ڈنمارک کے شراب خانوں میں شریعت نافذ کرنے کے نام پر لوٹ مار

bar

کوپن ہیگن کے علاقے میں شراب خانوں کے مالک حضرات نے شریعہ کے نفاذ کی کوششوں سے تنگ آ کر وزیر سے مدد مانگ لی۔ انہوں نے شکایت کی ہے کہ بعض مسلمان لڑکے متعدد بار شراب خانوں پر آ کر ملازمین کو ہراساں کرتے اور شرعی نفاذ کر مطالبہ کرتے ہیں۔ متعلقہ علاقہ کے بار مالکان نے کئی بار پولیس کو  شکایت کی ہے کہ غیر ملکی مسلمان لڑکے انہیں حراست کا شکار بناتے ہیں اور ان سے زبردستی رقم وصول کرتے ہیں۔ شریعہ زون کا مفروضہ پانچ سال پہلے کچھ اسلامی شدت پسندوں کے  متعارف کروایا تھا۔ کچھ لڑکے مختلف عوامی جگہوں کے چکر لگاتے اور شراپ پینے ، جوا کھیلینے اور دوسرے غیر اسلامی حرکتیں کرنے والوں کو تنگ کرتے ۔ لڑکوں کے یہ گینگ آگ کے گولے اور پتھر کا استعمال بھی کرتے اور عمارتوں کے شیشے توڑ دیتے ۔ پولیس ان غنڈوں کو روکنے میں مکمل طور پر بے بس نظر آئی۔ ایک شراب خانے کے مالک نے بتایا کہ  ان لڑکوں کی طرف سے اس سے 9200 ڈالر کی رقم کا مطالبہ کیا گیا۔ بدھ کو کمیٹی نے معاملہ امیگریشن منسٹر کے سامنے رکھا اور انہیں تفصیلات سےآ گاہ کیا۔ وزیر نے کچھ اور سیاستدانوں کے ہمراہ متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور انہیں بھی دو عورتوں کے ہاتھوں ذلت کا سامنا کرنا پڑا۔ دونوں عورتوں کو قانون توڑنے پر متعلقہ قانون کے تحت جرمانہ کیا گیا۔ اس سے پہلے وزیر نے عرب ایکٹیوسٹس کو خبردار کیا کہ وہ اپنی حد میں رہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ شریعہ زون کا کوئی نفاذ ڈنمارک میں ممکن نہیں ہے۔ اور ایسا کوئی بھی خود ساختہ قانون بنانے پر پولیس حرکت میں آئے گی اور ذمہ داروں کو سزا دلوائے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *