خودساختہ دہشتگردی

pen and paper

محمد شیث یونس

ہم کچھ دیربزم غالب میں گزارنے کے آرزومندتھے کہ ستیش ورما بیچ میں آگئے۔ بھارتی وزارت واخلہ کے سابق افسر۔ انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ13اپریل 2001کو دہلی میں پارلیمنٹ اور نومبر2008کو ممبئی میں تاج محل ہوٹل پر حملے خود بھارتی حکومت نے کرائے تھے۔ الزام پاکستان پردھردیا۔ بات محض الزام کی نہیں سوچ کی ہے۔ ہندومت میں لاکھوں دیوی دیوتا ہیں۔ روزمرہ کے کام نکلوانے اور مسائل کے حل کیلئے ہندو مصیبت میں پڑے رہتے ہیں کہ کس دیوی دیوتا کو خوش رکھا جائے اور کس کی ناراضگی سے بچا جائے۔ بقول غالبؔ :
کام اس سے آپڑا ہے کہ جس کا جہان میں
لیوے نہ کوئی نام ستم گر کہے بغیر
دیوی دیوتاؤں کے معاملے میں انتشار کے شکار ہندو ایک معاملے میں یکسو ہیں۔ پاکستان سے نفرت۔ بھارت میں کرائے گئے ایک حالیہ سروے کے مطابق 94فیصد بھارتی پاکستان کواپنے لئے سب سے بڑے خطرہ سمجھتے ہیں۔ بھارتیوں کی اکثریت کی نظر میں انتہائی پسندیدہ ملکوں میں پاکستان کا سب سے آخری درجہ ہے۔ پاکستان کے بعد اہل کشمیر ہیں جن پرہرروزتشدد اور ظلم و ستم کرنا نہرو سے لیکر منموہن تک تمام بھارتی حکومتوں کا مشترکہ عقیدہ ہے۔ جمعرات ہی کو بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں قرآن پاک کی بے حرمتی اور امامِ مسجد کی شہادت کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر بھارتی فوج نے گولیاں برسائیں جس میں سات مظاہرین شہید اور پینتالیس زخمی ہوگئے۔
بھارت اس عالمی اسٹیلبشمنٹ کا سرگرم حصہ ہے جو امریکہ اور مغربی دنیا کے ساتھ مل کر کرہ ارض پر مسلمانوں کی بربادی کے درپے ہے۔ تاریخ عالم میں انسانی گروہوں نے ایک دوسرے پر اس قدر خوفناک مظالم کبھی نہ ڈھائے ہوں گے جتنے آج مسلمانوں پر ڈھائے جارہے ہیں۔ انسانی جسموں سے رستے ہوئے گلے سڑے زخم،ان زخموں سے جھانکتی ہڈیاں اور جلی پھنکی بستیوں میں لاشوں کے ڈھیر دہشت ناک مناظر ہیں۔ انسانیت کانوحہ لیکن فلسطین اور بوسنیا سے لیکر الجزائر اور عراق افغانستان اور شام سے لیکرمقبوضہ کشمیر تک سب گوارا، سب پسندیدہ محض ایک کھیل اگرجسم اور بستیاں مسلمانوں کی ہوں۔کبھیWeapons Of Mass Destructionکا شرمناک جھوٹ بول کرعراق برباد کردیاگیا۔ کبھی ۱۱ستمبر کے ڈھائی ماہ بعددنیا کی سب سے طاقتور ترین قوم نے چالیس سے زائد اتحادی ممالک کے ساتھ دنیا کے غریب اور پسماندہ ترین ممالک میں سے ایک افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجادی حالانکہ افغانستان کا نائن الیون کے حملوں سے دورپرے کا واسطہ بھی نہیں تھا۔ کبھی امریکہ کے فطری حلیف بھارت نے دہلی میں پارلیمنٹ پر خود حملہ کراکے اسے اپنا نائن الیون قرار دے دیا۔ بھارتی میڈیانے دنیابھر میں پاکستان کے خلاف زہریلے پروپیگنڈے کا طوفان اٹھا دیاکہ پاکستان دہشتگرد پالتا اور انہیں پڑوسی ممالک میں فسادکیلئے بھیجتا ہے۔ میڈیاکی اس کارکردگی کابھارتی حکومت نے دہرا فائدہ اٹھایا۔ بھارتی حکومت نے ایک طرف پاک بھارت سرحدپربھاری تعداد میں فوج تعینات کردی ہے جو پورے ایک سال تک سرحدوں پر موجود رہی۔ دوسری طرف بھارت نے Unlawful Activities Provincial Act(UAPA)نافذ کردیا۔ یہ بھارت میں جاری آزادی کی تحریکوں خصوصاً مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو کچلنے کیلئے بنیادی انسانی حقوق کے منافی قانون ہے جس کے بعد مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم درندگی کی انتہا کو چھونے لگے۔ دہشتگردی کے نام پر دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف جوکھیل کھیلا جارہا ہے اسے دیکھ کر بزکشی یاد آجاتا ہے۔ تاتاریوں اور مغلوں کا پسندیدہ کھیل۔ اس میں دو گھڑ سوار ٹیمیں حصہ لیتی تھیں۔ میدان میں بھیڑ کاایک بچہ چھوڑ دیا جاتا تھا۔ دونوں ٹیموں کا ہدف اس بھیڑ کے بچے کو اپنے قبضے میں لینا ہوتا تھا۔ گھڑ سوار لپک کر بھیڑ کے بچے کو اٹھانے کی کوشش کرتے۔ اکثر ایسا ہوتا کہ بھیڑ کے بچے کی ایک تانگ ایک گھڑ سوار کے ہاتھ میں آجاتی اور دوسری ٹانگ دوسرے گھڑسوار کے ہاتھ میں آجاتی۔ دونوں اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کرتے اور زندہ بھیڑ کا بچہ دو حصوں میں چرجاتا۔ اس پر گھڑ سوار فتح کے نعرے لگاتے۔ کھیل جاری رہتا اور بھیڑ کا ایک اور بچہ چرنے کیلئے میدان میں چھوڑدیاجاتا۔ آج بھیڑ کا یہ بچہ عالم اسلام ہے۔
یہ بھارتی پروپیگنڈے کا کمال ہے کہ پارلیمنٹ پر حملے کے بارہ برس بعد تک دنیا بھر میں پاکستان کو بدنام کیا جاتا رہا ہے باوجود اسکے کہ اسٹیج کردہ ڈرامے میں کئی بڑے جھول تھے۔ 13دسمبر2001ء کو بھارت کی پارلیمنٹ میں پانچ دہشتگرد داخل ہوئے۔ یہ دہشتگرد اتنے نکمے اور بیوقوف تھے کہ اس وقت داخل ہوئے جب لوک سبھااور راجیہ سبھا کا اجلاس ختم ہوئے چالیس منٹ گزرچکے تھے۔ حملے سے ایک دن پہلے بھارتی وزیراعظم نے 12دسمبر کو خدشہ ظاہر کیاتھا کہ پارلیمنٹ پر حملہ ہوسکتا ہے انہوں نے اس حملے کوروکا کیوں نہیں۔ آج تک بھارتی حکومت نے پانچوں حملہ آوروں کے نام نہیں بتائے اور نہ ان کی لاشوں کے سی سی ٹی وی فوٹیج دکھائی۔ حملہ آوروں کے داخلے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں چھ حملہ آور دکھائے گئے تھے پانچ مارے گئے ایک کہاں ہے؟ بھارتی حکومت نے پارلیمنٹ میں اس حوالے سے بحث بھی نہیں ہونے دی یہ وہ سوالات ہیں جو خود بھارت میں اٹھائے گئے۔26نومبر2011کو ممبئی تاج محل ہوٹل پر حملہ،کہا جاتا ہے کہ امریکن سی آئی اے اور بھارت کے خفیہ اداروں کی مشترکہ کاوش تھی۔اس موقع پر بھی بھارتی میڈیا کی تندی کا یہ حال تھا کہ پاکستانی میڈیا بھی بھارت کی زبان بولنے لگا۔ ان دو واقعات کے علاوہ سمجھوتہ ایکپریس آتشزنی جس میں درجنوں پاکستانی جاں بحق ہوئے اس کی ذمہ داری بھی پاکستان پر ڈالی گئی جبکہ سچ یہ تھا کہ اس واقعے کے ذمہ دار ہندو بنیاد پرست تنظیمیں اور بھارتی خفیہ ادارے تھے۔ ان واقعات کے بعد بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے یہ ماٹو اختیار کیا کہ’’افسوس کرنے کے بجائے خود کو محفوظ کرلینا زیادہ بہتر ہے‘‘۔ خود کو محفوظ کرنے کے اس عمل میں بھارتی خفیہ اداروں نے انتہائی ظالمانہ اور مکروہ طریقے اختیار کیے۔ خصوصاً پاکستان کے باب میں۔ بھارتی خفیہ ادارے بلوچستان میں سلگتی ہوئی آگ کو ہوا دے رہے ہیں۔ افغانستان میں پاکستان مخالف ٹریننگ کیمپ چلارہے ہیں۔ بھارت پاکستان کی معیشت کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان کے دریاؤں کو خشک کرکے اسے بنجر اور غیر آباد دیکھنا چاہتا ہے۔ جہاں تک بھارت کی فوجی تیاریوں کا تعلق ہے تو ان کا ہدف بھی صرف اور صرف پاکستان ہے۔ حالانکہ بھارت اپنی جنگی قوت کا ایک جواز چین کی جانب سے ممکنہ جارحیت کوقرار دیتا ہے۔ بھارت نے ٹینکوں کی جو اتنی بڑی فوج تیار کررکھی ہے وہ چین کے لئے نہیں بلکہ پاکستان کیلئے ہے۔ چین کے ساتھ بھارتی سرحد کا علاقہ پہاڑی ہے۔ جہاں ٹینک کارگر نہیں ہوتے یہ ٹینک صرف پاکستانی سرزمین کیلئے کارآمد ہیں۔ چند سال پہلے عالمی میڈیا نے’’کولڈاسٹارٹ ڈاکٹرائن‘‘کے نام سے ایک بھارتی منصوبے کا انکشاف کیاتھا۔ بھرپور فضائی قوت کے ساتھ اہداف تہس نہس کرنا اور ردعمل آنے سے پہلے باحفاظت واپس آجانا۔ چین کے حوالے سے بھارت ایسے کسی حملے کا تصور بھی نہیں کرسکتا یہ منصوبہ بھی پاکستان کیلئے تھا۔
گزشتہ دنوں برطانوی وزیرخارجہ ولیم ہیگ کی پاکستان آمد پر وزیراعظم نوازشریف نے اعلان کیاکہ بھارت سے بیک چینل ڈپلومیسی بحال کردی ہے۔امریکہ بھی یہ چاہتا ہے کہ ہم بھارت کے ساتھ تجارت کیلئے اپنی سرحدوں کو مکمل طور پر کھول دیں۔ اس تجارت کامقصد پاکستان کی خوشحالی نہیں ہے۔ پاکستان کی معیشت کو قربانی کا بکرا بناکر امریکہ بھارت کو اپنے حلقہ اثرمیں لانا چاہتا ہے۔ یہ امریکہ کا عالمی ایجنڈہ ہے۔ ہماری معیشت پہلے ہی مغربی تسلط سے دوچار ہے۔ بھارت سے تجارت کی صورت میں بھارتی اشیاء کی بھرمار کا شکارہوجائے گی جس کے نتیجے میں درآمدات مہنگی جبکہ مقامی پیداوارمیں کمی واقع ہوگی۔ مزید کارخانے بند ہوجائیں گے اور مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوجائے گا۔ بھارت سے بجلی کی درآمدپر بھی ماہرین نے اپنی شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اسے پاکستان کیلئے سراسر خسارے کاسودا قرار دیا ہے۔ عالمی سیاست اورامریکہ کے دباؤ میں بھارت کے ساتھ تجدیدمحبت کی باتیں کرتے رہیں لیکن یاد رکھیں بھارت کو پاکستان کی تباہی کا ادنی سے ادنی موقع بھی ملا تو وہ اس سے فائدہ اٹھانے سے دریغ نہیں کریگا۔ بھارت پاکستان کا دوست تھا،نہ ہے اور نہ کبھی ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *