Autism سے متاثرہ  ذہنوں کو کیسے ضائع ہونے سے بچایا جا سکتا ہے؟

Pensive boy

۱۹۷۰ میں امریکا میں ۱۴۰۰۰ میں سے ایک بچہ "آٹزم" کی بیماری کا شکار مانا جاتا تھا ۔ آجکل یہ اوسط ۶۸ میں سے ایک بچہ یا ۴۲ میں سے ایک لڑکا ہے۔ دوسرے امیر ممالک میں سے بھی ایسے ہی نمبرز بتائے جاتے ہیں۔ ساوتھ کوریا میں ۱/۳۸ بچے بیمار ذہن یعنی آٹزم کی بیماری کا شکار ہیں ۔ یہ بیماری دماغ سے تعلق رکھتی ہے جو انسان کے سوشل معاملات پر اثر انداز ہوتی ہے ۔ اس کے مختلف  علامات میں سے روشنی، آواز  اور دوسرے  حسی محرکات سے ان کے رویے بدلنا شامل ہے۔ یہ تھوڑی اور بعض اوقات زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے اثرات کا لیول بھی مختلف ہوتا ہے مثلا" اگر کوئی بیمار کمپیوٹر سائنسٹ آٹزم بیماری کا مریض ہو تو اسکا پتا چلانا بہت مشکل ہے - آٹزم کے شکار بچوں کی اکثریت بولنے سے قاصر ہوتی ہے -فرانس میں ا س بیماری سے لاحق ۹۰ فیصد بچے پرائمری  سکول مکمل کر کے ہائی سکول کی قابلیت حاصل نہیں کر پاتے ۔ امریکہ میں ایسے بچوں پر زیادہ محنت کی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود ۵۰ فیصد سے زیادہ بچے ہائی سکول سے زیادہ تعلیم حاصل نہیں کر پاتے۔ برطانیہ میں اس طرح کے صرف ۱۲ فیصد لوگ پورا دن کام کر سکتے ہیں۔اس سب کی بڑی وجہ یہ ہے کہ والدین اور بہن بھائیوں کو یہ معلوم ہی نہی ہوتا کہ ایسے بچوں کی کس طرح مدد کی جائے۔ یہ بیماری بہت بڑی معاشی نقصانات کا باعث بنتی ہے ۔ اس سے اکانومک گروتھ کم ہوتی اور معذوری بڑھتی ہے۔

مسئلے کا حل

اس مسئلے کا حل شروع سے ہی تلاش کرنا چاہیے۔ آٹزم کا کوئی خاص ٹیسٹ نہیں ہوتا۔ اس بیماری کا اندازہ انسان کے رویے سے ہی لگایا جا سکتا ہے۔ اس بیماری سے لاحق بچے اپنے آپ کو غیر جاندار چیزوں سے جوڑے رکھتے ہیں اور اپنے کھلونوں سے بار بار کھیلتے ہیں۔ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ اس بیماری کی فوری تشخیص اور علاج بچوں کے دماغ کو بہتر کرنے میں زیادہ مئوثر ثابت ہوتا ہے ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس بیماری کی تشخیص کے لیے اوسط عمر ساڑھے تین سال ہے۔ ایسے بچوں کو اس طرح کے سکول میں ڈالنا چاہیے جو ان کے لیے مناسب ہو۔ کچھ بچے علیحدگی میں زیادہ سیکھتے ہیں اور کچھ دوسرے بچوں کی موجودگی میں آٓسانی سے سیکھ سکتے ہیں۔ ایسے بچوں کو تعلیم دینے کے لیے زیادہ فنڈ اور سپیشل اور عام ٹیچرز کی ٹریننگ ٖضروری ہے۔ بڑے ہونے کے بعد اس طرح کے لوگ سافٹ وئیر سے متعلق جاب زیادہ بہتر طور پر کر سکتے ہیں کیونکہ وہ کئی ایسے نقائص دیکھ لیتے ہیں جو عام لوگ نہیں دیکھ سکتے۔  وہ اس طرح کی جاب زیادہ بہتر طریقے سے کر سکتے ہیں جس میں کسی کام کو بار بار دہرانا ہو جیسا کہ ڈیٹابیس اپڈیٹ کرنا، الماریوں میں چیزیں ترتیب دینا وغیرہ شامل ہے۔ اس بیماری سے متاثرہ لوگوں کو جاب کے لیے انٹر ویو لینے کی بجائے ٹیسٹ لینا زیادہ بہتر ہے۔ اس کے بعد ان کو کام کیلئے بہت ماحول فراہم کرنا بھی اہم ہے۔ ان کو ہدایات بھی زبانی کی بجائے تحریری طور پر دی جائیں تو بہتر نتائج سامنے آسکتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *