ممتاز قادری اور مباح الدم سلمان تاثیر :ایک اہم غلط فہمی کا ازالہ

mohammad hussan
محمد حسن
مباح الدم کا مطلب ہوتا ہے ،وہ شخص جس پر فساد یا قتل کا جرم ثابت ہو چکا ہو اور اسے عدالت نے مجرم مان کر سزا کا اعلان کر دیا ہو۔یعنی اس کی زندگی کا خاتمہ جائز مان لیا گیا ہوا۔اگر یہ مجرم قانون کے شکنجے سے بھاگ نکلے ، اشتہاری ہوجائے اور کوئی عام آدمی اسے قتل کردے ،تو کیا اس عام آدمی سے اس قتل کا بدلہ قتل کی صورت میں ہی لیا جائے گا۔ اس بارے میں ہمارے جلیل القدر فقہا کا ماننا ہے کہ اگر قانون نے پوری جرح و تفتیش کے بعد کسی شخص کو موت کی سزا تجویز کر دی ہو ،تو اصلا اب اسے جینے کا کوئی حق نہیں ،لہذا اگر اب کوئی عام آدمی کسی اشتعال یا اور وجہ سے قتل کردے تو اس عام آدمی نے کسی معصوم آدمی کو نھیں مارا بلکہ ایک مباح الدم یعنی اس شخص کو مارا ہے جس کا خون ویسے بھی عنقریب لیا ہی جانا تھا ،لہذا عام آدمی کو اب محض قصاص کی بنیاد پر قتل نھیں کیا جا سکتا وہ رعایت کا مستحق ہے۔ فقھا کی یہ بات عقل و قانون دونوں کے تقاضوں کے مطابق ہے ،لہذا عام آدمی سے قصاص لینے کے بجائے اسے اس سے کمتر سزا دی جانی چاہئے کیونکہ بہرکیف اس نے قانون تو ہاتھ میں لیا ہے ۔یہ بات آج دنیا کا قانون بھی مانتا ہے ۔لیکن ہمارے بعض علما فقھا کے اس نقطہ نظر کی غلط ترجمانی کر رہے ہیں اور وہ بتا رہے ہیں کہ ہر وہ آدمی جس پر ابھی محض الزام لگا ہو اسے مباح الدم قرار دے کر اس کا خون لینا جائز ہے۔ یوں وہ لوگوں کو دوسروں کے قتل کا سرٹیفیکیٹ جاری کر رہے ہیں ۔ہمارے نزدیک یہ بات کسی بھی لحاظ سے درست نھیں ۔
کوئی بھی آدمی اس وقت تک مباح الدم نہیں ہوتا جب تک اسے عدالت مجرم نہ ثابت کر دے اور حکومت یا مقتول کے ورثا میں سے بھی کوئی اسے معاف کرنے پر پوری طرح انکار نہ کردے ۔۔اور وہ تختہ دار تک پہنچ جائے ،اسے سے پہلے تک کوئی بھی شخص مباح الدم نھیں ۔لہٰذا جو شخص کسی دوسرے شخص کو اس خدشے میں قتل کرے کہ وہ مباح الدم تھا ، کسی رعایت کا مستحق نھیں اور اسے سے قصاص ہی لیا جائے گا،
سلمان تاثیر کا معاملہ اس سے بھی بڑھ کر ہے ،مباح الدم ہونا تو دور کی بات ،انھیں تو کسی عدالت نے اس جرم کا کسی بھی زاویے سے کبھی مجرم قرار ہی نھیں دیا ۔لہٰذا ان کا قاتل کسی رعایت کا مستحق نھیں ۔اور اس سے قصاص لیا جانا عین اسلام کی منشا ہے، کسی عالم کو یہ اجازت نھیں کہ وہ اپنے فتووں سے لوگوں کو مباح الدم قرار دیں، یہ کام صرف عدالت کا ہے.

ممتاز قادری اور مباح الدم سلمان تاثیر :ایک اہم غلط فہمی کا ازالہ” پر ایک تبصرہ

  • اپریل 7, 2016 at 1:14 PM
    Permalink

    Agar-Aik-admi-nay-sare-e-aam-koi-kaam-aisa-kiya-hai-k-us-ke-baat-he-usay-mabah-ud-dam-bana-deti-hai. Kaya-us-soorat-mein-court-ke-zaroorat-rehti-hai?

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *