علمی طرز استدلال

Photo Moulana waheed ud din sbمولانا وحیدالدین خان
استدلال کی دو قسمیں ہیں............ قیاسی استدلال اور علمی استدلال - قیاسی استدلال وہ ہے جس میں ایک مفروضہ کو بنیاد بنا کر اپنی بات ثابت کی گء ہو - مثال کے طور پر ایک شخص یہ کہے کہ مسلمان کا منصب یہ ہے کہ وہ عالمی قیادت حاصل کرے - یہ کہ کر وہ عالمی قیادت کے حصول کی تحریک چلا دے - اس قسم کا ستدلال ایک قیاسی استدلال ہے اور اس بنا پر وہ بے بنیاد استدلال کی حیثیت رکھتا ہے - کیوں کہ سارے قرآن میں کہیں بھی یہ لکھا ہوا نہیں ہے کہ مسلمان کا منصب عالمی قیادت ہے - اس لیے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ عالمی قیادت حاصل کے حصول کی کوشش کریں - اس قسم کا استدلال بھی بے بنیاد ہے اور اس قسم کے استدلال کو لے کر جو تحریک کھڑی کی جائے، وہ بھی بے بنیاد -علمی استدلال وہ ہے جو کسی ثابت شدہ حقیقت پر قائم ہو- مثلاً اگر آپ یہ کہیں کہ مسلمان کا فرض منصبی شہادت علی الناس ہے اور اس بنا پر مسلمانوں کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ اہل عالم کے سامنے دین خداوندی کے گواہ بن کر کھڑے ہوں - یہ استدلال ایک علمی استدلال کہا جائے گا اور یہ تسلیم کیا جائے گا کہ وہ ایک حقیقی بنیاد پر قائم ہے - کیوں کہ اس استدلال کے حق میں واضح قرآنی آیات( البقرہ : 143،یوسف: 108) موجود ہیں - یہ آیات غیر مشتبہ طور پر ثابت کرتی ہیں کہ مسلمان کا یا امت مسلمہ کا منصب یہی ہے -دعوی کبھی مبنی بر عقل ہوتا ہے اور کبھی مبنی بر نقل_ اگر دعوے کا تعلق ایسے معاملے سے ہو جو عقل( reason) سے تعلق رکھتا ہو تو ایسی بات کو ثابت کرنے کے لیے ضروری ہو گا کہ اس کے حق میں کوئی ایسا عقلی ثبوت( rational proof) دیا جائے جو عقلی تجزیہ کے اصول پر ایک ثابت شدہ حقیقت کی حیثیت رکھتا ہو_ اس طرح اگر دعوت نقل سے تعلق رکھتا ہو تو ضروری ہوگا کہ نقل کے مستند ذرائع، یعنی قرآن و سنت کے حوالوں سے وہ غیر مشتبہ طور پر ثابت ہو رہا ہو_ نقل سے متعلق جس دعوے کے حق میں قرآن و سنت کا واضح حوالہ موجود نہ ہو، وہ ایک غیر علمی استدلال مانا جائے گا اور اس کو رد کر دیا جائے گا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *