نصیب اپنا اپنا!آمر اپنا اپنا

khawaja Kaleem

پرویز مشرف عدالتی فیصلے کے بعدحکومتی پروانہ ملنے پر دبئی کے عشرت کدے میں براؤن سگار سے آکسیجن لے رہاہے اور پیپلزپارٹی اس زور سے بلبلا رہی ہے گویا ضیا ء الحق کے مارشل لا سے بڑا سانحہ گز ر گیا ہو۔عمران خان اور قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی رہنما شاہ محمود قریشی بھی آستینیں چڑھا کر حکومت پر زوردارزبانی حملے کر رہے ہیں۔ان حالات میںیہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میڈیا نچلا بیٹھے؟ملک عزیز میں جوں ہی کوئی واقعہ ہوتا ہے میڈیا پر ایسا طوفان برپا ہوتا ہے کہ مجھ جیسے کم علموں کو تو سمجھ بھی نہیں آتی کہ ہوکیا رہا ہے اور کیوں ؟کچھ وقت گزرنے کے بعد جب گرد بیٹھتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ سیاست کا یہ سار ا میلہ عوامی مفادات کا کمبل چرانے کے لئے لگایا گیا تھا ۔سو مشرف کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہورہا ہے۔عوامی مسائل اور ان کے حل پر بات نہیں کی جارہی بلکہ قمر زمان کائرہ تو کھل کر کہہ رہے ہیں کہ ہم اس معاملے پر سیاست کر رہے ہیں۔قربان جائیے خان صاحب کے جو وزیراعظم ہاؤس کی طرف رخ کر کے چنگھاڑ رہے ہیں لیکن اپنی ہی جماعت کے حامد خان سے یہ پوچھنے کی جرات نہیں رکھتے کہ پرویز مشرف کے خلا ف کیس میں فریق بننے کے باوجود جب وقت قیام آیا تو وہ کس خفیہ در پر سجدہ ریز تھے؟۔زرداری قبیلے کے چشم و چراغ اورپیپلزپارٹی کی وراثت کے دعوے دار بجا طور پر سیخ پا ہیں کہ پرویزمشرف ان کی والدہ کے قتل کی ایف آئی آر میں نامزد ملزم ہیں اور آج تک عدالت میں پیش نہیں ہوئے لیکن یہ بات کرتے ہوئے شائد وہ بھول گئے کہ ان کے والد نے اپنے پانچ سالہ دور حکومت میں اس دعوے کے باوجود کہ وہ محترمہ بینظیر بھٹو کے قاتلوں جانتے ہیں پرویز مشرف کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔اور سیدی رحمان ملک تو کہتے تھے کہ بی بی کے قاتل گرفتار کر لئے گئے ہیں!کیا مطلب ؟مشرف تو گرفتار نہیں ہوئے تھے!تو اس کا مطلب پیپلزپارٹی خود ہی بی بی کے قتل سے پرویز مشرف کو باعزت بری کرچکی ہے؟۔تھوڑا اور ماضی میں چلے جائیں تو جمہوریت کی چیپمئن پیپلزپارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو نے خود ان کے ساتھ این آر او کیا تھا جو ان کی موت کے بعد پیپلزپارٹی کے گلے کا طوق اور ملکی سیاست میں ایک گالی بن کر رہ گیا۔بلاول کی اس بات میں وزن تو ضرور ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے پرویز مشرف کوصدارت سے محروم کیالیکن سوال یہ ہے کہ اتنے باعز ت اندا ز میں کیوں؟ پیپلزپارٹی نے ان کا مواخذہ تو نہیں کیا لیکن ان پرآئین شکنی کا مقدمہ کیوں نہ بنایا؟آپ کا حکومت سے یہ سوال بجا ہے کہ آپ نے کیا کیالیکن یہ سوال پوچھنے کا حق تو آپ کو تب مل سکتا ہے جب آپ نے خود کچھ کیا ہو۔ آپ کیوں بھول جاتے ہیں کہ پرویز مشرف اگر عدالت میں پیش ہوا تو یہ صرف میاں نواز شریف کے واضح مؤقف کی بدولت ہوا۔پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ جب یہ اعتراف کرتے ہیں کہ ہم نے تو مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کا دعوی نہیں کیا تھا اس لئے کہ ہم کمزور تھے تووہ خود کو کمزور کہہ کر بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے ۔انہیں چودھری نثار علی خان کے اس سوال کا جواب دینا چاہیے کہ جب چودھری نثارعلی خان اپوزیشن لیڈ ر کی حیثیت سے دوہزارآٹھ کے انتخابات سے صرف چند ہفتے پہلے ان کو اپنی مکمل حمایت کا یقین دلاکر مشرف کے کرائے گئے انتخابات کے نتیجے میں بننے والی اسمبلی میں جانے سے روک رہے تھے تو پیپلزپارٹی کوسانپ کیوں سونگھ گیا تھا؟کوئی ایک واضح یا سنجیدہ قدم جو آمر پرویز مشرف کے خلاف کیا گیا ہو پیپلزپارٹی کے نامہ اعمال میں نہیں ہے۔پیپلزپارٹی پر تنقید کی آڑ میں میاں نواز شریف کی حکومت کا دفاع نہ تو میری ذمہ داری ہے اور نہ میر اایسا کوئی ارادہ لیکن سچی بات یہ ہے کہ جو دن مشرف نے دیکھے وہ اس سے پہلے کسی آئین شکن آمر کو نہیں دیکھنے پڑے۔ دوسری طرف پیپلزپارٹی کا عام کارکن آج بھی یہ سوال پوچھتا ہے کہ بینظیر کے قتل کے تیسرے دن جس پارٹی کو قاتل لیگ کہا گیا اس کے رہنما کو نائب وزیراعظم کیوں بنایا گیا؟کیا کوئی سجدہ سہو ہوا تھا؟ جی نہیں !چودھری شجاعت حسین کے مشرف سے تازہ رابطے اس امکان کی واضح نفی کرتے ہیں۔بار بار یہ کہا جاتا ہے کہ مشرف کے خلا ف 12اکتوبر 1999کے مارشل لا ء کا مقدمہ قائم کیا جائے لیکن بھولی عوام کو یہ نہیں بتایا جاتا کہ اس اقدام کو انہیں سیاستدانوں کی اسمبلی نے تحفظ دیا تھا۔ اپوزیشن اگر اتنی ہی سنجید ہ ہے تو وہ مشرف کو دئیے گئے اس تحفظ کے خاتمے کے لئے کوئی بل لاکر حکومت کو شرمندہ کیوں نہیں کر دیتی ؟اور کچھ نہیں تو ایک قراردا د ہی لے آئیں۔مشرف باہر چلا گیا ہے تو اب ساری اپوزیشن ماتم کر رہی ہے جب اسے ای سی ایل سے نکالنے کا مقدمہ عدالتوں میں زیر بحث تھا تو دوبرس تک کسی کوہو ش نہیں آیا۔دکھ تو یہ ہے کہ ایان علی کی گرفتاری کے غم میں ہلکان ہوکر اس کی ضمانت کے لئے ، قائم مقام صدررہنے والے فاروق ایچ نائیک اور سابق گورنر پنجاب لطیف کھوسہ جیسے سینئر وکیلوں کونچلی عدالتوں میں ذلیل کروانے والوں کو محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کے ملزم کوای سی ایل سے نکالنے کے کیس میں فریق بننے کے لئے کوئی وکیل میسر نہ آیا۔ اعتزاز احسن ہی یہ سعادت اپنے نام کر لیتے ۔
مشرف کا باہر جانا آئین اور قانون کی بالادستی پر ایک بڑا سوال ضرور ہے لیکن کیا اس کی مکمل ذمہ داری صرف انتظامیہ (حکومت وقت ) پر عائد ہوتی ہے ؟ایسا بالکل بھی نہیں ۔ کسی غدار کے خلاف کارروائی صرف حکومت کی نہیں ریاست کی ذمہ داری ہے۔ حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانے والے ریاست کے باقی ستون اپنا کردار کیوں نہیں ادا کرتے ؟کیا یہ سچ نہیں کی مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے میں اصل متاثر ہ فریق تو عدلیہ تھی ۔اسی پس منظر میں خاکسار نے 17مارچ کی شام پنجاب ہاؤس میں وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان کی پریس کانفرنس کے بعد ان سے یہ پوچھا تھا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ عدالت حکومت کے پیچھے چھپ رہی ہے ؟ظاہر ہے اس کا جواب تو کچھ نہیں ہوسکتا لیکن جواب میں چودھری صاحب اور صحافیوں کے زوردار قہقہے سے پنجاب ہاؤس ضرور گونج اٹھا تھا۔اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ غداری کے مقدمات کی پیروی ریاست کی ذمہ داری ہے اور اس تناظر میں حکومت وقت کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے لیکن ایک دردناک حقیقت یہ ہے کہ ریاست پاکستان کا سیاسی بازو ابھی اتنا طاقتور نہیں ہوا کہ وہ یہ کردار احسن طریقے سے ادا کر سکے ۔ اس لئے کہ سیاسی بازو کے ایک حصے کو شائد مشرف کے مارشل لا کی اتنی درد محسوس نہیں ہوتی جتنی ضیاء الحق کے مارشل لا ء کی ، یہا ں آمر بھی سب کا اپنا اپنا ہے۔ریاست کا سیاسی بازو کسی بھی آئین شکنی کا کامیابی سے مقابلہ تبھی کر سکتا ہے جب وہ اس کے مقابلے میں حقیقی قومی مفادات کے حصول کے لئے غیر مشروط اور مسلسل اتحاد کا مظاہر ہ کرے۔پاکستان کی تاریخ اور موجودہ حالات کے پیش نظر مشرف کے ساتھ جو ہوا وہ کم نہیں۔وہ تو اس دعوے کے ساتھ پاکستان آئے تھے کہ کراچی کی سڑکو ں پر ان کے استقبال کے لئے عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر محترمہ بینظیر کے تاریخ استقبال کو بھی مات دے دے گا۔لیکن یہاں پہنچتے ہی انہیں ایک جھٹکے کے فیس بک کے خواب سے نجات ملی ۔عقل والوں کے لئے اس واقعے میں عبرت کی بہت سی نشانیاں ہیں۔

خواجہ محمد کلیم

خواجہ محمد کلیم تقریبا پندرہ برس سے صحافت کے ساتھ وابستہ ہیں دوران ۔اس مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ساتھ وابستہ رہے ہیں ۔ سماجی اور سیاسی امور پر ان کی راءے بہت منفرد اور واضح ہوتی ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *