کامران مائیکل کی نئی وزارت اور اقلیتوں کے حقوق

sahil munir

بالآخر وہی ہوا جس بات کا خدشہ تھا۔۔۔اقلیتی سینیٹر کامران مائیکل کو وزارت پورٹس اینڈ شپنگ سے فارغ کر دیا گیا اور ان کی جگہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ میر حاصل خان بزنجو نے نئے وفاقی وزیربرائے پورٹس اینڈ شپنگ کا حلف اٹھا لیا۔جبکہ کامران مائیکل کو وزارتِ انسانی حقوق سونپ دی گئی ہے۔اب دیکھتے ہیں کہ اِس نئی وزارت کے تحت وہ کِس حد تک مذہبی اقلیتوں سمیت دیگر پسماندہ و درماندہ طبقات کے انسانی حقوق کا تحفظ کرتے ہیں۔ویسے تو اقلیتوں کے حقوق و مفادات کے حوالے سے انکی سابقہ کارکردگی اتنی قابلِ رشک نہیں ہے کہ کسی خوش فہمی کو دِل میں جگہ دی جائے۔جہاں تک انکی وزارت سے سبکدوشی کا تعلق ہے تو کچھ اقلیتی حلقے اسے انکے چرچ پراپرٹی فراڈ کیس اور دیگر الزامات کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں لیکن انہیں کلی وجوہات قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ اِس سے پیشتر بھی حکمران جماعت کے کئی وزراء اور اراکینِ پارلیمنٹ کرپشن سمیت دیگر الزامات کی زد میں رہے ہیں اور بدستور اپنے مناصب پر براجمان ہیں۔لہذا یہ سمجھ لینا کہ کامران مائیکل کومحض مذکورہ بالا عوامل کی بنا پر وزارت سے فارغ کیا گیا،حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے بلوچستان کی قوم پرست جماعت نیشنل پارٹی کی قیادت پورٹس اینڈ شپنگ کی وزارت کے حصول کے لئے بھر پور سرگرمِ عمل تھی اور اِس سلسلہ میں پارٹی کو مسلم لیگ(ن) کی صوبائی قیادت کی حمایت بھی حاصل تھی۔ بلوچ قوم پرست گوادر پورٹ کے حوالے سے اِس اہم وزارت کو اپنا حق سمجھتے ہوئے وفاقی حکومت پر مسلسل دباؤ ڈالے ہوئے تھے۔بنا بریں وزیرِ اعظم نواز شریف کو یہ اہم فیصلہ کرنا پڑا۔تاہم سینیٹر کامران مائیکل کے لئے یہ بات قدرے تسلی کا باعث ہے کہ وہ وزیرِ بے محکمہ ہونے سے بچ گئے جِس کا بھر پور خدشہ موجود تھا۔۔۔۔۔ !کامران مائیکل پرانے مسلم لیگی کارکن ہیں اور2002ء میں وہ ممبر پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے.بعد ازاں بھی ن لیگ کی نامزدگی سے وہ رکن صوبائی ا سمبلی اور صوبائی وزیرِ خزانہ پنجاب رہے ہیں اور2011ء میں پنجاب کا سالانہ بجٹ بھی انہوں نے ہی پیش کیا۔( اگرچہ بہت سے ممبرانِ اسمبلی کو ایک غیر مسلم رکن اسمبلی کے اِس اہم منصب پر اعتراض تھا)۔سال 2012ء میں انہوں نے پنجاب سے مسلم لیگ کے نامزد اقلیتی سینیٹر کی حیثیت سے حلف اٹھایا اور بعد ازاں جون2013ء میں انہوں نے وفاقی وزیر برائے پورٹس اینڈ شپنگ کی ذمہ داری سنبھال لی اور اب اسکی جگہ انہیں وزارتِ انسانی حقوق سونپ دی گئی ہے۔اِس منصبِ نو کے حقِ ادائیگی کے ضِمن میں جنابِ وزیرِ با تدبیر سے گزارش ہے کہ پاکستانی سماج میں انسانی حقوق کی بحالی کی شروعات اپنے گھر یعنی مذہبی اقلیتوں سے کریں کیونکہ اِس وقت یہ محروم و پسماندہ طبقات لا تعداد مذہبی تعصبات اورامتیازات کا شکار ہیں۔یوں تو آپ سمیت بہت سے دیگر اقلیتی نمائندے قانون ساز اداروں میں موجود ہیں لیکن اس کے باوجود پاکستان میں اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنے سیاسی، سماجی،مذہبی اور قانونی و آئینی حقوق کے حوالے سے غیر مطمن ہے۔علاوہ ازیں صحت ،تعلیم اور روزگار کے حوالے سے بھی انہیں لاتعداد مسائل و مشکلات درپیش ہیں۔سرکاری ملازمتوں میں مختص پانچ فیصد اقلیتی کوٹے پر بھی صحیح معنوں میں عمل نہیں ہوتا اوراس بابت اکثر اوقات اقلیتی امیدواران کے ساتھ سوتیلے پن کا برتاؤ کیا جاتا ہے۔بھرتی کے وقت اقلیتی افراد کی لسٹ سب سے آخر میں تیار کی جاتی ہے اور انہیں ایسے دور دراز علاقوں میں تعینات کر دیا جاتا ہے جہاں دیگر اکثریتی امیدواران جانے کو تیار نہیں ہوتے۔اگر یقین نہ آئے تو محکمہ تعلیم میں ہونیوالی سابقہ بھرتیوں کا ریکارڈ ملاحظہ فرمالیں،حقائق سامنے آجائیں گے۔اقلیتوں پر توہینِ مذہب کے جھوٹے الزامات کی مشقِ ستم اورمسیحی آبادیوں کے جلاؤ گھیراؤ کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔انکے خلاف اشتعال انگیز لٹریچر کی تیاری،نفرت پر مبنی تقاریر ، اقلیتی خواتین کا اغواء اور جبری تبدیلیء مذہب کے تحفطات تاحال بر قرار ہیں۔۔۔۔ اگرچہ حکومت ، عدلیہ اورسیکورٹی اداروں کی طرف سے اقلیتی کمیونٹی کے عدم تحفظ کے احساس کے خاتمہ کے لئے کچھ اقدامات کئے گئے ہیں لیکن ہنوز دِلی دور است کے مصداق ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے ۔جِس کے لئے وزارتِ انسانی حقوق اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔اِس مختصر اظہاریے کے آخر میں اپنا ایک قطعہ نذرِ قارئین ہے:
ہوتے ہیں روز قتل سرِ رہگزار ہم
کب تک پروئے جائیں گے اشکوں کے ہار ہم
اے ربِ ذوالجلال کوئی سائبان دے
ٹھہرے ہیں اِس جہاں میں غریب الدیار ہم

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *