کوہ گراں ہے زندگی(افسانہ)

ڈاکٹر تہمینہ عباس

Dr.Tehmeena Abbas

زندگی میں کچھ چیزیں لمحاتی ہوتی ہیں۔ لیکن کبھی کبھی وہی چیزیں انسان کی پوری زندگی پر محیط ہو جاتی ہیں۔ ٹی وی پر چلنے والی اس خبرکا اس نے نوٹس لیا تھا کہ ’’ بلدیہ ٹاؤن کی ایک فیکٹری میں آگ لگ گئی ہے‘‘۔ فروا کے خاندان کے بیشتر افراد بلدیہ ٹاؤن میں موجود فیکٹریوں میں ملازم تھے۔ بلدیہ ٹاؤن میں کوئی ایک فیکٹری تو تھی نہیں کہ وہ توجہ دیتی۔ مگر مدحت خالہ کے آنے والے فون نے اسے حواس باختہ کر دیا۔ جب انھوں نے کہا فروا عاصم کی فیکٹری میں آگ لگ گئی ہے۔ وہ شام میں گھر آنے کے بعد دوبارہ اورٹائم کرنے گیا تھا۔ مگر اب تک کوئی خیر کی خبر نہیں۔ تمہارے خالو رات آٹھ بجے سے وہیں ہیں گیارہ بجنے کو ہیں۔ مگر اب تک اس کی کوئی خیر خبر نہیں۔
مدحت خالہ کی روتی ہوئی آواز نے اُسے لمحوں میں آسمان سے زمین پر لا پٹخا۔ مدحت خالہ عاصم کی ماں تھیں۔ مگر اس کا عاصم سے تعلق قلب و جان کا تھا۔ وہ چاہتی بھی تو اس تعلق کو ختم نہیں کر سکتی تھی۔ حسن اتفاق پچھلے ماہ ہی عاصم کی خواہش پر اس کی اور عاصم کی نسبت طے ہوئی تھی اور دو ماہ بعد اس کی عاصم کے سنگ رخصتی تھی۔ مگر کا تب تقدیر نے اسے ایک دم عاصم سے جدا کر دیا تھا۔ وہ عاصم کے ہمراہی کے خواب دیکھ رہی تھی۔ لمحوں میں تقدیر نے اسے ان خوابوں سے دست بردار ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔ اگر اس کا تعلق کسی اور مذہب سے ہوتا تووہ پتی ورتا عورتوں کی طرح عاصم کے ساتھ ستی ہو جانا پسند کرتی۔ بحیثیت مسلمان اسے ایسا سوچنا بھی زیب نہیں دیتا تھا۔
’’فروا!عاصم کی میت گھر آگئی ہے ایک نظر دیکھ لو۔ میت اس قابل نہیں کہ ایک گھنٹہ بھی رکھی جا سکے۔ لاش ناقابلِ شناخت ہوگئی ہے۔ بڑی مشکل سے تمہارے خالو نے اس کے ہاتھ میں موجود گھڑی سے پہچانا ہے۔ جو جھلسنے سے بچ گئی تھی۔‘‘
اماں نے اس کا کاندھا زور زور سے ہلاتے ہوئے کہاتو وہ صبر کے پہرے بٹھاتی بمشکل اٹھی۔ مگر اس کے دل نے جھلسی ہوئی لاش کوعاصم کی لاش ماننے سے انکار کر دیا۔دلِ خوش فہم میں اب بھی یہ امید موجود تھی کہ شاید ابھی عاصم کہیں سے آکر کہے گا کہ’’فروا تمھیں غلط فہمی ہوئی ہے یہ تو کسی اور کی لاش ہے۔ میں کسی کام سے اپنے دوست کے گھر گیا تھا واپسی میں دیر ہوگئی ہے۔‘‘اس کا خیال خیال ہی رہا لمحوں میں لوگ عاصم کی میت کو چاروں کاندھوں پر اٹھا کر لے گئے اور وہ دیکھتی رہ گئی۔ اس نے ایک لمحے بھی میت کو روکنے کی استدعا نہیں کی۔ حالانکہ وہ چاہتی تھی کہ ابھی کچھ لمحے میت نہ اٹھائی جائے۔ مگر وہ اپنے لبوں سے آواز نہیں نکال سکی۔

مدحت خالہ پر غشی طاری ہورہی تھی۔ خالو جان کی کمر جھک گئی تھی۔ اب وہ کس پر مان کریں گے؟ جوان ہنستا کھیلتا بیٹا فیکٹری مالکان کی لالچ کی نذر ہوگیا تھا۔ اپنے مال کو بچانے کے لئے فیکٹری مالکان نے ہنگامی صورتحال میں باہر نکلنے کے دروازوں پر تالے ڈال دیے تھے اور اوپر کی منزلوں میں موجود کھڑکیوں پر گرل لگی ہوئی تھی۔ اس وجہ سے تمام مزدوراوپر کی منزلوں میں محصور ہو کر رہ گئے تھے۔ آگ لائٹ آجانے اور جنریٹر بند نہ ہونے کی وجہ سے لگی تھی۔ فروا کو اپنا دکھ سب سے بڑا معلوم ہو رہا تھا۔ لیکن جب اس کو یہ علم ہوا کہ اگلی گلی کے ایک گھر سے چار جوان لڑکیوں کی میتیں ایک ساتھ اٹھی ہیں۔ تو وہ دل تھام کر رہ گئی۔ یہاں تو پورا شہر ہی اس حادثے کا شکار ہو گیا تھا۔ چاروں معصوم اور نو عمر لڑکیاں اپنے دل کے نو خیزار مانوں کو دل میں چھپائے آگ کا شکار ہوکر منوں مٹی تلے جا سوئی تھیں۔

baldia
حد تو یہ ہے کہ کراچی جیسے ترقی یافتہ شہر میں مشینوں اور فائربریگیڈ کی قلت نے تین سو اسی افراد کو لقمہ اجل بننے پر مجبور کر دیا تھا۔ فیکٹری ورکرز میں سے اکثر کی لاشیں تو اس طرح پانی اور کیمیکل میں جل کر گھل گئی تھیں کہ خاندان والوں کو تلاش کے باوجود نہ مل سکیں۔ اور ان کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھ لی گئی تھی۔ حکومت نے اس موقع پر فیکٹری مالکان کی گرفتاری کی بھی بات کی۔ مگر وہ موقع سے فرار ہو گئے۔ فیکٹری میں کام کرنے والے کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ ہر سال دو
سال بعد ان فیکٹریوں میں آگ لگ جاتی ہے اور انشورنس کمپنیوں سے ان مالکان کو انشورنس کا اچھا خاصا پیسا ملتا ہے۔ حکومت نے متاثرہ خاندانوں کے لئے امداد کا اعلان بھی کیا۔ مگر پیسہ جان کا نعم البدل تو نہیں۔ ایک ہفتے کے اندر اندر ہی میڈیا سے فیکٹری سانحہ اور اس سے متاثر ہونے والے خاندانوں کا تذکرہ ختم ہو گیا اور کراچی شہر میں زندگی یوں رواں دواں ہو گئی جیسے یہاں کچھ ہوا ہی نہیں ہے۔ غیر قانونی عمارت سازی کے حوالے سے جو باتیں میڈیا پر ہو رہی تھیں، وہ سب ایک ہفتے میں قصہ پارینہ بن گئیں۔
عاصم کے جانے کے بعد فروا کی زندگی میں ویرانیوں نے ڈیرے ڈال دیے تھے۔ اسے علم تھا کہ جلد یا بدیر اسے اپنے والدین کی خواہش پر کسی شخص کے ساتھ رخصت ہو کر ایک نئی زندگی کی ابتدا کرنی تھی اور معاشرتی زندگی کے تقاضوں سے انکار اس کے بس کی بات نہیں تھی۔ اصل نقصان تو ان ماؤں کا ہوا تھا جن کی جوان اولادیں جب تناوردرخت بن کر پھل دینے لگیں تو فیکٹری مالکان کی ذراسی لالچ اور غیر ذمہ دارانہ رویے نے ان درختوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ آج وہ مائیں زندگی کے بجائے موت کی خواہش مندتھیں تاکہ اپنی لقمۂ اجل بننے والی اولادوں سے مل سکیں۔
آج بھی بلدیہ ٹاؤن میں بے شمار ایسی فیکٹریاں موجود ہیں جن میں آنے اور جانے کے لئے ایک ہی راستہ استعمال ہو رہا ہے۔ ایمرجنسی دروازوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں۔ جہاں کارکن کی جان سے زیادہ فیکٹری مالکان کو اپنے مال کی فکر ہے۔ سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے باوجود ان فیکٹریوں کا احتساب کرنے والا کوئی نہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *