہتا ہے امن فراہم کیا جائے۔ کوئی کہتا ہے امن پھیلایا جائے تو امن کے دیے ہاتھوں میں لیے گھر گھر پھرتا ہے۔ امن کے خواہاں انسان امن کو مختلف تقسیموں میں تلاش کرتا ہے۔ کوئی کہتا ہے میرا دیس سب سے پرامن ہے تو کسی کا مذہب امن کا درس دیتا ہے۔ کوئی عقیدے کے لحاظ سے امن کا رکھوالا ہے تو کسی کا دربار انتہائی پرامن ہے۔حیران کن بات یہ ہے کہ ہم اب انسان امن کے متلاشی ہے مگر ہم سے کوئی امن کی اُمید نہ رکھے ایسا رویہ بھی ہم اپنی جیب میں لیے پھرتے ہیں۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی کاغذ کی اندھیری غار میں مشعل تھامے راستہ ڈھونڈ رہا ہو۔
انسان کی پہچان انسانیت،حُسن اخلاق اور اچھے کردار نے مذہب، عقیدہ، ذات، زبان، ثقافت اور علاقہ نے لے لی ہے۔ کسی بھی راہ چلتے سے سوال کیا جائے کہ ہم کون ہیں تو بلند آواز میں جواب اُس کی مذہبی شناخت کو روشناس کروا رہا ہوتا ہے۔ کوئی بھی دوسرے کی بات کو سماعت کی اجازت نہیں دیتا بلکہ اختلاف کی توپ نفرت کے بارود سے لیس کر کے جواب دینے کی کمرکس تیاری میں ہوتا ہے۔اس سارے عمل کے کارفرما ہونے کا سبب انسان کا انسان سے ذاتی مفادات کے بل پرتعلقات استوار کرنا ہے اور اپنی عقیدت کو دوسروں پر فوقیت دینا ہے۔
رہی بات خوشحالی کی۔ جب محبت مفادات کے جھولے میں سوارہو کر اختلافات کی گرم ہواؤں کے سہارے بلندی پر جانا پسند کرے تو پھر انسان دوسرے انسان کو کاٹنے، مارنے اوررولانے میں ماہر ہو جاتا ہے۔ اس کی دلیل انسان کے پالتو جانور ’’کتا‘‘ کی کمیونٹی سے منسوب ہے۔ گلی میں بیٹھا کتا آتے جاتے انسانوں اور جانوروں کو اُس وقت تک نہیں بھونکتا اور کاٹتا جب تک اُسے اپنی جان کو خطرہ لاحق نہ ہو جائے مگر جیسے ہی وہ اپنے طرح کاکوئی دوسرا جانور دیکھے گا تو اُسے کاٹنے اور اُس علاقہ سے نکالنے کے لیے اُٹھ کھڑا ہو گا۔ایسی حالت میں محبت نفرت کے تلے،امن بدامنی کا شکار اور خوشحالی غربت کی غلام بن جایا کرتی ہے۔

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *