آئینے کی کرچیاں اورعکس

faisal rasheed

ایمان، عقائد اور مذاہب انسانی معاشرے کا حسن ہے ۔ایمان اور عقائد ایسے احساسات ہیں جو مذہب کی روشنی میں اپنے تخلیق کار کو ڈھونڈنے،اُس کے ہونے کا پرچار کرنے یا اُس تک پہنچنے کی جہد میں محوہیں۔خُدا ہے۔یہ احساس میرا ایمان اور جب یہی احساس پرورش پاتا جوانی کی سیڑھی پر اپنا پہلا قدم رکھتا ہے تو عقیدہ جنم لیتا ہے۔خدا نے کائنات بنائی ،خدا قادر ہے، خدا عظیم ہے، خدا تنوع پر یقین رکھتا ہے۔ ان تمام خیالات یا نظریات کی سچائی کے پیمانے میں تلاش کو مذہب کی روشنی پایا تکمیل تک لے جانے میں معاون بنتی ہے۔یہ عقائد تین مختلف اشکال میں انسان کی رہنمائی فرماتے ہیں۔پہلی شکل تو انسان کی وراثتی ہے کہ وہ جن والدین کے ہاں پیدا ہوا ہے اُن کے عقائد کی رسی کو تھامے اپنے احساسات کو پروان چڑھاتا ہے ۔دوسری شکل انسان کے اپنے اختیار میں ہے جب وہ ایک سے زائد اور اپنے عقائد کے باہر دوسرے عقائدکا مطالعہ مختلف مذاہب کی بجائے اپنی عقل و فہم کی روشنی میں کرتا ہے اور اختیاری یا پسندیدہ عقائد پرست کا لقب لیتا ہے۔تیسرا درجہ انتہائی خطرناک ہے جو انسانوں کے گرد ایک ایسا ماحول پیدا کر دیتا ہے اور ان کو مجبور کر دیتا ہے کہ وہ اپنے وراثتی یا اختیاری عقائد کو چھوڑ کر کسی ایسے عقائد کا لبادہ زیرِ قلب کریں جو وقت نے اُن کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔عقائد کوئی بھی ہوں۔حالات کیسے بھی ہوں۔احساسات کسی بھی تناظر کے جھولے میں جھول رہے ہوں خالق نے اپنے بندوں کو آزاد پیدا کیا ہے۔ انسان کی پیدائش کے وقت انسان ان تمام تر سوچوں اوراحساسات سے بالا تر ہوتا ہے۔اس سے قدرت کا ایک راز تو افشاں ہوتا ہے کہ قدرت زبردستی کی قائل نہیں۔اب یہ قدرت کا کرشمہ ہی ہے کہ باپ ایک ماں ایک۔تمام بچوں کی پیدائش کا طریق کار بھی ایک۔تمام بچے ایک ہی ماں کے رحم میں یکساں ایام گزار کے آئے ۔ایک ہی گھر کے ماحول میں پرورش پاتے ہیں۔مگر عملی طور پر سب کی پسند اور ناپسند میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ کوئی آم کو پسند اور کوئی سیب کھانے کی لگن میں گم۔کسی کو سفید پسند تو کوئی سرخ کا قائل۔مطلب صاف ہے کہ تمام انسانوں کا تخلیق کار تنوع (یعنی رنگا رنگی یا قسم قسم کی)قائل ہے ۔تبی تو خدا نے اپنے بندوں کی رہنمائی کے لیے تقریباََ ایک لاکھ چونیس ہزار انبیاء اکرام،پیغمبر اور رسول بھیجے۔جو کہ مختلف انداز میں،مختلف مذاہب کی مختلف تعلیمات کی روشنی کا چراغ مختلف اوقات میں روشن کرتے رہے۔مطلب خدا کو پسند ہے کہ اُس کا نام لینے والے تو ہوں،اُس کو پکارنے والے تو ہوں مگر اُس کا نام لیں اور اُس کو پکاریں مگر رنگا رنگ انداز میں،قسم قسم کے مذاہب کی روشنی میں۔جس کا اظہار خدا نے خود اپنی چوتھی الہامی کتاب (قرآن کریم کی سورۃ ہود، آیت نمبر 118 ) میں ان الفاظ میں کیا۔’’ولو شاء ربک لجعل الناس اُمۃََ واحدۃََولا یزالون مختلفین o تر جمعہ: اور اگر تیرا رب چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی رستہ پر ڈال دیتا ، اور ہمیشہ اختلاف میں رہیں گے‘‘۔یہ بات یہی پر ختم نہیں ہوئی خدا نے دوسروں کے عقائد حتیٰ کہ غیر اللہ پر ایمان رکھنے والوں کے عقائد کا بھی احترام (سورۃ الانعام کی آیت نمبر 108 ) میں ان الفاظ میں سیکھایا؛ ’’ولا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ فیسبوا اللہ عدوا بغیرعلم کذالک زینا لکل امۃ عملھم ثم الیٰ ربھم مرجعھم فینبءھم بما کانو ا یعملون o ترجمعہ: اور جن کی یہ اللہ کے سوا پرستش کرتے ہیں انہیں برا نہ کہو ، ورنہ وہ بے سمجھی میں زیادتی کر کے اللہ کو برا کہیں گے ، اس طرح ہر ایک جماعت کی نظر میں ان کے اعمال کو ہم نے آراستہ کر دیا ہے، پھر ان سب کو اپنے رب کی طرف لوٹ کر آنا ہے تب وہ انہیں بتلائے گا جو کچھ وہ کیا کرتے تھے‘‘۔لیجئے جناب! خدا تعالیٰ اپنی چوتھی الہامی کتاب (قرآن مجید) کی سورۃ نمبر 6 (الانعام ) کی درج بالا آیت کریمہ میں دوسرے عقائد کی قبولیت کی ترغیب دلا رہا ہے۔جس سے ایک بات تو واضح ہے کہ کسی شخص کو کسی شخص کی عقائد کے بارے میں بولنے ، ذاتی رائے قائم کرنے یا تنقید کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے ۔تو میں یہ کہہ سکتا ہوں۔
میں رام کہوں کہ رحیم مانوں بُلا تو اُسے ہی رہا ہوں
میں ہاتھ باندھوں یا ہاتھ جوڑوں پُکار تو اُسے ہی رہا ہوں
یہ میرا اور خُدا کا معاملہ ہے
تم بیچ نہ آؤ تو اچھا ہے
بات کو تو ٹہراؤ نہیں آیا بلکہ دوسروں کو اپنے عقائد یا جماعت میں شامل کرنے کی بھی ممانعت سورۃ یونس کی آیت نمبر (99 ) میں ان الفاظ میں ارشاد فرما دی۔ ’’و لو شاء ربک لامن مَن فی الارض کلھم جمیعاََ افانت تکرہُ الناس حتیٰ یکونو مومنین o ترجمعہ: اور اگر تیرا رب چاہتا تو جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کے سب ایمان لے آتے ، پھر کیا تو لوگوں پر زبردستی کرے گا کہ وہ ایمان لے آئیں‘‘۔ لو جناب! اس ارشاد باری تعالیٰ نے تو تمام بحث و مباحثے ہی ختم کر ڈالے۔ مذکورہ بالا آیت کریمہ کا پہلا حصہ خدا تعالیٰ کی مرضی کی گواہی دے رہا ہے کہ اگر خدا کو ایک ہی مذہب یا عقیدہ انتہائی پسند یا عزیز ہوتا تو کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ تمام لوگوں(بندوں/ انسانوں) کو ایمان والا (مسلمان/ مومن) ہی پیدا فرماتا۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ خدا یہ کر سکتا تھا/ ہے۔ مگر خدا تنوع یعنی رنگا رنگی کا قائل ہے اُسے قسم قسم کی آوازیں، مختلف انداز بیاں، کئی طرح کے پکارنے کے انداز پسند ہیں۔ان تمام تر درج بالا آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو انسانوں کے ساتھ ربط قائم کرنے، اُس کو پکارنے یا اُس کی پرستش کرنے کی کوئی حد یا یکسانیت قائم نہیں فرمائی بلکہ تنوع قائم رکھنے کی کئی مثالیں سامنے رکھی ہیں۔
اب کچھ جھلکیاں نبی اکرم ﷺ اور اصحاب اکرامؓ کی احیات مبارکہ کی بھی ملاحظہ فرما لیں پھر ہم فیصلہ کرتے ہیں کہ موجودہ اوقات میں ہم کس خدا اور کس نبیﷺ اور کن اصحاب اکرامؓ کی احیات کے پیروکاری کا پرچار کر رہے ہیں اور جنتی اور جہنمی کی اسناد جاری فرما رہے ہیں۔اس میں کچھ تردد شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ نبی مکرم ﷺ اور آپ کے خلفاء راشدین نے مختلف اقوام و ملل سے جو معاہدے یا صلح نامے کئے ان میں ہمیں وسعت نظری، ٖغیر مذاہب کو ادب و احترام ، ہر کسی کی مذہبی آزادی، معاشرتی اور تجارتی آزادی کی چھوٹ ملتی ہے۔
اہل نجران کو نبی اکرم ﷺ نے جو صلح نامہ تحریر فرما کر دیا تھا اُس کے الفاظ کچھ یوں تھے۔
’’ترجمعہ: نجران کے مسیحیوں اور ان کے ہمسایوں کے لیے پناہ اللہ کی اور محمدﷺ کا عہد ہے؛ ان کی جانوں کے لیے، ان کے مذہب، ان کی زمین، ان کے اموال، ان کے حاضر و غائب، ان کے اونٹوں ،ان کے قاصدوں اور ان کے مذہبی نشانات سب کے لیے جس حالات پر وہ اب تک ہیں اسی پر بحال رہیں گے۔ ان کے حقوق میں سے کوئی حق اور نشانات میں سے کوئی نشان نہ بدلا جائے گا‘‘۔ (فتوح البلدان ص 73 )
آج کے وقت میں وہ شخص کامل دین اسلام کی راہ پر ہے جس کے شر،ہاتھ یا زبان سے کوئی غیر مسلم خود کو غیر محفوظ قرار دے۔وہ شخص جنت کے باغات میں سیر کرے گا جو غیر مسلموں کے مذہبی نشانات یا اُن کی عبادت گاہوں کو مٹانے یا مسمار کرنے میں سرخرو ہو جائے۔
خلیفہ دوئم حضرت عمرفاروقؓ نے فتح بیت المقدس کے موقع پر اہل بیت المقدس کو جو صلح نامہ لکھ کر دیا تھا ملاحظہ فرمائیں اُس کے الفاظ کچھ یوں لب کشائی فرما رہے تھے۔
’’ان کو امان دی ان کی جان و مال اور ان کے کنیسوں اور صلیبوں ، ان کے تندرستوں اور بیماروں کے لئے ، یہ امان ایلیا کی ساری ملت کی ہے۔ عہد کیا جاتا ہے کہ ان کے کنیسوں کو مسلمانوں کا مسکن نہ بنایا جائے گااور نہ ہی ان کو منہدم کیا جائے گا۔ نہ ان کے احاطوں اور ان کی عمارتوں میں کوئی کمی کی جائے گی۔نہ ان کی صلیبوں اور ان کے اموال میں سے کسی چیز کو نقصان پہنچایا جائے گا۔ ان پر دین کے معاملے میں کوئی جبر نہ کیا جائے گا اور نہ ان میں سے کسی کو ضرر پہنچایا جائے گا‘‘۔ (تاریخ طبری فتح المقدس، ج4 ، ص 159 )لیجیے جناب ! یہ اُن صاحب کا تحریر کردہ صلح نامہ ہے جن کو تمام اصحاب اکرامؓ میں سب سے زیادہ غصہ کے حامل تصور کیا جاتا ہے اُن کی غیر مذہب اور عقائد کے ماننے والوں کے لئے عملی مثال آپ کی گوش گزار ہے۔
نبی اکرم ﷺ نے اپنے صحابہ میں سے ایک صحابی رسول ﷺ (سیف اللہ یعنی اللہ کی تلوار) کے لقب سے نوازے جانے والے حضرت خالد بن ولید جب ۱۴ ھ میں دمشق فتح کرتے ہیں تو اہل دمشق کو امان نامہ درج ذیل الفاظ میں لکھ کر دیتے ہیں۔
’’ترجمعہ: ان کو امان دی ان کے جان و مال کے لئے اور ان کے کنیسوں اور ان کے شہر کی فصیل کے لئے ان کے مکانات میں سے نہ کوئی توڑا جائے گا اور نہ ہی مسلمانوں کا مسکن بنایا جائے گا‘‘۔ (فتوح البلدان ص۱۲۷۔۱۲۸) دوسراصلح نامہ اہل عانات کے نام کچھ ان الفاظ میں مرتب فرمایا گیا۔
’’ ترجمعہ: ان کو کوئی معبداور کوئی گرجا گھر منہدم نہ کیا جائے گا۔رات دن میں جب چاہیں اپنے ناقوس بجائیں مگر اوقات نماز کا احترام ملحوظ رکھیں ۔ان کو حق ہو گا کہ اپنے ایام عید میں صلیب نکالیں‘‘۔ (فتوح البلدان ص ۸۶)
جناب نہایت ادب سے التماس ہے کہ درج بالا حقائق کی روشنی میں آئینے کا رُخ کرہ ارض کے خطے (اسلام کا قلعہ مانے جانے والے) پاکستان کے مسلمانوں کے عملی انداز برائے غیر مسلم کی جانب کرتے ہیں اور تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ پاکستان میں کس اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں نبی مکرم ﷺ کی سنتوں اور اصحاب اکرامؓ کی پیروی کی جا رہی ہے۔جناب والا! ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں سالانہ ایک ہزار(1000 ) غیر مسلم لڑکیوں کو زبردستی دائرہ اسلام میں داخل کرنے کی غرض سے زبردستی شادیاں کی جاتی ہیں۔یہ مسیحی اور ہندو لڑکیاں اپنے عقائد کی قربانی دے کر مسلم شہزادوں کو جنت کا ٹکٹ دلواتی ہیں۔پاکستان کے کئے مندروں اور گرجا گھروں کو مسلمانوں کی جائے رہائش یا کاروبار قرار دیا جا چکا ہے۔گوجرہ،سانگلہ،شانتی نگرکے علاوہ لاہور کے متعدد علاقوں میں مسیحی گھروں اور اموال کو نظر آتش کر دیا گیا ہے۔ایک خاص تعداد کو توہین مذہب،رسالت اور صحابہ اکرامؓ کا الزام لگا کر احاطہ عدالت یا اُن کی جائے رہائش پر ہی جہنم وصل کر دیا گیا ہے۔رواں ماہ کے گزشتہ ایام میں پنجاب کے ضلع منڈی بہاؤ الدین کے ملحقہ گاؤں چک 44 میں زبردستی تبدیلی مذہب کی تحریک کا آغاز کردیا گیا ہے۔گاؤں میں بسنے والے مسیحی خاندانوں کا حقہ پانی بند کردیا گیا ہے کہ گاؤں کا کوئی بھی دوکاندار اُنھیں کھانے پینے کی اشیاء فراہم نہیں کرے گا۔85 افراد بشمول مرد ،خواتین اور بچے کفر کو خیر باد کہہ کر دائرہ اسلام میں قدم رکھ چکے ہیں۔باقی ماندہ کے گرد موت کا دائرہ تنگ کیا جا رہا ہے کہ وہ اسلام کو اپنا سچا مذہب مان لیں یا پھر اپنی زندگیوں کو موت کے حوالے کرنے کو تیار ہو جائیں۔
کسی حکومت کا سب سے پہلا فرض امن و امان کو برقرار رکھنا ہے تاکہ ریاست اپنے شہریوں کے جان و مال اور مذہبی عقائد کی پوری طرح حفاظت کر سکے۔ریاست کے لئے سب مقدس کتاب آئین ہوتا ہے( جس میں شہریوں کی آزادیوں اور تحفظات کی ضمانت دی جاتی ہے) آئین پاکستان کا آرٹیکل 20 ،21 اور 22 شہریوں کو مذہبی آزادی، اپنی مرضی کے مطابق عقیدہ اپنانے ،عقیدے کا پرچار کرنے ،تبلیغ کرنے ، اپنے عقیدے کے مطابق مذہبی ادارے قائم کرنے اُن کا انتظام چلانے،اپنے عقیدے کے مطابق تعلیم حاصل کرنے کی آزادیاں اور زبردستی کسی دوسرے عقیدے یا مذہب کی تعلیم دینے کی ممانعت،کسی قسم کا خاص محصول ادا کرنے جو اُس کے اپنے عقیدے کی بجائے کسی دوسرے عقیدے یا گروہ کو تقویت پہنچائے ، سے تحفظات فراہم کرتا ہے۔مگر پاکستان کے شہری مسلمانوں اور اسلام کا الم اُٹھائے ہوئے مومنوں سے درج بالا حوالہ جات کی روشنی میں سوالات ہیں کہ کیا اسلام اجازت دیتا ہے کسی غیر مسلم کی جان و مال کو نقصان پہنچانا؟ کیا اسلام میں زبردستی تبدیلی مذہب کی اجازت ہے؟ کیا جنت کا ٹکٹ صرف کسی غیر مسلم کا قتل یا دائرہ اسلام میں داخلی پر ہی ملے گا؟اگر آئین پاکستان کے آرٹیکلز کی خلاف ورزی کی جائے تو شہری خود کو احتساب کے لئے پیش کرنے کو تیار ہیں؟کیا ریاست پاکستان شہریوں کی حفاظت درج بالا آرٹیکلز کی روشنی میں کرنے کو تیار ہے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *