ڈونلڈ ٹرمپ سے نفرت اور خوف کی وجہ

irfan hussain

گزشتہ رات ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکہ کی طاقتور گن لابی 'نیشنل رائفل ایسوسی ایشن، سے بات کرتے دیکھ کر میں حیرت زدہ رہ گیا کہ اُنھوں نے اپنی مختصر سی تقریر میں بے دھڑک دروغ گوئی سے کام لیا، لیکن اُن کے سامعین کی پیشانی بالکل شکن آلود نہ ہوئی۔ مثال کے طور پر اُنھوں نے صدر بارک اوباما کا حوالہ دیا کہ وہ مسلح افواج کو نظر اندازکر رہے ہیں۔ اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے اُنھوں نے مثال دی کہ امریکی فضائیہ کے پائلٹوں کو جو یقیناً جدید طیارے اُڑاتے ہیں، اپنے طیاروں کو فعال رکھنے کے لیے کباڑ خانوںسے فالتو پرزے تلاش کرنے پڑتے ہیں۔ میری سمجھ سے باہر ہے کہ کس طرح کوئی تعلیم یافتہ اور ذہین شخص اُن کی اس انتہائی بے ڈھنگی مثال کو تسلیم کرسکتا ہے۔ اُن کے حاضرین نے اس وقت بھی پر جوش تالیاں بجائیں جب اُنھوں نے کہا کہ اگر وہ امریکہ کے صدر بن گئے تو وہ اس با ت کو یقینی بنائیں گے کہ مسلح افواج کو ضرورت کے مطابق فنڈز ملیں۔ ذرا غور کریں کہ امریکہ پہلے ہی اپنے عسکری حریفوں اور اتحادیوں کی نسبت دفاع پر کئی گنا زیادہ خرچ کرتا ہے،اس لیے یہ دعویٰ اشتعال انگیز ہونا چاہیے تھا، لیکن اُن کے حاضرین نے اس بیان کا بھر پور خیر مقدم کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیموکریٹک پارٹی کی متوقع امیدوار ہلیری کلنٹن پر الزام لگایا کہ وہ امریکی آئین کی دوسری ترمیم کا جو امریکی شہریوں کو ہتھیار رکھنے کی اجازت دیتی ہے، خاتمہ چاہتی ہیں۔ اس ترمیم کے خاتمے سے امریکی شہریوں سے لاکھوں ہتھیار واپس لے لیے جائیںگے۔ اس ترمیم کی وجہ سے امریکہ میں مہلک ہتھیاروں پر کنٹرول ممکن نہیں، شہری اُنہیں نہایت آسانی سے حاصل کرسکتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق یہ ہتھیار ہرسال 33,000 افراد کی جان لے لیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہلیری کلنٹن نے کبھی دوسری ترمیم کے خاتمے کی بات نہیں کی، وہ صر ف ہتھیاروں تک عوام کی رسائی کو ایک حد میں رکھنا چاہتی ہیں۔ ٹرمپ یقیناً ''سچائی سے پاک ‘‘ ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں وہ بے دھڑک جھوٹ بولتے ہوئے اپنا موقف پیش کرنے اور اپنے حریفوں کو تنقید کا نشانہ بنانے کے لیے آزاد ہیں۔ اس کے باوجود وہ اپنے حریفوں کو روندتے ہوئے وائٹ ہائوس کی طرف رواں دواں ہیں۔ جب ابتدائی رائونڈ شروع ہوا تو ری پبلکن پارٹی کی صفوں میں سترہ امیدوار دکھائی دیتے تھے، اب صرف ٹرمپ ہی میدان میں موجود ہیں۔
دوسری طرف ہلیری کلنٹن بھی سچائی کی علمبردار نہیں ہیں۔ وہ بھی ایسا سچ پسند کرتی ہیں جو اُن کے موقف کو تقویت دے ۔ صدر اوباما کے خلاف 2008ء میں اپنی مہم کے دوران اُنھوں نے حاضرین کو بتایا کہ جب وہ 1990ء کی دہائی میں بلقان جنگ کے دوران سراجیو (بوسنیا کا درالحکومت) گئیں تو ایئرپورٹ پر ایک سنائپر کی گولی کا نشانہ بننے سے بال بال بچیں، خود کو نیچے جھک کر بچایا۔ اس پر صحافیوں نے فوراً ہی ایک ویڈیو چلا دی جس میںسراجیو ایئرپورٹ پر سکول طالبات اُنہیں پھولوں کے گلدستے پیش کر رہی تھیں۔ صدارتی انتخاب کے ابتدائی رائونڈ کے آغاز سے پہلے امریکی پنڈت ہمیں بتاتے تھے کہ ٹرمپ ری پبلکن کے امیدوار کسی طور نہیں بن پائیںگے، بہت جلد رائے دہندگان اُن کا اصل چہرہ دیکھ لیں گے اور ان کا پیش کردہ چیلنج اترتے ہوئے طوفان کی طرح پس ِمنظر میں چلا جائے گا۔ تاہم آج جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں، یہ اس اندازے کے بالکل برعکس ہے۔ وہ طوفان کی طرح وائٹ ہائوس کی طرف بڑھتے چلے آرہے ہیں۔ حالیہ دو سروے اُنہیں مقبولیت میں ہلیری سے آگے بتاتے ہیں۔
ہلیری کو ''نسبتاً کم برائی‘‘ کہا جا سکتا ہے، لیکن اُن کی خامیاںاور منفی پن زیادہ آشکار ہیں۔ تاہم اگر امریکی صدر کو حاصل اختیارات کو دیکھیں تو یقیناً ٹرمپ کو اس منصب پر تصور کرکے دل دہل جاتا ہے، ہلیری ذرا کم خوفناک لگتیں ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ ہمیں حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس صورت ِحال کے لیے تیار رہنا ہوگا جب ٹرمپ دنیا کی تاریخ کی مہیب ترین عسکری قوت کے کمانڈر انچیف ہوںگے۔ اس سے بھی بڑی تشویش یہ ہے کہ ٹرمپ کے منتخب ہونے سے عالمی تجارت پر منفی اثرات مرتب ہوںگے۔ اُنھوں نے عالمی تجارتی معاہدوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان میں سے کئی ایک کو منسوخ کرنے کی دھمکی دی ہے ۔ اُنھوں نے چینی درآمدات پر بھاری ڈیوٹی عائد کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔اس سے امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ شروع ہونے کاخدشہ ہے اور ہوسکتا ہے کہ چین مشتعل ہو کر ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے تجارتی بل (treasury bills) فروخت کرنے پر تل جائے ۔ اس کے نتیجے میں ایکسچینج کے نرخ غیر یقینی صورت ِحال سے دوچار ہوجائیںگے اور عالمی تجارتی نظام برہم ہوجائے گا۔ یقیناً یہ بدترین صورت ِحال کا محض اندازہ ہے، یہ بھی ممکن ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ قوم پرستی کے شعلوں کو حقیقت پسندی کے پانی سے بجھاتے دکھائی دیں اور اُنہیں پتا چلے کہ ''سب سے پہلے امریکہ‘‘ کا نعرہ لگانے سے وہ معاشی ایجنڈے کو آگے نہیں بڑھاسکیں گے۔ لیکن پھر یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ اپنے حامیوں کو کئی ماہ تک ''سرخ گوشت ‘‘ کا چسکا لگانے کے بعد اب وہ اُنہیں راتوں رات سبزی خور کیسے بنائیں گے؟
ہم ٹرمپ کے صدر بننے کے خدشے سے جتنے بھی خوفزدہ ہوں، ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ صرف وہی ایک اہم امریکی سیاست دان ہیں جنھوں نے کھلے الفاظ میں کہنے کی جرأت کی ہے کہ امریکہ کا عراق پر حملہ کھلی تباہی اور داعش کی تخلیق کا ذمہ دار ہے۔ اُنھوں نے نیٹو کی لیبیا میں کارروائی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کیونکہ اس کی وجہ سے اتھارٹی کا خلا نمودار ہوا اور تشد د نے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ٹرمپ نے شام میں اسد حکومت کو گرنے سے بچانے پر روسی فوج کی تعریف کی ہے۔ یہ نیا بیانیہ امریکی روایتی خارجہ پالیسی کو للکارتا دکھائی دیتا ہے۔
ایک وقت تھا جب ری پبلکن صدورکو پاکستان کے حق میں بہتر اور ڈیموکریٹس کو خواہ مخواہ جمہوریت اور انسانی حقوق کی ہدایات کرکے ناک میں دم کرنے والا سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ ہم نے آئزن ہاور، نکسن، رونالڈ ریگن اور جارج ڈبلیو بش کو پاکستان کے فوجی آمروں(ایوب سے لے کر پرویز مشرف تک) کی حمایت کرتے دیکھا ہے۔ تاہم آج دونوں اہم صدارتی امیدوار پاکستان کے بارے میں ناخوشگوار لب و لہجہ اپنائے ہوئے ہیں، اس لیے مجھے خدشہ ہے کہ جو بھی جیتے گا پاکستان پر سکیورٹی کے حوالے سے کئی معاملات پر دبائو پڑے گا۔ پرانے الائنسز درہم برہم ہوجائیںگے۔ ٹرمپ نے اعلانیہ طور پر کہہ رکھا ہے کہ امریکہ کی حفاظتی چھتری صرف اُن کے لیے ہوگی جو اس کی ادائیگی کرسکیں گے ۔ اس کے بعد امریکہ میں آنے والے تارکین ِوطن کا بھی ایک اہم ایشو ہے ۔ ٹرمپ میکسیکو کے شہریوں کے امریکہ میں کام کے لیے داخلے کے خلاف ہیں۔ وہ اُنہیں روکنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان دیوار تعمیر کرنے کی تجویز پیش کرچکے ہیں۔ اُن کا یہ بیان تو سب کے علم میں ہے کہ وہ امریکہ میں مسلمانوں کا داخلہ روک دیں گے۔ اگرچہ اس بیان پر عالمی برادری نے ان کی سخت مذمت کی لیکن یہ سن کر ان کے حامیوں کے دل خوشی سے جھوم اٹھے۔ اُن کے حامی دیکھ رہے ہیں کہ مسلمان مہاجرین کو آباد کرنے کے صلے میں یورپ دہشت گردی کی کارروائیوں کا نشانہ بن رہا ہے۔ اگر مسلمان تارکین ِوطن کے لیے امریکہ کی سرحدیں کھول دی گئیں تو اُنہیں بھی اس کا نشانہ بننا پڑے گا۔ اگرچہ میرے امریکی دوست بھی ٹرمپ کی اس نومبر میں فتح کے تصورسے خائف ہیں، لیکن باقی دنیا کے پاس ڈرنے کی بھی حقیقی وجہ موجود ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *