پہچان (جدت کہلاتی حماقت میں لتھڑا ایک مکالمہ)

عنایت عادل

inayat adeel

*گھر ر ۔۔گھرر۔۔۔
*السلام و علیکم۔۔
*وعلیکم سلام۔۔
*کیسے ہیں آپ۔۔؟
*اللہ کا کرم ہے۔۔
*آپ بہت اچھا بولتے ہیں۔۔
*محترم۔۔ کم از کم میں آپ سے تبادلہ کئے گئے ان الفاظ تک واقف ہوں جو بولے نہیں، لکھے گئے ہیں۔۔
*میں محترم نہیں ہوں۔۔
*کسر نفسی ہے آپ کی یا کہ کوئی اعتراف۔۔ میرے لئے بہرحال آپ محترم ہی ہیں۔۔
*نہیں نہیں۔۔ میرا مطلب ہے کہ آپ مجھے محترم نہیں، محترمہ کہہ کر مخاطب کہیں۔۔
*محترم/محترمہ۔۔ آپ اگر اپنا تعارف کروا دیں تو مجھے آسانی رہے گی۔۔۔
*آپ مجھے نہیں جانتے۔۔
*تب ہی تو پوچھا۔۔
*میں آپ کی فین ہوں۔۔
*دیکھئے ۔۔ اگر فین سے آپ کی مراد مداح ہے تومیں نا تو کوئی مارننگ شو کرتا ہوں، نہ ہی میرے گلے میں کوئی ماڈرن بھگوان در آیا ہے اور نہ کبھی بلے گیند کے جوہر دکھا پایا ہوں تو موجودہ دور کے ان لوازمات کی عدم موجودگی میں میرا کوئی مداح پیدا ہونا ممکن ہی نہیں۔۔ اور اگر آپ کی جانب سے تحریر کردہ لفظ کا مطلب کوئی برقی آلہ ہے تو رہنے دیجئے۔۔ برق کی عدم دستیابی کی بدولت برقی آلات بے فیض ہو چکے ہیں۔۔اور اشارہ کردہ آلہ صیغہ مذکر کے طور پر استعمال ہوتا ہے، لہٰذا دونوں ہی حوالہ جات پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔
*آپ تو ایس ایم ایس میں بھی ادب بولتے ہیں۔۔
*اول تو ایس ایم ایس بولا نہیں لکھا جاتا ہے۔۔دوسرے آپ کسی بے ہودگی کو ادبی لبادہ پہنانے کا حق نہیں رکھتے/رکھتیں۔۔
*ایس ایم ایس کرنا بے ہودگی ہے؟
*معاف کیجئے گا میں نے ایس ایم ایس کی نہیں، ادب کی بات کی ہے۔۔
*آپ ادب کو بے ہودگی سمجھتے ہیں؟؟؟
*میں نے ہر دو طرح کے لوازمات کو مدغم کرنے کی جانب اشارہ کیا ہے
*آپ بہت مشکل بولتے ہیں۔۔
*’’لکھتے‘‘ زیادہ موزوں لفظ ہے۔
*ایک ہی بات ہے
*محترم اور محترمہ کی بحث کو ایک جانب رکھتے ہوئے، میرا سوال ہنوز تشنہ ہے
*میں سمجھی نہیں۔۔
*تعارف۔۔؟؟
*میں نے آپ کو ایک تقریب میں سنا تھا۔۔
*یہ تو میرا تعارف ہوا۔۔
*آپ کب سے لکھ رہے ہیں۔۔؟
*پچھلے کوئی پانچ چھ منٹ سے۔۔
*میں ادبی تحریر وں کی بات کر رہی ہوں۔۔
*بس اسی تقریب سے لکھنا شروع کیا۔۔
*کس تقریب سے؟
*جس میں بقول آپ کے، آپ نے سنا۔۔
*جھوٹ۔۔۔
*کم از کم میں نے تو سچ سمجھ کر لکھا تھا۔۔
*میرا مطلب ہے کہ آپ کی وہ پہلی تحریر نہیں تھی۔۔
*آخری کا دعویٰ آپ کیسے کر سکتی/سکتے ہیں؟
*اف۔۔ میرا مطلب ہے کہ آپ کافی عرصہ سے لکھ رہے ہیں۔۔
*لیکن آپ کے لئے تو یہ اسی تقریب سے شروع ہو ا ناں۔۔
یعنی۔۔
*تعارف کا انتظار ہے۔۔محترم/محترمہ۔۔
*آپ یہ محترم اور محترمہ دونوں کیوں لکھ رہے ہیں؟
*دیکھئے موبائل فون کا استعمال تا دم تحریر صرف نسل انسانی تک محدود ہے۔۔اور اس نسل میں مرد و زن ہی پائے جاتے ہیں۔ تیسری جنس بھلے ہی خود کو علیحدہ جنس کے اعتراف کے مطالبے کرتی رہے، مذکوہ سابقہ لاحقہ کی مد میں اسے بھی انہی دو ہی میں سے انتخاب کرنا پڑے گا۔۔
*آپ کا مطلب ہے کہ میں تیسری جنس سے ہوں؟
*غائب کا علم صرف نیلے آسمان والا جانتا ہے۔۔
*بہت افسوس ہوا۔۔
*اللہ کے کاموں میں کس کو دخل ہے؟ بہرحال مجھے آپ سے ہمدردی ہے۔
*مائی فٹ۔۔
*او ہ ۔۔ کیا ہوا۔۔ کیا آپ بھی چلتے چلتے ایس ایم ایس کرنے کے عارضہ میں مبتلا ہیں؟؟
*کیا مطلب؟؟
*آپ کے پاؤں میں چوٹ جو آئی ہے۔۔
*کس نے کہا۔۔؟
*آپ نے اوپر اپنے پاؤں کا ذکر کیا شاید۔۔
*آپ مجھے غصہ دلا رہے ہیں
*حالانکہ حق تو میرا بنتا تھا۔۔
*کس بات کا حق۔۔؟؟
*مسلسل گھرر گھر ر میرے ضبط پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے
*گھر ر گھرر کیا مطلب؟
*میرا آلہ مواصلات تحرک پر ہے
*۔۔؟؟؟
*جس کو آپ آلہ التفات بنائے ہوئے/ہوئی ہیں۔۔
*۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
*میں موبائل فون کی بات کر رہا ہوں۔۔
*خدایا۔۔ آپ تو مجھے پاگل کر دیں گے۔۔
*اللہ مسبب الاسباب ہے۔۔ انسان تو بس اپنی سی کوشش کر سکتا ہے
*آپ تو خود بھی مجھے پاگل لگتے ہیں۔۔
*کچھ لمحوں سے مجھے بھی ایسا ہی کچھ محسوس ہونے لگا ہے
*کیا مطلب؟؟؟
*سائنس نے واقعی بہت ترقی کر لی ہے
*میں سمجھی نہیں۔۔۔
*صحبت کا اثر موبائل کے ذریعے بھی سرائت کر سکتا ہے، یہ ترقی نہیں تو اور کیا ہے؟
*یعنی آپ میری وجہ سے پاگل ہوئے؟
*تصحیح فرما لیجئے۔۔میرا اشارہ آپ کے گھرر گھرر کی جانب ہے
*یعنی میں آپ کو ڈسٹرب کر رہی ہوں؟
*آپ کو خوراک میں بادام شامل کرنے چاہئیں۔۔
*وہ کیوں؟
*دماغ تیزی سے کام کرے تو کئی ایک منٹ بچائے جا سکتے ہیں۔۔ اپنے بھی اور دوسروں کے بھی۔
*میرا دماغ خراب تھا جو آپ کو میسج کیا۔۔
*ماضی کا صیغہ حیران کن ہے۔۔۔۔۔۔
*بھاڑ میں جاؤ۔۔
*الحمد للہ۔۔
*میں آئندہ کبھی آپ سے بات نہیں کروں گی
*سبحان اللہ۔۔
*خبر دار جو آئندہ مجھے میسج کیا۔۔
*استغفر اللہ۔۔۔
*تم نہایت ہی گھٹیا آدمی ہو۔۔
*آپ اپنی بات سے مکر رہی /رہے ہیں۔۔
*میں نے کبھی آپ کو اچھا آدمی نہیں کہا۔۔ سمجھے؟
*میں میسج نہ کرنے والی بات کا کہہ رہا ہوں۔
*شٹ اپ۔۔
*آپ کا آخری پیغام در اصل خود آپ کے، بلکہ آپ کے موبائل کے لئے ہونا چاہئے۔
*تم واقعی پاگل ہو۔۔
*مہر لگانے پر مشکور ہوں۔۔۔
*او۔۔ ابو آ گئے ہیں۔۔ میں آپ سے بعد میں بعد میں بات کرتی ہوں
ؒ *لا حول ولا قوۃ۔۔
*کیا۔۔؟؟ میرے ابو شیطان ہیں کیا؟
*اپنے جملے سے ابو کو نکال کر میرے جواب پر دھیان دیجئے
*میرے ابو بہت سخت طبیعت کے مالک ہیں
*پھر مت نکالئے۔۔
*خدا حافظ
*خدا حاف٭۔۔۔۔۔۔
*میرے ابو اگر نہ آجاتے تو آپ کو بتاتی۔۔
*آپ کے ابو اگر گھر پہ نہ ہوتے بھی آپ پر نظر رکھتے تو آپ کو کچھ نہ بتانا پڑتا۔۔
*کیا کہنا چاہتے ہیں آپ۔۔۔؟
*وہی جو آپ کے ابو کو آپ سے کہنا چاہئے تھا۔۔
*آپ میرے ابو ہیں۔۔؟
*ابو نہ سہی۔۔۔ بزرگ ہی سمجھ لیجئے۔
*اس کا مطلب ہے آپ وہ نہیں ہیں جو میں سمجھ رہی ہوں۔۔؟؟
*بادام کا مشورہ دوہرایا جا سکتا ہے۔۔
*یعنی آپ واقعی وہ نہیں ہیں؟
*کاش کہ میں کسی وہ کو جانتا۔۔
*بل شٹ۔۔۔
*میں اس جانور سے بھی بس دیکھنے کی حد تک واقف ہوں۔۔
*کس جانور سے۔۔؟؟
*جس کافضلہ آپ کے ذہن اور پھر اسکے بعد آپ کے دائیں ہاتھ کے انگوٹھے سے نکلتے ہوئے بذریعہ موبائل مجھ تک پہنچا ہے۔
*آپ نے میرا وقت ضائع کیا۔۔
*وقت کے بجائے کوشش کا لفظ زیادہ موزوں تھا اس فقرے میں۔۔
*کیسی کوشش۔۔؟؟
*جو پچھلے آدھ گھنٹے میں جاری و ساری رہنے کے بعد ناکامی کا منہ دیکھ رہی ہے۔۔
*مجھے کوئی ناکام نہیں کر سکتا۔۔
*آپ کے ابو آ چکے تھے شاید۔۔
*تو کیا ہوا۔۔؟
*میں آپ کا کیس سمجھ گیا۔۔
*کون سا کیس۔۔
*آنکھیں موندنے کا۔۔
*کس کی ۔۔۔؟
*آپ کے والدین کی۔۔
*کس سے ۔۔؟؟
*آپ کی حرکتوں سے۔۔
*یو بلڈی نان سنس۔۔
*میری چھ کی چھ حسیات بخیریت ہیں۔۔ الحمد للہ۔۔
*تم تو انتہائی دقیانوس نکلے۔۔
*اس مرتبے پرفائز کرنے کی وجہ؟
*دنیا چاند پر پہنچ گئی ہے اور آپ گپ شپ کو بیہودگی سمجھتے ہیں۔۔
*گپ شپ غیروں سے نہیں اپنوں سے کی جاتی ہے۔۔اور اسکے لئے کسی موبائل فون کی ضرورت بھی اکثر نہیں ہوتی۔۔
*جو بھی ہو، مجھے افسوس ہوا۔۔
*کسی اپنے سے گپ شپ کی کوشش کرتیں تو افسوس کے بجائے سکون ملتا۔۔
*میرا کوئی اپنا نہیں
*ابو کو سخت مزاج سمجھنا چھوڑئیے، وہ آپ کو میسر سب سے زیادہ آپ کے اپنے ہیں۔
*مجھے ان سے شرم آتی ہے
*انجان لوگوں کو دوستی کی بے باک دعوت اور گھر میں موجود بے لوث اور حقیقی دوستوں سے لاج۔۔؟
*مگر ابو تو امی سے بھی سیدھے منہ بات نہیں کرتے۔۔
*آپ دونوں کو بے تکلف دوست بنا لیں۔۔ آپ کی بے تکلفی آپ کے والدین کے منہ بھی سیدھے کر دے گی
*سچ۔۔۔؟؟
*ایمان کی حد تک۔۔
*اچھا میں کوشش کروں گی۔۔
*ضرور
*شکریہ۔۔ خدا حافظ
*خدا حافظ
(چند دن کے بعد۔۔فون کال پر)
*السلام و علیکم۔۔
*وعلیکم السلام
*پہچانا۔۔؟
*معذرت کے ساتھ۔۔۔نہیں۔
*میں وہی ہوں جس نے آپ سے اس دن ایس ایم ایس پر آپ سے چیٹ کی تھی۔۔اور آپ سے کافی بدتمیزی بھی کی تھی۔۔
*اوہ اچھا۔۔ کیا احوال ہیں آپ کے؟
*شکر ہے آپ نے پہچان لیا۔۔میں نے اسی حوالے سے آپ سے معافی مانگنے اور آپ کا شکریہ ادا کرنے کے لئے فون کیا ہے
*امید ہے آپ کو میرے بولنے سے زیادہ خود آپ کے والد کی گفتگو پسند آئی ہو گی۔۔
*آپ نے درست فرمایا۔۔ آپ کی دی جانے والی ہدایات کے مطابق میں نے امی اور ابو سے ناصرف خود دوستی کر لی بلکہ اب ہم تینوں نہایت بے تکلف دوست ہیں۔۔
*واہ۔۔ مبارک ہو۔۔آپ کو بھی اور آپ کے والدین کو بھی۔
*اور ایک بات اور ۔۔ میں آج آپ کو یہ فون چھپ کر نہیں کر رہی۔۔ میرے ساتھ میرے امی اور ابو بھی بیٹھے ہیں۔۔ میں نے ان کو آپ سے کی جانیو الی سالی چیٹنگ پڑھائی۔۔ انہوں نے نا صرف مجھے معاف کر دیا بلکہ وہ دونوں آپ کو دعائیں بھی دے رہے ہیں۔
وہ لڑکی نہ جانے کب تک مجھ سے والہانہ انداز میں بات کرتی رہی اور میں نہ جانے کب تک اسکی چہچہاٹ بھری آواز ، بلا کسی جھنجلاہٹ اور بغیر کسی بے زاری کے اپنی سماعتوں میں محسوس کرتا رہا۔۔
میرے لئے قطعی طور پر انجان اس لڑکی کو علم نہیں تھا کہ اس کی خوشیوں بھری آواز میری آنکھوں کو نم کر چکی تھی۔۔ میں سوچ رہا تھا کہ کاش، ہم سب اپنی خوشیوں کو اپنے گھر، اپنے پاس پڑوس اور عزیز واقارب میں تلاش کرنا شروع کر دیں تو کسی کو غیر کی جانب دیکھنے کی فرصت ہی نہ مل پائے۔
اور ہاں ۔۔ہو سکتا ہے کسی کو بے وقت کی بے تکی، جھنجھلاتی گھرر گھرر کا نشانہ بھی نہ بننا پڑے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *