آدھا تیتر، آدھا بٹیر

imad zafar

بنیادی جبلتوں پر پابندی اور فطرت سے جنگ کرنا شاید بطور معاشرہ ہماری سرشت  میں شامل ہو چکا پے.ایک ایسا معاشرہ اور  اور ملک جس نے دہائیوں تنگ نظری اور شدت پسندی کی چھتری تلے نسلیں پروان چڑھوا کر ایک ایسا ماحول اور نسلیں تیار کیں جہاں آزادی اظہار خواہ وہ جبلتوں دوارے ہو یا پھر شخصی زندگی گزارنے دوارے ان کو نہ صرف ناپسند کیا جاتا ہے بلکہ ایسا کرنے والوں کو موت کی نیند سلا دیا جاتا ہے. یوں کہیے کہ ایک تنگ نظری اور شدت پسندی کی فصیل میں ہمیں آج بھی مقید رہنا اچھا لگتا ہے اور کوئی بھی اگر اس فصیل سے باہر جھانکنا چاہے تو اس کی آواز دبانے کی کوشش کی جاتی ہے یا اس کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی جاتی ہے. ہم نے تنگ نظری اور شدت پسندی کا انجام خوب اچھی طرح بھگتا بھی  ہے ،کہیں فرقہ واریت کہیں مذہب کہیں خلافت اور کہیں غیرت اور بے حیائی کے نام پر ہم لاکھوں جانیں گنوا بیٹھے ہیں لیکن حرام ہے جو ہمارے کانوں پر جوں تک رینگی ہو.آج بھی کمال ڈھٹائی سے ہم اسی تنگ نظری شدت پسندی اور جبر کی گھٹن معاشرے میں قائم و دائم رکھنا چاہتے ہیں.حال ہی میں ملک کی مختلف جامعات میں پڑھنے والے طلبا اور طالبات کو جامعات کی انتظامیہ کی جانب سے نوٹس بھیجے گئے کہ جامعات میں لڑکا یا لڑکی اکھٹے اکیلے نہیں بیٹھ سکتے کیوں کہ یہ ہماری روایات یا تہزیب کے خلاف ہے البتہ اگر گروپ کی شکل میں بیٹھنا چاہیں تو کوئی اعتراض نہیں.اکیسویں صدی کے اندر ملک کی جامعات کی اعلی انتظامیہ کے اہلکاروں کی ترجیحات ملاحظہ فرمائیے کہ  بجائے علم و تحقیق پر وقت صرف کرنے اور طلبا و طالبات کو ریسرچ کے نت نئے طریقے ڈھونڈنے میں مدد فراہم کرنے کے ان کا  سارا زور اس بات پر ہے کہ کہیں طلبا اور طالبات ہمارے کلچر کو تباہ نہ کر دیں. آفرین ہے ایسی جامعات کے ذہین و فطین چانسلرز اور وائس چانسلرز  اور  دیگر اساتذہ پر اور اس امر سے یہ اندازہ کرنا ہرچند مشکل نہیں کہ تعلیم کے شعبہ میں موجود طالبانی مائینڈ سیٹ ابھی بھی بھرپور قوت اور توانائی کے ساتھ بنجر اذہان تیار کرنے میں مگن ہے.  مائینڈ سیٹ تیار کرنے میں اساتذہ کا اور سکول کالج اور جامعات کے ماحول کا گہرا تعلق ہوتا ہے. جو استاد یا تعلیمی درسگاہ سارا دھیان لڑکے لڑکیوں کے آپس کے میل جول پر ہی رکھے تو پھر نتیجتا علم و تحقیق کے میدان میں دنیا کی اقوام کی فہرست میں آخری نمبروں پر آنا کوئی حیرانگی کی بات نہیں. یہی وجہ ہے کہ تحقیق نت نئے ایجادات کے شعبے میں ہمارا شمار دنیا کی آخری نمبر کی اقوام میں ہوتا ہے. البتہ حیرانگی ہماری روایات اور کلچر کے بارے میں ضرور ہے کہ آخر یہ اتنا کمزور کیوں ہے کہ قدم قدم پر اسے ہر وقت نقصان پہنچنے کا ہی احتمال رہتا ہے. آخر کو ایک بالغ و عاقل لڑکا لڑکی جامعات میں اکیلے کیوں نہیں بیٹھ سکتے اور کیا ان کے اکیلے نہ  بیٹھنے سے ہماری جامعات کی تعلیم و تحقیق کے معیار میں بہتری آ سکتی ہے. یہ ایک فطری عمل ہے کہ جب بھی آپ لڑکے یا لڑکی کو ایک دوسرے سے تعلیمی درسگاہوں میں یا کسی بھی تعمیری اور مثبت سرگرمی میں  میل جول سے روکیں گے تو وہ مثبت سرگرمیوں اور تعمیری سوچ پر وقت صرف کرنے کے بجائے ان فرسودہ پابندیوں کی بیڑیوں کے خلاف سوچتے یا ان میں بندھ کر غیرت اور حیا کے تصور کو بنیادی جبلتوں سے نتھی کر بیٹھیں گے اور یوں غیرت کے نام پر قتل یا بے حیائی اور عریانی کے خلاف نعرے مارتی نسلیں پروان چڑھتی ہی رہیں گی جن کی تحقیق کا ماخذ ناف سے نیچے ناڑا باندھنا ، اور آج کی جدید سائینسی یا علمی  تحقیقات کو کئی صدیوں پہلے اپنی مذہبی اور علمی سرگرمیوں کی بدولت قرار دینے پر مبنی ہو گا.  بجائے طلبا آور طالبات کو اعتماد کی فضا دینے اور ایک دوسرے کو سمجنے کے ان کے میل جول پر پابندی لگانا واضح ثبوت ہے کہ طالبان مائینڈ سیٹ تعلیم کے شعبہ میں کامیابی سے اپنا زہر اگلی نسلوں تک منتقل کرنے میں کامیاب ہے. جامعات کا اس قسم کے نوٹسز جاری کرنا یقینا حکومت کی آشیرباد کے بغیر ممکن نہیِ ہے اور یہ بات پھر ہماری شدت پسندی ختم کرنے کے خلاف جنگ اور شدت پسند بیانیے کے خاتمے کے بارے میں سنجیدگی پر سوالات کھڑے کر دیتی ہے. یعنی پالیسی ساز اب بھی محمد بن قاسم یا دوسری قبائلی تہذیبوں کے   جنگجوؤں کی  ہمراہ ساتھ لائی گئی روایات کو اپنی روایات سمجھ کر معاشرے پر جبرا قبائلی رسومات اور سوچ تھوپنا چاہتے ہیں. اس ضمن میں دانشور بھی پیچھے نہیں اوریا مقبول جان جو آج تک اپنی 22ویں گریڈ میں ترقی نہ ہونے کی فرسٹریشن نوجوانوں کو گمراہ کر کے نکال رہے ہیں یا پھر انصار عباسی جنہیں دل سے طالبانی حکومت کا انداز پسند ہے انہوں نے بھی اس قسم کے اقدامات کی حوصلہ افزائی فرمائی. انصار عباسی صاحب تو  چھاتی پھلا کر پوچھتے پھر رہے تھے کہ وہ لوگ جو جامعات میِں لڑکا لڑکی کے آپس میں اکٹھا بیٹھنے کے فیصلے کے خلاف ہیں کیا وہ اپنی بیٹیوں کو جامعات میں لڑکوں کے ساتھ بیٹھنے کی اجازت دیں گے .یعنی ایک سینئر صحافی اور اپنے آپ کو دانشور کہلوانے والے کی سوچ کا معیار اور غیرت کا تصور عورت کی زات سے نتھی ہے.  جناب انصاری عباسی سے عرض ہے کہ مجھے سب کا تو پتہ نہیں لیکن بحیثیت ایک بیٹی کے باپ کے میں یہ کیہ سکتا ہوِ کہ کم سے کم مجھے تو کوئی اعتراض نہیں کیونکہ میری بچی کو میرے شک اور میرے وہم کی نہیں بلکہ یقین اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے کل کو اس نے تخلیقی میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کے جھنڈے گاڑنے ہیں جہاں اسے ہزارہا مخالف جنس کے لوگوں سے مقابلہ کرنا ہو گا یا پیشہ وارانہ امور کی انجام دہی میں ان سے میل جول رکھنا ہو گا. اسی طرح میرے بیٹے کو بھی کم و بیش انہی مراحل سے گزرنا ہو گا تو کیا میں ہر وقت اولاد کو باندھ کر بھیڑ بکریاں بنا کر رکھوں اور انصار عباسی اور اوریا مقبول جان کے کالم پڑھوا کر سیلیکان ویلی کے بجائے کابل کی طالبانی ویلی یا داعش کی جنگجو کمپنی کا پرستار بنواوں؟. خود حکومت وقت کو بھی اس قسم کے مضحکہ خیز نوٹسز یا اقدامات اٹھانے سے گریز کرنا چائیے. اپنی مرضی سےزندگی بسر کرنے کی آزادی ہر شخص کا بنیادی حق ہے اور کوئی مذہبی چورن فروش یا فرسودہ روایات کا علمبردار یہ حق کسی دوسرے پر جبرا مسلط نہیں کر سکتا. اور حکمران جماعت کا نیا چہرہ تو خود ایک عورت محترمہ مریم نواز ہیں تو کم سے کم پنجاب کے اندر جامعات میں اس طرح کے نوٹسسز دے کر کیا ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے؟ بجائے پنجاب یونیورسٹی اور دیگر جامعات سے شدت پسند تنظیمیوں کے اثر و رسوخ کو کم کرنے اور ان تنظیموں سے ہمدردی رکھنے والے اساتذہ کو ملازمت سے فارغ کرنے کے ان کی حوصلہ افزائی کرنا اپنی نئی نسل کو تعصب اور جہالت کے اندھیروں میں پھینکنے کے مترادف ہے. پالیسی سازوں کو سب سے پہلے سماجی ڈھانچے اور اس خطے کی اصل ثقافت اور روایات کو سمجھنے کی ازحد ضرورت ہے. برصضیر کی ثقافت ہزارہا برسوِ پر محیط ہے اور عرب یا فارسی قبائلی ثقافتوں سے بے حد مختلف ہے. جو بچے جامعات میں پڑھ رہے پیں ان پر قدغنیں لگا کر صدیوں پہلے کے فرسودہ نظریات بانٹنا بند کیجئے. بصورت دیگر ہمیں اسی قسم کے معاشرے میں سانس لینا ہو گا جو اپنی ثقافت کے علاوہ ہر قوم کی  باہر سے درآمد شدہ قبائلی رسومات کو مان کر تباہی کے راستے پر گامزن ہے اور اپنا تشخص کھو کر "آدھا تیتر آدھا بٹیر" بن چکا ہے.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *