انرجی سیکٹر میں ایک عظیم انقلاب !ایک عظیم خوشخبری !!

solerانسان نے زیر زمین قوت وطاقت کے خزانے اجاڑنے کے بعد اب فضا میں موجود ذرائع پر کمندیں ڈالنی شروع کر دی ہیں ۔ لیکن اس کی تفصیل جاننے سے پہلے آپ چند اصطلاحیں سمجھ لیں ۔ فوسلز فیولز (Fossil Fuels )سے مراد ہے پٹرولیم، کوئلہ اور گیسز یعنی جو زمین یا زمین کے نیچے سے نکالی جاتی ہیں ۔ جبکہClean energy سے مراد ہے ہوا اورشمسی(سولر )اور نیوکلر انرجی کے ذرائع۔ اب آتے ہیں اصل بات کی طرف ۔ 2015 ء میں کلین ذرائع پر کی جانے والی سرمایہ کاری فوسلز فیولز سے دوگنا ہو گئی ہے۔شمسی توانائی کا حصول کتنا سستا ہو گیا ہے اس کا اندازہ اس سے لگائیے کہ 1970ء کے مقابلے میں یہ ایک سو پچاس گنا سستا ہو گئی ہے۔ البتہ اس تنصیبات کی قیمتیں بڑھی ہیں لیکن مجموعی لحاظ سے اس میں بے پناہ کمی آئی ہے۔ نیچے دیے گراف سے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ پندرہ برسوں میں سولر انرجی کے استعمال میں سات گنا اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔اگر یہ رجحان اسی طرح رہا جس کے سو فیصد چانسز ہیں تو انسان کو مبارک ہو کہ آلودگی میں بے پناہ کمی کے ساتھ ساتھ تیل گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا جاری رجحان اور بڑھے گا۔اس انقلاب سے چیزوں کی قیمت میں کمی کا فامولا یہ ہو گا کہ اگر ونڈ پاور کی کنزمپشن ڈبل ہو تی ہے تو لاگت چودہ فیصد کم ہو گی اور اگر شمسی توانائی کا ستعمال عالمی سطح پر ڈبل ہو تا ہے تو لاگت میں چوبیس فیصد کمی آئے گی ۔ بے شک یہ انسانیت کے لیے ایک بہت بڑی خوشخبری اور انقلاب ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ نئی نئی انڈسٹری اور مصنوعات بھی مارکیٹ میں آئیں گی البتہ جن ملکوں کا انحصار پٹرولیم کو ایکسپورٹ کرنے پر ہے وہ اپنی خیر منائیں !

graff

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *