امن و محبت کے غیر رسمی سفیر

Seemi Kiran

جب حکومتیں سیاست کی بساط پہ نفرت کا کھیل کھیلتی ہیں، دشمنی کی فضا میں خون کی بو خوف و ہراس پھیلا جاتی ہے تو رشتے کمزور پڑنے لگتے ہیں -وہ رشتے جن کی بنیادیں بڑی گہری ہیں۔ وہ پڑوسی جو ایک دوسرے کے ساتھ زبان، مذہب اور علاقائی بندھن میں بندھے ہیں، جن کی عوام میں یہ شعور بیدار ہو رہا ہے کہ ان کے درمیان مضبوط ثقافتی رشتے ہی مضبوط معیشت کی بنیاد بن سکتے ہیں اور یہی رویہ خطے میں استحکام بھی پیدا کر سکتا ہے !

ایسے حالات میں بہت مقدس اور اہم ہیں جو غیر رسمی سفارتکار کا کام سر انجام دے رہے ہیں۔ اور کیا آپ جانتے ہیں کہ سب سے بڑی اورمقدس غیر رسمی سفارتکار تو فطرت خود ہے ! سورج بیک وقت اِک آسمان پر دھوپ پھیلا کر دہلی، اسلام آباد اور لاہور کو وقت کی اِک ڈور میں باندھتا ہے، بادل بھی بغیر کسی تعصب کے دونوں ملکوں میں برس جاتے ہیں ! ہوائیں اور سمندری طوفان بھی ہمیں بیک وقت سہما دیتے ہیں! زلزلوں کی تھرتھراہٹ سے دونوں ملکوں کے عوام لرز کر ایک دوسرے کی خیریت دریافت کرنے لگتے ہیں، موسموں کی سردی گرمی ، خوشگواری بھی غیر رسمی سفارتکاری کرتی ہے!، پرندے بھی بغیر ویزے کی پابندیوں کے ایک ہی آسماں پہ پرواز کرتے اور دانہ چگتے ہیں یہ اور بات کہ حکومت ہندوستان ہمارے پرندوں سے بھی پریشان ہوجاتی ہے-

فطرت کی غیر رسمی سفارتکاری دیکھی آپ نے؟ چلئیے آئیے آپکو کچھ اور غیر رسمی سفارتکاروں سے ملوائوں! یہ سرحد پار سے آئے وہ جرائد اور ان کے مدیر ہیں جو ان کشیدہ حالات میں بھی اپنا پیغام امن اور محبت پھیلا رہے ہیں ایسے حالات میں اردو کی افادیت، فروغ پر دونوں ممالک کو اِک لحظے کے لیے غور ضرور کرنا چاہئیے!

پاکستان جہاں زبان اردو اس ملک کی سرکاری زبان ہے مگر کاغذوں کی حد تک، حکومت یہاں "انگریزی سرکار" کی ہے ۔ اور اردو ادیب قریب المرگ سوائے ان ادیبوں پہ جن کے سر پہ کوئی " چھپر چھایا" ہے کسی بھی طرح کا ! اور ہندوستان جہاں اس زبان کو صرف ایک مخصوص قوم کی زبان بنا دیا گیا ہے اور اس کو مٹا دینے کی مذموم سازشیں کی جا رہی ہیں !وہاں یہ امر سوچنے اور ٹھٹھکنے کا ضرور ہے کہ یہ زبان دونوں ممالک میں اِک وسیع رقبے میں رابطے کا کام دے رہی ہے، امن و محبت کی سفارتکاری کر رہی ہے!

یہ آنے والے ادبی جرائد کے تحائف ہمیں اِک ان دیکھی ڈور و زنجیر سے باندھتے ہیں جو ہمیں ایک دوسرے کا احترام و لحاظ کرنے کا سبق دیتے ہیں!"سہ ماہی خرمن" جو محترمہ مہر افروز نے بہت محبت سے ارسال کیا ، بڑے احترام سے افسانے کو نہ صرف جگہ دی بلکہ مدیرانہ ذمہ داریوں کا یہ حال پایا کہ پروف کی اِک اِک غلطی کے لئے انہوں نے مجھ سے رابطہ کیا۔ "سہ ماہی خرمن" کا یہ شمارہ محترم سید تحسین گیلانی اور مہر افروز کی ادارت میں اس دفعہ ہندوستان سے نکلا۔ پہلے دو شمارے پاکستان سے شائع ہوئے تھے دو ممالک کا ایسا اشتراک خوش آئند بھی ہے اور احتیاط کا متقاضی بھی کہ تمام معاملات ایسے نبھائے جائیں کہ محبتیں فروغ پائیں ! بہترین تحاریر اور افسانے شامل کرنے پہ دونوں مدیران قابل تحسین ہیں جبکہ محترم سیدی تو نام میں بھی تحسین ہیں ! انٹرویوز میں پروفیسر خلیل طوقار ، مقصود شاہ حسنی قابل ذکر اقبالیات کا گوشہ الگ ، غزلوں کا عمدہ انتخاب ، افسانچوں میں مقصود الہی شیخ اور مشتاق احمد نوری کے جگمگاتے نام –بائیس افسانے جہاں مظہرالزماں ، مشرف عالم ذوقی ، شموئل احمد ، یاسین احمد، ابرار مجید، اقبال خورشید ، پرویز شہریار، افشاں ملک شامل ہیں۔ وہیں نسبتاً نئے ناموں کی نمائندگی بھی ہے جیسے صدف اقبال ، منزہ احتشام ، آدم شیر اور جمیل اختر مضامین میں ظفر اقبال ، ناصر عباس نیر، رفیع اللہ میاں ، نسترن فتیجی قابل ذکر نام ہیں ! غرض "سہ ماہی خرمن" اردو کے سنجیدہ قاری کے لئے بہت کچھ لئے ہوئے ہے، ایسے جریدے کو تسلسل کے ساتھ آنا چاہئیے ۔ دوسرا شمارہ جو بہت عزیز دوست تبسم فاطمہ نے دہلی سے ارسال کیا " سلسلہ ادب" ہے سلسلہ ادب محترمہ تبسم فاطمہ اور محترمہ محمد سلیم علیگ کی ادارت میں نکلا اور کیا خوب نکلا، پہلا شمارہ مگر اِک نئی آن بان اور سج دھج سے آیا، ادبی جرائد میں ایک عمدہ اضافہ-

تبسم فاطمہ جو نہ صرف ایک بہت اچھی افسانہ نگار بھی ہیں ، ان کے سیاسی موضوعات پہ کالم ان کی سیاسی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہیں اور اب" سلسلہ ادب" کا پہلا شمارہ ہی افسانہ نمبر نکال کر انہوں نے ایک بہترین مدیر ہونے کا ثبوت دیا ہے ۔ عمدہ اور بہترین لکھاریوں کے ساتھ نئے لکھنے والوں کے افسانے شامل کئے ہیں، آٹھ مگر اہم مضامین ہیں ۔ یعنی بھرتی کے مواد سے گریز کیا گیا ہے ۔ عمدہ طباعت ، کاغذ ، خوش منظر فونٹ ۔ اس شمارے میں" بے سمت بصیرت و آگہی کے 15 برس اور ہمارا افسانہ"  ایک اہم مکالمہ ہے جس میں عصر حاضر کے لکھاریوں کو بحث کی دعوت دے کر ان کی آراء کو شامل کیا گیا ہے ! یہ سلسلہ ادب کا ایک عمدہ اور منفرد سلسلہ ہے ، کسی نہ کسی اہم موضوع کا احاطہ کر کے اسے آنے والے شماروں میں جاری رہنا چاہئیے! اسی طرح انٹرویو  میں مشرف عالم ذوقی صاحب کے ساتھ ان کے ناول " نالہ شب گیر" پر راقم الحروف کا انٹرویو شامل ہے۔ مختلف معتبر شخصیات کا انٹرویوزکا سلسلہ بھی چلنا چاہئیے- خیر" سلسلہ ادب" چل نکلا ہے اور نئی راہیں نکلتی رہیں گی-

تبسم فاطمہ کے اداریہ کا ذکر نہ کرنا ایک زیادتی ہو گی " لکھنے والوں کا گم ہوتا ہوا کارواں" جس کے آخر میں وہ رقم طراز ہیں " ہم ایک ایسے نظام کا حصہ ہیں جہاں دہشت گردی، لسانی تعصبات اور متشدد فضا کے باوجود ہم نے جینے کے لئے مجبوراً ایک آزمودہ معاشرہ برآمد کر لیا ہے یہاں ہم اپنی ادبی ذمہ داریوں سے کٹ گئے ہیں ، ادبی تحریکیں سو گئی ہیں- فیس بک پہ ہنگامہ ضرور ہے لیکن منٹو، عصمت چغتائی، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، ممتاز مفتی ، قراُۃ العین حیدر یہاں تک کہ جوگندر پال ، سرندر پرکاش ، اقبال مجید کی سطح پہ ایک بھی نام نہیں جس کے مستقبل کو لے کر پشین گوئی کی جا سکے ہو سکتا ہے یہ خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ ہو تو اس طوفان کا شدت سے انتظار ہے"یہی سلسلہ ادبی پالیسی کا عکاس بھی ہے، دعا ہے کہ سلسلہ ادب تسلسل سے جاری و ساری رہے-

 یہ ششماہی کتابی سلسلہ "راوی" ہے ایک ،معتبر جریدہ جس نے اپنے دوسرے شمارے سے ہی اپنی اِک ساکھ اور منفرد شناخت قائم کی ہے ، محترم ابرار مجیب اس کے مدیر ہیں اور انڈیا کے ان معدودے چند مدیران میں سے ہیں جو کہ لکھاری کو اس ہوش ربا مہنگائی اور ڈاک خرچ کے باوجود جریدہ بھیجتے ہیں جبکہ ادبی جرائد اِک کار جنوں اور خسارے کا سودا ہے- محترم ابرار مجیب جو خود اِک منجھے ہوئے افسانہ نگار ہیں حال ہی میں ان کا ناول "اِک تازہ مدینے کی تلاش" آیا ہے جریدہ ان کی مدیرانہ صلاحیتوں کا عکاس ہے ، یہ راوی کا ناول نمبر ہے اس کی خصوصیت ہی یہ ہے کہ اس میں بیک وقت تین مکمل ناول شامل کئے گئے ہیں پہلا ناول شموئل احمد کا "گرداب" ہے ، دوسرا ناول "یہ راستہ کوئی اور تھا" محترم اقبال حسن خان کا ہے ، تیسرا ناول "رنگ محل" طاہر اسلم گورا کا ہے ، رحمان عباس کے ناول "روحزن" کا ایک باب بھی شامل کیا گیا ہے۔ راوی کی دوسری خصوصیت " نئے افسانے نئےدستخط" ہے یہ بھی ایک منفرد سلسلہ ہے ۔ اس کے بارے میں ابرار مجیب ادارئیے میں رقم طراز ہیں " راوی کے شمارے میں مذکورہ تین مکمل ناولوں کے علاوہ "اردو افسانہ نئے دستخط "کے عنوان سے انڈوپاک کے ایسے نوجوان افسانہ نگاروں کی نگارشات شائع کی جا رہی ہیں جن سے توقع ہے کہ وہ آگے چل کر اردو کے افسانوی ادب کی روایت میں اضافہ کریں گے ، اس شمارے میں ابھرتے ہوئے ان افسانہ نگاروں کی فہرست نا مکمل ہے ، راوی کے اگلے شمارے میں نئی نسل کے ان افسانہ نگاروں کی بھرپور نمائندگی ہوگی ۔

"نئے افسانے نئے دستخط" اس لحاظ سے منفرد ہے کہ افسانہ سیکشن صرف اسی پر مشتمل ہے یعنی افسانے کا بوجھ ان کے کندھوں پر ڈال کر ان کو حوصلہ ہی نہیں ذمہ داری کا احساس بھی دیا گیا ہے اس میں ظہیر عباس کے دو افسانے ، منیرہ سورتی، راقم الحروف، صدف اقبال، شاہد جمیل احمد، عادل فراز، شہناز رحمان اور رابعہ الربا کے افسانے شامل ہیں۔ یہ جرائد کے تحائف و تبادلے ادیبوں کے رابطے ادیبوں کے ساتھ اور عوام کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ ادیب مختلف ادبی کانفرسز میں مدعو کئے جاتے ہیں ، یہ محبتوں اور امن کی سفارتکاری نہیں تو اور کیا ہے کہ ہم ادیب ہیں ، امن اور محبت کے سفیر ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *