’’آف شوہر‘‘ عورتوں کے ڈرامے

gul e naukhaiz akhtar
پہلے میں سمجھتا تھا کہ یہ مسئلہ صرف پاکستانی ڈرامے کے ساتھ درپیش ہے، لیکن پچھلے دنوں انڈیا کے ایک ڈرامہ پروڈیوسر سے ملاقات ہوئی تو پتا چلا کہ وہاں بھی یہی کچھ چل رہا ہے۔ یہ جو آپ ساس بہو اور خواتین کی سازشوں والے عذاب ڈرامے دیکھتے ہیں ان کو لکھنے والیوں کی اکثریت’آف شوہر‘ عورتیں ہوتی ہیں۔ کسی کو ساری زندگی شوہر نہیں ملتا، کسی کا شوہر چھوڑ جاتاہے، کسی کا شوہردوسری شادی کرلیتا ہے اور کسی کا شوہر اللہ کو پیارا ہوجاتاہے۔۔۔اس کے بعد یہ ساری زندگی ڈرامے میں ایسے ہی کردارلکھ لکھ کر اپنے بدلے لیتی ہیں۔ہر شریف بندے کے گھر یہی حال ہے کہ رات کو ٹی وی کا ریموٹ بیگم کے قبضے میں ہوتاہے اور سامنے کوئی ایسا ڈرامہ چل رہا ہوتاہے جس میں ایک طرف ایک انتہائی معصوم اور فرشتہ صفت لڑکی ہوتی ہے اور دوسری طرف اس کی کوئی نندوغیرہ انتہائی چالاک‘ مکار اور شیطانی دماغ رکھنے والی کوئی عورت ہوتی ہے۔پچھلے دنوں مجھے چلتے پھرتے ایسے ہی ایک ڈرامے کے کچھ سین دیکھنے کا اتفاق ہو اجس میں دکھایا جارہا تھا کہ ’خاندان‘ میں ایک برقعے والی عورت آگئی ہے جس کے بارے میں کچھ پتا نہیں چل رہا کہ یہ کون ہے۔بالآخر فیصلہ ہوتاہے کہ اس کے برقعے کا نقاب الٹا جائے، یہ نقاب الٹنا چھ قسطوں تک محیط ہوگیا ۔ آج کل کے ڈراموں میں اداکاروں کی بجائے کیمرہ ایکٹنگ کرتاہے۔ ایک کردار ایک جملہ بولتا ہے اور سیٹ پر موجود بیس کرداروں کے ایکسپریشنز باری باری ’’شک شک‘‘ کر کے دکھائے جاتے ہیں۔یہ جو ’’شک شک‘‘ ہے یہ اب ٹیکنیکل زبان کا حصہ بن چکا ہے۔ ڈرامے کی ایڈیٹنگ کرنے والے ایڈیٹر ز بھی ڈائریکٹر سے یہی گفتگو کرتے ہیں کہ ’’پہلے سین میں شک شک ڈال دیا ہے، آخری سین میں تین شک شک اور چوتھے سین میں دو شک شک ڈالے ہیں‘‘۔
خواتین چونکہ اسی قسم کے ڈرامے پسند کرتی ہیں لہذا ایک ’خواتینی سیریل‘ کی کامیابی کے لیے چند فارمولے اکسیر ہیں۔ مثلاً معصوم اور شیطان لڑکی دونوں خوبصورت ہونی چاہئیں‘لڑکیوں کو دو تین تھپڑ بھی پڑنے چاہئیں،خوبصورت چہروں کو روتے ہوئے بھی دکھانا ہے‘ماحول جدید ہونا چاہیے اورہر چیز سے دولت مندی ٹپک رہی ہو۔یہی وہ چیزیں ہیں جنہوں نے معاشرے میں ہر شخص کو احساس کمتری میں مبتلا کر دیا ہے۔ اب گلی محلے کی لڑکی بھی ’پیزے‘ کی باتیں کرنا پسند کرتی ہے۔ٹی وی ڈرامے نے طے کردیا ہے کہ ٹینڈے، دال ماش، کدو، بھنڈیاں، کریلے وغیرہ اچھے گھروں میں نہیں کھائے جاتے۔ اچھا گھر وہی ہے جہاں انگلش نما اردو بولی جائے اوراٹالین ڈشز کھائی جائیں۔کسی نے اچھا کہا کہ آج کل وہی ماڈرن ہے جس کی انگریزی ٹھیک اور اُردو خراب ہے۔ڈرامے کے موضوعات محدود ہونے سے اس کا حقیقی پن بھی ختم ہوگیا ہے۔ ہم میں سے اکثریت کا خمیر غربت سے اٹھا ہے، ہم آج جو کچھ ہیں تیس سال پہلے ایسے نہیں تھے، لیکن ہماری خواہش ہے کہ ماضی کی سلیٹ سے ہمارے تمام نقوش حذف کردیے جائیں اور ہمیں سو فیصد ماڈرن سمجھا جائے۔کسی نے یہ بھی کہا تھا کہ تعلیم انسان کے اندر اتر جائے تو وہ سادہ بن جاتا ہے اور اُوپر سے گذر جائے تو ماڈرن ہوجاتاہے۔ ایسا لگتاہے ہماری اکثریت کے اوپر سے تعلیم گذرگئی ہے۔ کوئی ماننے کو تیار ہی نہیں کہ وہ بھی کبھی غریب تھا۔ اس میں بہت زیادہ کردار ٹی وی ڈراموں کا ہے، ہم اپنے دور میں خواجہ اینڈ سن، شب دیگ، وارث، دریا، آغوش، دوبئی چلو، جانگلوس، آنگن ٹیڑھا‘ خدا کی بستی‘ وغیرہ جیسے ڈرامے دیکھتے تھے تو یہ ہمیں اپنے اپنے لگتے تھے، ان کے کردار بھی ہمارے جیسے ہی ہوتے تھے، گلی محلوں کی باتیں ہوتی تھیں، ایک آدھ ڈرامہ امیر لوگوں کے بارے میں بھی ہوتا تھا لیکن بنیادی طور پر فوکس عوامی ڈرامے ہی ہوتے تھے۔ انہیں لکھنے والے بھی چونکہ عوامی تھے اس لیے ہمیں مزا آتا تھا کہ یہ ہماری ہی کہانیاں ہیں جو سکرین پر نظر آرہی ہیں۔ آج کل تو ڈرامہ دیکھتے ہوئے خوف محسوس ہوتاہے کہ کیا یہ سب بھی ہمارے لوگ ہیں؟ چار چار کنال کی کوٹھیاں، نئے ماڈل کی گاڑیاں اورڈیزائنرز ڈریس پہنے لڑکیاں۔۔۔یہ تعداد معاشرے میں کتنی ہے؟ یہ تو وہ لوگ ہیں جو شائد پاکستانی ڈرامہ دیکھتے ہی نہیں لیکن پھر بھی یہ ڈرامے ہٹ ہیں، ان کو ہٹ کرانے میں زیادہ ہاتھ متوسط طبقے کی خواتین کا ہے جنہیں ان ڈراموں کے ڈائیلاگ سن کر ایسا لگتاہے کہ جتنی مشکل میں ڈرامے والی لڑکی ہے ویسی ہی مشکل میں وہ خود بھی ہیں۔ان ڈراموں نے ہمیں باور کرا دیا ہے کہ گھر میں اور کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، صرف آپس کے خواتینی جھگڑے ہی ہوتے ہیں حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ ہر گھر میں آئے دن پنکھے بھی خراب ہوتے ہیں، گیس بھی کٹ جاتی ہے، بجلی کا بل بھی زیادہ آجاتاہے، واشنگ مشین بھی خراب ہوجاتی ہے، ائیرکولر کی خسیں بھی جواب دے جاتی ہیں، صوفے کی پوشش بھی بدلوانی پڑ جاتی ہے، کارپٹ بھی گندا ہوجاتاہے، دروازے کے قبضے بھی چیں چیں کرنے لگتے ہیں، رنگ روغن کی ضرورت بھی پیش آجاتی ہے۔۔۔لیکن نہیں! چونکہ یہ معاملات ڈرامے کا معیار کم کرسکتے ہیں اس لیے کبھی ڈرامے کا حصہ نہیں بنتے۔ حقیقت سے پرے کی دنیا جہاں مالی طور پر آسودہ حال لوگ ایک دوسرے کی جڑیں کاٹنے میں لگے رہتے ہیں وہی ہمارے خواتینی ڈراموں کا موضوع بنتے ہیں۔اس معاشرے میں ناجائز بچوں کی پیدائش کے علاوہ بھی کئی موضوع ہیں، نوجوان لڑکا لڑکی کی محبت سے آگے بھی جہاں اور ہیں، وہ لوگ بھی ہیں جو تین تین نوکریاں کر کے گھر چلا رہے ہیں، وہ عورتیں بھی ہیں جو بچوں کو گھرں میں جاکر سیپارہ پڑھاتی ہیں اور یہی ان کی گذ ر اوقات کا ذریعہ ہے، وہ مشقتی بھی ہے جو دن بھر میوزک بجاتی ٹرالی پر گلی گلی آئس کریم بیچتا ہے۔ یہ کبھی کہانی کا مرکزی کردار نہیں بنتے، انہیں صرف نیوز چینل کے کریمینل شو ز میں دکھایا جاتاہے کہ کس طرح ایک کی بیوی گھر سے بھاگ گئی اور کس طرح اس نے ڈھونڈ کر اسے قتل کر دیا۔ایلیٹ کلاس کی پرابلمز، ایلیٹ کلاس کے مسائل اور ایلیٹ کلاس کی گفتگو کچے ذہنوں پر کیا اثر ڈال رہی ہے آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔ اب گھروں میں بیویوں کو بھی یہ ڈائیلاگ یاد ہوگئے ہیں، میرے ڈرائیور کی ان پڑھ بیوی پچھلے دنوں اپنے خاوند سے کہہ رہی تھی’ خوشیاں دل سے دی جاتی ہیں، تم نے جو کچھ دیا وہ دماغ سے دیا لہذا تمہارا دل کسی اور کے لیے ہے‘۔وہ ہکا بکا رہ گیا اور کافی دیر تک سرکھجاتا رہا کہ اس کی بیوی کو کیا ہوگیا ہے۔
خواتین ڈرامہ نگاروں کی اکثریت اپنے اوپر بیتنے والے واقعات کو موضوع بنا کر کسی کردار کی صورت خود کو معصوم ثابت کرتی ہے اور یہ نہیں سوچتی کہ کہیں ایسا ہی کوئی کردار شیطان کی صورت بھی موجود ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ڈرامے میں جیٹھانی کو شیطانی کردار میں دکھایا جاتاہے تو عام عورت خوش ہوجاتی ہے کہ واقعی اس کی بھی جیٹھانی ایسی ہے ہے۔ بہو چالاک دکھائی جائے تو ساس کے سینے میں ٹھنڈ پڑجاتی ہے۔مرد عیاش اور ظالم دکھایا جائے تو لگ بھگ 90 فیصد بیویوں کے سینے میں ٹھنڈ پڑجاتی ہے۔ لیکن چونکہ زیادہ تر مرد ڈراموں کی بجائے ٹاک شوز میں الجھے ہوتے ہیں اس لیے انہیں پتا ہی نہیں چلتا کہ ڈرامے کی شکل میں ان کے گھر میں آہستہ آہستہ کیسا زہر اتارا جارہا ہے۔۔۔کاش ’آف شوہر‘ عورتوں کے لکھے ہوئے یہ ڈرامے مرد بھی دیکھنا شروع کردیں، انشاء اللہ لڑائی کی وجہ سمجھ آجائے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *