جب تک کرپشن ختم نہیں ہوگی، سرمایہ کاری نہیں ہو گی

Imran

فیصل آباد -چیرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ میاں صاحب خود ہی بتا دیں کہ ان کے اثاثے کہاں کہاں ہیں اب کوئی ساتھ دے یا نہ دے ہم سڑکوں پر ہوں گے اور جب وزیراعظم ہی پارلیمنٹ میں جھوٹ بولے تو اسے اس عہدے پر رہنے کا کوئی حق نہیں۔ فیصل آباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ میاں صاحب آپ بزنس مین ہیں لوگوں کے ضمیر خریدتے ہیں اور اس میں سب سے پہلے مولانا فضل الرحمان بک گئے لیکن ابھی بکنے والے اور لوگوں کے نام بھی سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ  میاں صاحب خود ہی بتا دیں کہاں کہاں آپ کے اثاثے ہیں کیونکہ کوئی کہتا ہے سنگاپور میں تو کوئی کہتا پیرو میں بھی آپ کے اثاثے ہیں، حسن نواز کا ون ہایئڈ پارک میں پیلس ہے جب کہ ایک گھر ساڑھے 600 کروڑ میں فروخت ہوا۔ عمران خان نے کہا کہ شریفوں کا نام گوگل کریں گے تو ان کے بچوں کے نام آئیں گے جب کہ اربوں روپے ملک سے باہر جا رہے ہیں آپ کہتے ہیں جواب دہ نہیں، آپ کو جواب دینا ہوگا کہ پیسہ کہاں سے آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک وزیراعظم کااحتساب نہیں ہوگا کوئی ضرورت نہیں غریبوں کوجیل میں ڈالنےکی، میاں صاحب پہلے اپنے اوپرلگے  الزام کا جواب دیں کیونکہ پہلے یقین آجاتا تھا بھولا بھالا نواز شریف لیکن اب جواب چاہیے۔ چیرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سب سے زیادہ لوگ خیرات دیتے ہیں اور سب سے کم ٹیکس دیتے ہیں جب کہ لوگ ہم پر اعتماد کرکے اسپتال کے لیے عطیات دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میاں صاحب کو اسمبلی میں دیکھا تو میرا دل بڑا خراب ہوا کیونکہ ان کا حال برا تھا اور ایئرکنڈیشنڈ اسمبلی میں بھی پسینے آرہے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ جب وزیراعظم پارلیمنٹ میں جھوٹ بول سکتا ہے تو وہ کیسے اس عہدے پر رہ سکتاہے، جب کسی وزیراعظم پراعتماد نہیں تو وہ کیسے رکھوالی کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سوال کچھ اور کرتے ہیں جواب 1937 کا آجاتا ہے، میاں صاحب جواب دینے کے بجائے طوطا مینا کی کہانی سنانی شروع کردیتے ہیں جب کہ میاں صاحب کو پاناما لیکس پر صرف 4 سوالوں کے جواب دینے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک قرضوں پر چل رہاہے، یومیہ پاکستان 6 ارب روپےقرضہ لیتا ہے لیکن یہاں سے پیسہ چوری کرکے آف شور کمپنیز میں لگایا جاتا ہے، جب تک کرپشن ختم نہیں ہوگی سرمایہ کاری نہیں ہوگی :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *