کچھ اور مختصر کہانیاں

qasim yaqoob

یہ کہانیاں جو میں نے پچھلے تین چار ماہ میں لکھیں، ان میں کوئی بھی شائع شدہ نہیں۔ان کی تعداد کوئی ساٹھ ستر ہو گی۔ اپنے قریبی دوستوں اور بچوں کو سناتا رہا ہوں۔ دوستوں کی محبت کہ انھوں نے پسند کیا۔ میں نے ان پہ وقت صرف نہیں کیا۔ ان میں فنی جھول بھی ہوں گے کیوں کہ میں نے ان کو ایک کیفیت میں لکھا ہے۔ ان کی نوک پلک ابھی نہیں سنواری۔ مختصر کہانی جسے انگریزی میں فلیش فکشن بھی کہا جاتا ہے،کا بنیادی اور وظیفہ ہی یہ ہے کہ وہ فوراً اپنے انجام کی طرف بڑھے اور کوئی نتیجہ برآمد کرے۔ فلیش فکشن میں بیانیہ نہیں ہوتا جو فکشن کو ایک شکل دیتا ہے۔ اسے سمیٹتا ہے، اسے بناتا ہے، سنوارتا ہے۔فلیش فکشن میں سبھی کچھ اُس صورتِ حال اور کانٹینٹ سے بنانا ہوتاہے جو کہانی کے ساتھ ہی ختم ہوجاتا ہے۔اور کہانی کو جلد ختم سب سے بڑی مجبوری۔۔۔۔۔۔۔ اس لیے یہ ایک نہایت مشکل اور نہایت آسان کے درمیان سفر کرنے کاجتن ہے۔امید ہے آپ کو ان کہانیوں میں بھاگتی دوڑتی زندگی نظر آئے گی۔ تیسری قسط ان کے بعد۔۔۔۔(مصنف)


jhonpri

نیا گھر مبارک ہو

بھائی نے مجھے کہا:
یہ گھر تنگ ہو گیا ہے ہمیں اپنے پلاٹ پہ گھر بنا لینا چاہیے۔ ویسے بھی ان مالک مکانوں سے چھٹکارا مل جائے گا۔
میں نے فوراً ہاں میں ہاں ملائی اور ہم اپنا پلاٹ دیکھنے چلے گئے۔
پلاٹ کی جگہ پہ ایک خانہ بدوش جھونپڑی بنی ہوئی تھی۔ بھائی کو غصہ آ گیا۔بھائی نے فوراً انھیں اٹھوانے کی درخواست دے دی۔
بیوی بچوں کو اپنے نئے گھر کی بے حد خوشی تھی۔ آج سب نے پلاٹ دیکھنے کا پروگرام بنایا کیوں کہ آج پہلی اینٹ رکھی جانی تھی۔
ہم سب وہاں پہنچے تو ایک کرین پلاٹ کا ملبہ صاف کر رہی تھی۔
بھائی بچوں کو بتا رہا تھا کہ یہاں ہمارا نیا گھر بنے گا۔
اسی دوران جھونپڑی والے اپنا آخری سامان بھی اٹھا کے لے گئے۔ میں نے ان کے دو معصوم بچوں کو دیکھا۔ وہ میرے بچوں کو آنکھوں ہی آنکھوں میں کہہ رہے تھے:
’’ نیا گھر مبارک ہو‘‘
______________________

shemale

جب ہم فطرت سے بھاگتے ہیں

ان کے ہاں اولاد نہیں تھی۔ بہت دعاؤں کے بعد ایک لڑکی پیدا ہوئی۔ وہ بہت ناز نخروں سے پالنے لگے۔ اب اُن کی خواہش تھی کہ لڑکا پیدا ہو جائے تو فیملی مکمل ہو جائے مگر اب کی بار وہ اپنے ہاں اولاد کی خبر سن کے پریشان ہو گئے۔ اُن کے گھر لڑکا پیدا نہیں ہُوا تھا ۔۔۔۔۔ اور نہ وہ لڑکی تھی۔ بلکہ وہ تو مخنث تھی۔ ڈاکٹروں نے یونہی اُسے ہاتھ میں تھمایا تو دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کو دیکھتے رہ گئے۔ اس خبر کی انھوں نے کسی کو ہوا نہ لگنے دی۔ صرف بچوں کی دادی کو علم ہو سکا۔ دادی نے اُن کی ڈھارس بندھائی اور معاملہ اللہ پہ چھوڑنے کو کہا۔
دن گزرتے گئے۔ یہ مخنث جس کا نام ’یاقوت‘ رکھا گیا،بڑی لڑکی کے مشابہ تھی۔ یہ دونوں بہنوں کی طرح ایک گھر میں جوان ہوتی رہیں۔یاقوت کی تربیت سے زیادہ اُس کے راز کو چھپا کے رکھا گیا۔ بالاخر ایک دن میاں کے دفتر سے اُن کے بہت قریبی بچپن کے دوست نصیر صاحب اُن کی چھوٹی لڑکی ’یاقوت‘ کا رشتہ مانگنے آگئے۔ وہ دونوں میاں بیوی بہت گھبرائے۔ انھیں بچی کی دادی کی نصیحت یاد آئی کہ اس کی شادی کا سوچنا بھی نا۔ بس گھر میں پالتے جانا۔ کسی کو خبر تک ہونے دینا کہ یہ مخنث لڑکی ہے۔
نصیر صاحب کوفوراً کوئی جواب نہ دیا گیا۔دادی کو فوت ہوئے بھی زمانہ ہو گیا تھا۔ انھوں نے بہتر سمجھا کہ شادی کر دی جائے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ طلاق ہو جائے گی، یوں ہم بیٹی کو عزت کے ساتھ گھر میں رکھ لیں گے کہ مطلقہ ہے اب وہ شادی نہیں کرنا چاہتی۔ رہی بات نصیر صاحب کی تو وہ بچپن کے دوست ہیں انھیں منا لیں گے کہ کسی سے اس کا ذکر نہ کریں۔ اس سلسلے میں وہ اپنی ساری جمع پونجی نصیر صاحب کو دینے پر تیار ہو گئے۔ ویسے بھی انھوں نے عمر کے اس آخری حصے میں جائیداد کو کیا کرناتھا۔۔۔۔ چناں چہ شادی کے لیے ہاں کر دی گئی۔
جنوری کی بارہ تاریخ کو ’یاقوت‘ بیاہ کے نصیر صاحب کے بیٹے سلطان خان کے گھر آ گئی ۔شادی کے بعد یاقوت کے والدین رات دن گھبرانے لگے۔ نہ دن کو چین ، نہ رات کو نیند۔۔۔۔۔پھر انھیں خبر ملی کہ سلطان کو ٹائیفائیڈ ہو گیا ہے اور سخت بیمار ہے۔ وہ تیمارداری کرنے گئے اور چپکے سے لوٹ آئے۔مگر کسی قسم کی کوئی بری خبر اُن کے ہاتھ نہ لگی جس کا انھیں ایسے انتظار تھا جیسے پانی میں سانس لینے کی کوشش کرنے والے شخص کو اپنی کوششوں کی ناکامی کا انتظار ہوتا ہے۔
تین ماہ گزر گئے۔ دونوں میاں بیوی کبھی کبھار ڈرتے ڈرتے فون کر لیتے اور حال احوال پوچھ لیتے۔مگر ان کی بیٹی سے جنسی تعلقات کی خبر لینے میں ہچکچاہٹ سی رہتی۔ ادھر سلطان کی طبیعت تھی کہ سنبھل ہی نہیں پا رہی تھی۔ پہلی بار انھیں یہ سوچتے خوشی ہوئی کہ کاش سلطان مر ہی جائے اس طرح ہمارا بھرم تو رہ جائے گا مگر فوراً اس خیال سے انھیں شرم آنے لگی۔
ایک دن نصیر صاحب نے سخت گھبراہٹ میں فون کیااور کہا کہ میں اور بیگم آپ سے ملنا چاہ رہے ہیں۔ دونوں میاں بیوی سمجھ گئے کہ کھیل ختم ہونے والا ہے اور اب ہم ایک ایسی مشکل میں گھرنے والے ہیں جو سماج میں پوری خاندان کی عزت کو تارتار کر دے گی۔
نصیر صاحب کا موڈ آف تھا انھوں نے گھر داخل ہوتے ہی کہا کہ ہم کچھ نہیں کہنے آئے بس ایک فیصلہ لے کے آئے ہیں آپ کو قبول کرنا ہوگا۔
صوفے پہ بیٹھتے ہی وہ بولنے لگے:
’’بات یہ ہے کہ ہم آپ کو دھوکے میں نہیں رکھ سکتے۔ میرا بیٹا مخنث ہے۔ وہ کوئی بیمار نہیں وہ جنسی تعلق قائم ہی نہیں کر سکتا۔ آپ اپنی پھول جیسی بیٹی کا مستقبل تباہ نہ کریں۔ اُس نے ابھی تک اُسے چھوا بھی نہیں۔ہم شرمندہ ہیں ہم نے آپ کو خبر نہ کی۔ آپ کی بیٹی کو طلاق دینے سے ہمارے بیٹے کا بھرم رہ جائے گا اور پھر وہ عمر بھر شادی نہیں کرے گا۔آپ ہماری جائیداد کا ایک حصہ رکھ لیجئے۔ ویسے بھی ہم نے عمر کے اس آخری حصے میں جائیداد کو کیا کرناہے۔‘‘
______________________

tiff

بیٹی کا ٹفن

میری عادت تھی کہ گھر کی پرانی ، بوسیدہ اور ناقابلِ استعمال اشیا کونکال دیتی۔ کبھی انھیں بیچ دیتی کبھی کسی سہیلی یا رشتے دار کو تھما دیتی۔ جو کسی بھی قابل نہ ہوتیں انھیں کوڑے میں پھینک دیتی۔
کل میں نے اپنی بیٹی کا ٹفن جو دائیں طرف سے ٹوٹ گیا تھا اپنی کام کرنے والی سلطانہ سے کوڑے میں پھینکنے کو کہا۔ٹفن تھا تو نیا مگر گرنے کہ وجہ سے ایک حصہ ناکارہ ہوگیا تھاجس سے اُس میں ڈالی گئی اشیا بہہ جاتیں۔
کام والی نے ٹفن اٹھایا اور کوڑے دان کی طرف چل پڑی۔
اگلے دن میں بیٹی کے لیے نیا ٹفن لے آئی اور اُسے تازہ اور مزیدار کھانا بنا کے دینے لگی۔
ایک دن سلطانہ کام کرنے آئی تو اپنی بیٹی کو سکول سے ساتھ لیتی آئی۔ اُس نے بیٹی کوسیڑھیوں میں بیٹھا دیااور خود کام کرنے لگی۔ کچھ دیر کے بعد اُس کی بیٹی نے سکول بیگ سے ٹفن نکالا اورساتھ رکھ لیا۔پھر ایک کتاب لے کے پڑھنے لگی۔
میں نے دیکھا یہ تو وہی ٹفن تھا جو ٹوٹ جانے کی وجہ سے میں نے کوڑے میں پھینکوایا تھا۔ میں نے اُس کی بیٹی کو اپنے پاس بلوایا اور کہا:
’’یہ ٹفن تم سکول لے کے جاتی ہو؟مگر یہ تو ٹوٹا ہُوا ہے۔‘‘
اُس نے کہا: ’’ہاں جی ۔۔۔باجی جی، اماں اس میں کچھ روٹی کے ٹکڑے رکھ دیتی ہے جو گرتے نہیں، سالن میں وہاں سہیلی سے مانگ لیتی ہوں‘‘
میں نے کہا: آج بھی روٹی کے ٹکڑے تھے؟‘‘
’’نہیں جی، آج کچھ بھی نہیں تھا‘‘
’’مگر ٹفن تو تم نے بیگ میں رکھا ہُوا تھا‘‘
کہنے لگی:
’’وہ اصل میں کبھی کبھار اماں بس ایسے ہی ساتھ رکھ دیتی ہے ،کہتی ہے کہ روٹی نہیں ہے بس ٹفن رکھ لے۔ سہیلیاں کیا کہیں گی کہ آج ٹفن نہیں لائی‘‘
______________________

books

کتابیں

بھٹی صاحب نے جب شاعری کا آغازکیا، اس وقت وہ بے روزگار تھے۔ انھوں نے جلد ہی ایک کتابوں کی دکان بنا لی۔ ان کے بھائیوں نے انھیں اور بھی کاروبار کروانے کی پیشکش کی مگر وہ کتابوں کے ساتھ جڑے رہے۔
زندگی کا بیشتر حصہ انھی کتابوں کے ساتھ گزر گیا۔کتابیں بچے کہاں پالتی ہیں۔ ان کے چار بچوں نے جب مالی حالات تنگ کر دئیے تو انھوں نے روزگار کو وسیع کرنے کی غرض سے کتابیں بھی شایع کرنی شروع کر دیں۔جلد ان کا نام ایک شاعر کے ساتھ ایک اچھے پبلشرز کے طور پر لیا جانے لگا۔وقت گزرتا رہا اور اسی دوران ان کے بچوں نے ان کا ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔
بچوں نے بزنس کو بزنس سمجھ کے کام کیا۔وہ کتاب کو اپنے بزنس کے پروڈکٹ کہتے، جیسے برگر بیچنے والے کی پروڈکٹ اس کا برگر ہوتا ہے۔بچے اپنے باپ سے بے پناہ محبت بھی کرتے۔ اسی لیے انھیں گھر پر آرام کا کہتے رہتے۔
ایک دن بھٹی صاحب نے بچوں کے سامنے ایک گاہک کو غیر معمولی رعایتی قیمت پر کتابیں تھما دیں۔ وہ اسے مستحق سمجھ رہے تھے۔ بچے شدید خفا ہوئے اور انھیں بزنس میں رکاوٹ محسوس کرنے لگے۔سب بچوں نے مشترکہ طور پر انھیں گھر بیٹھنے کا مشورہ دے دیا۔
کئی دن گزر گئے۔ بھٹی صاحب دکان پر نہ آئے۔ بچے بھی خوش تھے کہ ان کے والد کو اب محنت نہیں کرنی پڑتی۔
ایک دن خلافِ وعدہ بھٹی صاحب دکان میں داخل ہوئے اور چپکے سے آ کر کتابیں کھول کے دیکھنے لگے۔ بڑے بیٹے نے کہا:
’’ابو آپ یہاں___خیریت تو ہے!‘‘
بھٹی صاحب بولے:
’’اصل میں گھر میں دل نہیں لگ رہا تھا، شدید گھبرا گیا تھا، سوچا اپنے بچوں سے مل آؤں ۔
سو اپنی اصلی اولاد ، اپنی کتابوں سے ملنے آ گیا ہوں ۔
پینتالیس سال پہلے ان کو جنم دیا تھا۔
آج بوڑھا ہوں تو یہی یاد کرتی ہیں۔ یہی پاس بلا تی ہیں۔‘‘
______________________

keys

رشوت

محکمہ انکم ٹیکس کا ایک آفیسر اپنی داڑھی کھجاتے ہوئے دوستوں سے بولا:
’’ میں رشوت نہیں لیتا، روپے، نوٹ____اور یہ دولت____خدا گواہ، حج پر گیا تو بی بی فاطمہ کی زیارت گاہ کے پاس کھڑے مجھ پر اس کاغذی غلاظت سے نفرت کا نزول جاری ہوا اور میں ہمیشہ کے لیے اس حرام کام سے تائب ہو گیا۔ اب تو ان نوٹوں کو بھی ہاتھ نہیں لگاتا جو تنخواہ کے ملتے ہیں۔‘‘
اسی دوران ایک آدمی آفس میں داخل ہُوا اور کہنے لگا:
’’سر___گاڑی میں بہترین ٹیک لگوادیا ہے یہ لیں کار کی چابی___!‘‘
آفیسر کھسیانا ہوکے پھر دوستوں سے مخاطب ہُوا:
’’شکریہ بھائی ! اصل میں بچے ضد کر رہے تھے میوزک سننے کی__ اور آپ جانتے ہیں میری اتنی پسلی کہاں ___استغفراللہ_____نوٹ کو ہاتھ لگاؤں تو بی بی فاطمہ کی زیارت گاہ یاد آتی ہے۔‘‘
______________________

maan

ماں

ماں نے پہلے بتا دیا تھا کہ میں شام چھ بجے بس اڈے پہ پہنچ جاؤں گی مگر میں بیٹی کے جوتوں کی خریداری میں مصروف تھا۔
کل بیٹی کے سکول کا پہلا دن تھا، اس کے ساتھ میں بھی بہت مشتاق تھا۔
مجھے واقعی دیر ہو گئی اور ماں خود ہی ٹیکسی پہ بیٹھ کے گھر آ گئی۔ میں نے گھر آ کے ماں سے معذرت کی اور تاخیر کی وجہ بتائی۔
ماں کہنے لگی:
’’کوئی بات نہیں، ایک بیٹی کے جوتے لینے گئے تھے۔
یہ بھی کسی دن ماں بنے گی اور ماؤں کے پیروں تلے تو جنت ہوتی ہے۔‘‘
______________________

borhi

جب ماں بوڑھی ہو جاتی ہے

فیاض کی والدہ بہت بوڑھی ہو چکی تھیں۔ وہ اپنے بیٹے کے پاس آ گئیں، فیاض بھی اکیلا تھا سو سارا دن ان کی خدمت کرتا۔ ایک آواز پہ بھاگا آتا۔
کسی کی دعوت قبول نہ کرتا ۔ سب سے کہتا؛ گھر آ جاؤ ، میں ماں کو اکیلا چھوڑ کے باہر نہیں جا سکتا۔بظاہر ماں کو کوئی محتاجی نہیں تھی۔ وہ واش روم اور کچن تک اکیلی جا سکتی تھیں۔مگر وہ بیٹے کی غیر موجودگی میں گھبرا جاتیں۔
ایک دن دوستوں نے فیاض کو مجبور کر دیا کہ ہمارے ساتھ پکنک پر چلو۔ سب دوست جھیل کی سیر کو نکل پڑے۔فیاض نے اپنی غیر موجودگی میں ایک ملازمہ کو ماں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سونپی اور دوستوں کے ساتھ ہو لیا۔شام جب گھر پہنچنے لگے تو فیاض کو ملازمہ نے فون پہ بتایا کہ اماں گِر پڑی ہیں۔
اگلے دن جب سب دوست اکٹھے ہوئے تو فیاض سے دوستوں نے رات اماں کی طبیعت جاننا چاہی۔ فیاض کچھ پریشانی میں بولنے لگا:
’’ انھوں نے شام کو مجھے پکارا تو ملازمہ بھاگی آئی مگر مجھے سامنے نہ پا کے شدید گھبرا گئیں۔ اور مجھے زور زور سے پکارنی لگیں۔اسی حالت میں اٹھنے لگیں تو گر گئیں۔‘‘
فیاض نے سرد آہ بھری اور بات جاری رکھی:
’’میں نے پہلی دفعہ ان کے لئے اپنی موجودگی کو ایسے محسوس کیا جیسے میں انھیں دودھ پیتے بچے کی عمر میں پکارا کرتا تھا۔
کل ان کی تکلیف میرے اندر ایک ماں کی طرح سرایت کر گئی۔
کل رات میں بچے کے لیے ایک ماں کی طرح رویا۔ واقعی ماں بننا مشکل ہے مگر بیٹا بنناماں سے بھی زیادہ مشکل ہے۔‘‘
______________________

grave

باپ کی قبر

میں جب بھی والد کے ساتھ دادا کی قبر پر جاتا۔ وہ مجھے اپنے ساتھ پانی کا کین رکھنے کو کہتے تا کہ دادا کی قبر پر چھڑکاؤ کیا جا سکے۔
میں نے زندگی میں درجنوں دفعہ دادا کی قبر پر چھڑکاؤ کیا اور اپنے ہاتھوں سے قبر کو لیپ کیا۔
آج میرے باپ کو مرے ہوئے دس دن ہو گئے ہیں۔ میں نے اپنے دس سالہ بیٹے سے کہا:
’’بیٹا؛ دادا کی قبر پر جانا ہے، پانی ساتھ رکھ لو۔ ‘‘
بیٹے نے لاپرواہی سے جواب دیتے ہوئے کہا:
’’بابا! کیا پانی ساتھ اٹھائے پھریں گے، وہیں کہیں دیکھ لیں گے ، پانی تو ہر جگہ مل جاتا ہے، پیسوں کا بھی۔۔۔۔۔۔‘‘
______________________

phone

ٹیکنالوجی

اک ریڑھی والا موبائل پہ گفتگو کر رہا تھا۔
میں نے حقارت سے شکیل صاحب سے کہا:
’’کیا زمانہ آ گیا ہے ریڑھی والے بھی موبائل استعمال کر رہے ہیں۔‘‘
شکیل صاحب نے مجھے گھورتے ہوئے کہا:
’’کیا ٹیکنالوجی پر صرف امیر کی دسترس ہونی چاہیے۔ کیا غریب کو حق نہیں کہ وہ بھی اپنی زندگی آسان بنا لے۔‘‘
میں شرمندہ ہو گیا اور اس کی باتیں سننے لگا۔ ریڑھی والا اپنی بیٹی سے مخاطب تھا اور کہہ رہا تھا:
’’بیٹی آج بہت سامان ڈھویا ہے ،کمر دُکھ رہی ہے۔
تم کھانا پکا کے رکھنا اور منّے سے کہہ دو کہ جلدی سو جائے میں مزدوری کر کے لَوٹوں گا۔‘‘
______________________

writing

ایک طالب علم کی تحریر

میں ایک کالج میگزین کا ایڈیٹر ہوں۔ طالب علم میگزین کی تیاری کے مراحل میں بہت سی تحریریں دیتے ہیں۔ اکثر بے ڈھنگی، چوری شدہ اور غیر معیاری ہوتی ہیں۔ چند ایک طالب علم ہی اعلیٰ پائے کی تخلیقی صلاحیت کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔
کل مجھے ایک طالب علم نے نہایت رَف انداز میں لکھی ہوئی تحریر دی جس کا ورق بھی غیر مناسب اورپھٹا ہُوا تھا۔ میں نے بغیر پڑھے اسے اپنی کتاب میں رکھ لیا۔
کالج میگزین کا کام تقریباً مکمل تھا۔ میں گھر آیا تو میرے بیٹے نے ڈرائنگ کے لیے اس کاغذ کو استعمال کرنا شروع کر دیا۔ میں نے جھٹک کے اس کاغذ کو چھین لیا اور پھر بغیر پڑھے کتاب میں رکھ دیا۔
میرے لیے اُس تحریر سے زیادہ اُس جذبے کی قدر تھی جس نے ایک طالب علم کو تحریر لکھنے پر مائل کیا۔ میں تحریرکے غیر معیاری پن کی وجہ سے اسے پھینکنے کے لیے بھی تیار تھا مگر ایسا کرنہیں پا رہا تھا اور وہ کتاب میں ہی پڑی رہ گئی۔
کئی دن گزر گئے۔ میگزین چھپ کے آگیا۔ ہر طرف تعریفیں ہونی لگیں۔
اُس طالب علم نے بھی پوچھا کہ میری تحریر نہیں چھپی، کس وجہ سے رد کر دی گئی۔
میں اُس کے سامنے تو خاموش رہا مگر اسے جواب دینے کے لیے تحریر پڑھنے کا فیصلہ کر لیا۔
تحریر کھولی تو آغا زمیں ہی لکھا تھا:
’’میں اب تحریر نہیں لکھتا، کیوں کہ میری کسی بھی تحریر کو پڑھا نہیں جاتا۔ شاید وہ غیر معیاری ہوتی ہیں۔میں اس تحریر کو اس لیے لکھ رہا ہوں کہ بتا سکوں کہ میری تحریر کیوں نہیں پڑھی جاتی اور وہ غیر معیاری کیوں ہوتی ہیں____‘‘
میں نے ابھی اتنا ہی پڑھا تھا کہ شرمندہ ہو گیا۔
______________________

house

قبرستان

بچپن میں ابو ہمیں ڈراتے تھے کہ قبرستانوں میں جن ہوتے ہیں، چڑیلیں جادو کر دیتی ہیں۔ ہم ڈر جاتے۔پھٹی قبروں اور مردوں کی ہڈیوں سے چیخوں کا شور سنائی دینے لگتا۔
ابو کہتے:
’’بیٹا گھر اچھے ہوتے ہیں۔ سرشام گھر آجایا کرو۔
اپنے سکول بیگ کو کھولا کرو اور کتابوں میں دل لگایا کرو
گھر میں جن، چڑیلیں اور جادو کا خوف نہیں ہوتا۔
گھر میں ماں اور باپ کا سایا ہوتا ہے۔‘‘
مگر جب سے ابو قبرستان کا حصہ ہوئے ہیں۔گھر بھوتوں کا مسکن لگتا ہے اور سرشام ہم سب بہنیں، بھائی اور امّاں قبرستان چلے جاتے ہیں۔
رات کو گھر میں جن اور قبرستان میں ہم ابو کے ساتھ رہتے ہیں۔

______________________

story

آج کہانی میں سناؤں گا

بابا نے کہا:
آج میں کہانی نہیں سناؤں گا۔آج آپ کہانی سنائیں گے اور میں سنوں گا۔
سارے بچے خاموش ہو گئے اور اپنی اپنی کہانی سوچنے لگے۔
میری عمر چھ سال، میرے بڑے بھائی کی عمر نو سال اور چھوٹی بہنا کی عمر چار سال تھی۔
سردی بلا کی تھی۔ لحاف ذرا سا سرکتا تو دانت بجنے لگتے۔
بابانے توقف کے بعد پھر دہرایا۔’’ آج آپ کہانی سنائیں گے۔ جلدی شروع کرو۔ پہلے کون سنائے گا؟‘‘
بھائی نے کہا :’’میں ایک کوے کی کہانی سناؤں گا جو جنگل میں رہتا تھا۔‘‘
بہنا فوراً بول اٹھی: ’’میں اُس درخت کی کہانی سناؤں گی جو خزاں میں کاٹ دیا گیا اور اُس کے اوپر ایک گھونسلہ بھی تھا۔‘‘
بابا نے مجھ سے پوچھا : ’’اور تم کس کی کہانی سناؤ گے؟‘‘
میں نے کہا: ’’میں کہانی سوچ رہا ہوں،بعد میں سناؤں گا، پہلے بھیا اور بہنا سنا لیں‘‘
تیس سال کے بعد ابھی کچھ دیر پہلے میری بہنا اور بھیا کی کہانی ختم ہوئی ہے اور میری باری آئی ہے ۔ میں نے کہانی سوچ لی ہے:
’’اپنے بابا کی کہانی ، جو روز ہمیں کہانی سناتے تھے اور اب ہمیں کہانی سنانے والا کوئی نہیں۔‘‘

______________________

worried

لکھاری

نعیم چھوٹی عمر میں باہر چلا گیا تھا، وہاں ایک ہوزری فیکٹری میں ملازم ہو گیا، آخری وقتوں میں اپنی ایک فیکٹری بنا چکا تھا۔ آج اُسے دفنا دیا گیا۔ کل اس کے بچے اس فیکٹری کے مالک ہوں گے۔
رزاق کباڑیا تھا۔ بہت محنت کی۔ مگر بیچارہ آخری وقت تھا ایک کباڑیا ہی رہا۔ آج صبح مر گیا۔ کل اس کی دکان میں اتنا سامان ضرور ہے کہ اس کا بڑا بیٹا اُس دکان پہ بیٹھ سکتا ہے اور رزق کما سکتا ہے۔
جبار صاحب کپڑے کا کاروبار کرتے تھے۔ ویسٹ کپڑا جو فیکٹریوں میں پرنٹنگ یا ڈائینگ کے دوران خراب ہو جاتا بازار میں ’’ٹوٹا‘‘ کپڑا کے نام سے بِکتا۔ جبار صاحب نے ساری زندگی اس کام میں لگا دی۔ اپنی دکان اور ایک چھوٹا سا گودام چھوڑ کے آج وفات پا گئے۔ ان کے دو بیٹوں کے پاس یہی اثاثہ آیا۔
بشیر نامی اس شخص کا اپنا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ غلہ منڈی میں اپنے بیٹے کے ساتھ بروکری کرتا۔ سامان اٹھواتا اور پرچون میں فروخت کر دیتا۔ اس کو مرے ہوئے بھی ایک دن ہو گیا ہے۔ آج اس کا بیٹا ایک تجربہ کار کی حیثیت سے منڈی میں پھر آ گیا ہے۔
میں اب جس محلے سے گزر رہا ہوں۔ وہاں ایک موت ابھی ابھی واقع ہوئی ہے۔ مرنے والالکھاری تھا۔ روزی رزق کالج میں پڑھانا تھا۔ ساری زندگی چند کتابیں لکھنے اور ذاتی کتب خانہ بنانے میں لگا دی۔ بچوں کو دینے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا۔
اس کے چاربچوں نے باپ کی ساری جمع شدہ کتابوں کو بیچ کے پیسے آپس میں بانٹ لیے۔
______________________

maid

جو اپنی محنت نہیں بھولتے

میاں صبح گھر سے نکلتے تو سلطانہ آ جاتی۔میں اپنے کاموں میں مصروف ہو جاتی اور سلطانہ صفائی کا کام کرنے لگتی۔گھر کا جو کام مجھ سے نہ ہو پاتا میں وہ بھی سلطانہ کو سونپ دیتی۔
سلطانہ دیر سے نکلتی اور پورا گھر چمکا کے جاتی۔ میں روزانہ اسے بچا سالن بھی ساتھ دے دیتی۔جب اس کے بچے بڑے ہونے شروع ہوئے تو وہ جلدی جانے لگی۔
وہ میرے پاس کئی سال سے کام کر رہی تھی۔کبھی اس سے شکایت نہیں ہوئی تھی۔
ایک دن وہ کافی پریشان تھی۔ میرے پوچھنے پر بتانے لگی۔
’’ بی بی جی! بیٹی نے میٹرک کر لیا ہے، کہتی ہے کہ کالج میں پڑھوں گی۔ کیا کرے گی پڑھ کے۔ کہیں پر نہ لگ جائیں اور پھر ہمارے پاس اتنے پیسے کہاں کہ پڑھوائیں۔‘‘
میں نے کہا؛
’’اسے کہو تم جتنا چاہو پڑھو، فیس میں دوں گی۔ وہ بھی میری عافیہ جیسی ہے۔ اور ہاں____پڑھنے دو، کوئی پر، ور نہیں لگتے۔ تعلیم اُس کا حق ہے۔‘‘
وقت گزرتا گیا۔ سلطانہ کی بیٹی چند ہی سالوں بعد انجینئرنگ یونیورسٹی میں پہنچ گئی۔ صرف میرے میاں،سلطانہ اور اُس کی بیٹی جانتی تھی کہ اُس کی تعلیم کے اخراجات کون اٹھا رہا ہے۔
ایک دن سلطانہ برتن دھو رہی تھی کہ رو پڑی۔ میں نے پوچھا کہ کیا ہُوا۔
کہنے لگی:
’’بی بی جی! بیٹی کہتی ہے کہ تم اب کام وام چھوڑ دو۔میری سہیلیوں کو پتا چلے تو میں کیا جواب دوں گی۔کب تک چھپاتی پھروں گی کہ میری ماں ایک کام کرنے والی ہے‘‘
میں نے کہا: ’’ہاں وہ ٹھیک کہتی ہے‘‘
’’مگر بی بی جی، اسی کام نے تو مجھے سب کچھ دیا ہے، میری بیٹی کو تعلیم دی ہے، آپ لوگ دیے ہیں‘‘
سلطانہ کی بیٹی انجینئرنگ یونیورسٹی سے فارغ ہوئی تو اسے بہت اچھی جاب مل گئی۔ پھر میں نے زبردستی اُسے کام سے منع کر دیا کہ اُس کی بیٹی اب خود کما رہی ہے۔ اس کے باوجود سلطانہ کبھی کبھار ملنے آ جاتی اور ڈھیر ساری باتیں کرتی۔ایک دیرینہ دوست کی طرح مجھ سے ہر دکھ شےئر کرتی۔
کچھ دن پہلے وہ میرے گھر آئی تو اُس کے ہاتھ میں بیٹی کا شادی کارڈ تھا۔ وہ مجھے بیٹی کی شادی میں شریک کرنے آئی تھی۔
شادی والے دن سلطانہ کی بیٹی کا حسن دیکھنے والا تھا۔ ایک خوبصورت اور پڑھی لکھی لڑکی۔میرا ہاتھ پکڑ پکڑ کے اپنی سہیلیوں اور ملنے والیوں سے ملاتی رہی۔میں نے گھر واپسی کے وقت سلطانہ کو ڈھونڈا تو کیا دیکھتی ہوں کہ سلطانہ کچن میں اکیلی برتن دھو رہی ہے۔
میں نے بے ساختہ کہا:
’’سلطانہ تم برتن دھو رہی ہے۔ چھوڑو ان کو اور باہر جاؤ۔ لوگ تمھارا انتظار کر رہے ہیں۔‘‘
سلطانہ نے موٹے موٹے آنسو ٹپکاتے ہوئے کہا:
’’نہیں بی بی جی! میں برتن نہیں دھو رہی،میں تو ان دنوں کو یاد کر رہی ہوں جب انھی برتنوں کے دھونے سے چولہا چلتا تھا اور آج انھی محنت والے ہاتھوں سے بیٹی کو رخصت کروں گی‘‘
______________________

sweeper
برابری

آفس میں کام کرنے والے سارے آفیسر چائے کے وقفے کے لیے ایک میز کے گرد اکٹھے ہورہے تھے ۔خوش گپیاں جاری تھیں کہ اسی دوران ،میں بھی کمرے میں داخل ہُوا۔ سب کوجا جاکے مصافحہ کرنے لگا۔مسحور کن چہروں کے ساتھ مجھے خوش آمدید کہا جانے لگا۔ مرکزی میز کی صفائی کے لئے ایک خاکروب جو آفس کا ملازم تھا، بھی ساتھ ہی کھڑا تھا جو ان قہقہوں سے بے نیاز اپنا کام کرنے میں مصروف تھا۔میں نے فرداً فرداً سب دوستوں سے مصافحہ کیا اور اسی بے دھیانی میں (یا اپنی فراخدلانہ جذباتیت میں)اُس خاکروب سے بھی گرم جوشی سے ہاتھ ملا بیٹھا۔ اُس کے چہرے کی خوشی دیدنی تھی۔ وہ اپنے آپ کو آفیسر سا سمجھنے لگا تھا۔
اس’’فعلِ قبیح‘‘ کے انجام دیتے ہی جب میں نے دوستوں کو دیکھا تو وہ مجھے آنکھوں ہی آنکھوں میں اس گھٹیا حرکت پر ڈانٹ رہے تھے۔وہ میری ذہنی حالت پہ شک کر رہے تھے۔
ایک ’جانور‘ کو انسان سمجھنے کی غلطی یقیناً ذہنی حالت کی نادرستی کا پیش خمیہ ہی ہو سکتی ہے۔
______________________

van
ویگن والا

میرا روز کا معمول ہے کہ میں صبح دفتر ویگن پہ جاتا ہوں۔ عرصہ ہو گیا کہ میں نے اپنی کنوینس استعمال کرنا چھوڑ دی ہے۔
میں یونہی صبح جلدی گھر سے نکل پڑتا ہوں اور دفتر کو جاتے ہوئے زندگی کو بہت قریب سے محسوس کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔میں بھی جب سٹاپ کی طرف بڑھتا تو ایک کنڈیکٹر مجھے پہچان لیتا اور بھاگ کے میرے لیے ایک سیٹ کا انتظام کر دیتا۔ چوں کہ ویگن اسی سٹاپ پہ تیار ہوتی تھی اس لیے مجھے باآسانی جگہ بھی مل جاتی۔رفتہ رفتہ مجھے اس کنڈیکٹر کا نام بھی معلوم ہو گیا اور اس کے تعارف پر میں نے بھی اپنا نام اور کام بتا دیاتھا۔ اُس کا نام رفاقت تھا اور وہ مجھے بھائی صاحب کہتا۔یوں ہم ایک دوسرے کو سٹاپ کی حد تک پہچاننے لگے۔ مجھے تو اس جان پہچان سے ایک قسم کی سہولت مل گئی تھی۔ میں یونہی سٹاپ کی طرف چلنے لگتا مجھے کوئی فکر لاحق نہ ہوتی کہ وین ملے گی یہ نہیں۔یہی خیال ہوتا کہ رفاقت میرے لیے سیٹ کا بندوبست کر رکھے گا۔ حتیٰ کہ کئی دفعہ رفاقت نے میری وجہ سے وین کو لیٹ روانہ کیا کہ بھائی صاحب ابھی تک نہیں پہنچے۔
کئی روز پہلے کی بات ہے کہ میں صبح دفتر کے لیے گھر سے نکلا۔میں کچھ لیٹ تھا۔ مجھے یقین تھا کہ رفاقت وین کے ساتھ نکل گیا ہوگا۔ پندرہ منٹ تاخیر کون برداشت کرے۔ کچھ ہی دن پہلے اُس نے وین بدل لی تھی اور اُس کا نیا ڈرائیور بہت بد لحاظ تھا۔ وین میں بیٹھے ہوئے بھی بد زبانی اُس کا وطیرہ تھا۔ حتٰی کہ عورتوں کا پاس بھی نہیں رکھتاتھا۔ اس ڈرائیور کی وجہ سے میں رفاقت کے ساتھ کوئی بات بھی نہیں کر پاتا تھا جو وہ کبھی کبھار کسی موضوع پر مجھ سے کر لیا کرتا۔
جب میں سٹاپ پہ پہنچا تورفاقت موجود تھا اور مجھے دیکھتے ہی پکارکے کہنے لگا
’’بھائی صاحب، ادھر آ جائیں، ادھر، یہ وین تیار ہو رہی ہے______
بس کچھ ہی منٹ میں________
آگے آ جائیں_______‘‘
میں نے کہا رفاقت تمھاری وین کدھر ہے؟
کہنے لگا:
’’وہ، بھائی صاحب، وہ تو نکل گئی‘‘
میں نے حیران ہو کر پوچھا:
’’نکل گئی؟ اور تم یہاں کیا کر رہے ہو‘‘
رفاقت نے میری بے چینی کو بھانپ لیا اور کہا
’’ بھائی جی، میں سواریوں کو بٹھا دوں‘‘
اس دوران وہ پھر مصروف ہو گیا اور پیچھے سے آنے والی ایک اور ویگن کے لیے سوریاں ڈھونڈ ڈھونڈ کے لانے لگا۔مسافر تو آتے ہی رہتے ہیں، کہاں تھمنے کا نام لیتا ہے۔ کبھی اُس طرف سے اور کبھی اس طرف سے۔ رفاقت اُن کے چہروں کو پڑھنے کا ماہر تھا۔ وہ چہرہ دیکھ کے جان لیتا کہ یہ مسافر اُس کے ساتھ جائے گا یا نہیں۔
نئی ویگن آئی تو سواریوں کو ڈھونے لگا۔ مجھے گرم جوشی سے کہنے لگا : ’’بھائی صاب آپ کے لیے سیٹ موجود ہے۔ ‘‘
میں دفتر سے کافی لیٹ تھا سو اس سے اجازت لی اور وین میں بیٹھ گیا۔ دفتر جا کے میں دفتر کے کاموں میں ایسا غرق ہُوا کہ کچھ یاد نہ رہا۔ گھر کے کاموں اور بچوں کی یاددہانیوں کو بھی بھلا بیٹھا۔
اگلے دن جب دوبارہ سٹاپ کی طرف روانہ ہُوا تو مجھے ایک دم رفاقت کا خیال آیا۔’’ اگر رفاقت نے وین چھوڑ دی ہے تو وہ کل وہاں کھڑا کیا کر رہا تھا۔ وہ محض دوسرے ڈرائیوروں کی خدمت کر رہا تھا!‘‘
یہ خیال آتے ہی مجھے وین نہ ملنے کا خدشہ بھی پیدا ہُوا۔ میں پھر حسبِ معمول لیٹ تھا اور آگے وین نہ ملنے کی پریشانی بھی لاحق ہو گئی تھی۔مگر سٹاپ پہ پہنچتے ہی کیا دیکھتا ہوں کہ سٹاپ پہ رفاقت موجود ہے اور ویگنوں کے لیے سواریاں ڈھو رہا ہے۔مجھے دیکھتے ہی ویگن کے کنڈیکٹر کوپکارنے لگا۔
’’رکیے رکیے، سواری آ گئی ہے اٹھاتے جاؤ۔‘‘
مگر وین والے نے میرے بیس پچیس قدموں کا انتظار نہ کیا، رفاقت نے مجھے دیکھتے ہی کہا
’’ صاب جی، وین بھر گئی تھی، اگلی وین میں خالی سیٹ مل جائے گی، اس وین میں آپ کو کھڑا ہوناپڑتا۔‘‘
وہ میرے کسی سوال کے بغیر ہی غلط ملط وضاحتیں کئے جا رہا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا مگر تمھاری وین کہاں ہے، کیا تم اب کنڈیکٹری نہیں کرتے۔‘‘
کہنے لگا:
’’بھائی صاب، وین تو چھوٹ گئی‘‘
میں نے کہا:’’ وین چھوٹ گئی ؟ مگر کیسے‘‘
وہ مجھے کچھ ذاتی باتیں بتانے لگا،مجھ سے کچھ ہمدردی وصول کرنے کی غرض سے یا شاید ایسے ہی___
کہنے لگا: ’’وہ صاب جی، میری والدہ کی بہن، میری خالہ، مر گئی تھی، لاہور جانا پڑ گیا تھا۔ میں تو مرگ ورگ پر بھی نہیں جاتا۔ کام جو ایسا ہُوا۔ مگر صاب جی، خالہ بھی تو ماں جیسی ہوتی ہے اور پھر ماں نے ناک میں دم کر رکھا تھا کہ چل جلدی کر، لاہور نکلیں، میری بہن مر گئی ہے۔ بس جی، میں وین ڈرائیور کو بغیر بتائے نکل گیا اور چار دن بعد آیا تو نیا کنڈیکٹر تھا، ظاہری بات ہے جی، کون اتنا انتظار کرتا ہے۔ میں کوئی بابو تھوڑی ہوں جی، جومیرے لیے کام رکے رہیں۔‘‘
مجھے دفتر سے پھر دیر ہو رہی تھی مگر میں اُس کی باتوں میں کچھ ایسا محو ہو گیا کہ مجھے کچھ یاد نہ رہا کہ میں نے دفتر بھی پہنچنا ہے۔ میں اُس کے طنز کو جان چکاتھا کہ شاید میں ہی وہ بابو ہوں جس کے لیے کام رُکے رہتے ہیں۔ حالاں کہ زندگی کسی کے لیے نہیں رکتی۔ کام چلتے رہتے ہیں۔ میں نے اس سے پوچھا:
’’تو تم یہاں روز کیا کرنے آ جاتے ہو، نئی وین ڈھونڈو نا‘‘
کہنے لگا ہاں اسے لیے تو آتا ہوں، صبح صبح روازنہ ویگنیں نکلتی ہیں، میں ڈرائیوروں کو یہی بتانے کے لیے تو آتا ہوں کہ میں آج کل فارغ ہوں، ہر گاڑی میں کچھ سواریاں بھرواتا ہوں اور اسے یقین دلواتا ہوں کہ میں بہترین کاریگر ہوں۔‘‘
’’کیا تم سارا دن یہی کرتے ہو‘‘
’’نہیں، بس صبح صبح کے لیے، کیوں کہ اس وقت نئی گاڑیاں بھری جارہی ہوتی ہیں اورہر ڈرائیور پہلے سٹاپ سے گزرتا ہے، بس اُس کی نظر مجھ پر پڑ جاتی ہے۔‘‘
میں اُس کی باتوں سے پریشان ہونے لگا۔ مجھے کچھ کچھ احساس بھی ہو رہا تھا کہ میں اُسے بلاوجہ کیوں کُرید رہا ہوں۔ مگر میں کچھ جاننے کی اشتہا کے ہاتھوں مجبور بھی تھا۔ میں نے وین میں بیٹھنے سے پہلے اس سے اپنا آخری سوال کیا:
’’رفاقت یار، کیا اس طرح روز وقت ضائع کرتے پھرو گے، کیا کام ایسا ملا کرتا ہے۔؟‘‘
اُس نے دور سے آتی نئی ویگن کو زور زور سے ہاتھ کا اشارہ کرتے اورنہایت پرجوش انداز میں اسے اپنی طرف بلاتے ہوئے جواب دیا:
’’صاب جی، اگر میری ماں جیسی خالہ مر گئی تو میں چلا گیا تھا تو اسی طرح کسی اور کی ماں بھی مر سکتی ہے، کوئی اور بھی کسی مجبوری سے کام چھوڑ کے جا سکتاہے، کسی کا بچہ بیمار ہوسکتاہے، کسی کا ماپ مرسکتا ہے، کہیں کوئی جگہ میرے لیے بھی خالی ہو ہی جائے گی۔ اسی لیے تو میں روز آتا ہوں۔ جس طرح میں گیا تھا تو میری جگہ کسی کی جگہ بن گئی تھی۔اسی طرح کسی کے جانے سے میری جگہ بن جائے گی۔‘‘
اس نے یہ ساری باتیں لاپرواہی اور مجھے توجہ دئے بغیر ایک ہی سانس میں کہہ دی تھیں۔ میں نے اپنے آخری سوال کا جب جواب سنا تو مجھے لگا کہ یہ میرا پہلا سوال تھا۔ مجھے ابھی زندگی کو سیکھنے کا آغاز کرنا ہے۔زندگی جس جبر کے کلیے سے مرتب ہوئی ہے مجھ سے زیادہ بہتر طریقے سے یہ سمجھتا ہے۔مجھے لگا جیسے رفاقت مجھے سمجھا رہا ہے کہ زندگی کی جبریت کا شکار اگر میں ہو سکتا ہوں تو کوئی اوربھی سکتا ہے۔ کوئی بھی کسی کے لیے مجبور ، حتمی اور لازمی نہیں۔ میں اُس کی باتیں سوچ رہا تھا اور وین میں بیٹھے دفتر کو جا رہا تھا۔
______________________

graves in

کائناتی گرد کی دھول میں

میں چھوٹی سی عمر میں ہی والد کے ساتھ قبرستان جاتا۔ میرے والد مجھے اپنے والد اور دادا کی قبروں کے پاس کھڑے کر دیتے اور قران پڑھنا شروع کر دیتے۔ اسی دوران میں کبھی قبروں کو اور کبھی ساتھ ہی سے گزرتی ٹرین کو دیکھنے لگتا۔قبرستان کی اختتامی حدود کے ساتھ ہی ریلوے لائن بچھی ہوئی تھی۔ جس کی دوسری سمت بھی اب کچھ قبریں بن چکی ہیں۔
جمعہ کا دن تھا۔ابو نے کہا:
میں قبرستان جا رہا ہوں کیا تم چلو گے‘‘
میں نے فوراً کہا : ’’ہاں چلوں گا‘‘
کچھ ہی دیر میں ہم قبرستان پہنچ گئے اور انھی بزرگوں کی قبروں کے پاس کھڑے تھے۔ابو نے کہا:
’’دیکھو، یہ قبر میرے دادا کی ہے اور ادھر ، یہ قبر میرے والد کی ہے،
یہ تمھاری دائیں طرف والی قبر میرے نانا کی ہے اور یہ بالکل میرے سامنے والی قبر میری ماں کی ہے‘‘
ابو شکست خوردہ جوش کے ساتھ مجھے بتاتے جا رہے تھے۔ ان کی نظریں میری بجائے ان قبروں پر تھیں۔میں نے ابو سے کہا:
’’ابو آپ کو کیسے پتا ان قبروں کے نیچے کون ہیں، کتبے تو ہیں نہیں یہاں‘‘
ابو بولے:
’’ اصل میں بالکل تمھارے آگے والی قبر کوئی قبر نہیں‘‘
میں نے حیرانی سے پوچھا:
’’مگر ابو ،یہ تو قبر ہے‘‘
ابو نے کہا:
’’نہیں، یہ قبر نہیں قبر سی بنائی ہوئی ہے، یہ میری قبر ہے، یہ میری جگہ ہے، یہ میری ماں کے بالکل ساتھ والی قبر ہے۔ بس میں یہیں سے اپنے جد کی قبروں کو پہچان لیتا ہوں کہ میرے دائیں بائیں کون سی قبریں ہیں۔‘‘
میں بہت پریشان ہُوا۔ اس چھوٹی سی عمر میں مجھے کیا سمجھ آتی کہ انسان زندہ ہے اور اُس کی قبر بھی موجود ہے۔ میں نے اپنی بے چینی کو زبان دیتے ہوئے کہا:
’’ مگر ابو ،آپ اور آپ کی قبر!‘‘
ابو اس دوران قران پاک کی تلاوت ختم کر چکے تھے اور میری طرف پوری طرح متوجہ ہو چکے تھے۔کچھ کہنے ہی والے تھے کہ ٹرین کا شور بلند ہونے لگا۔ ابو پھر خاموش ہو گئے اسی دوران ٹرین گزر گئی۔
’’ہاں بیٹا! مجھے نہیں معلوم مجھے کہاں دفن ہونا ہے، شاید کسی بھی انسان کو یہ معلوم نہیں ہوتا۔ مگر میری خواہش ہے کہ ماں کے پاس قبر میں اتروں‘‘
میں نے ابو کے ساتھ گھر کی واپسی کا سفر شروع کیا تو دیکھا کہ ٹرین نے جو گرد اڑائی تھی ابھی تک اڑ رہی تھی اور پورے قبرستان کے اوپر مہین دھویں کی تہہ سی جم گئی تھی جس نے ساری قبروں کو ایک سا کر دیا تھا۔
کئی سال گزر گئے۔ اس دوران والد کبھی اکیلے قبرستان چلے آتے کبھی میرے بھائیوں کے ساتھ۔ مجھے ان کے ساتھ جانے کا موقع نہ مل سکا۔وقت کی گرد نے سب کچھ دھندلا دیا ۔کائناتی گر دکی دھول میں کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ ماضی تو صحرا ؤں کے ٹیلوں کی شکل دکھائی دیتا ہے۔جو پل میں اپنا ہیولا بدل لیتے ہیں۔
مگر ان کی خاصیت نہیں بدلتی۔ ویران، کھنڈر اور اجاڑ۔
کئی سال گزر گئے بلکہ والد کی وفات کو بھی اب تو کئی سال گزر گئے۔
میں نے یونہی اکیلے آبائی شہر جانے کا ارادہ کیا۔ٹرین سرپٹ دوڑتی جا رہی تھی۔طویل سفر پلک جھپکتے گزر گیا۔شہر میں اترتے ہی آبائی گھر جانے کی بجائے میں بے ساختہ قبرستان کی طرف چل پڑا۔ قبروں کے پاس آیا تو مجھے کچھ یاد نہیں تھا کہ میرے نکڑ دادا کی قبر کون سی ہے، دادا کی کون سی ،دادی کی کون سی اور والد کہاں دفن ہیں۔ بالاخر میں نے راہ داری کے ساتھ پہلی قبر کو پہچان لیا جو ریلوے لائن کی سمت تھی۔ یہ میرے والد کے نانا کی قبر تھی۔ اس حساب سے میں نے اپنے والد کی قبر کو ڈھونڈ نکالا۔ دعا کے بعد میں جانے لگا تو میں نے فیصلہ کر لیا کہ مجھے بھی اپنی قبر بنا لینی چاہیے۔میں آئندہ قبروں کو یاد بھی رکھنا چاہتا تھا اور اُسی طرح جس طرح میرے والدیاد رکھتے تھے۔کچھ ہی دیر میں گورکن کی مدد سے، میں نے والد کی قبر کے نیچے اپنی فرضی قبر بنوا لی۔
جب میں قبرستان سے جا رہا تھا تو میرا قبرستان میں موجود اپنے جد سے ایک رشتہ قائم ہو چکا تھا میں زندگی اور موت کے درمیان فاصلوں کو پھلانگ چکا تھا۔میں ایسا زندہ تھا جو ایک قبر میں دفن ہو چکا تھا۔جو زندگی اور موت دونوں حالتوں میں موجود تھا۔ جویہ جان چکا تھا کہ زندگی کی یہ ٹرین کسی بھی سمت کو چلی جائے اسی قبرستان سے گزرے گی۔
ہاں واقعی________انسان کو اپنی قبر کا تعین ہو جائے تو آس پاس کی قبروں کا ہی نہیں کائناتی وقت کے احاطے کا نقشہ سمجھ میں آ جاتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *