خراٹے جان لیوا امراض کا باعث

Kharatay

خراٹے ویسے تو کسی بھی شخص کو پسند نہیں خاص طور پر گھر میں کوئی اس عارضے کا شکار ہو تو دیگر افراد کی نیند خراب ہونے کا خدشہ ہوتا ہے تاہم یہ کسی بڑے مرض کی علامت بھی ہوسکتی ہے۔ یہ انتباہ ایک امریکی طبی تحقیق میں سامنے آیا۔ ہنری فورڈ ہاسپٹل کی تحقیق کے مطابق خراٹے عام طور پر رات کو نیند کے دوران جسم میں آکسیجن کی کم مقدار جذب ہونے کے نتیجے میں عادت بنتے ہیں جس کے دوران سانس چند لمحوں کے لیے رکتی ہے۔ تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ خراٹوں سے گلے میں شہہ رگ کو نقصان پہنچتا ہے جس کے نتیجے میں فالج اور دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ خراٹوں کے نتیجے میں شہہ رگ کو تمباکو نوشی، ہائی کولیسٹرول یا موٹاپے سے زیادہ نقصان پہنچتا ہے اور یہ وہ رگ ہے جو دماغ کو خون پہنچاتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ خراٹوں کے نتیجے میں شہہ رگ کی موٹائی میں اضافہ ہوتا ہے اور اکڑن پیدا ہوتی ہے جو مختلف امراض کا خطرہ بڑھاتی ہے۔ تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ خراٹوں کے نتیجے میں شہہ رگ میں آنے والی تبدیلیاں بتدریج اندرونی ورم کا باعث بنتی ہیں جس کی وجہ خراٹوں سے رگوں پر مرتب ہونے والا ارتعاش ہوتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران 18 سے 5 سال کی عمر کے 913 افراد کا جائزہ 6 سال تک لیا گیا جس کے بعد یہ نتائج سامنے آئے۔ محققین کا کہنا ہے کہ خراٹوں کو نظرانداز کرنے کی بجائے اس کا علاج کرانے پر توجہ دی جانی چاہئے۔ اس سے پہلے سعودی عرب کی دمام یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق کسی شخص کے ٹانسلز کا حجم بڑھنا، دندانے دار زبان وغیرہ نیند کے دوران سانس رکنے یا خراٹوں کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ اس تحقیق کے دوران محققین نے 200 مریضوں کا جائزہ لیا اور خراٹوں کا باعث بننے والے عناصر کے بارے میں جاننے کی کوشش کی۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ موٹاپا، بڑے ٹانسلز اور چھالوں جیسی زبان خراٹوں کا باعث بننے والی عام وجوہات ہیں :-

Source: Dawn News

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *