دبستان سرگودھا کا ایک اور باب بند ہوا

Dr zahid munir amir

ڈاکٹر زاہد منیر عامر

’’میں تو گھمسان میں رہ کر زندگی کا مزہ لوٹتاہوں، دھکے کھاکر ہجوم میں رہناپسندکرتاہوں، اونچااڑنامجھے پسند نہیں، میں نے زمین کو مضبوطی سے پکڑرکھاہے اور ایک روز اسی میں گم ہوجانے کاآرزومندہوں ‘‘4؍دسمبر1928ء کو سرگودھاکے قصبے میانی میں آنکھ کھولنے والے میاں انوارالدین المعروف ڈاکٹرانورسدید 19؍مارچ2016ء کی شب گھمسان کی زندگی گزارکر رخصت ہوگئے اور20؍مارچ کی شام کو اپنی آرزو کے مطابق اسی خاک میں گم ہوگئے جس سے ان کا خمیر اٹھاتھا۔
انورسدید کے ادبی مرشد ڈاکٹر وزیرآغا نواسی برس جیے تھے۔ عمربھر وزیرآغا کااحترام کرنے والے انورسدید نے یہاں بھی ان سے آگے بڑھنامناسب نہ سمجھا اوراپنی زندگی کے اٹھاسی ویں برس میں جہانِ رنگ و بو کو چھوڑدینامناسب خیال کیا۔انورسدید ایک شخص نہیں ایک ادارے کانام تھا انہوں نے ستاسی برس کی عمر میں اسی(80) سے زیادہ کتابیں لکھیں۔ اگر ان کے مضامین جمع کیے جائیں تو ان سے مرتب ہونے والی کتابوں کی تعداد اس سے بھی بڑھ جائے گی۔ کثرت تصانیف اور اٹھاسی ویں برس میں وفات پر ہمیں عراقی مصنف عمربن احمد بن عثمان المعروف ابن شاہین (297ھ۔۔۔385ھ) یاد آئے جنہوں نے اٹھاسی برس عمر پائی اور330 کتابیں لکھیں جن میں سے صرف ایک یعنی’’ التفسیرالکبیر ‘‘ایک ہزار اجزاء پر مشتمل ہے (جزسے ہمارے ہاں کے درمیانی سائز کے تیس صفحے مرادہوتے ہیں )’’المسند‘‘ تیرہ سو اجزاء پر’’ التاریخ‘‘ پچاس اجزاء پراور ’’الزہد‘‘سواجزاء پر مشتمل ہے ۔صرف ابن شاہین ہی نہیں ہماری قدیم علمی روایت میں ایسی مثالیں بہ کثرت موجود ہیں جن میں مصنفین نے زندگی کے دنوں سے بڑھ کرکام کیا۔ ابوالفرج ابن جوزی نے مختلف فنون میں ایک ہزار سے زائد کتب لکھیں۔ وہ کہاکرتے تھے کہ ’’کتاب العالم ولدہ المخلد‘‘عالم کی کتاب اس کی ابدی اولادہے ۔ابن جریر (224ھ۔۔۔310ھ)کی زندگی کے چھیاسی سالو ں کو ان کے لکھے ہوئے اوراق پر تقسیم کیاگیا تومعلوم ہوا کہ انہوں نے ان چھیاسی برسوں میں جن میں طفولیت اور بچپن کازمانہ بھی شامل ہے تین لاکھ اٹھاون ہزار اوراق قلمبند کیے۔ یہ نتائج دراصل زندگی کے ایک ایک لمحے سے اس کی قوت کشیدکرلینے کی صورت میں برآمدہوتے ہیں ،علم عروض ایجادکرنے والا نابغہ خلیل بن احمد دنیاکے ذہین ترین انسانوں میں سے تھا ۔اس کا قول نقل کیاجاتاہے کہ ’’اثقل الساعات علی :ساعۃ اکل فیھا ‘‘ وہ ساعتیں مجھ پر سب سے گراں گزرتی ہیں جب میں کھاناکھاتاہوں ‘‘یعنی اس دوران چونکہ علمی شغل رک جاتاہے اس لیے یہ وقت مجھے گراں گزرتاہے ۔
ڈاکٹرانورسدید مرحوم کے بارے میں ایک بار ڈاکٹرسیدعبداللہ نے لکھاتھا کہ :جس رفتار سے آپ کی معلومات افزااور نادر کتابیں شائع ہورہی ہیں ان کو دیکھ کر گمان گزرتاہے کہ آپ کے نظام الاوقات میں کھانے پینے اور سونے کے لیے وقت بچتانظر نہیں آتا بسیارنویسی اور اورنغزگفتاری کا اجتماع اگر کہیں دیکھناہوتو وہ انورسدید کے پاس ہے‘‘۔
انہوں نے صرف انورسدید کے نام ہی سے نہیں لکھا بلکہ فارقلیط،قلم بردار،زوداندیش میرزاغالب، ابن السبیل، ابن قلم،زبان دراز سرگودھوی اور نہ جانے کس کس نام سے لکھتے رہے ۔اردو زبان کا شایدہی کوئی رسالہ ہو جس میں ان کی تحریر شائع نہ ہوئی ہو۔ وہ صرف اپنے لکھنے ہی میں منہمک نہیں تھے بلکہ ان کا ایک خاص وصف نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی بھی تھا۔ راقم الحروف گورنمنٹ کالج سرگودھا کاطالب علم تھاجب انہوں نے اسے دریافت کیا اور ایک روز پروفیسر ریاض احمد شاد صاحب مرحوم نے اپنے انداز خاص میں راقم سے کہا کہ ’’ میاں انورسدید سرگودھا آئے ہوئے ہیں اورآپ سے ملنے کے خواہش مند ہیں‘‘ اس طرح ان سے پہلی ملاقات ہوئی اور اسی دوران وہ اسلام پورہ سرگودھا میں واقع راقم کے عزلت کدے پر جسے اس نے دانش کدے کانام دے رکھاتھا تشریف لائے۔ دیر تک راقم کی دل چسپیوں میں دل چسپی لیتے رہے اور واپس جاکر روزنامہ’’ حریت‘‘ کراچی میں اس کے بارے میں پوراایک کالم لکھا۔ اس کے بعد جب بھی راقم کی کوئی کتاب شائع ہوتی وہ اس پر ضرور تبصرہ ،کالم یامضمون تحریر کرتے ۔حالانکہ راقم کبھی کسی دبستان سے وابستہ نہیں رہا۔وہ زمانہ تھا جب وہ فیصل آباد میں سوٹڈ بوٹڈ افسر تھے اور پھر ان کاٹرانسفر ہوکر محکمہ آبپاشی پنجاب میں بطور ایگزیکٹو انجینئر لاہور آنا اور محکمہ آبپاشی کے دفتر کے سامنے پنجاب پبلک لائبریری میں روزانہ بیٹھنا اور دیر تک اردوسفرناموں پر تحقیق میں مصروف رہنا یہ سب تصویریں نگاہوں پر ابھررہی ہیں ۔پنجاب پبلک لائبریری میں راقم ان کے ساتھ اسی کمرے بلکہ اسی میز پر بیٹھ کر اپنے تحقیقی منصوبوں پر کام کرتارہا جس میز پر وہ بیٹھاکرتے تھے۔ پھر ان کی ریٹائرمنٹ (4؍دسمبر1988ء) اور اس کے بعد کی طویل صحافتی زندگی اور پھر عوارض و ضعف کے سبب خانہ نشینی، یہ سب مرحلے دیکھے۔ آخری ملاقات ان کی زندگی کی آخری عید الاضحی پر ہوئی یہاں تک کہ ان کا بلاواآگیااور ان کی زندگی کے نقرئی سکوں میں ڈھلتے ہوئے شام وسحر،ایک بے نور اداسی کی گھپامیں چپ چاپ ،نرم بوندوں کی طرح گرتے چلے گئے اور وہ وہاں چلے گئے جہاں سے کبھی کوئی پلٹ کرنہیں آیا۔ ان کی رخصتی کے ساتھ ہی دبستان سرگودھا کی کہانی کا بزرگ ترین باب بند ہوگیا۔ ڈاکٹر وزیرآغا، پروفیسر غلام جیلانی اصغر، سجادنقوی کے بعد انورسدید کی رخصتی سے وہ محفلیں خیال و خواب بن گئیں جو کبھی ریلوے روڈ سرگوودھا پر واقع ڈاکٹر وزیر آغا کے گھر میں برپاہواکرتی تھیں۔ اب وہاں صرف ایک بڑا سا بورڈ لگارہ گیاہے جس پر جلی حروف میں شارع ڈاکٹر وزیرآغا لکھاہواہے۔ جہاں دبستان سرگودھا کے جغادری ادیب بیٹھ کر ادبی مسائل پر مباحثے کیاکرتے تھے اور انورسدید کے بقول اس بات میں یقین رکھتے تھے کہ ادب میں گروہ بندیاں شخصی ہوں تو نقصان دہ ہوتی ہیں لیکن ’’اگرکوئی گروہ ادیب کے داخل میں تخلیقی شعلے کو فروزاں رکھتاہے ،علمی سطح کوبلندکرنے کا مشورہ دیتا ہے، نئے مباحث، نئی کتابوں اور مصنفوں سے متعارف کراتاہے، اختلافی باتوں کو سننے اور صداقت کو قبول کرنے کی تربیت دیتاہے تو اس قسم کا گروہ ادب کے لیے نعمت ہے ‘‘یہی خیال ڈاکٹر وزیر آغاکابھی تھا انورسدید کا نظریہ فن ’’فن کو زندگی کے خارج اورانسان کے داخل میں ربط باہم پیداکرنے کا منصب عطاکرتا تھا اور ان کے نزدیک فن کی تخلیق ہی فن کار کا سب سے بڑا انعام تھا۔ یہ بات ڈاکٹر وزیر آغاکے ساتھ اس موضوع پر ہونے والی گفتگوؤں سے بھی واضح ہوتی تھی۔ راقم کے ساتھ کئی مکالموں میں انہوں نے بھی یہی خیال ظاہر کیاکہ فن کار لمحۂ تخلیق میں گردوپیش سے کٹ کر ارتکاز کی جس کیفیت سے گزرتاہے دراصل وہی اس کا انعام ہوتی ہے۔
انورسدید کی زندگی میں ان کی شخصیت اور فن پر کچھ زیادہ کام نہیں ہوا۔ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کا ایک ایک مقالہ لکھاگیا اور دو کتابیں شائع ہوئیں۔ پہلی کتاب سجاد نقوی صاحب کی ’’گرم دم جستجو‘‘تھی جو مکتبہ اردوزبان سرگودھا سے 1990ء میں شائع ہوئی ۔دوسری کتاب ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کی ’’ڈاکٹر انورسدید کی ڈاکٹر وزیرآغا شناسی‘‘ہے جو ڈاکٹر انورسدید کی وفات سے کچھ ہی پہلے جنوری 2016ء میں شائع ہوئی۔اس کتاب پر اظہارمسرت کرتے ہوئے ڈاکٹر انورسدید نے کہا کہ میں نے ملک الموت کو چٹھی لکھ دی ہے کہ اب وہ جب چاہے آجائے مجھے زندہ رکھنے والے موجود ہیں ۔۔۔ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم نے یہ کتاب شائع کرکے اپنی جوہر شناسی اور زندہ لوگوں کو زندگی میں پہچاننے کا ثبوت دیا لیکن حقیقت میں تو ڈاکٹر انورسدید کاکام انہیں زندہ رکھنے کے لیے کافی ہے۔ ڈاکٹر انورسدید کے ڈاکٹر وزیرآغاسے جاملنے پر وزیرآغا ہی کا ایک شعر :
جائیں گے ہم بھی خواب کے اس شہر کی طرف
کشتی پلٹ تو آ ئے مسافر اتار کے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *