اردو شاعری کی چند کلاسیکی اصناف :عہد حاضر کے تناظر میں

tehmina abbas

اردو ادب کی تاریخ میں کئی اصناف ایسی بھی ہیں جو عرصے تک زمانے کا ساتھ دے کر آخر میں تاریخ کی زینت بن گئیں اردو میں ’’چہار بیت‘‘ بھی ایسی صنف شاعری ہے جو اپنی مخصوص روایات کے ساتھ ایک طویل عرصے تک غیر منقسم ہندوستان کے ایک وسیع خطے میں مقبول خاص و عام رہی لیکن دیگر تحریری اصناف کی طرح اس کی کوئی تحریری تاریخ نہیں۔’’چہار بیت‘‘ کے فن سے بے توجہی کا سبب محض سماجی نہیں بلکہ کسی حد تک فنی بھی ہے ۔چہار بیت نے اردو میں اس وقت جگہ بنائی جب ہر طرف ’’غزل ‘‘کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھاغزل کے دومصرعوں میں بات مکمل ہو جاتی ہے جب کہ ’’چہار بیت‘‘ کے پانچ یا چھ مصرعوں ایک ہی خیال ، ایک ہی واردات یا اچھوتی بات کہہ کر اس کا تاثر قائم رکھنا ایک مشکل امر ہے۔چہار بیت کے دور متاخرین میں حمدیہ، نعتیہ ، عشقیہ، رقیب خوانی(طنزیہ)، غماز خوانی (ہجویہ)،ماتمیہ موضوعات نظر آتے ہیں۔’’ اردو چہار بیت : فن اور روایت‘‘کے عنوان سے ایک تحقیقی مقالہ ڈاکٹر تنظیم الفردوس کی کتاب ’’اردو شاعری کی چند کلاسیکی اصناف‘‘ میں شامل ہے۔اس مقالے میں ڈاکٹر تنظیم الفردوس نے مستند حواشی اور حوالوں کے ساتھ اردو میں چہار بیت کے فن اور روایت پر روشنی ڈالی ہے۔اردو شاعری اور ادب سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ ایک معلوماتی مضمون ہے ۔

urdu

دنیا کی دیگر زبانوں کی طرح اردو شعرو ادب میں بھی سماجی مسائل و معاملات کی عکاسی شروع سے نظر آتی ہے پاکستانی ادیبوں اور شاعروں نے سانحہ مشرقی پاکستا ن کے اثرات قبول کیے اردو افسانے اور نظم کے علاوہ اردو غزل پر بھی اس کے اثرات نظر آتے ہیں کچھ اہل دل کو یہ شکایت بھی رہی کہ سانحہ مشرقی پاکستان کے نتیجے میں ادب اور ادیبوں کا وہ رد عمل میں سامنے نہیں آیا جس کا یہ واقعہ تقاضا کرتا ہے اردو غزل نے سانحہ مشرقی پاکستان کے جو اثرات قبول کیے ہیں اس حوالے سے ڈاکٹر تنظیم الفردوس نے ایک تحقیقی مقالہ ’’قومی شعور کی بازیافت:سانحہ سقوطِ مشرقی پاکستان کے اثرات اردو غزل پر‘‘لکھا ہے ۔اس مقالے میں ڈاکٹر صاحبہ نے غزل پر سیاسی و سماجی اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے سقوط ڈھاکہ کے غزل پر اثرات کی مستند حوالوں سے نشاندہی کی ہے۔اس حوالے سے اعجاز رحمانی کاایک شعر درج ذیل ہے۔
کانٹوں کی تکلیف بھلادی پھولوں کی جاں سوزی نے
اپنوں نے جو زخم دیے وہ زخم بہت ہی گہرے ہیں
یہ مقالہ بھی ڈاکٹر تنطیم الفردوس کی کتاب ’’اردو شاعر ی کی چند کلاسیکی اصناف‘‘میں شامل ہے
حفیظ ہوشیار پوری کا شمار ’’حلقہ ارباب ذوق ‘‘کے بانیوں میں کیا جاتا ہے انھوں نے یوسف عمر ،محمد خلیل الرحمن اور میرا جی کے ساتھ مل کر حلقۂ ارباب ذوق کی بنیاد ڈالی ان کی شہرت تو غزل گوئی کی وجہ سے ہے مگر وہ نظم نگار بھی تھے اور بچوں کے لیے انگریزی نظموں کے تراجم بھی کیے جو’’ دو رنگی‘‘ نامی کتاب میں چھپ چکے ہیں۔حفیظ ہو شیار پوری کتابوں کے بے حد رسیا تھے ان کے پاس کتابوں کا گراں مایہ ذخیرہ موجود تھا۔جن میں موسیقی، تصوف، کلام، تذکرہ نگاری، صرف و نحو، لسانیات کے علاوہ قلمی کتب بھی شامل تھیں۔ڈاکٹر تنظیم الفردوس نے اپنے مقالے ’’حفیظ ہوشیار پوری :روایتی تاریخ گوئی کا احیا‘‘ میں حفیظ ہوشیار پوری کی ذاتی زندگی،ادبی اور تاریخ گوئی پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے اس مقالے میں حفیظ ہوشیار پوری کے حکیم موسی امرتسری کو لکھے گئے پانچ خطوط بھی شامل ہیں۔یہ مقالہ بھی ڈاکٹرتنظیم الفردوس کی کتاب ’’اردو شاعر ی کی چند کلاسیکی اصناف‘‘میں شامل ہے۔ڈاکٹر صاحبہ کراچی یونیورسٹی کے شعبۂ اردومیں خاصے طویل عرصے سے تحقیقی اور تدریسی فرائض انجام دے رہی ہیں۔کئی طلبہ و طالبات ان کی نگرانی میں پی ۔ایچ ڈی کے تحقیقی مقالے مکمل کر چکے ہیں اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ ان کی کئی ایک تحقیقی اور تنقیدی کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں ۔ان کے ان گنت تحقیقی مقالے ہائر ایجوکیشن سے منظور شدہ تحقیقی رسالوں میں شائع ہو چکے ہیں۔ان کی کتاب ’’اردو شاعری کلاسیکی عہد میں‘‘ ڈاکٹر صاحبہ کے تین تحقیقی مقالوں پر مشتمل ہے یہ کتاب یقیناًاردو ادب کے طالب علموں کے لیے ایک اچھا اضافہ ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *