بارش اور رابی کے لیے (نظمیہ کہانیاں)

qasim yaqoob
______________________________

goat
بارش

بارش ہو رہی تھی۔
مگر اس دن مجھے تیز بخار تھا، میں بارش کو خوش آمدید کہنے باہر نہیں نکل پا رہا تھا۔رابی نے مجھے بارش کی آواز سنائی اور باہر چلنے کو کہا۔
میں رابی کو انکار نہ کر سکا اور لمبا اوور کوٹ پہن کے بارش میں نکل آیا۔ بارش میں بھیگنے کا لطف ، میں بارش کی آواز سن کے لے رہا تھا۔
ہم دونوں تیز بارش میں ریلوے لائن کی طرف نکل گئے۔ جہاں ایک بھیڑوں کا ریوڑ چَر رہا تھا۔دو بھیڑیں سبز گھاس پہ بیٹھی اپنی اون کو بارشی پانی سے بھر چکی تھیں۔
میں نے گڈریے سے پوچھا:
’’یہ کیوں نہیں چَر رہیں۔ یہ کیوں یہاں بیٹھی ہیں‘‘
گڈریا بولا:
’’ان کو بخار ہے، اسی لیے یہ ریوڑ سے علیحدہ ہیں۔‘‘
میں نے اسی وقت اوورکوٹ اتار دیا اور پورا بدن بارشی پانی سے بھر لیا۔
______________________________

rain rain
پہاڑی علاقوں کی بارش

میں نے گاڑی آہستہ کر لی اور رابی کو توجہ دلاتے ہوئے کہا
’’غور سے سنو۔بارش کی آواز تیزہو رہی ہے۔‘‘
رابی پریشان ہوگئی:
’’جلدی فلیٹ میں چلیں کہیں بارش تیز نہ ہو جائے ، مبادا ہم راستے میں ہی پھنس جائیں۔‘‘
میں سفر سے محظوظ ہو رہا تھا اور بارش کے قطروں کی رِم جِھم گاڑی کے شیشوں پر دیکھ رہا تھا۔
رابی نے کہا: مجھے بارش کی شدت سے خوف آتا ہے۔ خصوصاً پہاڑی علاقوں کی بارش تو مجھے ڈرا دیتی ہے۔‘‘
میں نے گاڑی تیز کر لی۔ کچھ ہی دیر بعد انجن میں پانی جانے کی وجہ سے گاڑی رک گئی۔ میں باہر نکل کے بونٹ کھول کے دیکھنے لگا۔
پہاڑی علاقوں کی بارش اور وہ بھی سردیوں کے موسم میں ،بہت تکلیف دہ محسوس ہو رہی تھی۔ مگر مجھے کوئی پریشانی نہیں تھی۔ میں بھیگتے ہوئے گاڑی کی مشینری دیکھنے لگا۔
بالاخر گاڑی سٹارٹ ہو گئی۔ مگر میں پوری طرح گیلا ہو چکا تھا۔ میں نے دیکھا رابی بہت پریشان اور گھبرائی ہوئی گاڑی میں بیٹھی تھی اور سردی سے سکڑے جا رہی تھی۔
میں نے جا کے خوشخبری سنائی کہ گاڑی اب ٹھیک ہے۔
رابی نے خوش ہونے کی بجائے میرے بھیگے بدن کی تکلیف کو اپنے ناگوار چہرے سے بتانے کی کوشش کی۔ میں نے کہا :
’’یہ گیلا بدن ،جذبوں کی حرارت سے خشک ہو سکتا ہے اگر تم بھی اس بارش میں نکل آؤ۔اور ہم دونوں گیلے ہو جائیں۔‘‘
رابی نے چھلانگ لگائی اور ہم دونوں پہاڑی علاقوں کی سردیوں کی بارش میں نہانے لگے۔

______________________________
duck

بارشی پانی اور بطخیں

مجھے اب کچھ یاد نہیں کہ ہم گھر سے کیوں نکلے تھے ، کہاں جارہے تھے اور کب لوٹے تھے؟ مجھے بس اتنا یاد ہے ،جب ہم گھر سے باہر اپنے جسموں کے سایوں کو تھامے نکلے تھے تو بارش نے ہمیں آ لیا تھا۔ بارش جو بادلوں کے گھر وں کو الوداع کہہ کے نکلی تھی ہمارے چہروں سے معانقہ کر نے لگی تھی۔ویران سڑک پر چلتے چلتے رابی نے مجھے کہا:
’’دیکھو ،آج بادلوں کی جھاگ کتنی اُجلی اور دودھیالگ رہی ہے۔‘‘
میں مسلسل بارش کے پانی کو سڑک پر بہتا دیکھ رہا تھا جو راہداری کے ایک طرف تیز رفتاری سے اپنا راستہ تراش رہا تھا۔ ویران سڑک پر پانی کی آواز تیز ہوتی جا رہی تھی۔ سڑک کی ڈھلوان پانی کوایک طرف بہائے جا رہی تھی۔میں نے نیچے بہتے پانی کی رفتار سے نظریں ہٹاتے ہوئے رابی کو جواب دیا:
’’ ہاں، بادلوں کے گالے کتنے نزدیک آ گئے ہیں‘‘
رابی نے کہا:
’’بادلوں کے گالے___گالے___؟
نہیں یہ گالے نہیں یہ تو اڑتی سفید بطخیں ہیں۔‘‘
میں نے زور دار قہقہہ مارا اور کہا:
’’ بطخیں؟_____ارے واہ____
تمھیں بادل بطخوں کی طرح کیوں لگ رہے ہیں‘‘
’’دیکھو ناں___بطخیں جھیلوں میں تیرتی ہیں تو اور اُجلی ہو جاتی ہیں۔ پھر وہ پانی کو اپنے پروں سے ایسے دھکیلتی ہیں کہ چھینٹے اڑتے ہیں، ذرا دیکھو___ بارش کے قطروں کی طرح ہی اڑتے ہیں ناں چھینٹے؟‘‘
میں نے بطخ اور بادل کو ایک ساتھ تصور کرتے ہوئے رابی کو کہا:
’’مگر روئی کے گالے بھی تو ایسے ہی ہوتے ہیں ناں، پاکیزہ، اُجلے اور دودھیا‘‘
رابی نے بارشی پانی سے بھیگتے بالوں پراپنے دونوں ہاتھ پھیرتے ہوئے مجھے جواب دیا:
’’ او۔نہیں___روئی کے گالے جب گیلے ہو جاتے ہیں تو کتنے بھدے، سکڑے اور بد ہیت ہو جاتے ہیں___نہیں___یہ بادل مجھے روئی کے گالے نہیں، بطخیں نظر آ رہے ہیں___
یہ تو بطخیں ہیں، اجلی بطخیں____ پیاری، سفید، جھیل کے گہرے پانیوں کی سطح پر تیرتی معصوم، بے پرواہ اور چُہلیں کرتی بطخیں___‘‘
’’ہاہاہاہا___ ‘‘ میں نے ایک قہقہہ لگایا اور روئی کے گیلے گالوں کا تصور کرتے ہی سر جھٹک کر رابی کی بات مان لی۔
ہم گھر سے کیوں نکلے تھے؟ اور ہم کہاں جا رہے تھے؟ مجھے اب کچھ یاد نہیں آ رہا۔ بس بارش کی چھتری ہمارے لیے سائبان بن گئی تھی۔ ویران سڑک پر بارش کا پانی میری بائیں جانب نالے کی طرح بہتا جا رہا تھا۔خاموش اور تیز___میں راہداری کے بائیں سمت چلنے لگا اور بارش کے پانی کو اپنے پاؤں سے محسوس کرنے لگا۔ رابی نے مجھے فوراً روکا:
’’اُوں ہُوں___سڑک کے درمیان چلیں۔ یہ بارش کا پانی پتا نہیں کہاں کہاں سے چِھنتاآ رہا ہے۔ یہ گندھا پانی ہے۔ ادھر آ جائیں‘‘
میں نے لاپرواہی سے رابی کو کہا:
’’اُوں ،ہُوں،یہ پانی گندا نہیں گدلا ہے، تمھیں گندے اور گدلے کے فرق کا نہیں پتا؟‘‘
’’گدلا پانی گندا نہیں ہوتا کیا‘‘
’’نہیں___گدلا پانی تو مٹی کو دھوتا ہے تو اپنا رنگ بدل لیتا ہے ورنہ یہ تمھاری بطخوں جیسا ہی ہوتا ہے۔تم خود سوچو___تمھاری بادلوں میں بیٹھی بطخوں کو کون گندا کر سکتا ہے، بادلوں کی جھیل میں چھینٹے اڑا رہی ہیں مگر کوئی روکنا والا نہیں۔ ان کے پروں سے چھنتا یہ بارشی پانی جس چیز پہ پڑے گا اُسے اجلا کر دے گا جیسے میرے پاؤں اجلے ہوتے جا رہے ہیں‘‘
رابی کو بطخیں بہت پسند تھیں، شاید اسی لیے وہ پانی کو گدلا کہنے پہ راضی ہو گئی۔ جب بطخوں کے پروں کا تصور کیا تو فوراً میرے ساتھ سڑک کے بائیں جانب تیز بہتے بارشی پانی میں اپنے پاؤں بھگونے لگی۔
ہم بارش میں گیلے ہو چکے تھے اور جہاں ہم نے جانا تھاوہ منزل بھی نہیں آ رہی تھی۔
مگر ہم نے کہاں جانا تھا؟
مجھے تو کچھ یاد نہیں۔مجھے تو یہ بھی یاد نہیں آ رہا ہم گھر سے کیوں نکلے تھے۔
بس مجھے اتنا یاد آ رہا ہے کہ جب بارش تھمی تھی تو ہم واپس گھر آ چکے تھے۔

______________________________
railway

رابی اور ریلوے لائن

ہم سٹیشن پہ اکیلے رہ گئے تھے۔ ٹرین آئی تھی مگر وہ ہماری منزل کی نہیں تھی۔ بہت سے مسافر اترے اور چڑھے پھر ایک دم سٹیشن ویران سا ہو گیا۔
رابی نے کہا:
’’میرے خیال میں اب ٹرین نہیں آئے گی، کیوں نہ ہم ریلوے لائن کے بیچوں بیچ پیدل چل پڑیں، یہ راستہ سیدھا ہمارے شہر کو جاتا ہے ،ہم شام تک پہنچ ہی جائیں گے، ویسے بھی ہمارے پاس ابھی بہت سا وقت ہے۔‘‘
میں نے رابی کی طرف ایک مضحکہ خیز مسکراہٹ سے دیکھا:
’’کیا تم پاگل ہو گئی ہو؟
کیا ہم پیدل چل پڑیں؟ نہیں۔۔۔۔ اس طرح تو نجانے ہم کب پہنچے۔‘‘
رابی نے مجھے اپنے ارادوں کے عمل پہ اکساتے ہوئے کہا:
’’ہاں تو کیا ہے! ابھی صبح کا وقت ہے اور وقت ہی تو سب کچھ ہوتا ہے۔ شام تک ہم پہنچ ہی جائیں گے۔‘‘
میں رابی کے اصرار پہ چل پڑا اور ہم ریلوے لائن کے بیچوں بیچ چلنے لگے۔
کبھی پتھروں پہ پاؤں آتا اور کبھی لائن کو جوڑنے والے لکڑی کے تختوں پہ۔ ریلوے لائن کچھ بلندی پہ تھی، ساتھ ہی ایک سڑک تھی جس کا نظارہ بہت بھلا لگ رہا تھا۔دور ایک پہاڑوں کا سلسلہ تھا جو دائیں طرف جاتا ہُوا ختم ہوجاتا تھا۔
رابی ایک دم خاموش ہو گئی اور میں اُسے محو کر کے لائن میں بچھے تختوں پر پیروں کی آواز سے محظوظ ہونے لگا۔
پھر میں نے خامشی توڑی اور کہا:
رابی ! اگر پیچھے سے ٹرین آگئی تو ہم ٹرین میں بیٹھ جائیں؟
رابی نے کہا:
کیا ٹرین ہمیں بٹھائے گی؟ وہ ہمیں روند کے نکل جائے گی۔ اب تو ہمیں پیدل ہی چلنا ہے بس چلتے جائیں۔
میں نے کہا دیکھو ساتھ آبادی کی رونقیں کیسے پھیلی ہیں ، کسی کو خبر نہیں کہ ہم کہاں جا رہے ہیں اور کب پہنچیں گے
رابی نے کہا :
’’ وہ درخت جو ریلوے لائن کے اختتام پہ لگا ہُواہے وہاں تک جانا ہے اور بس‘‘
میں نے اُسے دھوکہ قرار دیتے ہوئے کہا:
’’مگر اس اختتام پہ پہنچتے ہی یہ آغاز لگے گا اور پھر کوئی اگلا اختتام نظر آنے لگے گا‘‘
میں آہستہ آہستہ تھکنے لگا اور سانس بھی پھولنے لگا۔ میں نے دل ہی میں کہا کہ کیا حماقت کر بیٹھے ہیں کیا اس طرح میلوں کا سفر طے ہو گا۔میں نے دیکھا رابی تیز قدموں سے چل رہی تھی اور وہ مجھ سے آگے نکلتی جا رہی تھی۔
اچانک پیچھے سے بہت تیز روشنی نمودار ہوئی ۔ گڑگڑ گڑ کی آواز نے پوری پٹڑی ہلا دی، میں چونک کے پیچھے ہٹا اور دیکھا کہ ایک ٹرین میرے اوپر چڑھ دوڑی ہے۔میں ہانپتے ہوئے ریلوے لائن سے کودا اور ایک طرف کو ہو گیا۔ ٹرین تیز رفتاری سے چیختی چلاتی شور مچاتی میرے آگے سے گزر گئی۔ میں نے ایک دم خدا کا شکر ادا کیا کہ میں بچ گیا ہوں
مگر دوسرے ہی لمحے ایک خوفناک لہر میرے وجود میں دوڑی۔ رابی ۔۔۔۔ رابی۔۔۔۔ رابی کہاں گئی۔ کیا وہ ٹریک سے ہٹ گئی تھی ۔۔۔ نہیں وہ تو نہیں ہٹی تھی۔۔۔ پھر وہ کہاں گئی؟ کیا وہ ٹرین کے نیچے آ گئی۔ اوہ ہ۔۔۔ میں تو اُسے بھول ہی گیا۔۔۔
ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اس گزرتی ٹرین کی ایک کھڑکی سے رابی نے مجھے آواز دی۔
میں نے رابی کی طرف دیکھا وہ ٹرین سے ہاتھ ہلا رہی تھی۔ میں نے ٹرین کو پکڑنے کے لیے لائن پہ دوڑنا شروع کر دیا ، مگر ٹرین اُس درخت سے بھی آگے نکل گئی جو رابی نے ریلوے لائن کا اختتامیہ بتایا تھا۔
______________________________

couple

رابی اور پہاڑ

میں نے رابی سے کہا
’’تم اس پہاڑ کو سَر کر سکتی ہو؟ _______
بہت سے کٹھن راستوں کے بعد پہاڑ کی چوٹی پر پہنچا جاتا ہے۔ میں ایک دفعہ دوستوں کے ساتھ بہت مشکل سے اوپر تک پہنچا تھا، تم کہاں جا سکتی ہو۔ ناممکن____‘‘
رابی نے پُر جوش ہو کے مجھے چیلنج کر دیا۔
میں ایک عورت کی ایڑھیاں اونچی کر کے مقابلہ کرنے کی ہمت پر ہنس پڑا۔
اور اگلے دن ہم پہاڑ پر چڑھنے لگے۔
میں ابھی آدھے پہاڑ پرہی پہنچا تھا کہ تھکاوٹ نے زور دارحملہ کیا اور میں رفتہ رفتہ ہارنے لگا۔پہاڑ کی چوٹی پر پہنچنے تک میں نڈھال ہو چکا تھا۔
مگر رابی تازہ دم تھی۔میں نے حیرانی سے پوچھا:
’’تم میں اتنی ہمت کیسے آ گئی۔‘‘
کہنے لگی:
’’ اگر آپ میرے ساتھ ہیں تو میں پہاڑ تو کیا آسمان پر بھی پاؤں رکھ سکتی ہوں۔ میں تو ایڑھی اونچی کر کے بھی پہاڑ سَر کر سکتی تھی، آپ نے کیوں اتنا امتحان لیا!!‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *