اپنی عادت سے جانیے کہ آپ کتنے ذہین ہیں ؟

inteligentsسننے میں شاید عجیب لگے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ ذہین افراد کے بہت کم دوست ہوتے ہیں یا یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ وہ بہت کم دوست بناتے ہیں۔جی ہاں واقعی ویسے تو ہم سب ہی ایسے دوست بنانا چاہتے ہیں جو ذہین ہو مگر کچھ وجوہات ایسی ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ ذہین افراد کے دوست بہت کم ہوتے ہیں۔
لندن اسکول آکنامکس اور سنگاپور کے نارمن لی مینجمنٹ یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق کے مطابق ذہین افراد دوستوں سے میل ملاقات کی بجائے اپنی دنیا میں زیادہ خوش رہتے ہیں۔تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ذہین افراد جتنا زیادہ دوستوں کے ساتھ میل جول بڑھاتے ہیں، زندگی پر سے ان کا اطمینان اتنا ہی کم ہوجاتا ہے۔18 سے 28 سال کی عمر کے افراد پر ہونے والی طویل المعیاد تحقیق میں لوگوں کے اندر زندگی کے اطمینان کی سطح کو جاننے کی کوشش کی گئی۔محققین نے 2 پہلووں پر توجہ مرکوز کی کہ موجودہ عہد کی نسل اور ہمارے آباؤاجداز کی زندگیوں میں کیا فرق تھا، آبادی میں اضافہ اور دوستوں سے کس حد تک ملنا ہوتا ہے۔نتائج سے معلوم ہوا کہ ہم جتنا زیادہ لوگوں سے ملتے ہیں زندگی پر اطمینان کی سطح میں اتنی ہی کمی آتی ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ شہروں کے گنجان آباد علاقوں کے برعکس دور دراز دیہات میں لوگوں کے اندر خوشی کا احساس زیادہ پایا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ذہین افراد کے لیے دیگر افراد سے تعلق بڑھانا کسی مسئلے سے کم نہیں ہوتا کیونکہ وہ دنیا کو مختلف نظر سے دیکھتے ہیں، وہ اپنے ارگرد کے ماحول کو باریک بینی

images (6)سے دیکھتے ہیں جبکہ بیشتر افراد اس چیز کو نظر انداز کردیتے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ذہین افراد کے مشاغل میں سماج سے کٹ کر رہنے والے ہوتے ہیں اور گروپ سرگرمیاں انہیں بھاتی نہیں۔تو آسان الفاظ میں کہا جائے کہ آپ جتنے زیادہ ذہین ہوں گے لوگوں سے تعلق بھی اتنا ہی کم ہوگا چاہے وہ دوست ہی کیوں نہ ہو۔
یہ تحقیق برٹش جرنل آف سائیکلوجی میں شائع ہوئی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *