پاکستانی قوم کرے تو کیا کرے!

mustafa malik

ایک طاقتور جب دوسرے طاقتور سے ٹکراتا ہے تو وہ خود ختم ہو جاتا ہے یا پھر دوسرے کو ختم کر دیتا ہے۔مگر جب یہی طاقتور اپنی طاقت غریب ،بے یارومدد گار اور کمزور لوگوں پر آزماتا ہے تو اس سے ظلم، نا انصا فی اور بربریت کے نہ ختم ہونے والے سلسلے شروع ہو جاتے ہیں۔انسان بنیادی طورپر لالچی اور ڈرپوک واقع ہوا ہے۔جب اس کے پاس دولت اور اقتدار آجاتا ہے تو اس کا یہ ڈر اور لالچ مزید بڑھ جاتا ہے۔اسے خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ کوئی اس سے زیادہ طاقت ور نہ ہو جائے۔اس سے یہ شان و شوکت نہ چھن جائے اس خوف کے زیر اثر وہ ارد گرد کے لو گوں کو دبانا شروع کر دیتا ہے۔اور جو اس دباؤ میں نہیں آتے انہیں روپے پیسے دے کر ساتھ ملا لیتا ہے۔اس طرح مشترکہ مفادات رکھنے والا ایک ٹولہ وجود میں آتا ہے۔ لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کرنا،بہو بیٹوں کی عزت پامال کرنا،دوسروں کو حقیر سمجھنا اور خود کونمایاں کرنے کے لیے ہر ناجائز طریقہ استعمال کرنا ان لوگوں کی خاص پہچان ہے۔ان لوگوں کے پاس ایسے لوگوں کا جمگھٹا رہتا ہے۔جو ان کے ہر سیاہ کام کو سفید کرنے میں لگے رہتے ہیں۔قیام پاکستان کے ساتھ ہی اس کی تقدیر چند خاندانوں کے ہاتھ چلی گئی۔مگر آج 65سال گزرنے کے با وجود ان میں کمی کی بجائے اضافہ ہی ہوا ہے۔
پہلے جاگیر دار اپنے خاص آدمیوں جنہیں عرف عام میں کَن ٹُٹّے کہتے ہیں ۔کے ذریعے غریب لوگوں پر حکومت کرتے تھے اور انہیں ڈرا دھمکا کر اپنے تابع فرمان رکھتے تھے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ جاگیردار سیاستدان ،صنعت کار، بیوروکریٹ اور جرنیل بھی بن گئے تو ان کے کَن ٹُٹّے بھی تبدیل ہو گئے ا ور یہ تھانیدار،نمبردار،پٹواری اور کارکن کے ناموں سے جانے جانے لگے۔پاکستان بننے کے بعد ہر حکومت برادری ازم کی وجہ سے ہی وجود میں آئی اور اس کے پیچھے وہی جاگیر دارانہ سوچ کار فرما رہی ہے۔ہم حاکم ہیں اور باقی سب کمی اور کمیوں کو جوتے کی نوک پر رکھنا چاہیے۔آج بھی ہمارے شہر کا تھانیدار برادری ازم کی بنیاد پر لگتا ہے۔پٹواری اپنے بہی کھاتے گاؤں کے چوہدری کے حکم سے ہی کھولتا بند کرتا ہے۔نمبر دار چوہدری کے ڈیرے کا مینجر زیادہ اور حکومت کا ملازم کم ہوتا ہے۔شہروں میں یہی کام سیاسی کارکنوں اورکلرک مافیا کے ذمے ہوتا ہے۔
تھانے دار،نمبردار اور پٹواری سیاستدانوں کی مختلف انداز میں مدد کرکے انہیں ایوان اقتدار میں پہنچاتے ہیں ۔اور پھر اگلے پانچ سال یہ لوگ ان سیاستدانوں سے اپنی خدمت کا معاوضہ وصول کرتے رہتے ہیں۔پاکستان میں جتنی ذلت اور خواری تھانے،کچہری اور زمینوں کے لین دین کے اداروں میں ہوتی ہے اتنی کسی اور جگہ شایدہی ہوتی ہو۔یہ کرپشن،اقراباپروری ،رشوت اور دھونس کی ایک ایسی دنیا ہے جہاں عام آدمی اوّل جاتا ہی نہیں اور اگر چلا بھی جائے تو اس کے حصے میں فقط نا کامی اور ذلت ہی آتی ہے۔بے گناہوں کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے۔لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کر کے اپنے نام منتقل کرا لیا جاتا ہے۔نمبرداری قائم رکھنے کے لئے سفید پوش لوگوں کو خواہ مخوا ہ رسوا کیا جاتا ہے۔ان سب غیر قانونی کاموں کا لائسنس ،پرمٹ اور اجازت نامہ دینے والا وہ سیاستدان ہوتا ہے۔جو ان کے تعاون سے اسمبلی میں جا کر عوام کی خدمت کرنے کاحلف لیتا ہے۔
پاکستان میں ایک دفعہ پھر جمہوری حکومت برسراقتدار آچکی ہے جس کی یقیناًیہ کوشش ہوگی کی وہ لوگوں کو مشکلات سے نجات دلوائیں اور ان وعدوں کو پورا کریں جو انھوں نے اپنی الیکشن مہم میں لوگوں سے کئے تھے۔جہاں حکومت ان مسائل پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔وہیں درجنوں تھانے دار اپنی فائلیں بغل میں دبائے اپنے من پسند علاقے میں تبادلے کروانے چل پڑے ہیں،جنہوں نے عوام کو تحفظ دینا ہے اور ان کا خوف دور کرنا ہے وہ دو دو چار چار کی ٹولیا ں بنا کر خوف پھیلا رہے ہیں۔اور جب دل کرتا ہے سکیورٹی کے نام پر کسی بھی شہری کی عزت اس کے ہاتھ میں پکڑا دیتے ہیں۔ جب بھی نئی حکومت بنتی ہے پٹواری حضرات کاٹن کے سفید سوٹ سلواتے ہیں اور علاقے کی زمینوں کا نیا سروے شروع کر دیا جاتاہے۔کونسی زمین لاوارث ہے یا کونسی زمین کا مالک لاوارث ہے۔اس کا انہیں خوب اندازہ ہوتا ہے۔پچھلے الیکشن میں مخالف امیدوار کو کس کس نے ووٹ دیے تھے۔کس کس نے بڑھ چڑھ کر باتیں کی تھیں۔دُھلے ہوئے اور استری کیے ہوئے کپڑے کون پہننے لگا ہے۔اس کا اندازہ لگانے کے لئے نمبر دار متحرک ہو جاتے ہیں تا کہ ان لوگوں کا حقہ پانی بند کیا جا سکے۔
ہمارے ملک میں ہر سیاستدان کا ایک ہمزاد ہوتا ہے اور عام طور پر یہ ہمزا د تھانے دار ، پٹواری یا نمبردار کی شکل میں ہوتا ہے۔جب سیاستدان الیکشن جیت کر اسمبلی میں جاتا ہے تو اپنے حلقے کی دیکھ بھال کرنے کے لیے اپنے ہمزاد کووہاں چھوڑ جاتا ہے۔پھر سیاستدان تو سرکاری پروٹوکول ،میڈیا کوریج اور پیسہ بنانے میں اتنے مصروف ہتے ہیں کہ انہیں اپنے حلقے کی یاد بھی نہیں آتی۔ایسے میں ان کے ہمزاد اپنا کردار خوب نبھاتے ہیں۔اور عوام کی وہ خدمت کرتے ہیں کہ انھیں لگ پتا جاتا ہے۔اگربھولے سے کوئی ان کے ناجائز کاموں کا پوچھ لے تو بڑے فخر سے ایک پرچی یا کارڈ جس پر کسی ایم پی اے یا ایم این اے کا نام لکھا ہوتا ہے ۔ایسے آگے کر دیں گے جیسے پرانے وقتوں میں کّن ٹُٹّے کہتے تھے کہ ہم فلاں کے بندے ہیں۔پاکستانی قوم کرے بھی تو کیا کرے۔اس کے لیے تو عام نمبردار سے لے کر امریکہ تک سب کَن ٹُٹّے ہی ہیں جو اس کی عزت نفس اور خود مختاری کو مجروح کر رہے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *