دنیا میں سب سے زیادہ پاگل بھارت میں :امریکی سروے

Mental-Disordersچین اور بھارت میں ایک تہائی سے زائد افراد ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہیں لیکن ان میں سے بہت کم افراد کو طبی امداد کا حصول ممکن ہو پاتا ہے۔ بھارت میں سن دو ہزار پچیس تک ذہنی مریضوں کی تعداد میں ایک چوتھائی اضافہ متوقع ہے۔ دنیا کی دو سب سے زیادہ گنجان آباد ممالک یعنی بھارت اور چین ذہنی، اعصابی اور منشیات کے استعمال سے پیدا ہونے والے مسائل سے نبرد آزما ہے۔ تحقیق کے مطابق یہ تعداد دنیا کے تمام زیادہ فی کس آمدنی والے ممالک میں موجود ایسے مریض افراد کی تعدادسے زیادہ ہے۔خدشہ ہے کہ آنے والے عشروں میں یہ بوجھ مزید بڑھ جائیگا،خصوصا بھارت میں جہاں 2025 تک ذہنی مریض افرادکی تعداد میں ایک چوتھائی اضافہ متوقع ہے۔طبی ریسرچ کے جریدے 'دی لینسیٹ' میں شائع ہونے والے جائزوں کے مطابق دونوں ممالک میں ذہنی امراض سے نمٹنے کے لئے سہولیات نا کافی ہیں۔
ذہنی صحت کے لئے ترقی یافتہ ممالک اور عالمی سطح پر ابھرتی اقتصادیات کے حامل ان دونوں ملکوں یعنی چین اور بھارت کی جانب سے مختص فنڈز میں بھی نمایاں فرق ہے۔ دونوں ہی ممالک میں صحت عامہ کے لیے مختص بجٹ کا ایک فیصد سے بھی کم ذہنی صحت کی مد میں رکھا گیا ہے۔ امریکہ میں یہ شرح قریب چھ فی صد ہے جبکہ جرمنی اور فرانس میں دس فی صد یا اس سے زیادہ ہے۔چین اور بھارت دونوں ہی ممالک نے اپنے ذہنی مریضوں کی بحالیء صحت کے لیے ترقی پسندانہ پالیسیوں کو لاگو ضرور کر رکھا ہے لیکن حالیہ ریسرچ کے مطابق زمینی حقائق اب بھی وہی ہیں جو پہلے تھے۔تحقیق نگاروں کی رائے میں ذہنی مریضوں کی شفایابی کے لیے روایتی معا لجین سے مدد لی جا سکتی ہے۔ طبی مسائل کے تجزیہ کاروں کی تجویز ہے کہ ان دونوں ملکوں میں ایسے امراض کے علاج کے لیے، یعنی چین میں قدیمی طریقہء علاج کے ڈاکٹروں اور بھارت میں یوگیوں کو ذہنی بیماریوں بارے بنیادی معلومات اور تربیت فراہم کرنے سے مریضوں کے لیے صحت کا حصول ممکن ہو سکتا ہے ماہرین کا کہنا ہے بھارت میں یہ تجویز اس لیے ناقابل عمل ہے کہ جوگی اور جن بھوت نکالنے والے ان پڑھ ہیں اور وہ جدید طریقوں کو اپنی سکلز کے خلاف سمجھتے ہیں ۔ماہرین کے مطابق غیر صحت مند ماحول ، جہالت اور غیر متوازن نظریات کو ختم کیے بغیر بھارت میں پاگلوں کی متوقع تعداد کو کم نہیں کیا جاسکتا ۔اس لیے امریکی ریسرچ کے مطابق خدشہ ہے کہ بھارت دنیا میں سب سے زیادہ پاگلوں والا ملک بن جائے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *