اخروٹ خان(Story)

635997250088638063معروف احمد چشتی
اخروٹ خان افغانستان کا رہنے والا تھا۔ افغانستان ہمیشہ سے ہی ایک غریب اور پسماندہ ملک رہا ہے۔ جنگ نے وہاں لوگوں کا جینا دُوبھر کر رکھا ہے۔ لوگوں کے پاس جو محدود ذرائع آمدن ہیں وہ موسمِ سرما میں مزید کم ہو جاتے ہیں۔
چنانچہ سردیوں میں اخروٹ خان روزی کمانے کے لیے اپنے بھائیوں اور کزنوں کے ساتھ پاکستان کا رُخ کرتا۔ پشاور سے لاہور پہنچتا اور لاہور سے اوکاڑا ہمارے ڈیرے پر آجاتا۔ کسی سال اخروٹ خان اور اس کے کزنوں کی تعداد سات ہوتی، کسی سال آٹھ۔ ابو جی نہایت درویش صفت اور غریب پرور انسان تھے۔ وہ ان افغانی پٹھانوں کی خوب مدد کرتے۔ ڈیرے میں ان کو ایک کمرا دے دیا جاتا ۔جہاں وہ دن بھر کی محنت مزدوری کے بعد رات بسر کرتے۔اپنا پکاتے اپنا کھاتے ۔مگر جب کبھی دِہاڑی نہ ملتی تو ابو جی کھانا کھلانے میں بھی دریغ نہ کرتے۔ موسمِ سرما گزار کر مئی کے مہینے میں وہ افغانستان واپس چلے جاتے۔جو پیسہ کماتے اس میں سے کچھ امانت کے طور پر ابو جی کے پاس رکھوا جاتے اور پھر اگلے سال آ کر واپس لے لیتے جس سے مونگ پھلی وغیرہ خرید کر بیچتے یا کچی دیواریں بنانے کے اوزار خرید لیتے۔
ایک مرتبہ جب وہ افغانستان سے آئے تو ان کے ہمراہ ایک بچہ بھی تھا۔اس وقت میری عمر دس برس کے قریب تھی ۔ وہ بچہ مجھے اپنا ہم عمر ہی لگتا تھا۔اس کا چہرہ گول مٹول، لال سرخ سیب جیسا تھا۔ آنکھیں بلی جیسی تھی۔وہ اتنا پیارا اور معصوم تھا کہ میں نے دو ہی دن میں اسے اپنا دوست بنا لیا۔ وہ بہت کم گو تھا۔ اس نے اپنا نام بھی مجھے نہ بتایا۔ابو جی اس کو چھوٹا اخروٹ خان کہا کرتے تھے۔اس لیے میں بھی اس کو چھوٹا اخروٹ کہ کر بلاتا۔
ہم روزانہ کھیلتے تھے مگر چھوٹے اخروٹ کو اردو آتی تھی نہ پنجابی۔بس اشاروں کنایوں سے ہم ایک دوسرے کو بات سمجھا لیتے تھے۔ جب کبھی وہ جذبات میں آ کر پشتو بولتا تو مجھے ہنسی آ جاتی۔ میں اس سے پشتو سیکھنا چاہتا تھا مگر وہ شرما کر خاموشی اختیار کر لیتا۔شاید اسے معلوم ہی نہ تھا کہ زبان کیسے سکھائی جاتی ہے۔ لڑکے پنجابی سیکھانے کے بہانے اسے الٹے سیدھے لفظ سکھاتے اور بعد میں مذاق اڑاتے ۔ مجھے لڑکوں کایہ رویہ بالکل اچھا نہ لگتا تھا۔
چھوٹے اخروٹ کا باپ کچی دیواریں تعمیر کرنے کا کام کرتا تھا۔جب کہ اس کا چچا مونگ پھلی کی ریڑھی لگا لیتا تھا۔بعض اوقات دیواریں بنانے کے لیے اس کے باپ کو قصبے میں یا کسی اور گاؤں میں رات گزارنا پڑتی۔چھوٹا اخروٹ بھی اس کے ساتھ چلا جاتا۔ میرے لیے وہ وقت گزارنا مشکل ہو جاتا تھا۔ میں چھوٹے اخروٹ کو پسند کرتا تھا کیونکہ وہ بہت پُر امن طبیعت کا مالک تھا۔کبھی بھی کھیل میں بے ایمانی نہیں کرتا تھا۔ویسے بھی پردیسی ہونے کی وجہ سے وہ خاصا ڈرا ڈرا سا رہتا تھا اور میں ایک طرح سے اس کی حفاظت کرتا۔ اس کو خود اعتمادی دیتا۔یوں مجھے بھی اچھائی کرنے کا احساس ہوتا تھا۔
وہ پڑھ لکھ تو نہ سکتا تھا مگر ڈرائنگ بہت خوب صورت بناتا تھا۔ارد گرد کے ماحول میں جو کچھ بھی دیکھتا ، فوراً بنا لیتا۔ ایک روز جب وہ اپنے گھر کو بہت یادکر رہا تھا تو اس نے مجھے اپنے گھر کی تصویر بنا کر دکھائی تھی۔
ایک بار چھوٹا اخروٹ گُم ہو گیا۔ ان دنوں اس کا باپ قصبے میں مونگ پھلی اور بھُنے چنوں کی ریڑھی لگاتا تھا۔وہ اپنے ابو کے ساتھ ریڑھی پر چنے بھونتا اور کاغذ کی کون بنانا سیکھتا۔اس دن چھوٹے اخروٹ کے ابو نے اسے قریبی دکان سے نسوار لینے بھیجا۔نسوار تو اس نے خرید لی لیکن واپسی پر رستہ بھول گیا۔اس کے باپ نے بہت ڈھونڈا، مساجد میں اعلان کرایا مگر چھوٹا اخروٹ نہ ملا۔ اس نے گاؤں کے کسی آدمی کے ہاتھ ابو جی کو واقعے کی اطلاع بھجوائی۔ابو جی قصبے گئے اور ہر طرف آدمی دوڑائے۔آخر عشا سے کچھ پہلے ایک مسجد سے اعلان ہوا کہ ایک گم شدہ بچہ ملا ہے۔بچے کا حلیہ بتایا گیا اور یہ بھی بتایا گیا کہ بچہ پشتو میں اپنا نام بتاتا ہے۔ابو جی اخروٹ خان کو لے کر مسجد جا پہنچے۔دیکھا تو چھوٹا اخروٹ ہاتھ میں اخروٹ لیے رونی صورت بنائے بیٹھا تھا۔نمازیوں کا جمگھٹا لگا ہوا تھا۔ اخروٹ خان نے جاتے ہی چھوٹے اخروٹ کی پٹائی شروع کر دی۔ ابو جی نے بمشکل سمجھا بجھا کر اسے کار میں بٹھایا اور ڈیرے پر لے آئے۔
ڈیرے پر آ کر ابو جی نے اخروٹ خان سے کہا’’اپنے بیٹے سے پوچھو تو کہاں غایب ہو گیا تھا؟‘‘ اخروٹ خان نے پوچھا اور پھر اپنے بیٹے کا جواب سن کر ہنسنے لگا۔بعد میں اس نے بتایا کہ چھوٹا اخروٹ رستا بھول گیا تھا۔جس آدمی کو ملا۔اس نے نام پوچھا تو بچے نے جواب دیا’ اخروٹ‘۔ وہ آدمی پشتو نہیں جانتا تھا۔ اس لیے سوائے اخروٹ کے وہ اور کوئی بات نہ سمجھ پایا۔ وہ سمجھا شاید بچہ اخروٹ مانگ رہا ہے۔وہ اخروٹ لے آیا۔بچے نے زور دے کر کہا ’’چھوٹا اخروٹ‘‘۔ اس نے مزید چند چھوٹے چھوٹے اخروٹ لا کر اس کو دے دیے۔ہم اس بات پر ہنس ہنس کر دوہرے ہو گئے۔ چھوٹا اخروٹ کھسیانا ہو کر اپنے باپ کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس واقعے پر کافی دنوں تک لڑکے اخروٹ کو مذاق کا نشانہ بناتے رہے۔ کبھی کبھی میں بھی اس کو چھیڑ دیتا کہ اخروٹ دیکھنا کہیں باتھ روم سے کمرے تک کا رستا نہ بھول جانا۔
ایک دن میں سکول سے واپس آیا تو معلوم ہوا کہ اخروٹ خان واپس اپنے گھر افغانستان جا چکا ہے۔ مجھے بہت افسوس ہوا۔ میں چھوٹے اخروٹ کے ساتھ کھیلنا چاہتا تھا۔ وہ میرا اچھا دوست بن چکا تھا۔
اخروٹ کو امرود بہت پسند تھے۔ وہ کہتا تھا کہ ان کے ملک میں یہ پھل نہیں ملتا۔ ایک دن میں اس کو امرود کے باغ میں لے گیا۔ ہم کافی دیر تک بھاگتے دوڑتے رہے اور تازہ امرود توڑ کر کھاتے رہے۔ اس شام اس نے مجھے ڈرائنگ بک میں امرود بنا کر دکھایا۔ وہ تو سچ مچ کا امرود لگ رہا تھا۔ چھوٹے اخروٹ کے چلے جانے کے بعد میں اس کی بنائی ہوئی ڈرائنگ دیکھتا رہتا۔ خود بھی کوشش کرتا کہ اپنے دوست کی طرح اچھی ڈرائنگ بنا سکوں مگر مجھ میں شاید یہ صلاحیت ہی نہ تھی۔
اس کے بعد تین سال تک اخروٹ لوگ پاکستان نہ آئے۔ میں کسی حد تک چھوٹے اخروٹ کو بھول چکا تھا۔ ایک دن جب میں سکول کی طرف سے کرکٹ میچ کھیل کر بلکہ ہار کر گھر پہنچا تو میرا موڈ سخت خراب تھا۔ افسوس اور غصے کے مارے میں نے کھانا بھی نہ کھایا۔ میں سونے کے لیے کمرے میں جا لیٹا۔ اچانک برآمدے میں ابو جی کی آواز گونجی ’’ ڈیرے پر پانچ آدمیوں کی روٹی پہنچاؤ۔ موٹی اور بڑی پکانا، پٹھان آئے ہیں۔‘‘پٹھان کا لفظ سن کر یکایک مجھے چھوٹا اخروٹ یاد آ گیا۔ میں ایک جھٹکے سے اٹھا اور برآمدے میں آ گیا۔ ’’ابو جی سلام۔‘‘ میں نے ابو جی کو سلام بلایا۔ انھوں نے خوش ہو کر پوچھا ’’آگیا پتر؟ آ ج پھر ہار گیا کیا؟‘‘
انھیں میری ہار جیت کا نجانے کیسے پتا چل جاتا تھا۔ مگر میں اس موضوع پر بات نہ کرنا چاہتا تھا اس لیے ان کے سوال کے جواب میں ، میں نے بھی سوال کر ڈالا ’’ ابو جی ، چھوٹااخروٹ آیا ہے؟‘‘
’’ پتا نہیں پتر۔ اس کا باپ تو آیا ہوا ہے۔ تو خود جا کے پتا کر لے۔‘‘
میں بھاگا بھاگا ڈیرے پہنچا۔ چند پٹھان بیٹھے تھے۔ سب ایک جیسے ہی لگ رہے تھے۔ میں ایک لمحے کو رُکا تو ایک آدمی جلدی سے اٹھ کر میری طرف بڑھا۔ ’’او میاں صاحب جاناں۔ خیر جاناں؟ میاں صاحب جاناں.......‘‘ اور پتا نہیں اس نے کیا کچھ کہا میری سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ ہاں اتنا معلوم ہو گیا کہ یہ بڑا اخروٹ خان تھا۔وہ نہایت محبت کے ساتھ جھک کر مجھ سے گلے ملا۔ مگر میری نظریں چھوٹے اخروٹ کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ان کے ساتھ کوئی بچہ نہ تھا۔ مجھے سخت مایوسی ہوئی۔ تھوڑی دیر کے بعد اس نے باقی چار لوگوں کا تعارف بھی مجھ سے کرایا۔مجھے کسی کا نام سمجھ میں نہ آیا۔ میں سوچ رہا تھا کہ کس طرح چھوٹے اخروٹ کا پوچھوں۔ مجھے اس کا اصل نام بھی یاد نہ تھا۔ میری طرف سے گرم جوشی نہ دیکھتے ہوئے اخروٹ خان نے ایک لمبے سے لڑکے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کچھ کہا۔ میں کچھ نہ سمجھ سکا۔ وہ دوبارا اسی لڑکے کی جانب اشارا کرتے ہوئے بولا ’’چوٹا اخروٹ ۔‘‘ اب میں چونکا۔ وہ لڑکا مجھے دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔میں ذرا جھجک کر اس کی طرف بڑھا اور اس سے گلے ملا۔ وہ چھوٹا اخروٹ ہی تھا مگر اب مجھ سے کافی بڑا لگ رہا تھا۔وہ اپنی روایتی ٹوپی اور کھلے پائنچوں والی شلوار میں ملبوس خاصا سخت جان لگ رہا تھا۔
ہم جلد ہی وہی پرانے دوست بن گئے۔ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ چھوٹا اخروٹ اب اردو خاصی روانی سے بول سکتا تھا۔ وہ پنجابی بول نہیں سکتا تھا مگر سمجھتا سب تھا۔چھوٹا اخروٹ میرا اچھا دوست تھا مگر اس بار اس کے رویے میں خاصی تبدیلی نظر آ رہی تھی۔ اور یہ تبدیلی اس دن تو کھل کر سامنے آ گئی جب میں نے اسے پرانے دنوں کی طرح ڈرائنگ کرنے کو کہا۔ وہ یکایک خفا ہو گیا اور کہنے لگا ’’ تصویریں بنانا شرک ہے۔‘‘ میں حیران رہ گیا۔ میں نے اسے اسی کی بنائی ہوئی پرانی تصویریں لا کر دکھائیں اور کہا کہ وہ میرے لیے چند اور یادگار تصویریں بنا دے مگر اس نے اپنی تصویریں کوے کی طرح میرے ہاتھ سے جھپٹ لیں اور آن کی آن میں ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالیں۔ میں بہت رنجیدہ ہوا۔میرے پاس یہ ایک اچھی یاد تھی جو اب نہ رہی تھی۔
چھوٹا اخروٹ خاصا غصیلا ہو گیا تھا۔ اب وہ لڑکوں سے دبتا بھی نہ تھا۔ جب وہ میرا سکول بیگ دیکھتا تو غصے میں آجاتا۔ کہتا ’’تم لوگ کافروں کی کتابیں پڑھتے ہو۔ تمہیں آخرت میں عذاب ہو گا۔‘‘ میری پینٹ شرٹ پر بھی اسے اعتراض تھا کیونکہ اس کے مطابق یہ بھی کافروں کا لباس تھا۔ میرے لیے یہ نئی باتیں تھیں۔میں اس کو کچھ سمجھانا چاہتا تھا مگر آخرت کے عذاب اور خدا کے قہر کا سن کر میں سہم جاتا۔ بات کو ٹال دیتا۔ ہم دونوں اب ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے تھے۔ اب میں اخروٹ سے کوئی ایسی بات نہ کرتا تھا جس پر وہ مجھے کافر ہونے کا طعنہ دے سکے۔ مگر چھوٹااخروٹ خود ہی بات کو گھما پھرا کر اس طرف لے آتا تھا۔ اس کے مطابق میرے پیارے وطن پاکستان کا پورا نظام کافروں کا نظام تھا۔ ایک دو مرتبہ میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ غصے میں آ کر کوئی بات سننے کو تیار ہی نہ ہوتا تھا۔ ایسی ہی باتوں نے ہمیں ایک دوسرے سے دور کر دیا۔ میں نے اس کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا چھوڑ دیا اور پھر ایک دن وہ سب افغانستان واپس چلے گئے۔ اس بار مجھے چھوٹے اخروٹ کی واپسی کا افسوس نہ تھا بلکہ اس کے اس بگڑے ہوئے رویے کا افسوس تھا۔
آخری بار ۲۰۰۶ میں چھوٹے اخروٹ کا باپ ہمارے ڈیرے پر آیا۔جب میں نے اس سے اپنے دوست کا پوچھا تو وہ آنکھوں میں آنسو بھر لایا۔ اس نے مجھے جو بتایا کہ چھوٹا اخروٹ طالبان کا ساتھی بن چکا ہے۔وہ بم بنانے میں ماہر ہے۔ اس کے ذمے سکولوں میں بم دھماکے کرانا ہے۔ دو سال سے وہ گھر نہیں آیا۔ اس کی ماں رو رو کر اندھی ہو چکی ہے۔ اخروٹ خان نے اپنے بیٹے کی یاد میں اپنی مادری زبان پشتو میں چند اشعار بھی کہے تھے جن کا ترجمہ مجھے ایک اور پٹھان نے بتایا:
’’امید تھی کہ میرا بیٹا بڑھاپے میں رزق سے میرا پیٹ بھرے گا جیسے میں اس کے بچپن میں کما کر اس کا پیٹ بھرتا تھا۔ مگر وہ دشمن کی بندوق کی گولی بن کر بارود سے ہمارے پیٹ بھر رہا ہے۔‘‘
دُکھ سے میری زبان گُنگ ہو گئی اور آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ میں آج بھی اپنے دوست کو یاد کرتا ہوں تو کُڑھتا ہوں کہ تصویروں میں جان بھر دینے والا لڑکا انسانوں کی جان لینے والا کیسے بن گیا!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *