ڈرون کا استعمال غلط ہے یاڈرون ہی غلط ہیں؟

qasim yaqoob

ڈرون حملوں کے حوالے سے پاکستان میں بہت متنازعہ بحث جاری ہے۔ ایک بہت بڑا طبقہ ڈرون حملوں کو ملکی سالمیت کی خلاف ورزی اور شدت پسندی کا موجب قرار دیتاہے۔جب کہ دوسرا طبقہ جو بہت قلیل تعداد میں پاکستان میں موجود ہے ڈرونز کو ملکی سلامت کے لیے ناگزیر ضرورت سمجھ رہا ہے کیوں کہ اُن کا خیال ہے کہ ڈرونز کے نتیجے میں دہشت گرد اپنے انجام کو پہنچ رہے ہیں۔بڑی تعداد کا خیال ہے کہ ڈرون حملے کرنے والوں نے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیوں اور انسان دوستی کے مروجہ قوانین کا احترام نہیں کیا۔ ڈرون حملوں کے لیے یہ ضروری تھا کہ مطلوبہ علاقے میں خانہ جنگی کی بجائے عالمی مصلح تصادم کا ماحول پیدا ہو گیا ہو۔پاکستانی علاقوں خصوصاً قبائلی علاقہ جات میں ڈرونز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ڈرون حملوں میں تیزی اُبامہ کے دور میں دیکھنے میں آئی۔ ابامہ انتظامیہ نے شاید اپنی کامیابی کو اسی ایک ہدف کی تکمیل سے جوڑ لیا ہے۔ اس تصادم میں اگر ڈرونز لازمی ہو بھی جائیں تو عام شہریوں کو کسی بھی صورت نشانہ نہیں بنایا جا سکتا جس سے اُن کی گھریلو روزمرّہ زندگی متاثر ہو۔ مگر دیکھا گیا ہے کہ امریکی اتحادیوں کے ڈرونز نے دشمن کو مارنے کے لیے کسی عالمی انسانی حقوق کے قانون کا خیال نہیں رکھا اور اپنا مطلوبہ ہدف ہر حالت میں حاصل کرنا ضروری سمجھا۔ اس کے نتیجے میں بہت سے معصوم شہریوں کی ہلاکت روز کا معمول بن گئی۔ جس سے پاکستانی ریاست کو داخلی اور خارجی دونوں سطح پر تخریبی تصادم کا سامنا کرنا پڑا۔ڈرونز کا استعمال تو جاسوسی کے لیے کیا جاتا رہا ہے مگر امریکہ نے اس ٹیکنالوجی سے اپنے دشمن کو نابود کرنے کا کام بھی کر ڈالا۔پاکستان کے علاوہ افغانستان اور یمن میں بھی ڈرونز کو اپنے اہداف کی تکمیل کے لیے استعمال کیا جا رہاہے۔
شاید آپ کو یاد ہو کہ امریکہ ڈرون کو لے کر پہلی دفعہ کسی دشمن پر نہیں چڑھ دوڑا۔ اس سے پہلے بھی کئی واقعات ملتے ہیں۔امریکہ نے اپنی سالمیت کا بہانہ بنا کر دوسرے ممالک پر حملہ کیا ہے۔کرنل قذافی نے جب جرمنی میں ایک امریکی مے خانہ پر اپنے ایجنٹوں کے ذریعے حملہ کروایا تو امریکی صدر ریگن نے1986میں کرنل قذافی کے محل پر فضائی حملہ کروادیا تھا۔اسی طرح نو گیارہ سے پہلے 1998میں امریکی صدر کلنٹن نے کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفاتخانوں پر حملہ کے شبہ میں القائدہ کیمپوں پر کروز مزائل سے حملہ کروادیا تھا۔امریکہ نے کچھ اسی قسم کے سابقہ اقدامات کے تحت نو گیارہ کے بعد قبائلی علاقوں کا رُخ کر لیا۔ ایک تو یہ ’’علاقہ غیر‘‘ کہلائے جاتے ہیں جس پر پاکستانی حکومت کا کنٹرول صرف جغرافیاتی حد تک ہے۔ کوئی بھی پاکستانی قانون یہاں عمل درآمد نہیں ہوتاجس سے بے دریغ انسانی جانوں کا ضیائع کیا جاتا رہا۔2006سے جولائی 2009 تک600جنگ جو مارنے کا دعویٰ تو کیا گیا مگر حقائق بتاتے ہیں کہ اس عرصے میں جنگجو بمشکل 40فیصد بھی ہلاک نہیں ہوئے۔ ڈرونز حملوں میں جہاں روز بروز طالبان اور القائدہ لیڈرشپ ہلاک ہو رہی ہے وہیں ڈرونز میں تیزی بھی آتی جارہی ہے۔ تیزی کے ساتھ ساتھ اب ڈرونز حملوں میں درست ہدف تک رسائی بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ جس تیزی کے ساتھ القائدہ اور طالبان لیڈرشپ ہلاک ہو رہی ہے شبہ ہے کہ القائدہ اپنی تمام بڑی قیادت سے محروم ہو چکی ہے۔CIAکے ڈائریکٹر مائیکل بیڈن نے13 نومبر 2013کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ہم القائدہ کو اس بات پر لگائے رکھیں گے کہ وہ اپنی جانیں کیسے بچا سکتے ہیں۔ ایک شبہ تو یہ بھی ہے کہ امریکہ اسی لیے ڈرونز کوپہلے سے تیز تر کرتا جا رہا ہے۔
اس سارے کھیل میں پاکستان کہاں ہے؟ کیا پاکستان کو کچھ خبر نہیں کہ یہ ساری جنگ کس مقصد اور کن اہداف کے لیے لڑی جارہی ہے؟ کیا پاکستان کسی قسم کا نقصان نہیں اُٹھا رہا؟ یہ جنگ امریکہ کی ہے یا پاکستان کی؟ یا صرف طالبان اور القائدہ اس جنگ کو اپنائے ہوئے ہیں ؟ 2004میں شروع ہونے والا یہ سلسلہ اب کہاں اور کب تھمے گا کیا پاکستانی حکومتیں کبھی کوئی فیصلہ کر پائیں گی؟
ان سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ڈرونز کا ستعمال غلط ہو رہا ہے یا ڈرونز ہی نہیں ہونے چاہیے؟
اس سوال کے پیچھے دو طرح کے مکتبۂ ہائے فکر ہیں۔ ایک طبقہ پرو طالبان ہے۔ یہ طبقہ طالبان کو اسلام کی جنگ لڑنے والی قوت سے تعبیر کرتا ہے۔ امریکہ چوں کہ اسلام دشمن اور پاکستانی سالمیت کے خلاف طاقت بن کر سامنے آتا رہا ہے۔ اس لیے امریکہ کے خلاف ہر طاقت کو اسلام اور وطن حمایت طاقت تصور کیا جاتا رہا ہے۔ طالبان تو اسلام کا نام لیتے ہیں اور پاکستان کا تقریباً 90%طبقہ اسلام شدت پسند فکر رکھتا ہے اس لیے طالبان کے لیے نرم گوشہ رکھا جاتا ہے۔اب آپ اِس کا کیا کریں گے کہ آپ کے بچے بم دھماکوں میں مرتے ہیں، آپ کے سکول تباہ ہوتے ہیں اور آپ خود زخمی ہو کر عمر بھر کے لیے معذور ہو جاتے ہیں مگر آپ طالبان کے خلاف ایک لفظ بھی ادا نہیں کرتے بلکہ آپ کہتے ہیں کہ یہ تو امریکہ ہی کرواتا ہے۔ یعنی امریکہ ہی ڈرون حملے کرواتا ہے ۔ جن پر ڈرون گراتا ہے وہ بھی امریکی ہیں اور پھر خود ہی ان ڈرونز کے جوابی حملے کے طور پر پاکستانی فورسز کو نشانہ بناتا ہے اور اپنے خود کش بمبار لڑکوں کے ذریعے خود ہی ہمارے شہر اور بازار تباہ کرواتا ہے۔ہم ایک حد تک انجان اور گمراہ تھے مگر اتنے معصوم اور احمق تو کبھی نہ تھے۔ اصل میں ڈرونز اُن کو مار رہے ہیں جو ہمارے کبھی نہ تھے مگر ہم نے اُن کو’ اَون‘کر رکھا تھا۔امریکہ کی دشمنی نے ہمیں طالبان فکر کے قریب کر دیا۔ دونوں طرف ہمارے دشمن ہیں مگر ہم نے ایک دشمن کو اپنی آنکھیں بند کر کے دوست بنا لیا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ وہ ہمیں اپنا دوست نہیں مانتا۔امریکہ نے اگر پاکستان کی سالمیت کا خیال نہیں رکھا اور ہمارے اندر اپنے ’بے وجود‘ دشمن ڈھونڈنے کے لیے ہمارے گھر کا سکون تباہ کر دیا ہے تو دوسرے دشمن نے کون سا اچھا کیا ہے۔ طالبان نے ہماری فکری اور لاجسٹکس معاشرت کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ میری سمجھ سے یہ بالاتر ہے کہ ہم نے طالبان کی کیوں حمایت کر رکھی ہے؟ صرف اس لیے کہ وہ امریکہ سے لڑ رہے ہیں اور’ اسلامی‘ ہیں؟ مگر یہ تعارف تو دوست بنانے اور اپنے بچے مروانے کے لیے ناکافی تھا، ہم نے صرف اتنے تعارف پر کیسے اکتفا کر لیا!!!!
طالبان حمایت والے ابھی تک اس تضاد سے باہر نہیں نکلے کہ یہ سارا معاملہ کیا ہے۔اگر امریکہ اسلام دشمن ہے اور امریکہ کا طالبان کا یوں ڈرونز حملے کرنا غیر اخلاقی اور ملک دشمنی ہے تو اس کایہ کیسے مطلب ہوگیا کہ طالبان رسول اللہ کے’’ مجاہد‘‘ہیں؟ اس منطق کو تعمیر کرنے والے نجانے کیا جواب دیتے ہیں مگر ہم نے دیکھا کہ معصوم لوگوں کی ڈرون حملوں میں ہلاکت کا طالبان نے زیادہ فائدہ اُٹھایا ہے۔ طالبان فکر کے علم برداروں نے مسلسل اس ایشو کو قومی ایشو بنا کر پیش کیا ہے تاکہ طالبان پر ڈرونز بند ہو جائیں۔ہم نے آج تک یہ فیصلہ ہی نہیں کیا کہ ڈرونز کا ہدف اگر طالبان ہیں تو اُن کو مارنا اور اُن کو ’چیلنچ ایبل‘ کیفیت سے نکالنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ امریکہ اگر یہاں سے چلا جاتا ہے تو بھی یہ مسئلہ حل نہیں ہونے والا۔ پاک فوجی اسٹیبلشمنٹ کو خطے میں طالبان کی موجودگی سے بے پناہ خطرہ ہے جس کی وجہ سے ڈرونز خطے میں موجود اس بے مہابا قوت کے خلاف فیصلہ کن اقدامات بھی کر رہے ہیں۔
یہ بھی کہا جاتاہے کہ طالبان کے ساتھ جو ہزاروں بے گناہ بچے اور لوگ مر چکے ہیں اُن کے حق کے لیے کوئی آواز نہیں اُٹھاتا۔ بات یہ ہے کہ اُن کی ہلاکت کا جو اصل ذمے دار ہے وہ وہی قوت ہے جو ہمارے بازاروں میں بم پھاڑتی ہے اور ساتھ اپنی ہلاکت کے وقت بھی اپنے ارد گرد ہزاروں لوگ مروا چکی ہے۔کیا’طالبان حمایت طبقے‘ کی بم دھماکوں اور خود کش حملوں میں بے گناہ مرنے والوں کے لیے کوئی جلوس یا آواز سامنے آئی؟
طالبان اور امریکہ کشمکش کا انجام کیا ہو گا اور پاکستان کو کیا کرنا ہو گا؟ یہ سوال موجودہ حکومت کے آتے ہی اور اہمیت کا حامل ہو گیا ہے۔ کیوں کہ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان اپنی سالمیت کے دفاع کے لیے اب ہر طرح کا اقدام کرنا چاہ رہا ہے اور ساتھ ہی اب اس کھیل میں د وسرے کردار جو اسلامی آئیالوجی کا نام لیوا ہے کو نکیل ڈالنے کا بھی سوچ رہا ہے۔ مگر ہمارے قومی لیڈرشپ کے شعور میں ابھی تک پرو طالبان اور اینٹی طالبان اہداف مقرر ہیں جس سے یہ مسئلہ اتنی آسانی سے حل نہیں ہونے والا۔ عمران خان ایک عرصے سے یہ کہہ رہے ہیں کہ’’ طالبان امریکی مداخلت کے خلاف لڑ رہے ہیں امریکہ کے چلے جانے سے طالبان فکر خود بخود بے دم ہو جائے گی اور پھر ان سے مذاکرات کر کے انھیں کسی نتیجے پر لایا جا سکتا ہے‘‘۔ یہ بڑی معصوم اور حالات سے بے خبردلیل ہے۔ اصل میں طالبان کئی قسم کے گروہوں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔ان میں ’’شریعت کا نفاذ‘‘، ’’امریکہ کی خطے سے بے دخلی‘‘،’’شیعہ قتل و غارت گری‘‘، ’’ اینٹی دربار تحریک‘‘ وغیرہ۔ امریکہ کے جانے سے اک ہدف تو پورا ہو سکتا ہے مگر اُس گروہ کا کیا کریں گے جو سوات میں ملا فضل اللہ کی شکل میں’’ شریعت کا نفاذ ‘‘لے کے آیا تھا۔اُن کا کوئی مقصد بھی’ امریکہ بے دخلی ‘ نہ تھا۔
اینٹی امریکہ اور ایٹنی طالبان فکر کے ساتھ ہم اس مسئلے کو کسی نتیجے تک نہیں لا سکتے۔ہمیں حقائق کے ساتھ خطے کے مجموعی مقاصد کو نظر میں رکھنا ہو گا ورنہ ہم طالبان بچاتے اور امریکہ بھگاتے بھگاتے کہیں بہت دیر نہ کردیں اور ہمارے ہاتھ صرف اپنے بچوں کے لاشے آئیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *