بجٹ رے بجٹ ۔۔۔ تیری کون سی کَل سیدھی!

khalid mehmood rasool

ْْْْ"باؤ جی کیا بتائیں، بجٹ آنے سے ہر شے مہنگی ہو گئی ہے"۔ گذشتہ سال کی بات ہے، سبزی والے نے ہمیں ریزگاری واپس کرتے ہوئے سبزی کی بڑھی ہوئی قیمتوں پر ہمارے احتجاج کا جواب دیا۔ "مگر تمہاری سبزی کا بجٹ سے کیا تعلق؟ بجٹ میں نہ تو تیل کی قیمتیں بڑھی ہیں نہ کوئی ایسا ٹیکس حکومت نے لگایا ہے"۔ ہم نے اپنا احتجاج جاری رکھا۔ سبزی والے نے اطمینان سے جواب دیا ۔۔۔" باؤ جی یہ تو مجھے معلوم نہیں لیکن اتنا پتہ ہے بجٹ کے آتے ہی ہر چیز کو آگ لگ گئی ہے"۔ آگ تو اس جواب پر ہمیں بھی لگی مگر مزید بحث بے فائدہ دیکھ کر بے دلی سے سبزیوں کا تھیلا اٹھا کر الٹے پاؤں واپس آگئے۔
آج اسی بجٹ کا اعلان متوقع ہے۔ بجٹ حکومت کی معاشی اور سیاسی ترجیحات کا مظہر ہوتا ہے۔ سال 2015-16 بجٹ کے اعلان شدہ مقاصد کے مطابق بجٹ میں محصولات اور ٹیکس سٹرکچر کا غریب اور متوسط طبقے پر کم سے کم اثر پڑنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔ ٹیکس اسٹرکچر کو مزید پھیلانے او ر نان ٹیکس گذاروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کئی اقدامات کا اعلان کیا گیا لیکن مجموعی طور پر سالانہ بجٹ کاMacro economic indicators کے حصول اور تسلسل پر فوکس رہا ۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی سے تجارتی خسارے میں نمایا ں کمی آئی۔ افراط زر کی شرح قابو میں رہی۔ ریکارڈ بیرونی ترسیلات زر نے زر مبادلہ کے ذخائر بڑھانے میں بھی مدد کی اور شرح مبادلہ برقرار رکھنے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ یوں بیرونی عناصر سازگار رہے لیکن ملکی معیشت کے کئی بنیادی اشاریے Index) ) بدستور صبر آزما رہے مثلاٌ مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ ٹارگٹ سے کم رہا، زراعت کی پیداوار منفی اور انڈسٹری میں اضافے کی شرح توقع سے کم رہی۔ پرایؤیٹ اور بیرونی سرمایہ کاری میں بھی حسب خواہش اضافہ نہ ہو سکا۔ مجموعی طور معیشت میں پہلے کی نسبت استحکام آیا لیکن اسے درپیش چیلنجز اپنی جگہ بدستور قائم رہے۔
پاکستان کے گذشتہ بجٹ کا حجم ساڑھے چار کھرب سے زائد تھا جبکہ محصولات بمشکل اڑھائی کھرب تھے۔ یوں حسب معمول ایک خاصے بڑے خسارے کا سامنا رہا۔ ۔ سب سے بڑا خرچہ قرضوں اور سود کی ادائیگی ہے۔ اس کے بعد دفاع اور ترقیاتی اخراجات ہیں۔ محصولات میں ممکنہ کمی کی صورت میں بچت کا کلہاڑا ترقیاتی اخراجات پر چلتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ عموماٌ سال کے شروع میں مختص ترقیاتی ہدف سال کے آخر میں بچت کلہاڑے کے ہاتھوں اپنی اصل سے کہیں کم جسامت پر ہوتا ہے۔ اسی بجٹ خسارے کا شاخسانہ ہے کہ بجٹ کو پورا کرنے کے لیے مجبوراٌ آئی ایم ایف کے پاس اور دیگر مالیاتی اداروں کے پاس جانا پڑتا ہے۔ ہماری معیشت میں یوں تو کئی اہم مسائل ہمیں جکڑے ہوئے ہیں لیکن ان میں چند نمایاں مسائل کچھ یوں ہیں۔۔۔ مہنگائی، بڑھتی ہوئی بے روزگاری، پھیلتی ہوئی غربت، وسائل کا مسلسل ایک خاص طبقے میں ارتکاز، معاشی مواقع کا چند بڑے شہروں میں ارتکاز، معاشی عدم مساوات، بڑھتا ہوا علاقائی اقتصادی تفاوت ، کرپشن وغیرہ۔ ایک اہم اور مسلسل سنگین مسئلہ انتہائی کم ٹیکس گزاری ہے۔ ہمارے ہاں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب نو فی صد کے لگ بھگ ہے جو خطے اور بہت سے دیگر ممالک کے مقابلے میں خوفناک حد تک کم ہے۔ ۔ معیشت میں دستاویزی چلن فروغ نہیں پا سکا۔ بلیک اکونومی کا سائز مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق بلیک اکونومی کا سائز روایتی اکونومی سے بھی بڑھ چکا ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق بلیک اکونومی کا سائز جی ڈی پی کا ساٹھ فی صد تک پہنچ چکا ہے۔ ایسی ہی بے اعتدالیوں کے سبب پاکستان کی معیشت مسلسل بجٹ خسارے کا شکار رہی ہے۔
ایک زمانہ تھا ، بجٹ کا ہما شما بڑ ی بے چینی سے انتظار کرتے۔ حکومت بجٹ تفصیلات کو چھپانے کے سو جتن کرتی۔ سرکاری ٹی وی اور ریڈیو سے کان لگائے لوگ باگ سانس روکے بجٹ تقریر سنتے لیکن اب آزاد اور چوکس میڈیا نے بجٹ تقریر سے وہ انتظاراور سسپنس چھین لیا ہے۔ اس دوران حکومتوں کو بھی خودنمائی کا ظالم چسکا لگ گیا ہے۔ بہانے بہانے سے میڈیا کو بجٹ تفصیلات مہیا کرتی ہے۔ ایسے میں بجٹ تقریر کی اہمیت روایتی سی رہ گئی ہے۔
اس بار تو بجٹ تفصیلات سے کہیں زیادہ اس کی وڈیو لنک سے منظوری کا شہرہ رہا۔ سو، آج کے بجٹ کے نمایاں خدوخال تو کب کے عام ہو چکے ۔ البتہ وزیر خزانہ نے ٹیکسوں میں ردو بدل اوراضافے کی وہ والی کچھ تفصیلات ضرورسنبھال رکھی ہوں گی جن کی چابی سے انہوں نے ریونیو ٹارگٹ پورا کرنا ہے۔ براہِ راست ٹیکس بڑھانے کی کوششوں کی رائیگانی کے بعد ایک بار پھر بالواسطہ ٹیکسوں پر زور ہے۔ ودہولڈنگ ٹیکس نیا " ڈارلنگ ٹیکس "ہے۔ فائیلر اور نان فائیلر کے امتیاز کو بنیاد بنا کر ودہولڈنگ ٹیکس کا دائرہ اٹھارہ نئے شعبوں تک پھیلایا جائے گا۔ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کی تنخواہوں میں اضافے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے تاکہ بڑھائے گئے بے درد ٹیکسوں کے مقابلے میں حکومت کی عوامی درد مندی کا ثبوت رہے اور بوقتِ ٹاک شوز اور جوابی تقریر کام آئے۔
ایک زمانہ تھا پاکستان کی معیشت کی تعمیر پانچ سالہ پروگرام تحت پلا ن کی جاتی تھی۔ ساٹھ کی دِہائی میں اس پانچ سالہ پروگرام کے دیکھنے اور سمجھنے کوریا کے ماہرین پاکستان آئے۔ ستّراور اسّی کی دِہائی میں وہ پانچ سالہ پروگرام داخل دفتر ہو گیا اور سالانہ پروگرام پر انحصار شروع ہو گیا۔ بعد کی سیاسی حکومتوں کو خود اگلے سال کا پتہ نہ تھا، لہذاپانچ سالہ پروگرام کا طریقہ ء کار متروک ہی رہا۔ البتہ کوریا، چین، بھارت، ترکی سمیت کئی ممالک اپنے وسائل کے بہترین استعمال اور ترقی کی اینٹ سے اینٹ جوڑنے کے ترقیاتی عمل میں پانچ سالہ پروگرام پر عمل پیرا ہیں۔ جبکہ ہمارے ہاں پلاننگ کمیشن بنیادی طور پر حکومتی ترجیحات کے مطابق وسائل کی بہم رسانی کے لیے ہاتھ پیر مارنے کے لیے مخصوص ہو کر رہ گیا ہے۔ اس کا وہ درخشاں دور جس کے تحت پانچ سالہ منصونہ بندی ہوتی تھی اب کتابی حوالے کے لیے رہ گیا ہے۔
گذشتہ حکومتیں تھیں یا موجودہ حکومت، سبھی کا زور زیادہ سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کرنے پر رہا ہے۔ غربت کا خاتمہ ایک دعوے کی حد تک رہا۔ بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ معاشی عدم مساوات خوفناک حد تک بڑھ رہی ہے۔ علاقائی تفاوت اس سے سوا ہے۔ کرپشن کا سیلاب ہے کہ رکنے کی بجائے امڈ امڈ کر آرہا ہے۔ جو سکینڈل سامنے آتا ہے، اربوں سے کم نہیں۔ ایسے میں ٹیکس گذاروں کے سینے پر کیا کیا چھریاں نہیں چلتیں۔ پانامہ اسکینڈل کی بنیاد پرسیاسی چاند ماری تو خوب ہوئی لیکن ٹیکس اصلاحات کی کشتی کے تہہ شدہ بادبان نہ کھل سکے۔ دنیا بھر کے دستور کے مطابق آمدن اور Consumption پر ٹیکس لگانے اور اس کا نیٹ بڑھانے کی بجائے اپنے ہاں یا تو ٹیکس نیٹ میں بقول شخصے پھنس جانے والے پر مزید بوجھ ڈال دیا جاتا ہے یا بالواسطہ ٹیکسوں کے نت نئے ذرائع پر زور ہے۔ آج کے بجٹ کی اصل جمع تفریق ایک دو دن میں سمجھ میں آئی تو معلوم ہو گا کہ چودہ میں سے کتنے طبق کہاں کہاں روشن ہوئے ہیں۔ فی الحال تو آج یہ زورِ بیان سنتے ہیں کہ حکومت نے دل پر پتھر رکھ کر کیا کیا کرنے سے اپنے آپ کو روکے رکھا کہ یہ ایک عوامی حکومت ہے!!!
گو آزمائے ہوئے بازوؤں سے زیادہ امیدیں کیا رکھنا لیکن امید برائے امید ہی سہی، امید رکھنی چاہیے کہ اس بار کا بجٹ ایک نئے سنگ میل کا نقیب ہو نہ کہ دیرینہ ڈگر کا مسافر۔ دیکھتے ہیں کہ اس بجٹ میں غربت سے نیچے آبادی تیس فی صدکے لیے بے نظیرانکم سپورٹ کے علاوہ کیا ہے، بے روزگاری کی بلا کو کھونٹے سے باندھنے کا کوئی پیمان ہے، دولت کے اندھا دھند ارتکاز کا راستہ روکنے کا کوئی ارادہ ہے، پراپرٹی کی قیمتوں کا موج میلا اور تہی دستوں کی لاچار ی ا سی طرح جاری رہے گی، ملازمت، تعلیم اور کاروبار کے لیے بڑے شہروں میں آ بسنے اور مسائل کی چکی میں پسنے کی مجبوری اسی طرح جاری رہے گی؟؟ ۔۔۔اگر پرانی ڈگر ہی جاری رہی تو بجٹ سمجھے بغیر ہمارے سبزی فروش سمیت تمام تاجر اس کی آڑ میں اپنا منافع بڑھانے کا سامان توکر لیں گے مگر معیشت اور عوام کی اکثریت بدستور انہی چیلنجز کا سامنا کرتی رہے گی جن کا سامنا کرتے کرتے اب تھکن سی ہونے لگی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *