بے غیرت بریگیڈ ، منحوس کنڈومز اور احمقانہ سنسر شپ کا مسئلہ

naeem-baloch1غالباًاس ترکیب کی تاریخ یہ ہے کہ بقول شخصے جہنمی پاگل خانے کے مفرور لال ٹوپی والی سرکار زید حامد اورَ مردوں کو خواب میں سب سے زیادہ پھینٹی لگانی والی لڑاکاخاتون عا صمہ جہانگیر کے درمیا ن ایک ٹی وی ٹاک شو میں منہ ماری ہو گئی۔ عاصمہ نے اسلام کے نام پر بات بے بات پر باؤلے ہو جانے والوں کے لیے’’غیرت بریگیڈ ‘‘ کی ترکیب استعمال کی تو زیدحامد منہ سے جھاگ اڑاتے بو لے کہ ہمیں فخر ہے اس نام پر مگر آپ کاتعلق تو پھر ’’بے غیرت بریگیڈ ‘‘ سے ہوا۔اس ’’تاریخی عزت افزائی‘‘ کے باوجود شدت پسندوں اور ان کے دُم چھلوں کے لیے ’’غیرت بریگیڈ ‘‘ کی اصطلاح استعمال ہو رہی ہے ۔ ہمارے خیال میں یہ اصطلاح انتہائی غیر مناسب ہے ۔ ان کے لیے’’ نام نہاد غیرت بریگیڈ ‘‘ کی ترکیب ہونی چاہیے کیونکہ ان لاخیروں نے اپنی انا کی تسکین کو’’غیرت ‘‘ کا نام دیا ہوا ہے۔ اگر یہ لوگ صحیح معنوں میں غیرت مند ہوتے تواسلام کو بدنام نہ کرتے ۔ان ہی کی عاقبت نا اندیشی کی وجہ سے اسلام کو پوری دنیا میں دہشت گردی، شدت پسندی اور بنیاد پرستی کا مذہب سمجھا جا رہا ہے۔ اس لیے میری عماد ظفر جیسے دوستوں سے اپیل ہے کہ وہ اصطلاح میں تبدیلی فرما لیں ۔ ’’غیرت‘‘ ایک مثبت قدر ہے ، نہتے لوگوں پر گولیاں برسانے والوں ، منہ ڈھانپ کر جہاد کے نام پر فساد کرنے والوں ، اغوا برائے تاوان ، بینک لوٹنے اور خود کش بم دھماکے کرنے والوں کے جرائم پر پردہ ڈالنے والوں کے لیے یہ الفاظ بولنا کم از کم میں قطعی غیر مناسب سمجھتا ہوں ۔ دینی حمیت، یہ کیا جانیں ، یہ تو اپنے ادنیٰ درجے کے دنیاوی مفاد، گروہی عصبیت اور ناقص فہمِ دین کے اسیر ہیں ۔ ان کی عبادتی ریاضتیں ہوں یا لمبی ڈاڑھیاں ، جبہ ودستار ہو یا انتہائی مرعوب کر دینے والے صوفیانہ حلیے ، بے شک یہ مسلمان ہی کہلائیں گے لیکن اللہ اور اس کے پیغمبر کے دین کی غیرت سے بالکل خالی ہوں گے ۔ اس لیے مکرر گزارش ہے کہ یہ ان کو ہرگز ’’غیرت بریگیڈ ‘‘نہ کہا جائے۔
جہاں تک تعلق ہے سکولوں میں جنسی تعلیم کا تو عرض ہے کہ سچ بولنا پسندیدہ ہے ، انصاف کسے کہتے ہیں ، بھوک پیاس کب محسوس ہوتی ہے ،اچھے اخلاق کیوں پسندیدہ ہیں ، گالی دینا ایک بری بات ہے ، ان سب کی تعلیم انسان کی فطرت میں ہے ،اس کے لیے ہمیں کسی کو تعلیم دینے کی ضرورت نہیں ہے ، اسی طرح جنسی جذبات کو آسودہ کرنے کے طریقے بتانے کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جس طرح آج تک پیدا ہونے والے بچے کو یہ بتانے کی ضرورت پیش نہیں آئی کہ وہ ماں کی چھاتی سے دودھ کیسے نکالے ، یہ قدرت کی طرف سے اسے ودیعت کیا جاتا ہے ، اور ہر بچہ بلا تکلف یہ فعل پوری مہارت سے سرانجام دیتا ہے اور حیرت کی بات ہے کہ یہی بچہ جب ماں کے دودھ سے دور ہوتا ہے اور اس کو کسی سٹرا یا پائپ سے کولڈڈرنک پینے کے لیے دیا جاتا ہے تو وہ ایک آدھ مرتبہ بوتل سے بلبلے ضرور نکا لتا ہے۔ چنانچہ بلاشبہ یہ ایک رحمان پروردگار کے موجود ہونے کی قاطع دلیل بھی ہے۔
مجھے یاد ہے کہ ہماری نانی اماں( آج سے کم از کم پچاس برس پہلے جب نہ ٹی وی تھا نہ پڑھے لکھے لوگ عام تھے) نے ایک پھیری والے کی ہمارے دبنگ قسم کے نانا سے شکایت کی تھی ۔ انھوں نے فصیح پنجابی میں کہا تھا :’’ ایس پھوڑی نکلنے نو کہہ کہ ساڈی گلی ایہہ ہوکا نہ لاوے کرے ‘‘( اس کوڑھ زدہ شخص کو روکیں کہ وہ ہمارے ہاں یہ آواز نہ لگایا کرے ) جیسے ہی وہ خاموش ہوئیں ، پھیری والے کی آواز گونجی : ’’سرمے دانی وچ سرُمچو پوا لو ، ٹھنڈا تے ودیا سرمہ۔۔۔سرمے دانی تے وچ سرمچو!‘‘ ہمارے نانا جان نے اس کا کیا حشر کیا ہو گا، اس کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں کیونکہ موصوف ماہر شکاری اور نامی گرامی پہلوان بھی تھے۔مطلب یہ کہ ضروری نہیں کہ عمومی قسم کی جنسی تعلیم کو آپ نصاب کا حصہ بنائیں ۔ البتہ بچوں کو یہ بات اچھی طرح سکھلانے کی ضرورت ہے کہ ان کی طرف بری نیت سے بڑھنے والے شخص کی کیا نفسیات اور کیا کیا علامات اور حرکات ہوں گی اور اسے ایسی نازک صورت حال میں اپنے آپ کو کس طرح محفوظ کرنا ہے۔ بیڈ رومز اور پرائیویسی کے آداب کیا ہیں۔ باقی جوباتیں بلوغت کے وقت ان کو معلوم ہوتی ہیں ، ان کے بارے میں البتہ ان کو مناسب طریقے سے آگاہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس میں بھی طہارت ، آداب اور طبی نوعیت کی چیزیں ہو سکتی ہیں ۔ اس کا نصاب البتہ ہمارے ہاں مدون کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ اس حوالے سے خواہ مخوا ہ چھوئی موئی بننے کی ضرورت نہیں ۔ورنہ وہی ہو گا جس کی مثال ذیل کے واقعے میں ملتی ہے۔
یہ اس وقت کی بات ہے جب ہم بچوں کا ایک ماہنامہ رسالہ نکالتے تھے۔ایک دن گیارہ بارہ برس کے ایک بچے کا کسی گاؤں سے ایڈیٹر کی ڈاک میں خط آیا کہ میرے والدین نے میرے ختنے کرانے کا فیصلہ کیا ہے،میرے دوستوں نے مجھے بتا دیا ہے کہ میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے ، اس لیے میں نے گھر سے بھاگ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ آپ اگر میرے ماں باپ کو اس ظلم سے روک سکتے ہیں تو روک لیں ۔ ہم نے فوراً ایک خط بچے کو، ایک اس کے والد کو لکھا ۔ بچے کو سمجھایا کہ یہ ایک چھوٹا سا آپریشن ہے ، جو بچپن میں سب کا ہوتا ہے لیکن کسی وجہ سے آپ کانہیں ہو سکا ۔ اس کی تکلیف اگر ایک ہفتے کا بچہ برداشت کر لیتا ہے تو آپ بھی کر لیں گے البتہ اس کو سب کے سامنے کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ، ہم آپ کے والد صاحب روک دیں گے کہ وہ ایسا ہر گز نہ کریں ۔
بچے کے باپ کو ہم نے لکھا کہ بھلے مانس یہ کام پیدایش کے چند دنوں ہی کے بعد میں کرانا چاہیے اور اب بھی اسے تماشا بنانے کی ضرورت نہیں، آپ بیٹے کا ایک حساس قسم کا آپریشن کرا رہے ہیں کوئی بندر نہیں نچوا رہے ۔اور کسی نائی شائی سے یہ کام کرانے کی ضرورت نہیں ، اسپتال جائیے اور پرائیویسی میں کام کرائیے ورنہ آپ کا اکلوتا بیٹا گھر سے بھاگ جائے گا۔ اس وقت وہ اس دنیا میں صرف اور صرف ہماری بات مان سکتا ہے اور کسی کی نہیں ۔ لہٰذااگر اس کی بہتری چاہتے ہیں تو مشورے پر من و عن عمل کیجیے ، ورنہ نتائج کی ذمہ دار آپ کی وہ خواہش ہوگی جس کے تحت آپ اپنے رشتے داروں میں بیٹے کے ختنوں کا آنکھوں دیکھا حال پیش کرنا چاہتے ہیں ۔ اللہ کا شکر ہے دونوں فریقوں کو بات سمجھ آگئی اور معاملہ بخیرو خوبی انجام کو پہنچا۔اس کے بعد ہم نے اپنے رسالے میں ’’ آپ نے پوچھا ‘‘ کے نام سے ایک سلسلہ شروع کیا جس میں بچے اپنی تعلیمی ، سماجی اور نفسیات الجھنیں لکھ بھیجتے اور ان کی انتہائی سلیقے سے رہنمائی ہو جاتی۔ اس لیے اس بات کی واقعی اشد ضرورت ہے کہ ماہرین کی نگرانی میں ہر عمر کے بچوں اور بچیوں کے لیے تعلیمی اداروں میں کونسلنگ کا اہتمام ہونا چاہیے اور اس کا نصاب سے کوئی تعلق نہیں ہو نا چاہیے ۔ ان کو اپنائیت سے ان معاملات کی تعلیم دینی چاہیے ۔ اور اس کا مکمل بندوبست کرنا چاہیے یہ کوئی کلاس ورک نہ ہو بلکہ ذاتی طور پر طلبہ اپنے اساتذہ ہی سے متعلق ہوں اور ایک پاکیزہ اور مقدس رشتے کے ذریعے سے زندگی کی ان ضروریات اور ان کے تقاضوں کو جان سکیں ۔ ہم نے ایسا اہتمام اگر پہلے سے کیا ہوتا اور اس کو بلاوجہ ٹیبو نہ بنایا ہوتا تو پچھلے دنوں ہونے والے بچیوں کے ناگوار واقعات بھی نہ ہوتے۔ بلاشبہ جب تعلیم ایک کاروبار بن جائے تو اس طرح کی رفاعی چیزیں مشکل ہو جاتی ہیں لیکن جدید دور میں اللہ کا شکر ہے کاروباری اتھیکس میں بھی اس کا لحاظ رکھا جاتا ہے کہ اپنے ’’ کلائنٹ ‘‘ کو بہتر سے بہتر سروسز دے سکیں اور بلا شبہ یہ ایک بہت بڑی
خدمت ہے ۔ مغرب نے یہ اہتمام کیا ہے لیکن وہ کیونکہ خدا ناآشنا تہذہب ہے اس لیے اس کے اندر رہ جانے والی کمیاں اور کوتاہیاں دور کرنی ہوں گی۔
اب آتے ہیں منحوس کنڈومز کی طرف ۔ ہمیں یقین ہے کہ جس نے یہ تسکین دشمن چیز ایجاد کی ہے اس کو اللہ جہنم میں یہ ضرور سزا دے گا کہ وہ زنا بالجبر کے تمام مجرمین کو استعمال شدہ کنڈومز پہنائے گا اور بس!وہ ناہنجار صرف اسی پر گزارا کریں گے اور یہ منحوس ان کی لعن طعن کا ہر لمحہ شکار رہے گا۔
بھئی بات یہ ہے کہ بلاشبہ آدمی کو اپنی چادر کے مطابق پاؤں پھیلانے چاہییں، جس طرح زندگی کے تمام معاملات میں میانہ روی اور کفایت شعاری دین کا بھی حکم ہے اور یہ عین فطری اور کامن سینس پر مبنی رویہ ہے، اسی طرح گھر کے افراد کتنے ہوں ،اس میں بھی میانہ روی اور کفایت شعاری درکار ہے۔ تعجب ہے ایک کسان گائے بھینس رکھتے ہوئے تو سوچتا ہے کتنوں کو چارا ڈالے گا اور کتنے جانوروں کی حفاظت کر لے گا لیکن بچوں کی پیدایش پر وہ خدا کی آڑ لے لیتا ہے! یا للعجب !! کیا وہ اپنے آپ کو گائے بھینسوں کا ’’خدا ‘‘ سمجھتا ہے ۔ اسی طرح شہر ی بابو گاڑی ، موٹر سائیکل ، کپڑے ،جوتے، خریدتے وقت تو سب کچھ دیکھے لیکن بچوں کی پیدایش کے معاملے میں اندھا ہو جائے ، یہ کون سا دین اور کون سی شریعت ہے ؟ اس لیے خاندان کی فلاح کے ضرورت پر لوگوں کو قائل ضرور کیجیے لیکن ایک تو اسے اخلاق کے دائرے کے اندر رہ کر دیجیے ۔ خوبصورت استعاروں اور علامات کا استعمال کیجیے لیکن اس کے طریقوں کا اشتہار دینا اسی طرح ممنوع ہو نا چاہیے جس طرح بیماریوں کی اددویہ کا اشتہار ہر مہذب ملک میں ممنوع ہے۔ آپ نے کبھی ٹائیفائیڈ یا ہیضے کی دواؤں کا اشتہار سنا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر دوا ہر جسم کے لیے مناسب نہیں ہوتی ۔ اس لیے بھئی ان موے کنڈومز کو گولی ماریں ، یہ واہیات چیز جس کو سوٹ کرتی ہے ڈاکٹر اسے بتا دے گا ، اآپ دوسروں کو کیوں مجبور کرتے ہیں کہ ان کے بچے ان کو غباروں کی طرح استعمال کریں ؟ اسی طرح یہ اشتہار لذت اور ٹھرک جھاڑنے کے لیے مت بنائیں اسے تعلیم اور تربیت کی سوچ سے بنائیں اور نشر کریں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *