ٹرمپ، ہیلری کی ایریزونا میں بھی جیت

Trump Hilary

امریکہ میں صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شامل ڈیموکریٹک پارٹی کی ہلیری کلنٹن اور رپبلکن پارٹی کے رہنما ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست ایريزونا میں کامیابی حاصل کی ہے۔ جنوب مشرقی ریاست ایریزونا میں میں امیگریشن بڑا مسئلہ رہا ہے اور اس حیثیت سے ٹرمپ کے لیے یہ معرکہ آسان رہا۔ امیگریشن کے تعلق سے ڈونلڈ ٹرمپ کا موقف بہت واضح ہے اور وہ اس کے سخت مخالف ہیں۔ پولنگ سے یہ بات پوری طرح سے واضح ہوتی ہے کہ ان کا یہی پیغام ریاست کے قدامت پرست ووٹروں کو پسند آیا۔ دوسری طرف ایریزونا میں لاطینو باشندوں یعنی میکسیکو اور دیگر پڑوسی ممالک سے آنے والے لوگوں کی تعداد بھی کافی بڑھ رہی ہے اور اسی اقلیتی طبقے کی ووٹوں سے ہلیری کلنٹن کی جیت یقینی ہوئی۔ لیکن ڈیموکریٹک پارٹی میں ہلیری کلنٹن کے مد مقابل امیدوار برنی سینڈرز آئڈہو اور یوٹا جیسی چھوٹی ریاستوں میں اچھی کامیابی حاصل کر نے کی وجہ سے اب بھی ان کے سامنے ایک بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ سیئیٹل میں جیت کے بعد اپنے خطاب میں ہلیری کلنٹن نے منگل کو برسلز میں ہونے والے دہشت گرد حملوں پر بھی بات کی اور اس حوالے سے اپنے رپبلکن امیدرار کے بیانات پر سخت نکتہ چینی کی۔ اس سے قبل منگل کو ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے اس موقف کو دہرایا تھا کہ ان کا منصوبہ ہے کہ وہ امریکہ میں مسلمانوں کی آمد پر پابندی لگا دیں گے اور یہ کہ مشتبہ دہشت گردوں کو تکلیف پہنچانا چاہیے۔



ہلیری کلنٹن کا کہنا تھا ’ہم پیچیدہ اور بہت پر خطر دنیا میں رہتے ہیں۔ اور ہمیں ایک ایسا کمانڈر ان چیف چاہیے جو ہمیں ایک مضبوط قیادت فراہم کر سکے، جو سمجھ دار ہو اور ان خطروں سے نمٹنے میں ثابت قدم رہے۔‘ انہوں نے مسٹر ٹرمپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’ہمیں ایسے رہنما کی ضرورت نہیں ہے جو مزید خوف پیدا کرے۔‘ ایریزونا میں کامیابی سے ٹرمپ کو پورے 58 مندوبین کی حمایت ملی جس سے ان کی پوزیشن پہلے سے اور بہتر ہوگئی ہے۔ رپبلکن پارٹی کے رہنما اور ان کے مدم قابل امیدوار پوری کوشش کر رہے ہیں کہ انھیں کسی طرح روکا جا سکے لیکن ان کی جیت کا سلسلہ جاری ہے :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *