خودمیں تبدیلی کی ضرورت

میاں ابوتراب ترابی

Mian abu turab turabi
تبدیلی اور انقلاب کے بہت سے نعرے ہم لوگ سن چکے ہیں مگر آج تک حقیقی تبدیلی نہیں آسکی ۔ہم پاکستانی قوم میں ایک رواج بہت تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے کہ ہم لوگ خود ہی اپنے غیر قانونی کام کروانے کے لیے رشوت دیتے ہیں اور پھر اپنے ملکی اداروں کو رشوت خور اور بہت دیگر ایسے بہت سے الفاظ سے نوازتے ہیں ،ہم خود ہی دوسرے فریق کو نیچا دکھانے کے لیے اپنے ملکی اداروں کے ملازمین کو رشوت کی رقم انکو مٹھائی اور کپڑے کا سوٹ کا نام دے کر تھما دیتے ہیں اور پھر انہی اداروں سے انصاف کی توقع رکھتے ہیں ۔ذرا خود سوچئیے۔۔۔ ہم کیسا انصاف کر رہے ہیں۔اگر اس ملک کا حکمران بے ایمان ہے تو کیا عوام ایمان دار ہیں، اگر وہ اربوں روپے کی کرپشن کرتا ہے تو کیا ہم لاکھوں اور ہزاروں روپے کی کرپشن نہیں کرتے ۔اگر اس ملک کا ملازم طبقہ رشوت خور اور کام چور ہے تو ہم عوام کونسے دودھ کے دھلے ہیں۔اگرآاپ اور میں ٹریفک سگنل جیسے چھوٹے قانون کی پاسداری نہیں کر سکتے تو حکمرانوں کے وی وی آئی پی پروٹوکول کا کیا گلہ کریں،ملک میں تعلیم،صحت اور دیگر بہت سی سہولیات کے فقدان کی وجہ بھی ہم لوگ ہیں۔مجھے ایک بار بہت ہی مایوسی اور دکھ ہوا کہ جب میرے ایک دوست کو پولیس والے نے روک کر گاڑی کے کاغذات طلب کیئے تو موصوف نے ایک کارڈ دکھا دیا ،پولیس والے نے مسکرا کر کہا ’صاحب جی جائیے‘،مجھے یہ سب کچھ عجیب سا لگا ۔موصوف کی خوشی کی حد نہ رہی اور انہوں نے اپنا یہ کام مجھے بھی بتایا۔حیرانگی کی کوئی بات نہیں ہے کیوں کہ موصوف کے پاس انسانی حقوق کی علمبردار تنظیم کا ممبر شپ کارڈ تھا،یہ ہم لوگوں کے لیے لمحہ فکریہ کی بات ہے کہ جب انسانی حقوق کی آواز بلند کرنے والے لوگ اپنے کارڈ کا استعمال اپنے غیر قانونی کاموں کے دفاع کے لیے استعنمال کرنے لگ جائیں تو اس ملک کا تو اﷲ ہی حافظ ہے۔میرا مقصد کسی فرد یا ادارے پر تنقید کرنا نہیں ہے بلکہ ملک میں ہونے والی صورتحال کو بیان کرنا ہے ۔اگر ہم لوگ اپنے آپ میں تبدیلی لے کر آ جائیں تو ملک میں تبدیلی خودبخود آ جائے گی،اگر ہم لوگ اپنے قانون کے پاسدار بن جائیں تو رشوت خوری اور کام چوری خود بخود دم توڑنے لگ جائے ۔دوسروں پر کیچر اچھالنے سے پہلے ہم اپنا دامن صاف کرنے کو ترجیح دینے لگ جایءں تو ہم سے اچھی اور ترقی یافتہ قوم کوئی بن نہیں سکتی کیونکہ مالک کا ئنات نے وطن عزیز کی مٹی کو بے شمار قدرتی وسائل سے نوازا ہے مگر ہم اسکا استعمال ٹھیک طریقے سے نہیں کر رہے۔اگر ہم اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ غریب بچوں کو بھی تعلیم دلوانے لگ جائیں تو ہمارے ملک میں ڈاکٹر عبدالقدیر ،ڈاکٹر عبدالسلام اور آئن سٹائن جیسے کئی سائنسدان بن جائیں ۔پاکستان کے ہونہار بچوں کو وسائل فراہم کیے جائیں تو ارفع کر یم رندھاوا جیسے بے شمار آئی ٹی سپشیلسٹ پیدا ہو جائیں۔ ملک کی ترقی اور بہتری کے لیے ہمیں اپنے اندر تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ،اگر ہم اپنے آپ کو تبدیل کر لیتے ہیں تو یقین جانئیے اس سے بڑی کوئی کامیابی نہیں ہے ۔چھوٹے چھوٹے قوانین کو نظر انداز کر نے کی بجائے ان پر عملدارآمد کر یں تو بہت سی پر یشانیوں سے بچا جا سکتا ہے ۔جب تک ہمارے ضمیر میں کوئی تبدیلی نہیں آتی تو کوئی حکمران ،سیاستدان یا عالم دین تبدیلی نہیں لا سکتا۔تبدیلی نعروں سے نہیں بلکہ عملی کاموں سے آتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *