مذھبی اقلیتیں اور سرکاری چھٹیاں

faisal rasheed

پاکستان ایک کثیر المذاہب ملک کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ سر زمین پاک میں آسمانی و زمینی مذہبی عقائد کے حامی قلیل و کثیر تعداد میں مذہبی شمعیں اپنے دلوں کے تاک میں روشن کئے ہوئے ہیں۔ انسانوں کا ماننا ہے کہ مذاہب انسانوں کی رہنمائی کے لئے بھیجے گئے ہیں ۔رہنمائی کی شمع اندھیروں کو روشنی میں بدلنے کے ساتھ ساتھ دو فریقین میں باہمی ربط کاری کا کام سر انجام دیتی ہے۔انسان جب چوری کی غرض کا لحاف پہنے رات کی تاریکی میں کسی عمارت میں داخل ہوتا ہے اُس کے دل کی دھڑکن تسلی کے اثار لئے چہرے پر جھلک رہی ہوتی ہے کہ اس عمل سے کوئی ذی بشر واقف نہیں ہے، تب سوچ کی بند کھڑکیوں میں ایک احساس انگڑائی لیتا ہے کہ ’’کوئی تو ہے جو اُسے دیکھ رہا ہے‘‘ یہ احساس مذہب ہے جو بندے کو اُس کے خالق سے جا ملاتا ہے۔ اپنے خالق کو ملنے اُس تک پہنچنے کے کئی راستے ہو سکتے ہیں کئی طریقہ کا ربروئے کار لائے جا سکتے ہیں۔مصور انسان کے نام ہر انسان کے ہاں یکساں نہیں ہو سکتے مگر یقین کامل کی ڈور ہر کسی کے ہاتھ میں ضرور مضبوطی سے تھمی ہوئی ہے کہ کوئی تو ہے جس نے اُسے تخلیق کیا ہے۔اُسی تخلیق کار تک پہنچنے کے راستے یہ طریقہ کار بظاہر یکساں نہیں (کوئی ہاتھ جوڑے تو کوئی ہاتھ باندھے، کو ئی سر بسجود ہوئے تو کوئی سرجھکائے، کوئی شمع جلائے تو کوئی نفس مارے ، کوئی بال بڑھائے تو کوئی سر منڈوائے، کوئی پگڑی بنائے تو کوئی امامہ پہنے، کوئی صدا بلند کئے تو کوئی گھنٹی بجائے) مگر سب خالق تک رسائی کی جہد میں ہی مگن ہے۔ کسی کے لئے خالق ہوا کا جھونکا تو کوئی سرچشمہ حرارت کا پجاری، کسی کے لئے ہاتھ آئے تو کسی کے لئے احساس ہے مگر سب متلاشی خالق کے اور اُس کی خوشنودی کے ہی ہیں۔ان راستوں ،احساسات اور طریقوں کے مد نظرمذہب ہر کسی کا انتہائی ذاتی معاملہ ماننے میں کئی رکاوٹیں بھی اسی سر زمین میں بوئی گئی جو آج مذہبی انتہا پسندانہ سوچ لیکر پروان چڑھ رہی ہیں۔ ریاست پاک میں قلیل و کثیر کے معنی کے مفہوم کو مدنظر رکھتے ہوئے اکثریت کی عقیدت کے پیش نظر مملکت دولت کا اسم گرامی اور مذہب مقرر کر دیا گیا جس میں سب سے مقدس دستاویز کا نام آئین ہے( جس کے تابع ہونا تمام شہریوں کا اہم ترین ذمہ داریوں میں شامل ہے)اس دستاویز میں ریاست کے ذمے شہریوں کے حقوق کا تحفظ بھی اکثریتی عقیدہ کی تعلیمات کی روشنی میں ہی واضح کی گیا ہے۔آئین پاکستان کے آرٹیکل 14 کو دو حصوں میں قرآنی سورۃ یسین میں خالقِ خدا کی طرف سے کی جانے والی شرف انسانی اور حرمت کے تحت تعریف کیا گیا ہے ۔(یقیناً’’ہم نے انسانوں کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے‘‘)آرٹیکل کا حصہ (الف) انسانوں کے گھروں میں خلوت اختیار کرنے کے آداب جبکہ حصہ (ب) شرف انسانی اور تکریم سے منسوب ہے۔ گویا یہ بات تو مسلمہ ہے کہ ریاست پاکستان میں اکثریت عقیدہ کے حامل انسانوں کو خالق خدا نے بلاتفریق مذہب ،عقیدہ،ذات،نسل،رنگ اور زبان انسان کی حرمت لفظ ’’انسان‘‘ کا استعمال کرکے تلقین دی ہے اور اسی تلقین کے تابع ہوتے ہوئے اس فرمان خداوند کو آئینی و قانونی حیثیت کا دارجہ دیا گیا۔ آرٹیکل 25 (الف) میں بھی امتیازات کی نفی اور بلاتفریق (مذہب ،عقیدہ،ذات،نسل، جنس ،رنگ اور زبان) مساوات کو اہمیت دیتے ہو ئے تمام شہریوں کو قانون کی نظر میں برابری کا درجہ بھی دیا گیاہے۔ اب سوال یہ جنم لیتا ہے کہ بحیثیت بندہ خدا اس حکم کی ادولی کی جائے یا پھر ریاستی شہری ہونے کی حیثیت سے پیروی کی جائے؟ انکار بہرحال گناہ یا جرم کے درجے کو پہنچے گا۔
فرمان خداوند کی تکمیل میں کسی مقام پر آکر نافرمانی کا عنصر پیدا ہو سکتا ہے کیونکہ سرزمین پاک کثیر المذاہب کے نام سے بھی جانی جاتی ہے مگر ریاست کے شہری ہونے کی حیثیت سے فرمانی اور پیروی کرنا فرائض میں شامل ہو جاتا ہے۔
آرٹیکل 20 کے تحت مذہب کی پیروی اور مذہبی اداروں کے انتظام کی آزادی فراہم کرنا ریاست اور ریاستی اداروں کے فرائض میں شامل ہے جس کے پیش نظر ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کے ساتھ ساتھ ہر مذہبی گروہ اور اس کے ہر فرقے کو اپنے مذہبی ادارے قائم کرنے،برقرار اور ان کا انتظام کرنے کا حق ہو گا۔شہریوں کو اس آئینی ضمانت کے بعد کس قدر آزادی اور حق کے ساتھ عمل پیرا ہونے دیا گیا ہے اس میں کوئی بعید نہیں۔مذہبی آزادی کا اندازہ سرزمین پاک سے ہجرت کرجانے والے غیر مسلموں (ہندو،سکھ،پارسی اور مسیحیوں) کی تعداد اور مذہبی اداروں کی موجودگی کا احساس مندروں،سمشان گھاٹوں اور گرجا گھروں کو تجارتی مارکیٹوں اور کھیتوں میں منتقلی سے لگایا جاسکتا ہے رہا سوال تبلیغ کا تواس پر اقلیتوں کا کوئی حق نہیں کیونکہ وہ ایک اسلامی ملک میں اسلامی حکومت کے تابع ہوتے ہوئے نہیں کر سکتے۔
سال دوہزار سولہ ایک خاص اہمیت کا حامل ہے کہ سرزمین پاک کی موجودہ صوبائی حکومتوں بشمول سندھ اور پنجاب میں باقاعدہ ہندوں اور مسیحیوں کے مقدس مذہبی تہوار وں (ہولی اور ایسٹر) کی مذہبی رسومات کی ادائیگی کی غرض سے سرکاری چھٹیوں کا اعلان بذریعہ نوٹیفیکیشن کیا گیا ہے ( اب سے قبل سیاسی مقاصد کے حصول کی غرض سے سیاسی و مذہبی اہم شخصیات ہندو اور مسیحیوں کے مذہبی تہواروں پر علامتی کیک کاٹنے کی رسم سے وابستہ تھے) جو معاشرے میں قلیل پسماندہ طبقات کو کثیر کے ہم قدم اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے کلیے ’’برداشت سے قبولیت ‘‘ کا استعمال کیا گیا ہے کہ ہندو اپنے مقدس تہوار ہولی کی رسومات اور مسیحی ایسٹر سے قبل کی مذہبی رسومات مذہبی عقیدت کے ساتھ سرکاری چھٹیوں کی سواری کرتے ہوئے ادا کریں۔
سرکار ی اعلان سے اکثریتی اور اقلیتی کے درمیان بات چیت برداشت سے کچھ قدم قبولیت کی جانب بڑھے گی۔ جس کی مانگ اقلیت کئی برسوں سے کر رہی ہے ۔ میں حالت سفر میں ہوں اور میرے ساتھ میں ایک ایسا شخص بیٹھا ہے جس نے ایسی خوشبوکے حامل پرفیوم لگا رکھا ہے جو مجھے پسند نہیں مگر اُس کو اپنے ساتھ بیٹھائے رکھا ہوا ہوں کیونکہ کسی اور سیٹ پر تبادلہ نہیں کر سکتا یہ میری برداشت کے درجے میں آتا ہے جبکہ اُسی شخص کو میں فراخ دلی سے اپنی پسندیدہ کھانے پینے کی اشیاء شیئر کر رہا ہوں تو یہ میری قبولیت کے زمرے میں آتا ہے۔مختصر اور آسان الفاظ میں کہ میں کسی کے ساتھ اپنے تعلقات لاکھ اختلافات کے باوجود استوار کرتا ہوں کیونکہ وہ بھی میری طرح عظمت اور تکریم کا حامل ہے یہ قبولیت کی وسیع ترمثالوں میں سے ایک بہترین مثال ہے۔پاکستان میں ہندو اور مسیحیوں کے علاوہ بھی کئی مذہب اور عقائد کے ماننے والے شہری بستے ہیں جو اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی میں خاص آزادی اور عدم تحفظ کا شکارہیں۔ہم سب کی مذہبی شناخت صرف اپنے مصور/ خالق تک رسائی کی غرض سے ہونی چاہیے کیونکہ مذہب ہر کسی کا ذاتی معاملہ ہوتا ہے۔ ریاستی باشندوں کی شناخت شہریت سے ہے ۔ریاستی حدود لائن کے اندر رہنے والا ہر انسان پہلے اُسی ریاستی شناخت کا حامل ہے اور اُسی پر فخر بھی ہونا چاہیے ۔اُمید ہے سرکار اور ہم سب شہری دوسروں کی مذہبی آزادی کے بارے بھی خندہ پیشانی کے ساتھ سوچنے اور عملی و تحفظی اقدامات اُٹھانے میں کوئی کسر روانہیں رکھیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *