جے جے کی کپڑوں کی دکان

qasim yaqoob

مجھے جے جے کے بوتیک پر کئی بار جانے کا اتفاق ہوا ہے۔ مگر حسنِ خوبی یا بد قسمتی کہیں کہ میں کبھی بھی خریداری نہ کر سکا۔اب آپ کہتے ہوں گے کہ آپ کرنے کیا جاتے تھے تو جناب میں اکیلا کبھی بھی نہیں گیا ہمیشہ کسی دوست یا عزیز کے ساتھ چلا گیا اور دوستوں کو بہت کچھ خریدتے دیکھا۔ میرے ایک کولیگ یاسر عرفات چٹھہ بہت اعلیٰ نسل کی بوتیک پہنتے ہیں۔ میں اپنے اشتیاق کی اشتہا کو بجھانے کے لیے کبھی کبھار اُن سے پوچھ بھی لیتا ہوں کہ آپ اتنے اعلیٰ دیسی ڈیزائن کپڑے کہاں سے بنواتے ہیں تو اُن کا ہر دفعہ یہی جواب ہوتا ہے ’’JJ‘‘ یعنی جے ڈاٹ ___ایک بارمجھے اپنے چھوٹے بھائی کی خریداری کے سلسلے میںJJکا نام یاسر چٹھہ صاحب کی خوش ذوقی کی بدولت یاد آیا ۔ سو میں JJچلا گیا اور اپنے اندر ایک نئی بحث کی واردات لیے لوٹا۔
میں کپڑوں کی سادگی اور نفاست دیکھتے ہوئے متاثر تو ہُوا مگر اگلے ہی لمحے میرے ذہن میں یہ سوال گردش کرنے لگا کہ یہ نفاست اور جمال پسندی میرے عام شہریوں کے لیے کیوں نہیں ہے، وہ ایسے کپڑے کیوں نہیں پہنتے؟طرح طرح کے ڈیزائن اور فیشن زدہ یہ کپڑے کیا قومی لباس میں جدت اور خوبصورتی میں اضافہ نہیں کرتے۔ _____ مجھے اس سوال کا جواب سٹور کی سیڑھیاں اترنے سے پہلے مل گیاتھا۔وہ جواب میرے چھوٹے بھائی کا وہ مختصر سا جملہ تھا ’’ کپڑے تو اچھے ہیں مگر اتنے اچھے نہیں جتنی اُن کی قیمتیں ہیں‘‘۔
کئی روز تک میرے ذہن میں JJبوتیک اوراس کے مالک کا مذہبی کردار گردش کرتا رہا ۔ JJ ہمارے ملک کا مایہ ناز گلوکار تھا۔مگر انھوں نے اسلامی تعلیمات کے آگے اپنے کیرئیر کو ختم کر دیا اور اسلام کے لیے وقف کر دیا۔ وہ اکثر تعلیمی اداروں اور اجتماعات میں خطبات دیتے اور لیکچرز پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ اُن کا یہ کام یقیناً احسن ہے جس پر ہر مسلمان اُن کو داد دیتا ہے۔مگر اُن کی بوتیک ایک ایسی کلاس کی تشفی کا باعث بن رہی ہے جن کو وہ راہِ راست پر لانے کے لیے تبلیغی جماعت کے اہم رکن بن گئے ہیں۔ جنید جمشید نے قومی لباس شلوار قمیض کو ایک خاص کلاس میں دوبارہ زندہ کر دیا ہے اور یہ اُن کا نہایت اہم کارنامہ بھی ہے۔ پتلون شرٹ کے مقابلے میں ہمارے یہ فیشن زدہ نوجوان کُرتے اور شلوار قمیض کو ایک فیشن کے طور پر پہنتے اور قومی لباس پر’’فیشنی فخر‘‘ کرتے ملتے ہیں۔فنگشنز پر بھی JJ کے مہیا کردہ اس کلچر کا مظاہرہ دیکھا جا سکتا ہے۔
وہ کہا جاتا ہے کہ طاقت ہی اشیا کی ماہیت متعین کرتی ہے۔ طاقت نے ہی یہ فیصلہ دینا ہوتا ہے کہ سماج میں کس کلچر کو زندہ رہنا ہے اور کسے مرجھا جانا ہے۔ طاقت اور طاقت ور طبقے کے ساتھ منسلک اشیا خود بخود سماج کا ناگزیر حصہ بن جاتی ہیں۔ بعض اوقات تو وہ اشیا بھی اپنی جگہ بدل لیتی ہیں جو پہلے غیر مقتدر حصے سے منسلک سمجھی جاتی ہیں۔اگر طاقت ور کو وہ پسند آ جائیں تو وہ کمزور اور محروم طبقے سے چھین کے مقتدر طاقتیں اپنا کلچر بنا لیتی ہیں۔ اب آپ دیکھیں یہ’’ ڈھابے‘‘ اور چھپڑ ہوٹل کس طرح طاقت ور طبقے کی سماجیات کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔آپ کو نہایت مہنگی کاروں کے نہایت نازک لڑکے اور لڑکیاں ان ڈھابوں پر بیٹھے وہی ’’گندی‘‘ اشیا سے لطف اٹھاتے ملیں گے جنھیں’’ جائی جینک ‘‘کہہ کر ایک عرصے تک سماج کا طاقت ور طبقہ رد کرتا رہا ہے۔ طاقت ہی یہ بتاتی ہے کہ اشیا کی قدر کیا ہوگی اور قدر سماج میں کس طرح رائج ہو گی۔ ہمیں اپنی زبان بولتے شرم آتی ہے ، کیوں کہ طاقت کے مراکز نے انھیں حاشیے پہ پھینک دیا ہے۔مقتدرہ کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ کس کو حاشیے پہ پھینک دے اور کس کو حاشیے سے اٹھا کے مرکز میں لے آئے۔ یہ سارا عمل وہ اپنی شرائط، مزاج اور ضرورت کے مطابق کرتی ہے۔
JJ ایک مذہبی برانڈ کی جمالیات بھی رکھتا ہے۔یعنی کلچر کی مقتدرہ اور غیر مقدرہ دونوں حاشیوں کی فکریں اس ایک جگہ ملی ہوئی ملتی ہیں۔ مذہبی آئیڈیالوجی کے نمائندوں نے اب کی بار یہ کام مقدرہ کے ہاتھوں انجام دینے کی کوشش کی ہے۔ کرکٹر، ایکٹر، معروف سیاست دان، گلوکار وغیرہ معاشروں میں سلیبرٹری کہلائی جاتی ہیں۔ لہٰذا ان نکی وساطت سے حاشیے کے دونوں اطراف کو ایک جگہ لایا جا سکتا ہے۔
مقدرہ کو بھی اس میں فائدہ ہو رہا ہے سماج کا وہ طبقہ جو حاشیے پہ جانے سے کترا تارہا ہے اب حاشیے پہ جانے سے ڈرتا نہیں کیوں کہ اسے وہ تمام سامان مہیا کر دیا گیا ہے جس کی نفی سے ڈرتے وہ اپنی جگہ پر ہی رہتا تھا اور کمزور اور محروم طبقے میں جانے سے گھبراتا یا ایک فاصلہ رکھتا تھا۔ JJ ایک برانڈ بھی ہے، ایک کلچر بھی ایک روایت کا پاسبان ادارہ بھی۔ پچھلے دنوں جو JJ فکر کو دھچکا لگا اُسے بچانے کے لیے ہمارے معروف علام جس طرح میدان میں اترے اُس کی مثال بھی تاریخ سے دینا مشکل ہے۔ کاش ہم ان شیعوں کے لیے بھی اسی طرح میدان میں نکلتے جو بسوں سے نکال کے مار دیے جاتے ہیں، کاش ہم اُن کے لیے بھی ’’امت‘‘ کی بدحالی پر رسول اللہ سے دعا کرتے رونے لگتے جو بازاروں میں، مسجدوں میں بم پھاڑ کے ذمہ داری بھی قبول کرتے رہے ہیں۔ خیر ہم اس طرح موضوع سے ہٹ جائیں گے، تو بات ہو رہی تھی JJ کی۔۔۔۔۔۔۔
میں نے اپنے نہایت عزیز دوستوں عاقل فاروق اور عادل فاروق کے درمیان اس بحث کو چھیڑ دیا کہ JJ نے ایک طرف قومی لباس کی توقیر بحال کی ہے تو دوسری طرف کلاسز میں تقسیم بھی کر دیا ہے۔ JJایک علامتی فیشن بن کر صرف اُس کلاس کا حصہ بنا دیا گیا ہے جو اپنے سے کم تر کلاس کا منہ چڑا رہی ہے۔ فرق کلچر یا رہن سہن سے نہیں بلکہ قیمتوں اور نام نہاد فیشن کے تفاوت سے وقوع پذیر ہُوا ہے۔ غریب آدمی کی پہنچ سے جان بوجھ کے دور رکھا گیا ہے۔ مگر میری اس بات کو عادل ماننے سے انکاری تھا۔ وہ بضد تھا کہ J کے ہاں کوئی خاص فرق نہیں کوئی بھی جا کر خرید سکتا ہے اور پھر ہر چیز ہر کسی کے لیے نہیں ہوتی۔اتنے میں عادل کے والد بھی آگئے۔ وہ اسلامی کلچر پر کافی دسترس رکھتے ہیں۔ میں نے اُن سے سوال کیا کہ کیا کسی پراڈکٹ کو من مانے منافع پر بیچنا جائز ہے؟ کیا منافع کی کوئی حد ہے؟ اور کیا فکس پرائس سے آپ پہلے ہی ایک کلاس کو قریب اور ایک کو دور نہیں کر دیتے؟
میاں صاحب نے میرے حق میں گفتگو کرنا شروع کی۔وہ کہنے لگے کہ اسلام میں منافع بحث و تمحیص کے باعث متعین کرنے کا کہا گیا ہے ۔ صحابہ اپنی اشیاکو تجارت کی غرض سے لے جاتے اوراپنے گاہکوں سے دو،دو ،تین تین دن بحث مباحثہ کرتے اور جس کو اپنی استعداد کے مطابق چیز پسند آتی وہ خرید لیتا۔ کسی بھی گھٹیا چیز کے دام ،اعلیٰ چیز کے دام کے برابر کرنے کا سوال بھی پیدا نہیں ہوتا تھا۔یوں ہر گاہک کسی بھی چیز کو حاصل کرنے کے لیے اپنی اپنی استعداد کے مطابق بحث مباحثہ کر سکتا تھا، ایسا نہیں تھا کہ چیز کی قیمت کو پہلے ہی سے متعین کر دیا جاتا اور دور ہی سے آنے والا واپس مڑ جاتا۔یہ تو ضرورتوں کا استحصال ہے اور ایک خاص گروہ کو ہی اشیا خریدنے کا عندیہ ہے۔ پھر اس سے بھی بڑھ کر کہ آپ بیچے جانے والی چیز پر کتنا منافع لے رہے ہیں۔ اگر تو بحث و تمحیص نہیں تو یہ اور بھی خطرناک اور ناجائز ہے کہ چیز 100کی ہے اور آپ اُس کو 1000کی بیچیں۔ یعنی اگر دوکان پہ یہ پہلے بتا دیا یا چسپاں کر دیا گیا ہے کہ یہ اتنے کی ہے اور یہ قیمت بھی فکس ہے تو آپ اسلامی نقطۂ نظر سے غلط کر رہے ہیں۔ غیرب تو تب اس طرف آئے گا نا جب وہ ایک شبہ رکھ کے دوکان پہ چڑے۔ اگر اسے پہلے ہی دکھا دیا گیا ہے کہ اس کی اتنی اور اس کی اتنی قیمت ہے لینا ہے تو لو ورنہ دوکان سے نکل جاؤ تو پھر آپ کیا کاروبار کر رہے ہیں۔‘‘
میں میاں صاحب کی گفتگو سن رہا تھا ۔ میں نے مزید پوچھا کہ اگر منافع دینے پر گاہک کو کوئی اعتراض نہیں تو دوکان دار کو دینے میں کیا شرم___!!!میاں صاحب نے اس پر محفل کو حضرت بایزید بسطامیؒ کا ایک واقعہ سنایا۔ایک دفعہ حضرت بسطامیؒ اپنی کپڑے کی دوکان پر نہیں تھے۔ اُن کے ملازم نے ایک گاہک کودو قسموں کے کپڑے دکھائی۔ ایک کی قیمت زیادہ تھی اور دوسرے کی کم_____گاہک زیادہ قیمت والے کپڑے کی قیمت ادا کر کے کم قیمت والا کپڑا لے گیا۔ ملازم کو بھی کوئی عار نہ ہوا۔ ملازم نے حضرت بسطامیؒ کو واقعہ بتایا تو آپؒ بہت برہم ہوئے اور اُس کو تلاش کرنے کا حکم دیا۔ ملازم تلاش میں ناکام ہُوا تو آپؒ ملازم کے ساتھ خود نکل پڑے۔ کئی دنوں کی تلاش کے بعد اُس آدمی کو سچ سے آگاہ کیا اور اُس کی کم قیمت کپڑے سے زیادہ منافع واپس کر دیا۔
میرے ذہن میں میاں صاحب کی باتوں سے دو سوال ابھی تک گردش کر رہے ہیں کہ ہمارے قول وفعل میں تضاد کا دائرہ کار اب بڑھتا جا رہا ہے اوراس کی لپیٹ میں اب مذہبی فلاسفی بھی آ گئی ہے۔ ہم ایک کاروباربندکر کے دوسری قسم کامنافع بخش کاروبار شروع کر لیتے ہیں۔یوں مذہبی جمالیات بھی مجروح نہیں ہوتی اور کام بھی چلتا رہتا ہے۔مجھے ایسے لگ رہا تھا کہ ابھی فکروں میں کھلا پن نہیں آیا۔ ہمیں ا بھی تک قربانی دینے کے احسن جذبے کو اپناتے ہوئے ہچکچاہٹ محسوس ہوتی ہے۔JJاگر کلاس تفریق کا باعث نہیں بن رہا تو اتنی قیمتیں کیوں ہیں؟ اگر اتنی قیمتیں رکھنا کوئی برائی نہیں کیوں کہ سرمایہ دار سماج میں سب چلتا ہے تو اسلامی فکریات کی تبلیغ کیوں؟ نبی پاک کی امت کی اتنی فکر کیوں؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *