پاک چین سفارتی تعلقات کے 65 سال

محمد ارشد قریشی

Muhammad arshad qureshi

کہتے ہیں بچپن کی دوستی بہت مضبوط ہوتی ہے  جس میں نا کوئی غرض شامل ہوتی ہے  ناہی  کسی مقصد کا حصول ،ایسی ہی ایک مظبوط  دوستی  دو  دوست ممالک کے درمیان بچپن سے قائم ہے  جو ہر دکھ سکھ کی گھڑی میں ایک دوسرے کے ساتھ کاندھا ملائے کھڑے ہوتے ہیں ۔

آج سے 67 سال  پہلے یکم اکتوبر 1949 کو طویل ترین خانہ جنگی کے بعد جب  چین نے آزادی حاصل کی تھی تو چین کے عظیم رہنما چئیر مین  جناب ماوزے تنگ  نے دارلحکومت  بیجنگ  کے مرکز میں واقع تھیان من کے مرکزی دروازے کے جبوترے پر کھڑے ہوکر  عوامی جمہوریہ چین کے قیام کا اعلان کیا   اس اعلان کے بعد پاکستان دنیا  کا وہ واحد ملک تھا جس نے چین کی حیثیت کو تسلیم کیا تھا  اس اہم موقع کے دو برس بعد  اکیس مئی 1951 کو چین اور پاکستان کے درمیان  باقاعدہ طور پر  سفارتی تعلقا ت قائم ہوئے۔

پاکستان اور چین کے 21 مئی 1951 کو قائم ہونے والے سفارتی تعلقات   کو 65  سال ہوگئے، ان 65 سالوں میں چین اور پاکستان میں کئی حکومتی ادوار آئے   دنیا میں کئی واقعات رونما ہوئے مگر کبھی بھی پاکستان اور چین کے تعلقات میں فرق نہیں آیا، یوں تو پاکستان کے کئی دوسرے ممالک سے بھی دوستانہ تعلقات ہیں لیکن وہ تعلقات حکومتی سطح تک ہی محدود ہیں چین سے دوستانہ تعلقات کو عوامی سطح پر  خاصی پذیرائی حاصل ہے چین نہ صرف پاکستان کا ایک بہترین دوست ہے بلکہ ایک قریبی ہمسایہ بھی پاکستان جب بھی کسی مشکل سے دوچار ہوا اور اس نے عالمی دنیا کی طرف نگاہ ڈالی تو جو ملک سب سے قریب   ترنظر آیا وہ چین تھا۔

  پاکستان اور چین جغرافیائی لحاظ سے پڑوسی ہونے کے ناطے ہی ایک دوسرے کے قریب نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے دونوں ملکوں کے عوام کے عالمی امورامن پسندی اور باہمی احترام کے حوالے سے خیالات بھی یکساں ہیں ۔چین اقوام متحدہ کے بانی ممالک میں شامل ہے اس وجہ سے چین کو سلامتی کونسل میں ویٹو کا حق بھی حاصل ہے دوعشروں تک مغرب کی چین دشمنی کی وجہ سے اسے اقوام متحدہ میں اپنے جائز مقام سے محروم رہنا پڑا۔ 25اکتوبر1971چین کی سفارتی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اس روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھاری اکثریت کے ساتھ عالمی ادارے میں چین کی مراعات بحال کردیں ۔چین کی اقوام متحدہ میں یہ غیر معمولی کامیابی دنیا کے دیگر ترقی پذیر ممالک کے لئے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی تھی کیونکہ چین ہر فورم پر ترقی پذیر ممالک کے حقوق کے لئے آواز اٹھاتا رہا ہے  مراعات کی بحالی کے بعد چین چھوٹے اور کمزور اقوام کے تحفظ کے لئے موثر کردار ادا کر رہا ہے  اقوام متحدہ میں سیٹ کی بحالی کے بعد چین نے عالمی برادری سے تعلقات کو فروغ دےنے پر توجہ دی  1970کے عشرے کے اختتام تک چین نے 120ممالک سے سفارتی تعلقات قائم کرلئے تھے جن میں امریکہ کے ساتھ سفارتی تعلقات کا قیام بھی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جاسکتا ہے  شنگھائی تعاون تنظیم ،کوریا کی جوہری قوت کے حوالے سے چھ ملکی مذاکرات ،چین افریقن تعاون تنظیم ،بیجنگ سربراہ اجلاس  ایشیاءیورپ میٹنگ سے لے کر لندن میں جی ٹونٹی سربراہ اجلاس تک چین نے ہر فورم میں اپنے فعال کردارکی وجہ سے اپنی حیثیت منوالی ہے  ایک ابھرتی ہوئی اقتصادی قوت ہونے کے ناطے بھی چین نے عالمی معاملات میں اہم کردار ادا کیا ہے اور قوموں کی برادری میں چین کی اہمیت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے  چین دنیا کا تیسرا ملک ہے جس نے انسان بردار خلائی جہاز خلاءمیں بھیجے 67 سال قبل جب چین آزاد ہوا تھا تو خلاءکو تسخیر کرنے سمیت وہ کامیابیاں خواب معلوم ہورہی تھیں جنہیں آج چین نے اپنی محنت کی بدولت تعبیر کاجامہ پہنایا ہے ۔

چین پاکستان سے اپنی دوستی  روز بروز مضبوط کررہا ہے نت نئے منصوبوں پر  کام کیا جارہاہے چین پاکستان کے ہر شعبہ میں نہ صرف سرمایہ کاری  کررہا ہے بلکہ اپنے تعاون کی بھی پیش کش کرتا رہتا  ہے ، چین پاکستانی  اور چینی عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیئے بھی کوشاں ہے  جس کی ایک  جیتی جاگتی مثال  چائینا ریڈیو انٹرنیشنل کی اردو سروس بھی ہے  جو  پاکستانی سامعین کے لیئے اردو زبان میں روزآنہ  کئی پروگرام نشر کرتا جو جس میں زندگی کے ہر شعبہ سے متعلق بہت سی معلومات فراہم کی جاتی ہیں   چائیناء ریڈیو انٹرنیشنل کی نشریات کے لیئے ایف ایم  98 دوستی چینل سےکراچی میں  نشر کی جاتی ہیں جن کے سننے والوں کی تعداد میں خاصہ اضافہ ہوچکا ہے  اسلام آباد کے علاوہ پاکستان کے دوسرے علاقوں میں بھی   ایف ایم پر نشریات سنی جاسکتی ہیں ان میں پاکستان کی مشہور اور معروف  شخصیات کے انٹرویو ز، چین اور پاکستان میں منائے جانے والے ایسے تہوار جو دونوں قوموں میں مشرکہ انداز میں منائے جاتے ہیں ، پاکستانی طالبعلموں  کی چین میں تعلیم کے حوالے سے رہنمائی ، چین میں زیر تعلیم طالبعلموں کے انٹرویوز ، قدیم چین کے طریقے علاج  اور روز مرہ زندگی میں پائی جانے والی عام بیماریوں کے چینی علاج بتائے جاتے ہیں  یہ ایک بہت موثر ذریعہ ہے چین اور چینی قوم کے رسم رواج جاننے کے لیئے  ، چینی  لڑکیاں  تمام غیر ملکیوں  پر اپنے شریک حیات کے  لیئے پاکستانی لڑکوں کو ترجیح دیتی ہیں جس  کی  ایک بڑی وجہ دونوں کی طرز زندگی میں خاصی مماثلت کا پایا جانا ہے  یوں تو چین میں بہت سے مذہب  اور عقیدے کے  ماننے والے لوگ آباد ہیں جن میں زیادہ تر بدھا مذہب کے ماننے والے ہیں  لیکن یہ بھی ایک مسلمہ  حقیقت ہے کہ چین میں دین اسلام بہت تیزی سے پھیل رہا ہے   جس کی بڑی وجہ چین میں مذہبی آزادی ہے کسی بھی غیر مسلم چینی  لڑکی کو مسلم لڑکے سے شادی کرنے کے لیئے اسلام قبول کرنے کی مکمل آزادی ہے  اسے کسی بھی شدد پسندی کا کوئی سامنا نہیں کرنا پڑتا ۔

چین میں کئی علاقوں میں مسلمان کثیر تعداد میں آباد ہیں  جن میں لاکھوں تعداد ان چینی مسلمانوں کی بھی ہے جو پیدائشی ہی مسلمان ہیں جس کی وجہ سے وہاں مسلمانوں کے وسیع کاروبار ہیں جن میں حلال اشیاء کے بڑی مارکیٹیں ہیں اور کئی مساجد ہیں  صرف بیجنگ میں 70 مساجد ہیں جس میں سب سے بڑی اور مشہور مسجد نیو جے کی جامع مسجد ہے  مسجد کے قریب ہی نیو جے مارکیٹ ہے جس میں حلال  گوشت  اور  دیگر  حلال اشیاء  کے علاوہ  مسلمانوں کے روزمرہ زندگی میں استمال ہونے والی اشیاء دستیاب ہیں ، اسی طرح  چین  کاایک اور شہر ہے شان چو  جہاں کئی صحابہ کرام  کی قبریں موجود ہیں جونبی کریم ﷺ کے کہنے پر دین اسلام کی دعوت دینے  یہاں آئے تھے اور یہیں سکونت اختیار کی اور شادیاں کیں جن کی نسلیں  اب بھی یہیں مقیم ہیں  یہ شہر مسلمان عرب تاجروں کی وجہ سے بھی بہت مشہور ہے۔

بیسویں صدی کی ساٹھ کی دہائی میں  چین اور پاکستان نے ایک ساتھ مل کر تمام تر مشکلات  پر قابو پاتے ہوئے  شاہراہ قراقرم کی تعمیر کی  اس عظیم منصوبے کے  کامیاب تکمیل کے لیئے  اس پر کام کرنے والے دونوں ملکوں کے بہت سے کارکنوں نے اپنی جانوں کے نذرانے بھی پیش کیئے۔سن 2008 میں  چین کے جنوبی مغربی صوبے  چھوائیں علاقے میں شدید زلزلے  کے بعد پاکستان نے فوری طور پر اپنی امداد روانہ کی جسے بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا ۔ گذشتہ سال اپریل کے ابتداء میں چین کی بحریہ کے جنگی جہاز  نے یمن میں پھنسے 176 پاکستانی باشندوں کو بحفاظت وطن عزیز پاکستان کو پہنچایا  اس طرح کی بے شمار مثالوں سی یہ ثابت ہوا کہ  چین اور   پاکستان کی دوستی  پہاڑوں سے بلند سمندر سے گہری شہد سے میٹھی اور  فولاد سے مضبوط ہے ۔

پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کی تعمیر کا مقصد ملک کے عوام کیلیے فوائد کا حصول ہے اور بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا بھی اس منصوبے سے خصوصی طور پر مستفید ہوں گے اقتصادی راہداری کے اس جامع منصوبے کے تحت بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے کئی بڑے منصوبے بھی شامل ہیں جن میں سے بلوچستان میں گوادر بندر گاہ کے منصوبے پر کام جاری ہے جس میں ایکسپریس وے اور بین الاقوامی ایئرپورٹ کی تعمیر بھی شامل ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں قراقرم ہائی وے کے دوسرے مرحلے میں اعلیٰ درجے کی سڑک کی تعمیر کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ اقتصادی راہداری منصوبے سے چھوٹی، درمیانی اور لمبی مدت کیلیے فوائد حاصل ہوں گے جن سے اس خطے میں خوشحالی اور اقتصادی استحکام آئے گا۔ اقتصادی راہداری کے اجتماعی منصوبے کے ایک حصے کے طور پر پاکستان میں صنعتی زونز بھی قائم کیے جائیں گے جس سے معیشت کے مختلف شعبوں میں ترقیاتی عمل میں تیزی آئے گی۔ ذرائع نے کہا کہ منصوبے کی تکمیل سے پاکستان میں ماحولیات اور آب و ہوا پر بھی خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے اور اس سے پاکستان میں قومی یکجہتی کو فروغ اور استحکام حاصل ہوگا۔ اقتصادی راہداری کا منصوبہ کاشغر، ژینگ جیانگ اور پاکستان بھر سے ہوتا ہوا آخر میں جنوبی بندرگاہ گوارد تک جائیگا۔

اقتصادی راہداری کے بڑے منصوبے سے پاکستان کے بڑے شہر اور کثیر آبادی مستفید ہوگی جس میں توانائی، ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے اور اقتصادی زونز کی تعمیر کے کئی منصوبے شامل ہیں۔ ان منصوبوں کی تعمیر سے سازو سامان، معلومات اور دیگر وسائل کی ترسیل کو فروغ حاصل ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ راہداری کے منصوبے سے تعاون میں اضافے کے نئے مواقع پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ توانائی اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں بھی کئی نئے منصوبے بھی شامل ہونگے اور ان سے دونوں ممالک کے عوام کے لیئے  روز گار کے وسیع نئے مواقع پیدا ہونگے.

امریکی جریدے وال اسٹریٹ آف جرنل کی پاک امریکہ اور پاک چین تعلقات اوردونوں ممالک کی جانب سے پاکستان کی امداد کے حوالے سے ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا کہ امریکہ اس میدان میں چین سے پیچھے رہ گیا ہے، چین پاکستان میں 46ارب ڈالر کی سرمایہ کار کر رہا ہے جبکہ امریکہ کی جانب سے 2009سے اب تک مختلف مد میں دی گئی کل امداد صرف 5ارب ڈالر ہے۔ رپورٹ کے مطابق چینی تاریخ میں کسی دوسرے ملک میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری 46ارب ڈالر کی ہے اور یہ چین پاکستان تجارتی راہداری حقیقت بننے کو تیار ہے، چینی صدر کے دورہ ایشیاء میں نئے عہدکا آغاز ہو گا، 15سال میں 2000میل کا سڑکوں کا جال گوادر بندرگاہ تک بچھایا جائے گا،3لوگوں پر مشتمل آدھی دنیا ایک نئی معاشی قوت کے طور پر ابھرے گی۔ چین کی 46ارب ڈالر کی انفراسٹرکچر سرمایہ کاری سے تجارت اور ٹرانسپورٹ روٹ کے نئے عہد کا آغاز ہو گا جو امریکہ کیلئے بہت بڑا چیلنج ہے کیونکہ چین اب اس خطے میں اپنا تسلط قائم کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے، چین پاکستان اقتصادی راہداری کے نام سے شروع ہونے والے منصوبوں سے اقتصادی اور سیکیورٹی خدشات ختم ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ گیم چینجر ثابت ہو گااور یہ وسیع پالیسی کا منصوبہ ہے جسے ون بیلٹ ون روڈ کا نام دیا گیا ہے، یہ چین کو ایشیائی اور یورپی ممالک کی منڈیوں سے ملائے گا۔ رپورٹ کے مطابق چین کیلئے دہشت گردی سے متاثرہ ملک میں بڑے منصوبوں کا آغاز ایک بڑا چیلنج ہے تاہم  چینی صدر کے دورہ پاکستان کے موقع پر اسلام آباد چینی کارکنوں اور انجینئرز کی حفاظت کیلئے اسپیشل سیکیورٹی فورسز کا اعلان کرنے والا ہے، منصوبے کا بڑا حصہ توانائی پر منحصر ہو گا اور اس سے پاکستان میں توانائی کی قلت پر قابو پانے میں مدد ملے گی، تاہم پاکستان  کو دی جانے والی امداد کے معاملے میں چین آگے نکل گیا ہے اور امریکہ پیچھے رہ گیا ہے کیونکہ امریکہ نے 2010ء سے اب تک  پاکستان کو کل 5 ارب ڈالر کی امداد دی ہے جس میں 2 ارب ڈالر انفراسٹرکچر کیلئے دیئے گئے ہیں جن میں سے ابھی کافی کچھ خرچ ہونا باقی ہے، جبکہ توانائی کے منصوبے میں امریکہ صرف 1500 میگا واٹ کا اضافہ کر رہا ہے ، جو کہ انتہائی کم ہے، امریکہ کے ترقیاتی پروگرام سے صرف پاکستان کے انفراسٹرکچر میں معمولی تبدیلی لائی جا سکتی ہے تاہم چین کی زیادہ تر رقم سرمایہ کاری بنیادوں پر خرچ کی جائے گی، چائنا پاکستان ایکسز، ایشیاز نیو پولیٹکس کے مصنف اینڈریو سمال نے کہا ہے کہ چین مغربی امداد کی فراہمی میں ناکامی کے اس معاملے پر رد عمل کا اظہار کر رہا ہے تا کہ مغربی ممالک اور چین کے درمیان امداد کے حوالے سے فرق سامنے آ سکے۔ چین کا جواب یہ ہے کہ مغرب نے کم دیا تاہم ہم نے بڑے پیمانے پر سب کچھ کر دکھایا، چین کا کہنا ہے کہ اسے صرف بنگ بینگ کے پیمانے کے تحت کیا جا سکتا ہے، جس سے پاکستان کی اقتصادی ضروریات کو بڑے پیمانے پرپورا کیا جا سکے گا۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ کے مقابلے میں چین توانائی کے شعبے میں33.79ارب ڈالر شاہراؤں پر 5.90 ارب ڈالر، ریل پر 3.69، ماس ٹرانزٹ لاہور میں 1.60 ارب ڈالر، گوادر پورٹ پر 0.66ارب ڈالر، چائنا پاکستان فائبر آپکٹس پر 0.04 ارب ڈالر خرچ کرے گا جو کہ مجموعی طور پر45.69 ارب ڈالر بنتا ہے، اس طرح چین امریکہ سے بازی لے گیا۔

جہاں دنیا کے کئی ممالک پاک چین دوستی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں وہیں  کچھ ممالک کو یہ دن بدن مضبوط ہوتی دوستی ایک آنکھ نہیں بھاتی اور مختلف شازشوں کے ذریعے ان دونوں دوست ممالک کے تعلقات میں دراڑ ڈالے میں مصروف ہیں جو اب تک بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہیں اور انشااللہ مستقبل قریب میں بھی ناکام رہیں گی۔

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *