’’یہ ’’کرپشن‘‘ کہاں سے آتی ہے‘‘

adnan khalid.

پاکستان میں نہ جانے کیوں کرپشن کا اتنا واویلہ کیا جاتا ہے حالانکہ کرپشن اس وقت عالمی مسئلہ ہے پینامہ لیکس میں بھی صرف پاکستان کے ہی لوگ شامل نہیں پوری دنیا اس میں ملوث ہے لیکن صرف پاکستانی سیاستدانوں اور ان کے بیٹوں کو بالخصوص نشانہ بنا نابذاتِ خود ایک بہت بڑی کرپشن کے زمرے میں آتا ہے۔اگر پاکستان کا موازنہ مہذب اور ترقی یافتہ ممالک سے کرنے کے شوقین افراد سے پوچھا جائے کہ کیا وہ ماحول وہ اقدار اوروہ سہولیات یہاں بھی میسر ہیں جو ترقی یافتہ ممالک کے افراد کو مہیا کی جاتی ہیں تو انھیں جیسے سانپ سونگھ جاتا ہے۔اس معاشرے میں سیاست دانوں کا کرپشن کرنا تقریباًناگزیر ہو چلا ہے رکنِ اسمبلی منتخب ہونے کے لیے سب سے پہلے اقدام کے طور پر اگر کسی بھی پارٹی سے ٹکٹ طلب کیا جائے توٹکٹ کے عوض پارٹی کو دان کیا جانے والا فنڈ اس قدر زیادہ ہوتا ہے کہ جس سے ایک عام آدمی کی ایک پوری نسل پروان چڑھ سکتی ہے ،اسی لیے ٹکٹس بانٹتے ہوئے ’’صاحبِ حیثیت‘‘ کی بنیادی اہلیت کا معیار بطورِ خاص ملحوظِ خاطر رکھا جاتا ہے اس کے بعد مرحلہ آتا ہے سیاسی سرگرمیوں اور الیکشن کمپین کا جس کے لیے آپ کے پاس جدید ترین گاڑیوں کا ایک پورا کانوائے ہونا نہایت ضروری ہے کیوں کہ اگر آپ سائیکل ،موٹر سائیکل یا کسی چھوٹی موٹی گاڑی پر سوار ہو کر الیکشن کمپین کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو جان لیجیے کہ آپ اپنا اور قوم کا وقت اور صلاحیتیں ضائع کر نا چاہ رہے ہیں قوم جانتی ہے کہ جو شخص اپنے مسائل حل نہیں کرسکتا عالیشان محل اور پر تعیش ذریعہءِ نقل و حمل جیسی بنیادی ضرورت سے محروم ہے وہ ملک و قوم کے لیے کیونکر مفید ہو سکتا ہے ،سو گاڑیوں کے ساتھ ساتھ آپ کو ان گاڑیوں کو رواں دواں رکھنے کے لیے ایک پٹرول پمپ کا حامل ہونا بھی نہایت ضروری ہے ،پھر آپ کے پورے حلقے میں کارندوں کا ایک وسیع جال ہونا چاہیے جو اپنے اپنے علاقوں میں آپ کی سرگرمیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی اہلیت رکھنے کے ساتھ ساتھ آپ کا الیکشن آفس بھی قائم کر سکیں ان الیکشن آفسز میں گہما گہمی ہو گی تو آپ کی پوزیشن واضح ہو گی اور پوزیشن کو واضح کرنے اور گہما گہمی کو برقرار رکھنے کے لیے چائے پانی اور کھانے کا دورکم و بیش بارہ گھنٹے تو چلنا ہی چاہیے ٹینٹ سروس سے حاصل کی گئی کرسیوں ساؤنڈ سسٹم ، چائے پانی اور کھانے کے اخراجات سمیت نمایاں جگہ بننے والے الیکشن آفس کا کرایہ تک آپ کو ادا کرنا ہو گا اور ایک حلقہ میں ایسے ہی کم و بیش پچاس ساٹھ الیکشن آفسز قائم ہوں گے تو آپ مقابلے میں سمجھے جانے کے حقدار ہیں ورنہ آپ کی جدوجہد کو شغل سے زیادہ کچھ نہیں سمجھا جائے گا،آپ کے اپنے علا قے کے صحافیوں سے تعلقات بھی ذاتی نوعیت کے ہونے چاہئیں تا کہ قومی صحافتی اداروں کے ذریعے آپ ایک ابھرتے ہوئے سیاسی مسیحا کے طور پر نمایاں ہو سکیں ،چونکہ بیشتر اخبارات اور ٹی وی چینلزمضافاتی نمائندگان کو تنخواہ دینے کی بجائے ان سے سیکیورٹی کے نام پر بھاری رقوم وصول کرتے ہیں اس لیے ان کو بھاری بھرکم نہ سہی ہلکا سا لفافہ تھما کر یا ان کے بچوں کو تحائف بھجوا کر آپ یہ مقصد حاصل کر سکتے ہیں لیکن ہر ادارے اور چینل سے منسلک نمائندے کو یہی باور کروانا اشد ضروری ہے کہ آپ کے اس طرح کے ذاتی تعلقات اور فرینکنس صرف اُسی سے ہے وگرنہ نمائندگان کے آپسی اختلافات کے باعث مطلوبہ نتائج حاصل کرنا دشوار ہو سکتا ہے ۔اس کے علاوہ ایک ہفتے میں حلقے کی بڑی آبادیوں میں آپ کا کم از کم ایک ’’پھٹے تروڑ‘‘جلسہ بھی ہونا چاہیے تا کہ عوام کو آپ کی افرادی قوت کے مظاہرے سے آپ کی طرف راغب ہونے میں آسا نی رہے کیوں کہ ہمارے ہاں چڑھتے سورج کو پوجنے کا رواج عام ہے جلسہ گاہ کی تزئین و آرائش اور دیگر لوازمات کے لیے بھی خطیر رقم درکار ہو گی ،حلقے کی بااثر اور کثیرووٹوں کی حامل برادریوں کو اپنا ہم نوا بنانے کے لیے مختلف برادریوں کے سرکردہ افراد کو آپ کو خفیہ فنڈز کی بدولت بھی رام کرنا پڑ سکتا ہے ان تمام جھمیلوں کے علاوہ بینرز اور تشہیری فلیکسز کے لیے بھی اچھی خاصی رقم درکار ہو گی تاکہ لوگ چہرہ شناسا رہیں، ان دنوں علاقے میں ہونے والے کسی بھی کھیل کے مقابلوں ،دینی محفل یا کسی بھی عوامی تقریب میں شمولیت کو غیر اہم نہ جانیے بلکہ وہاں عوامی توجہ حاصل کرنے کے لیے خطیر امداد کا اعلان کرتے ہوئے بھی ہچکچاہٹ کا شکار مت ہوئیے کہ رائے عامہ کی ہمواری کے لیے یہ بنیادی گُر ہے ورنہ آپ کا حریف ان مواقع سے فائدہ اٹھا سکتا ہے ان تمام سرگرمیوں سے ہٹ کر علاقے کے تھانیدار کے ساتھ بھی آپ کا غیر معمولی تعلق استوار ہونا چاہیے تا کہ انتخابات کے انعقاد تک آپ کے جاننے والوں کو تھانے کے کسی بھی کام میں دقت محسوس نہ ہوبصورتِ دیگر تھانے میں آپ کے سپورٹرز کی بے توقیری ووٹوں کو خراب کرنے کا باعث ہو سکتی ہے اس لیے وقتاًفوقتاً تھانیدار کی دامے درمے آؤ بھگت کرتے رہنا مفید رہے گا۔ اتنا سب کچھ کرنے کے باوجود آپ کا چین کی بانسری بجانا خطرناک نتائج کا حامل ہو سکتا ہے اس لیے بے فکر ہو کر سونے کی بجائے انتخابات کے روز کے لیے کاروں ،ویگنوں ،رکشوں اور ڈالوں کا انتظام پہلے سے کر لیجیے کہ بوقتِ ضرورت ووٹرز کو گھروں سے پولنگ سٹیشنز تک پہنچانے میں آسانی رہے ورنہ پاکستانی انتخابات کا ٹرن آؤٹ گواہ ہے کہ پاکستانی عوام انتخابی عمل میں شمولیت کے لیے کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتے سو ووٹرز کو گھروں سے نکالنے کے لیے انھیں سواری مہیا کرنا بھی ازحد ضروری ہے اس کے علاوہ تمام پولنگ اسٹیشنز پر آپ کے حمائیتیوں اور پولنگ ایجنٹس کی موجودگی بھی دھاندلی سے بچنے اور لوگوں کو ترغیب دینے کے لیے بے حد ضروری ہے ان ایجنٹس اور حمائییتوں کو ضروری ساز و سامان ایک رو زپیشتر ہی مہیا کر دیں اور انتخابات کے دن ان کا جوش و خروش قائم رکھنے کے لیے انھیں چائے بوتلیں کھانے اور ریفریشمنٹ کے دیگر لوازمات بہم پہنچاتے رہیے اگر اس تمام پریکٹس کے نتیجے میں آپ کامیاب ہو جاتے ہیں جس کے لیے آپ کو کروڑوں روپے خرچ کرنے پڑے ہوں تو اس انوسٹمنٹ پر منافع نہ سہی حساب برابر کرنے کی غرض سے ہی اگر آپ تھوڑی ہیرا پھیر ی کر لیتے ہیں تو اس میں ایسی بھی کیا برائی ہے ،دنیا کے بیشتر کاروبار کمیشن کی بنیاد پر ہوتے ہیں تو اگر سیاستدان کسی منصوبے میں کمیشن لے لیتے ہیں تو کونسا جرم کرتے ہیں پھر یہ بھی تو دیکھنا چاہیے کہ بڑے بڑے منصوبوں کا سارے کا سارا مال ہڑپ کرنے والوں کی بہ نسبت اگر کو ئی چھوٹا موٹا ہاتھ مار لیتا ہے تو یہ تو اس کی شرافت سمجھی جانی چاہیے کم از کم میں تو ایسی کسی بھی سرگرمی کو کرپشن کہنے والوں کی عقل پر ماتم ہی کر سکتا ہوں کے زمینی حقائق سے چشم پوشی خود فریبی نہیں تو اور کیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *