بغاوت

Yasir Pirzadaیاسر پیر زادہ

مسلح بغاوت کے چارلیول ہوتے ہیں پہلے درجے میں معاشرے میں روا رکھی جانے والی ناانصافیوں اور فرسودہ نظام سے تنگ آئے ہوئے عوام میں ایک قیادت ابھرتی ہے جو ’’باطل‘‘ نظام کو الٹا کر نیا سسٹم قائم کرنے کا پرچار کرتی ہے، اس دوران وہ گروہ پروپیگنڈا کا استعمال کرتے ہوئے عوام کو بغاوت پر اکساتے ہیں جس کے نتیجے میں بغاوت کے اکا دکا نشانات بھی ظاہر ہونا شروع ہوتے ہیں مگر یہ عمل ریاست کی نظر میںاس حد تک خطرناک نہیں ٹھہرتا کہ وہ فوراً کارروائی پر مائل ہو جائے۔ دوسرے درجے کی بغاوت میں مسلح گروہ اپنی موجودگی کا اظہار زیادہ پُر تشدد کارروائیوں کے ذریعے کرتے ہیں جیسے کہ اس علاقے میں گاہے بگاہے بم دھماکے کرنا یا کبھی کبھار قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ کرکے بھاگ جانا، ریاست کے دشمنوں سے ہتھیا رحاصل کرنا،اپنے گروہ میں جرائم پیشہ افراد اور سسٹم سے تنگ آئے ہوئے نوجوانوں کو بھرتی کرکے ان کی تربیت کرناوغیرہ، اس مرحلے میں ریاست آنکھیں ملتی ہوئی نیند سے بیدار ہوتی ہے اور سوچتی ہے کہ اسے کیا کرنا چاہئے ،چنانچہ کائونٹر ٹیرر ازم کا محکمہ تشکیل دیا جاتا ہے اوراس میں بھرتیاں شروع کی جاتی ہیں ‘مگر عملی طور پر زیادہ کچھ نہیں ہوتا۔مسلح بغاوت کا تیسرا مرحلہ وہ ہوتا ہے جہاں باغی گروہ ریاست سے گوریلا جنگ کرتا ہے اور براہ راست ریاست کی عملداری کو چیلنج کرتا ہے ،اس موقع پربلا خوف و خطر دہشت گردی کے حملوں کی ذمہ داری قبول کی جاتی ہے، ریاست اس مرحلے پر reactive اپروچ کا مظاہرہ کرتی ہے،جہاں جہاں دہشت گرد کارروائیاں کرتے ہیں وہیں ان کے خلاف جوابی کارروائی پر اکتفا کیا جاتا ہے، فوجی کارروائی کے علاوہ علاقے میں سیاسی ،سماجی اور معاشی اصلاحات متعارف کروانے کی کوشش کی جاتی ہے اورعام معافی کے پروگرام کا عندیہ دیا جاتا ہے مگر بھرپور فوجی کارروائی سے گریز کیا جاتا ہے ۔مسلح بغاوت کا چوتھا مرحلہ وہ ہوتا ہے جب باغی گروہ ریاست کے ناکافی ردعمل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس پوزیشن پر پہنچ جاتے ہیں جہاں وہ شورش زدہ علاقے میں باقاعدہ اپنی رٹ قائم کر لیتے ہیں ،وہاں ان کی مرضی کا سسٹم رائج ہو جاتا ہے ،پولیس ‘عدالت اورسول انتظامیہ بے بس ہو جاتی ہے اور سرکاری عمارتوں پر مسلح گروہ کا پرچم لہرا دیا جاتا ہے ۔اس مرحلے پر ریاست کی مشینری حرکت میں آتی ہے اور فوجی قوت کی مدد سے مسلح بغاوت کو کچلنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔2009میںسوات میں یہی لیول چار کی بغاوت تھی جسے ریاست نے فوجی قوت کی مدد سے کچل کر واپس پہلے درجے کی طرف دھکیل دیا تھا۔
مسلح گروہ اپنے آپ کو چار مختلف طریقوں سے منظم کرتے ہیں۔پہلے طریقے میں مسلح تربیت دی جاتی ہے اورشورش زدہ علاقوں میں ایسی محفوظ پناہ گاہیں بنائی جاتی ہیں جہاں ریاست کے پیادے کی پہنچ ممکن نہ ہو ، اس مقصد کے حصول کے لئے مختلف اوقات میں ریاست سے معاہدے کرکے زمین حاصل کی جاتی ہے جہاں وہ بلا خوف و خطر خود رہ سکیں اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے بعد روپوش ہو سکیں ۔دوسرے طریقے میں اسلحہ اور گولہ بارود کی فراہمی کو یقینی بنایا جاتا ہے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کی غرض سے دیگر ممالک سے مدد کے علاوہ اندرون ملک اغوا برائے تاوان ،بھتہ خوری ،ڈکیتی اور منشیات وغیرہ کی آمدن استعمال میں لائی جاتی ہے ۔تیسرے طریقے میں اُن ہم خیال مسلح گروہوں سے مدد لی جاتی ہے جو دوسرے ممالک میں برسر پیکار ہوں اور ان سے مسلح تربیت حاصل کی جاتی ہے جو ریاست کے خلاف ایسے گروہوں کو مضبوط دیکھنے کے خواہش مند ہوں۔ جبکہ چوتھے طریقے میں عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور یہ تاثر دیا جاتا ہے جیسے مسلح جدوجہد کا مقصد صرف اور صرف عوام کے لئے انصاف پر مبنی معاشرے کا قیام ہے، اس طریقے پر عملدرآمد کے لئے میڈیا پر کوریج حاصل کی جاتی ہے، قانونی سیاسی جماعتوں کو اپنا ہمنوا بنایا جاتا ہے اور اس تمام عمل کے نتیجے میں مسلح گروہ عوامی حمایت کو یقینی بناتے ہوئے رائے عامہ کو تقسیم کردیتا ہے جس سے اس کے خلاف کارروائی کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔پاکستان آج اسی مخمصے کا شکار ہے۔
مسلح بغاوت سے نمٹنے کے لئے فوجی اور غیر فوجی حکمت عملی بیک وقت بروئے کار لائی جاتی ہے اور اس کے چاربنیادی اجزا ہیں۔پہلا جزو ،لیڈر شپ، سیاسی قیادت کو ابہام اور گو مگو کی کیفیت سے نکل کر بہادرانہ فیصلے کرنے ہوتے ہیں،ایک منقسم رائے عامہ دہشت گردوں کے ہاتھ مضبوط کرتی ہے لہٰذا لیڈر شپ کا بنیادی کام عوام کی رہنمائی کرنا ہے جو اسی صورت ممکن ہے اگر ریاست اپنا بیانیہ مؤثر اور مدلل انداز میں دشمن کی واضح نشاندہی کرتے ہوئے میڈیا میں پھیلائے،کسی نظریاتی دلیل اور بیانئے کے بغیر مسلح بغاوت کو کچلنا ممکن نہیں ہوتا۔ دوسرا جزو، فوجی صلاحیت، کمانڈر میں یہ خوبی ہونی چاہئے کہ مسلح بغاوت کو کچلنے کے لئے روایتی اور غیر روایتی دونوں طریقے اپنا سکے، اس مقصد کے لئے اس کے افسروں اور جوانوں کا منظم ہونااوربرّی اور فضائی فوج کا خاص طور سے جدید ہتھیاروں اور آلات سے لیس ہونا ضروری ہے۔تیسرا جزو، سول ملٹری تعلقات ،سویلین قیادت میں یہ صلاحیت ہونی چاہئے کہ فوجی کمانڈر اس کے احکامات کے تحت فوجی آپریشن لانچ کریں تاکہ دہشت گردوں کو یہ واضح پیغام جا سکے کہ ان کا سامنا ایک بے خوف سیاسی قیادت سے ہے جو ان کے بیانئے کو ملکی اور غیرملکی سطح پر رد کرکے طاقت سے کچلنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔چوتھا جزو،مسلح بغاوت سے نمٹنے کے لئے ضروری ہے کہ حکومت ایک ایسا تنظیمی ڈھانچہ قائم کرے جو ریاست کے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مربوط ہو اور اس کی چھتری کے تلے ہی کائونٹر ٹیررازم مہم چلائی جائے ۔کیا ہماری ریاست ان چاروں خطوط پر کام کر رہی ہے ؟
ریاست کے خلاف برسرپیکار مسلح گروہوں کو اسلحے اور رقم کے بعد جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے وہ ہے زمین ۔رقم اور اسلحے کے بارے میں تو ہم آئے دن دہائی دیتے ہیں کہ اس میں بیرونی عناصر ملوث ہو سکتے ہیں مگر زمین تو ہم نے ہی انہیں ’’تحفے‘‘ میں دے رکھی ہے، سراروغہ سے لے کر تیرہ وادی تک اور خیبر سے لے کر سوات تک جتنے معاہدے دہشت گردوں کے ساتھ ہوئے ان میں ایک بات مشترک تھی کہ ریاست ہر موقع پر اپنی زمین سے دست بردار ہوتی رہی، اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مسلح گروہوں کو ایک ایسی جگہ مل جاتی ہے جہاں وہ سکون کے ساتھ آئندہ منصوبہ بندی کر سکتے ہیں ،جنگجوئوں کو تربیت دے سکتے ہیں اورrest and recreation leaveپر جا سکتے ہیں ۔اس کی مثال ایسے ہے جیسے اگر کسی کو کہا جائے کہ وہ پنجوں کے بل کھڑا ہو کر دکھائے تو وہ شخص دس بیس منٹ تک تو کھڑا رہ سکتا ہے مگر ہمیشہ نہیں ،بالکل اسی طرح اگر دہشت گردوں کے پائوں سے زمین نکال لی جائے تو انہیں پنجوں کے بل کھڑا ہونا پڑے گا اور یہ تکلیف زیادہ دیر تک برداشت نہیں کی جا سکتی ۔لڑائی کے بعد فوجی کو بھی کچھ عرصے کے لئے آرام درکار ہوتا ہے ،مسلسل جنگ کوئی بھی نہیں کر سکتا ،بالکل اسی طرح جنگجو بھی مسلسل لڑائی کی پوزیشن میں نہیں ہوتے یہی وجہ ہے کہ تھوڑے عرصے بعد وہ حکومت کو مذاکرات کا دانہ ڈالتے ہیں، جواب میں ہم امن کے نام پر انہیں تھوڑی بہت زمین عنایت کر دیتے ہیں جس سے ان کی سانس دوبارہ بحال ہو جاتی ہے اوروہ تازہ دم ہو کر پھر سے لڑنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں ۔اس مرتبہ بھی ہم انہیںیہ تحفہ دینے کے لئے تقریباًتیار بیٹھے ہیں ،خدا خیر کرے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *