منڈی بہاوالدین کے عیسائیوں کی مدد کیجئے

شمیلہ غیاث

shamila ghyas

ہمیں منڈی بہاوالدین کے خوفزدہ عیسائیوں کی مدد کرنی ہو گی۔ لیکن برما اور فرانس کے مسلمانوں کا کیا ہو گا جہاں لڑکیوں کو اپنا چہرہ ڈھانپنے کی بھی اجازت نہیں ہے؟ ہم مسلمان ہر اس ملک کے بارے میں پریشان رہتے ہیں جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں۔ ہم پوری کوشش کرتے ہیں کہ ہماری آواز ان تک پہنچے۔ اس  مقصد کے لیے ہم کئی بارجوش بھی دکھاتے ہیں۔ وہ ہمیں دوسرے مذاہب کے لوگوں کے برابر سلوک کا حقدار کیوں نہیں سمجھتے ۔ اگر ہماری بات نہیں سنی جائیگی تو ہم سڑکوں پر آ کر اپنے  مطالبات منوائیں گے۔ لیکن جب بات پاکستان کی آتی ہے تو ہم خاموش بیٹھے رہتے ہیں ہمارے اپنے ملک میں کتنے لوگوں کے ساتھ بدسلوکی ہوتی ہے لیکن ہم اس پر آواز اٹھانے سے گریز کرتے ہیں۔ ہماری توجہ صرف یوکے اور یو ایس اے کے مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر ہوتی ہے۔

اس وقت جو معاملہ حل طلب ہے وہ منڈٰی بہاوالدین کے علاقے میں درپیش ہے۔ اس علاقے کے 4000 گھر مسلم برادری کے ہیں جب کہ کم و بیش 45 گھر عیسائیوں کے ہیں۔ عیسائی محنت مزدوری کرکے اور لوگوں کے گھروں میں کام کر کے گزر بسر کرتے ہیں۔ سارے عیسائی طبقے کو دھمکی دی گئی ہے کہ یا مسلمان ہو جائیں یا عمران مسیح کو زندہ جلائے جانے کے لیے مسلمانوں کے حوالے کر دیں تاکہ وہ اسے علاقے کے اکلوتے چرچ کے سامنے آگ کے منہ میں ڈال کی زندگی سے محروم کر دیں  کیوں کہ اس پر توہین رسالت کا الزام ہے۔ عمران مسیح نے آخر کیا کیا ہے جو مسلمان پورے محلے کے درپے ہو گئے ہیں؟

عمران مسیح اپنے ایک مسلمان دوست کی بیٹی کی شادی سے گھر آیا اور ایک ویڈیو بھی اپنے موبائل پر بنا رکھی تھی۔ جب وہ ہیلتھ سینٹر میں کام پر جانے لگا تو ایک مسلمان ساتھی نے کہا  کہ ویڈیو ہمیں بھی دکھاو۔ عمران مسیح نے موبائل اسے پکڑایا اور خود کام پر چلا گیا۔ واپس آیا تو اس کا موبائل ایک دوسرے مسلمان بلال کے ہاتھ میں تھا جو ایک ایسے ویڈیو دیکھ رہا تھا جس میں اسلام پر تنقید کی گئی تھی۔ بلال یہ ویڈیو سب کو دکھا رہا تھا کہ عمران مسیح اس طرح کا توہین آمیز مواد دیکھتا ہے۔ ہیلتھ سینٹر میں عمران مسیح کام کرنے واحد عیسائی تھا۔

اس بات پر عمران مسیح کو خوب زدو کوب کرنے کے بعد ایک کمرے میں بند کر دیا گیا جہاں سے اسے کمیٹی ممبرز نے آزاد کرایا اور فیصلہ صلح صفائی سے طے کرنے کا کہا۔ اگلے دو دن صورتحال معمول پر رہی  لیکن تب مولوی منظور نے عمران مسیح کو بھاگ جانے کا کہا  اور بتایا کہ اس کے سر کی قلم کرنے کا فتوی جاری ہو چکا ہے۔

علاقہ کے ایک بزنس مین نے عمران کے قتل پر ایک  ملین روپے انعام کا اعلان کر دیا ۔ بلال نے عمران کی شکایت علما سے بھی کردی جنہوں نے اس کے ہر حال میں قتل کا فتوی جاری کیا۔

نتیجتا عمران مسیح کو بھاگنا پڑا اور اب پوری مسیح برادری ظلم و جبر کا سامنا کرنے پر مجبور ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جس میں علاقہ سے عیسائیوں کو بھگانے کے لیے جھوٹے الزامات لگائے گئے ہوں۔ اس سے پہلے ایک امام مسجد نے رمشا مسیح پر قران کے صفحات کی بے حرمتی کا الزام لگایا تھا۔ تحقیقات کے بعد معلوم ہوا تھا کہ صفحات امام مسجد نے خود جلائے تھے تا کہ مسیحی برادری سے ایریا کو خالی کرایا جا سکے۔

اگرچہ بعد میں رمشا کو تمام الزامات سے بری کر دیا گیا لیکن اس کے فیملی کو کینیڈا ہجرت کرنی پڑی۔ اس سے قبل ایک مسیح جو حجامت کا کام کرتا تھا ایک دن ایک مولوی صاحب کی حجامت کرتے ہوئے انہیں حالات کا شکار ہو گیا۔ امام صاحب نے اقبال مسیح کو فوران اسلام قبول کرنے یا جان سے ہاتھ دھونے کی دھمکی دی اور اقبال تھائی لینڈ ہجرت کرنے پر مجبور ہو گیا۔ ایک عیسائی لڑکی کو اللہ کا نام پکارنے پر زندہ جلا دیا گیا۔

منڈی بہائو الدین کے لوگوں کے لیے بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں ۔ اگر مسلمان چاہتے ہیں کہ دوسرے ممالک میں ان کے بھائیوں کو نقصان نہ پہنچے اور تو انہیں اپنے ملک کی اقلیتوں سے اسی برابری کے قانون کے تحت پیش آنا ہو گا۔ اگر ہم ایک مسلمان کے ساتھ زیادتی پر آواز اٹھا سکتے ہیں تو ہمیں لاکھوں غیر مسلموں کی حق تلفی پر بھی آواز اٹھانی ہو گی۔ اس وقت منڈی بہاوالدین کے تمام عیسائیوں کو پاکستان اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی مدد کی ضرورت ہے ۔ اگر آپ اس وقت ان کی مدد نہیں کرتے تو آئندہ کسی مسلمان پر کیے گئے ظلم پر آواز اٹھانے کا حق کھو دیں گے۔

source:thenation

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *