استاد کا رویہ تعلیمی اداروں کا کلچرہوتا ہے

qasim yaqoob

پچھلے دنوں اسلام آباد کی ایک تنظیم Society for the Protection of the Rights of the Child نے ایک سروے کروایا۔ یہ سروے سکول طلبا پر ہونے والے تشدد پر مبنی چند سوالات پر مشتمل تھا۔ مجھے یہ جان کر حیرانی ہوئی کہ 76فیصد والدین اپنے بچے کو سزا دینے کے حق میں تھے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بچے کو سزا دینے سے اُس کے بگڑنے کے امکانات محدود ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح 87فیصد اساتذہ نے بچے کے مزاج کو درست کرنے کے لیے تھوڑی بہت جسمانی سزا کو لازمی قرار دیا۔مگر سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ ہر سال33فیصد طلبا کے سکول چھوڑنے کی وجہ جسمانی سزا ہی بنتی ہے۔ 93فیصد طلبا نے سروے میں اقرار کیا کہ وہ اپنے سکول میں جسمانی سزا کے مراحل سے گزرے ہیں۔جسمانی سزا ہمارے سکولوں کا بہت بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ تشدد اور سزا میں بہت فرق ہوتا ہے۔ سزا توباز پرس کے معنوں میں استعمال ہونے والا لفظ ہے۔عموماً یہ فرض کیا جاتا ہے کہ ایک طالب علم جب سکول میں اپنے ٹیچرز کے سامنے کچھ سیکھنے کے جذبے سے بیٹھ جاتا ہے تو ٹیچر ایک رہنماکے طور پر اپنا کردار ادا کرتا ہے جس میں وہ کبھی سخت اور کبھی دوستانہ رویوں سے طلبا کوپڑھانے کی کوشش کرتاہے۔ یاد رہے کہ استاد کوطالب علم کے ساتھ دوستانہ رویہ تو رکھنا چاہیے مگر اُس کا دوست بن جانے سے کلاس روم سرگرمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہونے لگتا ہے۔ ہم اس کوFriend اورFriendlyکی اصطلاحوں میں زیادہ بہتر سمجھ سکتے ہیں۔ یعنی ٹیچر کو Friendlyتو لازمی ہونا چاہیے مگرFriendنہیں ہونا چاہیے یا احتراز برتنا چاہیے جب تک وہ کلاس روم سرگرمی سے منسلک ہو۔لفظ’’ سزا‘‘ تو ایک تنبیہ اور یاددہانی کے طور پر اپنا عمل کرتی ہے مگر ’’تشدد‘‘ ہرگز سزا نہیں ہوتی۔ تشدد میں جسمانی اذیت سے زیادہ طالب علم کی ’’توہین‘‘ کا عمل پوشیدہ ہوتا ہے۔ وہ استاد جو سزا اور تشدد کے مابین فرق نہیں کر سکتا وہ کسی طور پر بھی طالب علم کی عزت اوراُس کی توہین کے معیارات کا خیال نہیں رکھ سکتا۔ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ ہمارے ماہرین جو اساتذہ کا انتخاب کرتے ہیں، اس اہم ذمے داری کو غیر ضروری خیال کرتے آئے ہیں۔ ایک ٹیچرتعلیم یافتہ ہونے کے بعد کس طرح کی شخصیت رکھتا ہے، اُس کا ذہنی مطالعہ اُسے کس طرح کے رویوں کا عکاس بتاتا ہے، وہ معاشرے کی کن محبت آمیز حقیقتوں پر یقین رکھتا ہے۔ وہ اپنے علم سے سماج دشمن تو نہیں بن گیایا اُس کی ذہنی تخریب نے اُسے انسان دوست جذبات سے محروم تو نہیں کر دیا؟ان سوالوں کو اساتذہ کے اوصاف سے تہی کر دیا جاتا ہے۔ میرے خیال میں ایک استاد کا کردار ہمارے معاشرے میں نہ ہی اہمیت رکھتا ہے اور نہ ہی دورانِ ملازمت کوئی اُس کاباریک بینی سے جائزہ لیتا ہے۔مجھے روزنامہ ڈان میں ایک دلچسپ خبر پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ محض خبر نہیں بلکہ ہمارے تعلیمی نظام کے تہہ در تہہ مسائل کی ایک وجہ بھی کہلائی جا سکتی ہے جس سے نجات کا عمل اتنا آسان نہیں۔ خبر کے مطابق راولپنڈی کے ہولی فیملی ہسپتال میں ایک بیس سالہ نرس سونیا کی میٹرک کی جعلی ڈگری کی وجہ سے اُسے سزا کے طور پر ہفتے میں تین دن ایک سرکاری سکول میں پڑھانے کی سزا دی گئی ہے۔ جج نے اپنے خصوصی اختیار کا استعمال کرتے ہوئے سیکشن 5کے مطابق نرس کو یہ سزا سنائی۔جج نے نرس کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ وہ 2سال تک ہفتے میں تین دن خدیجہ ہائی سکول میں بچوں کو پڑھائے ۔ اس سلسلے میں پرنسپل کو بھی عدالت میں بلا کرخصوصی احکامات دیے گئے کہ وہ ماہانہ بنیادوں پر سونیا کی کارکردگی رپورٹ پیش کرتی رہے۔ اس کارکردگی میں اُس کی حاضری اور بچوں کو پڑھانے کا معیار بھی شامل ہوگا۔ میں جیسے جیسے یہ خبر پڑھتا گیا میں جیسے زمین میں گڑتا گیا ۔ اب بھلا ایک نرس کو سزا کے طور پر پڑھانے کا کام کروایا جائے گا۔ میں نے اپنے ایک دوست سے جب اس خبر کا ذکر کیا تو وہ نہایت اعتماد کے ساتھ اس فیصلے کو احسن قرار دینے لگا اور کہنے لگا کہ کیا ہمارے نبیﷺ نے سزا کے طور پر مشرکین کو پڑھانے کی سزا نہیں دی؟ میں اس کے اس اعتماد کو سختی سے کچلنا چاہتا تھا مگر میرے جواب نے اُس کے تمام دلائل بے اثر کر دیے۔ میں نے کہا کہ کیا گرفتار ’قریش‘ سونیا کی طرح جعلی ڈگری کیس میں پکڑے گئے تھے۔ سونیا کو تو اسی لیے سزا دی جا رہی ہے کہ اُس کی تعلیم ہی جعلی ہے اور وہ سزا کے طور پر بھی تعلیم دے رہی ہے۔ سونیا کی تو سزا ہے مگر اُن بچوں کا کیا قصور جو سکول میں ایک جعلی ڈگری میں پکڑی جانے والی نرس سے اپنے زندگی کے نہایت قیمتی دنوں میں زیورِ تعلیم سے آراستہ ہونے کے لیے اُس کے سامنے دو زانو ہوکے بیٹھے ہیں۔
اچھے ٹیچر کا نہ ہونا بھی طالب علم پر ذہنی تشدد ہی ہے جسے ہم کبھی درخورِ اعتنا نہیں سمجھتے۔ٹیچر کیا پڑھا رہا ہے اور وہ طالب علموں سے کس طرح کی تخلیقیت شےئر کرتا ہے ہمیں ان مسائل سے زیادہ اُس کی جسمانی اذیت اہم لگتی ہے۔جسمانی تشدد اور سزا سے طالب علم جس طرح کی توہین سے گزرتے ہیں وہ روز کا معمول بن گیا ہے۔ چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں تو یہ صورتِ حال اور بھی خراب ہے۔ وہاں طالب علم کی ’’توہین‘‘ صرف تشدد اور مار سے ہی نہیں ،بلکہ گھر کے کام کاج، فقرہ بازی، جنسی خوف، گالم گلوچ اور ذاتی ملازم بنانے کے طور پربھی ہو رہی ہوتی ہے۔ (ویسے طالب علم کی توہین کا عمل تو جامعات کے طلبا و طالبات کے ساتھ بھی جاری ہے اور وہ کسی طرح بھی دیہاتوں کے سکول طلبا کے ساتھ ہونے والی توہین سے کم نہیں)
کچھ اخباری خبروں کے مطابق جولائی2012میں کراچی سے تعلق رکھنی والی چار سالہ بچی انعم کو ایک استانی نے تشدد کرتے ہوئے پنسل کی نوک سے اُس کے بازو پر نشان بنادیے اور بازوکی ہڈی توڑ دی۔ایک اور خبر کے مطابق ہری پور میں ایک مدرسے کے استاد نے اپنے موبائل فون کی چوری کے مبینہ شبہ کی وجہ سے ایک طالب علم کو بہت تشدد کا نشانہ بنایا۔ اُس کے جسم پر گرم استری کے نشان داغ دیے۔ اسی طرح کچھ سال پہلے سکول طلبا کے گھر سے بھاگنے اور خود کشیوں کے یکے بعد دیگرے واقعات رونما ہوئے۔ اُن کے پیچھے بھی ٹیچرز کا توہین آمیز رویہ اور تشدد تھا۔ ٹیچرز اپنے ذاتی رنج اور طلبا کے والدین سے رقابت کو بھی طلبا پر تشدد کا بہانہ بناتے ہیں۔
سزا کب تشدد کا روپ دھارتی ہے اس سوال کو سماجی حوالوں سے زیادہ نفسیاتی حوالوں سے دیکھا جائے تو ہم کسی نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں۔ٹیچرز کا رویہ اتنے جدید معاشرے میں بھی وہی دقیانوسی انداز کا کیوں ہے؟ کیا ٹیچرز ابنارمل طبقے سے تعلق رکھتے ہیں؟ پہلی بات تو یہ کہ تمام اساتذہ کا رویہ ابنارمل نہیں ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ حالات وہاں زیادہ خراب ہیں جہاں سماجی اندازِ زندگی خراب ہے۔ اب اگر نفسیاتی مطالعہ کیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ ایک استاد براہِ راست اپنے اردگرد کے تنگدست ماحول کا باسی ہے جس کی گھٹن زدہ فضا نے استاد کے تخلیقی اور تعمیری ذہن کو زنگ آلود کر دیا ہے یا اُس کے اپنے پیشے سے وابستہ جذبوں میں طراوت نہیں آنے دی۔ وہ اپنی گھٹن کو بغیر کسی تخلیقی حصہ داری کے اُسی طرح اپنے طلبا تک منتقل کر دیتا ہے۔ گویا سماج کا بدنما چہرہ طالب علم کو اپنے استاد کی سوچ اورکردار میں نظر آتا ہے ۔ استاد چوں کہ خود اسی ماحول اور نظام کا پروردہ ہوتا ہے اس لیے وہ بھی اس کو تبدیل کرنے کا جتن نہیں کرتا۔
پچھلی قومی اسمبلی نے مدرسوں اور اسکولوں میں بچوں پر تشدد اور جسمانی سزاؤں کے خلاف ممانعت بل منظور کر لیا تھا اس میں طلبا کو سزا دینے والے ٹیچر پر بھاری جرمانے کے علاوہ ایک سال قید یا دونوں سزائیں بھی دی جا سکتی ہیں۔ یہ بل ابھی سینٹ سے منظور ہونا تھا کہ قومی اسمبلی کی مدت ختم ہو گئی۔ میرے خیال میں طالب علم کو سزا دینا اتنا بڑا مسئلہ نہیں جتنا بڑا مسئلہ اُس کی تعلیمی اداروں میں ہونے والی توہین ہے۔ اساتذہ طالب علم کو ایک حقیر چیز تصور کرتے ہیں، اڈمن کا عملہ بھی طلبا و طالبا ت کو تعلیمی اداروں کے اندرایک اضافی شے سمجھتے ہیں۔ اور نہایت بد تمیزی سے پیش آتے ہیں۔ طلبا کو درپیش مسائل کے حل کے لیے اُن کا اپنا ادارہ ہی سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ بعض اوقات بہت چھوٹی سی بات یا مسئلے کی عدم توجہ سے طلبا ہمیشہ کے لیے امتحانات سے محروم ہو جاتے ہیں یا دل برداشتہ ہو کر تعلیمی اداروں سے بھاگ جاتے ہیں۔
ہماراپورا تعلیمی نظام اپنے آخری سانسوں پر ہے۔ ہمیں ازسرِ نو نئے مسائل کی روشنی میں اپنے نظامِ تعلیم کو بدلنا ہو گا۔ پرانے طریقہ کار بھی بدلنے ہوں گے۔آپ کو یہ جان کر حیرانی ہو گی کہ نومبر2012میں روزنامہ ’’اوصاف‘‘ گلگت میں یہ خبر شائع ہوئی ’’گلگت کے جماعت ششم کے طلبا سائنس کے پیریڈ میں درسی کتابیں اسکول میں چھوڑ کر اپنے علاقے میں ماحولیاتی آلودگی کا جائزہ لینے کے لیے نکل پڑے۔ ان طلبا نے خود اپنے سوالات مرتب کیے اور مقامی لوگوں سے مل کر ان کے جوابات بھی خود حاصل کیے۔‘‘ یہ کردار تو استاد کا ہے۔ اگر بہت اچھا تعلیمی ادارہ ہے مگر طلبا کو ملنے والا استاد اُن کو نئے انداز سے نہیں پڑھا رہا تو بچہ نمبرز کی حد تک تو اچھا نکلتا ہے مگر سماجی اور فکری حوالوں سے بانجھ رہ جاتا ہے۔پوری دنیا میں اب تعلیمی ادارہ نئے ٹیچنگ طریقہ کار(Method) کو اپنا رہا ہے۔ استاد کا کردار مرکزی نوعیت کا ہوگیا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے یہ مان لیا ہے کہ تعلیمی ادارے جتنی چاہے اپنی پالیسیز بنا لیں اگر استاد اپنے کردار سے طالب علم کو متاثر نہیں کر رہا تو تعلیمی ادارے کی بچے پر اثر انداز ہونے کی خواہش ادھوری ہی رہتی ہے۔
ہم اپنے تعلیمی نظام کو ٹھیک کرنے نکلے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے استاد کے کرداری اورنفسیاتی مطالعے کا سامان تیارکرنا ہو گا۔ اُس کی تربیت کرنا ہوگی۔ تشدد اور مار سے طالب علم کی توہین کو روکنا ہو گا۔ تعلیمی اداروں کوActivity Centerبنانا ہوگا۔ تخلیقی مزاج کا استاد ہی اپنے طالب علموں کو تخلیقی فضا مہیا کر سکتا ہے۔ طالب علم، ٹیچراور کلاس روم اکٹیویٹی ہی کسی تعلیمی ادارے کا مرکز ہوتے ہیں۔ اگر ہم یہ باور کر لیں کہ کسی بھی معاشرے کی سب سے مقدس سرگرمی مسجد اور کلاس روم میں ہو رہی ہوتی ہے تو شاید ہم میں طلبا اور اساتذہ کا احترام پیدا ہو جائے اور اسی بہانے ہمارے اساتذہ کو بھی اپنی ا ور اپنے طلبا کی توہین بہت بڑا گناہ محسوس ہونے لگے۔کیوں کہ کسی بھی تعلیمی ادارے میں استاد کا کردار اُس ادارے کا کلچر ہوتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *