معروف کہانی کار"ہرمن مَیلواءِیل" کی ایک شاندار کہانی کا اردو ترجمہ (پہلی قسط)

’’بارٹلی بائی: کاتب‘‘ یا ’خوش نویس‘: ایک افسانہ۔ لِکھاری: ہرمن میلواءِیل۔
'Bartleyby the Scriviner' by Herman Melville (1819-1891)
ترجمہ: انگریزی سے اُردو: اشرف گِل-فریزنو۔ کیلیفورنیا۔

ashraf Gill

ہرمن مَیلواءِیل: ناول نگار کی کہانی ' Bartleyby: the Scrivener' شروع کرنے سے پہلے اُس کی زندگی کا مختصر خاکہ پیش کرنا ضروری سمجھتا ہُوں۔ تاکہ قارئین کو آگاہی ہو سکے۔ کہ ’بارٹلی بائی‘ کون تھا۔ اوراس نے اپنی زندگی کو گذارنے کیلئے کیا کیا کِیا؟
: Herman Melville: U.S. Novel writer: (1819-1891)
ہرمن مَیلواءِیل(ناول نگار) کی زِندگی کا مُختصر خاکہ:
ہر من مَیل وائیل اگست ۱۹۔ ۱۸۱۹ء ؁ کو ایک عجیب و غریب مگر نیویارک کے کامیاب خاندان میں پیدا ہُوا۔ اس کے باپ کا کاروبار فرانس سے کپڑے و دیگر سامان درآمد کرنے سے متعلق تھا۔جو بعدازاںFur پوستین کے کاروبار میں تبدیل ہو گیا۔ جو بعد میں ناگزیر وجوہ سے ناکام ہو گیا۔ اور اس صدمے سے ایلن (ہرمن) کا باپ پاگل ہو نے کے بعد مر گیا۔ ۱۸۳۲ء ؁ میں باپ کی موت کے بعد سارا بوجھ ہرمن کے کاندھوں پر آن گرا۔ ہرمن کی ماں کا خاندان امِیر تھا۔ اسلئے ہرمن نے سکول چھوڑا اور کاروبار سنبھال لیا۔ ہرمن نے اپنی تعلیم کاروبار کے ساتھ ساتھ جاری رکھتے ہوئے حاصل کی۔ اس نے بنک کی نوکری کرنے کے ساتھ‘ فر کمپنی میں بھی کام کر نے کے علاوہ چھوٹے چھوٹے گاؤں کے سکولوں میں پڑھانا شروع کِیا ۔ ۱۸۳۹ ء ؁ میں اس نے سمندری جہاز میں نوکری اختیار کر لی۔ اورLiverpool انگلینڈ تک کا سفر کِیا۔ انگلینڈ سے واپسی پر اس نے اپنے چچا کے ساتھ کام کرنا شروع کر دیا۔ مگر اچھی طرح سے نبھ نہیں پایا۔ اور پھر ۱۸۴۰ ء ؁ میں سمندری جہاز کی نوکری کر لی۔ اور بحرا لکاہل کے جنوب کی جانب سفر کِیا۔ اور چار سال متواتر مختلف بحری جہازوں میں ساری دُنیا کا سفر کرتا رہا۔
ایک موقعے پر ہرمن نے جہاز اپنے دوست ٹوبی گرین کے حوالے کِیا اور خود جنوبی بحرا لکاہل کے ایک آدم خور جزیرے کے علاقے میں رہنے لگا۔ وہاں پر اسکی اس قبِیلے کی ایک لڑکی کے ساتھ محبت ہو گئی۔ مگر اس قبیلے کی مردم خوری کی عادات کے بارے معلوم
ہوتے ہی وہ وہاں سے بھاگ گیا۔ ۱۸۴۴ء ؁ میں اس کی عمر ۲۵ سال کی تھی۔ جب وہ واپس نیویارک آ یا۔ ہرمن نے جب اپنی فیملی کو اپنے سفر کی کہانیاں سُنائیں ‘تو فیملی نے اسے لِکھنے پر مجبور کیا۔ تب ہرمن نے ۱۸۴۵ء ؁ میں 'Typee' لِکھی۔ چھاپے خانے والوں نے چھاپنے سے اِنکار کر دِیا۔ مگر ہرمن کا چچیرا بھائی جو ایک وکِیل تھا اور سیاسی بھی ۔ اس نے لندن میں اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرکے ۱۸۴۶ ؁ء میں بحر اوقیانوس کے دونوں کناروں یعنی نیویارک اور لندن سے یہ ناول چھپوایا۔ یہ ناول کافی تنقید کا سبب بھی بنا ۔ اور ساتھ ساتھ مشہور بھی ہوا۔ جس کی وجہ سے ہرمن کو مالی فائدہ بھی ہُوا۔ اس ناول میں چونکہ اُس جزیرے کی بے حیائی کے بارے کافی بتایا گیا تھا۔ اس لئے ناول پر بڑی لَے دے اور بحث ہوئی۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ہی میلول نیویارک کے ادبی حلقوں میں جانا جانے لگا ۔ اس نے ایک اور ناول جنوبی سمندری مہمات کے بارے لِکھنا شروع کِیا۔ اور 'Omoo' ۱۸۴۷ ؁ء میں چھاپے چڑھ گیا۔ اسی ہی سال میلول کی منگنی الزبتھ شاء کے ساتھ ہوگئی۔ جو میسی چیوسٹس ریاست کے چِیف جسٹس کی بیٹی تھی۔ مالی حالت کی بہتری کیلئے اس نے محکمہ خزانہ میں نوکری اختیار کر لی۔ اور ساتھ میں کتابوں پر تبصرے لِکھنے بھی شروع کر دئیے۔ شادی ۴۔ اگست ۱۸۴۷ ؁ء کو ہوئی۔ اورہرمن نے اپنے چھوٹے بھائی ایلن کے ساتھ رہنا شروع کر دِیا۔
’میلویل‘ نے زیادہ تر دھیان کلاسیکل ادب کی جانب دینا شروع کیا اور اپنا نیا ناول'Mardi' ۱۸۴۹ ؁ء میں چھپوایا۔ یہ ناول ایک معمولی مہماتی تھا۔ مگر رومانس پر اخلاقی تعلیم دینے کی بدولت چھاپے خانے اورقارئین میں مشہور نہ ہوپایا۔ اس ناکامی کے ڈنک سے متاثر ہو کر اس نے دو عدد ناول' Redburn' اور' White Jacket' لِکھے۔ اور اپنی حاملہ بیوی کے اخراجات پورے کرنے کا سامان مہیا کِیا۔ ۱۸۴۸ ؁ء میں انگلینڈ میں اپنے ناولوں کی چھپوائی کے لئے چھاپے خانے والوں سے بات چلائی۔
۱۸۵۰ ؁ء میں’ میلول‘ واپس وطن آگیا۔'Pittsfield' میں اپنا فارم ہاؤس خریدا۔ اور اپنے ماسٹر پیس ناول 'Moby Dick' ' پر کام شروع کِیا ۔ وہاں اسکی ملاقات ایک نہایت قابل مشہور ساہت کار'Nathanial Hawthorne'کے ساتھ ہوئی۔ ’نتھینیل‘ نے’ ہرمن‘ کی حوصلا افزائی کی۔ اس ہمدردی کی بدولت ہرمن کو اپنے نئے ناول کی نوک پلک سوارنے میں مدد مِلی۔ یہ ناول ۱۸۵۱ ؁ء میں چھپا۔بہت ہلکے ہلکے تبصرے لگے۔ اور ناول کی بِکری بھی نہیں ہوئی۔ اس نہ حوصلا افزائی سے نہ ڈرتے ہوئے اس نے ایک اور نصیحت آموز ناول 'Pierre; or, the Ambiguities' لِکھا۔ جو ۱۸۵۲ ؁ء میں چھپا۔ اسکے رِشتے داروں نے اسے تھکا ماندہ اور مالی پریشانیوں میں پھنسا دیکھ کر ایک کونسل کی نوکری دلوانے میں اسکی مدد کی۔ مگر ’میلول‘ کے پاس اپنی پریشانیوں کے حل کے کیلئے اپنے منصوبے تھے۔۱۸۵۳ ؁ء کے اوائل میں اس نے میگزینوں میں چھوٹی کہانیاں لِکھنیں شروع کر دیں۔ اور ان کی بدولت اسے مالی اور کھوئی ہوئی عِزت واپس مِلی۔ ۱۸۵۴ ؁ء میں اس نے ایک سیریل 'Israel Potter' شروع کِیا۔جو ایک امریکی اِنقلابی کے بارے تھا۔ ۱۸۵۶ ؁ء میں ’میلول‘ نے ایک طنزیہ ناول ' The Confidence Man' لِکھا۔ اسی دوران ’میلول‘ کی پریشانی، جسمانی بیماری کی شکل میں نمودار ہوئی۔ کیونکہ تمام گھر بچوں اور رشتے داروں سے بھرا پڑا تھا۔ اور اس نے اس شور شرابے اور لِکھنے پڑھنے کا بوجھ کافی محسوس کِیا۔ پھر اس نے اپنی بیوی کی فیملی سے قرضہ لے کر اور بیوی کو ساتھ لیکر (۸ )مہینوں کے سفر پر ۱۸۵۶ ؁ء میں یورپ کے دورے پر روانہ
ہُوا۔ اور سکاٹ لینڈ۔ انگلینڈ۔اِٹلی۔ یونان۔ تُرکی۔ فلسطین۔ جرمنی اور سوٹزر لینڈ کا دورہ کیا۔سفر سے واپسی پر اس نے کہانیاں اور ناول لِکھنے کا کام چھوڑ دیا۔ اور نظمیں لِکھنی شروع کر دیں۔
۱۸۵۷ ؁ء میں مالی بوجھ کم نہ ہونے کی وجہ سے نوکری کی تلاش کی کوشش میں بھی ناکام رہا۔ اور تمام امریکہ میں سفر کر کے اپنے یورپ کے سفر بارے جنوبی سمندری سفر کے بارے لیکچر دیتا رہا۔ ۱۸۶۰ ؁ء میں دوبارہ اپنے بھائی کے جہاز پر ساری دُنیا کا سمندری سفر شروع کر دیا۔ پھر سین فرانسسکو واپس پہنچا۔ اور اپنی شاعری چھپوانے میں ناکام رہا۔ پھر سول وار شروع ہو گئی۔ اس نے اپنا فارم فروخت کر دیا۔ اور متواتر تنگی کے گڑھے میں سے باہر نکلنے نہ پایا۔
آخر ۱۸۶۶ ؁ء میں دس سال کی خاموشی توڑنے کے بعد اسکی شاعری کی کتاب ' Battle-Peaces and Aspects of the War' چھپی۔ مگر کوئی اچھے تبصرے نہ لگ پائے۔ ۱۸۶۷ ؁ء میں اسکی بیوی نے اپنے گھر والوں کے زور دینے پر
ہرمن سے طلاق لے لی۔ کیونکہ وہ سمجھتے تھے۔ کہ’ ہرمن‘ کی دماغی حالت ٹھیک نہیں۔ اگلے سال ہرمن کے ( ۱۸) سالہ لڑکے نے خود کشی کر لی۔ ایک سال پہلے اسے نیویاک کسٹم ہاؤس میں نوکری بھی مِل گئی تھی۔ جو اس نے جاری رکھی۔ پھر ۱۸۷۶ ؁ء میں اسکی نظم ' Clarel A Poem and Pilgrimage in the Holy Land' چھاپے چڑھی۔ اس نظم میں سائینسی دریافتوں کی روشنی میں جو شک اور یقین پر شامل ہیں۔ کا ذکر تھا۔ اسی دوران اس نے اور کئی اپنی ذاتی طور پر نظمیں چھپوائیں۔ گو اسکے ناول دوبارہ چھپتے اور بِکتے رہے۔ مگر اسکی شہرت کم ہی ہوتی رہی۔
۱۸۸۵ ؁ء میں اس نے کسٹم ہاؤس کی نوکری چھوڑ دی۔ اور شاعری کی جانب دھیان دِیا۔ صرف اِک کتاب 'Billy Budd' چھوٹی کہانیوں کی ۱۸۹۱ ؁ء میں چھپی۔ اسکی ریٹائرمنٹ نے اسکی جذباتی کوششوں میں تبدیلی تو کی۔ مگر مایوسیوں ، لِکھنے پڑھنے کی مشقت، خاندانی المناکی، بُری صحت، اور جذباتی مشکلوں نے اسکی زندگی پر گہرا اثر چھوڑا۔ آخر ۲۸ ستمبر ۱۸۹۱ ؁ء کے دِن دِل کادورہ پڑنے کی وجہ سے اسکی موت ہو گئی۔ اور لوگوں نے اسکی موت پر بھی کوئی خاص سوگ نہ منایا۔
’میلول‘ کی ادبی شہرت کو زنگ ہی لگا رہا۔ اور جنگ عظیم سے پریشان لوگوں نے ۱۹۲۰ء ؁ میں اسکے فن کی گہرائی کوپرکھا۔جس میں اس نے روحانی کوششوں اور نئے زمانے کی کہانیاں لِکھی تھیں۔ دریافت کیا۔۔


مَیں ایک بُوڑھا آدمی ہُوں۔ پِچھلے ۳۰ سالوں سے میرے شروع کئے ہوئے پیشے کی بدولت ‘ مَیں دِل کو خوش کرنے والے مختلف لوگوں کی لائن میں کھڑا ہوں۔جس کے بارے صرف مَیں یہی سمجھتا ہُوں‘ کہ ابھی تک کچھ بھی نہیں لِکھا گیا۔ یعنی ''Scrivener'' ( نقل نویس، یا کاتب) کے بارے۔ کُچھ لوگوں کو مَیں پیشہ ورانہ یا پرائیویٹ طور پر جانتا ہُوں۔ اور اگر ان کی کہانی لِکھوں تو کئی بھلی طبیعت
والے لوگ ہنسیں گے۔ اور کئی حساس دِل روئیں گے بھی۔ مگر مَیں دوسرے لوگوں کی زندگی کو نظر انداز کر کے صرف ’بارٹلی بائی‘ (Bartleyby) کے بارے جو ایک کاتب(نقل نویس) تھا۔ اور عجیب و غریب طبیعت کا انسان تھا۔ جسے مَیں نے دیکھا۔ اسی کے بارے ہی کُچھ لِکھ رہا ہُوں۔ جسکی پُوری زندگی پر لِکھنا مُشکِل ہے‘ اسلئے کہ مجھے پُورا تسلی بخش میٹیریل اس شخص کے بارے نہیں مِل سکا۔ یہ بھی دنیائے ادب میں نہ پُوری ہونے والی کمی ہے۔ ’بارٹلی بائی‘ کی بابت کوئی معتبر ذریعہ مجھے دستیاب نہیں ہُوا۔ جو اسکے ماضی کے بارے کُچھ روشنی ڈالے۔ سوائے اس کے جو میری حیران آنکھوں نے بذاتِ خود دیکھا۔’بارٹلی بائی‘ کے متعلق یہی کُچھ مَیں جانتا ہُوں‘ سوائے ایک فرضی خاکے کے جو اس مضمون میں آپ کو نظر آئے گا۔
اس سے قبل کہ مَیں’ کاتب بارٹلی بائی‘ سے آپ کو متعارف کرواؤں‘ مَیں اپنی ذات کے بارے ‘اپنے ملازموں کی بابت ‘ اپنے
کاروبار سے متعلق ‘ اپنے دفتر اور دفتر کے ماحول کے بارے روشنی ڈالوں۔ کیونکہ کُچھ باتیں اس کیریکٹر کو پیش کرنے کیلئے اشدضروری ہیں: مَیں ایک ایسا اِنسان ہوں‘ جو بچپن سے لیکر اب تک زندگی کو اچھی طرح گذارنے کا شوقین ہے۔ چاہے مَیں ایک ایسے پیشے سے جُڑا ہوا
ہُوں۔جو غالباً مشقت والا اور کبھی کبھی جذباتی کرنے والا بھی ہے۔ جس سے مَیں کبھی گذرا نہیں۔ جو میرے آرام پر حملہ کر سکے۔ مَیں اُن سُست وکیلوں جیسا ہُوں۔ جِنہیں اتنا لالچ نہیں ہوتا۔ جو جیوری کو بھی تقریر نہیں کرتے۔ یا پبلک کی تالیوں کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔ مَیں ٹھنڈے ‘ پُرسکون‘ آرام دہ ماحول میں امیر لوگوں کے بانڈز‘ مکانوں کی خرید و فروخت‘ اور ان کے کاغذ ات کا کام بڑے سکون سے کرتاہُو ں۔ تمام لوگ جو مجھے جانتے ہیں۔ وہ مجھے بہت زیادہ محتاط سمجھتے ہیں۔ مرحوم جان جیکب آسٹر (۱۸۴۸۔۱۷۶۳) امریکی پوستین تاجر اور سرمایہ دارجو بہت امیر تھا۔ اور میری بڑائی کرنے میں کبھی نہیں جھجھکتا تھا۔ یہ بات کرتے ہوئے مَیں اسے فضول نہیں سمجھتا‘ کیونکہ یہ ایک حقیقت تھی۔ کہ مَیں اس کے ہوتے ہوئے کبھی بھی بیکار نہیں رہا۔ اور کمائی بھی کرتا رہا۔ اس نام کو مَیں بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ اور بار بار اس کا نام لینے میں فخر محسوس کرتا ہُوں۔ جسکی آواز سونے کے گول سِکّوں کی طرح ہے۔ جو ایک دُوسرے کی رگڑسے کھنکتے رہتے ہیں۔ مَیں یہ بھی کہنے میں حق بجانب ہُوں۔ کہ مَیں جان جیکب آسٹر کے مفید مشوروں میں کبھی دخل اندازی نہیں کرتاتھا۔
اس واقعے کے شروع ہونے سے پہلے‘ میرا کاروبار بہت بڑھ گیا۔ پُرانا اور اچھا دفتر جو نیویارک میں ہے‘ ایک علیحدہ قسم کا ہے۔ پُرانے تاریخی ریکارڈ والا دفتر مجھے تحفے میں مِلا ہوا تھا۔ یہ دفتر کوئی زیادہ خوبصورت تو نہیں تھا۔ مگر منافع بخش ضرور تھا۔ مَیں اتنا غصے میں آنے والا ا نسان نہیں‘ اور نہ ہی کسی خطرناک ‘ غلط یا غُصے والے بندے کو پسند کرتاہُوں۔ پر یہاں مَیں کُچھ اپنے آپے سے باہر ہورہا ہُوں اور اعلان کرتا ہُوں۔ مَیں اچانک اور زبردستی ریکارڈ والے دفتر کو نئے قانون کے تحت بند کررہا ہُوں۔جو ایک کچا سا قانون ہے۔ جِس پر میری ساری عمر کی کرائے داری اور کمائی کا دار و مدار ہے۔ جہاں مَیں نے ابھی تھوڑے ہی سال گُذارے ہیں۔مگریہ کم محسوس ہو رہا ہے کہ یہ کام غلطی سے ہواہے۔
میرا چیمبر سیڑھیاں چڑھ کر دُوسری منزل پر واقع ہے۔ میرا نمبر....وال سٹریٹ میں۔جسکی ایک کونے کی سفید دیوار پر پوری روشنی پڑتی ہے۔ جو اس بلڈنگ میں سے گذرتے ہوئے چھت سے لیکر فرش تک جاتی ہے۔
یہ نظارہ قُدرتی ہے‘ مگرلگتاہے جیسے خود بنایا ہوا ہو۔ اس طرز کا۔ ..جِسے ایک آرٹسٹ ’زندگی‘ کا نام دیتاہے۔ چیمبر کی دوسری سائیڈ پر تقریباً اس کا اُلٹ نظار ہ ہے۔ اس جانب سے میری کھڑکیاں ‘ اُونچی اِینٹوں کی دیوار جو وقت کے ساتھ ساتھ کالی ہو چُکی ہے۔ اور پکی شیڈ ماررہی ہے۔ یہ ایسی دیوار ہے ‘ جہاں شیڈ والے شیشے نہیں۔ جو اس کی آنکھ مچولی والی خوبصورتی ہے۔مگر نزدیک نظر نہ آنے والے تماشائیوں کے فائدے کے لئے میری کھڑکی کے شیشیوں سے دس فُٹ اُوپر اُٹھائی گئی ہے۔ اردگر دکی اُونچی بلڈنگوں کے سبب میرا چیمبر دوسری منزل کی وجہ سے اس دیوار پر میرے درمیان ایک پانی کا ٹینک ہے۔ جو بارش کے پانی سے ہی بھرتا ہے۔
’بارٹلی بائی‘ کے آنے سے پہلے میرے پاس دو کاپی کرنے والے ملازم تھے۔ اور ایک بڑا ہوشیار لڑکا جو چپڑاسی کا کام کرتا تھا۔ پہلا: (TURKY)’ ٹرکی‘ دُوسرا: (NIPPERS)’نِپرز‘ اور تیسرا: (GINGER NUT) ’جِنجر نٹ‘۔ یہ لگتے تو نام ہیں‘ مگر
شاید ڈکشنری میں ان کا کوئی ذکر نہ ہو۔ سچ یہ ہے‘ کہ یہ ان کے ’نام‘ ہیں۔جو ان تِینوں لڑکوں نے ایک دوسرے کی چھیڑ کیلئے بنائے ہیں۔ اور لازمی ان کی شناخت کا سبب بھی۔ ’ٹرکی‘ (TURKY) ایک چھوٹے قد کا انگریز نسل کا آدمی تقریباً میری ہی عُمرکا۔ یعنی ۶۰ سال کی
عُمرکے لگ بھگ۔ صُبح سویرے دیکھیں تو کہوگے‘ کہ اس کا رنگ رنگین گُلفام ہوتا تھا‘ پر بارہ بجے کے بعد اسکا ڈِنر ٹائم‘ اسکاچہرا کرسمس کے کوئلوں سے بھری انگیٹھی جیساتھا۔ جو متواتر دہک رہی ہو۔ اور چھ بجے تک اسکا رنگ مدھم ہوتا جاتا اور اس کے بعد مجھے دیکھنے کا موقع ہی نہ مِلتا۔ اور ایسے لگتا جیسے سورج کی طرح ہی طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ باقاعدگی سے اور پوری آب و تاب کے ساتھ۔ میری زندگی میں کئی ایسے غیر متوقع واقعات ہوئے ہیں۔ بالکل جیسے’ ٹرکی‘ کا چہرہ سُرخ اور تپتا ہوا لگتا تھا۔ اوہ جب کام شروع کرتا تو مجھے لگتا‘ جیسے وہ کام کرتا ہوا میں بڑی ہی مُشکل میں ہُوں۔ باقی ۲۴ گھنٹے تک۔ صرف یہی نہیں‘ بلکہ وہ با لکل ہی سُست اور کم کرنے سے بھگوڑا سا۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ مُشکل یہ تھی کہ‘ وُہ اپنے آپ کو بڑا پھُرتیلا سمجھتا تھا۔ اس کے بارے میرا خیال عجیب و غریب‘ غُصا دلانے والا‘ پریشان کرنے والا‘ اور لاپرواہ بندے کے ساتھ نبھاہ کرنے جیسا۔ وہ اپنا پَین‘ پَین سٹینڈمیں رکھنے کیلئے بھی بڑا غیر محتاط تھا۔ اسکی سیاہی کے نشانات میرے سارے کاغذا ت پر بارہ بجے کے بعد گِرتے ہوئے نظر آتے تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *